مزید پڑھیں...

یومِ مئی: مشکل وقتوں میں جدوجہد کا استعارہ

یومِ مئی: مشکل وقتوں میں جدوجہد کا استعارہ

اس نظام میں مصنوعی ذہانت اور سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت نے محنت کشوں کی زندگی کو آسان کرنے کی بجائے طبقاتی جبر و استحصال کو بڑھا دیا ہے۔ کیونکہ سرمایہ داری کا مطمع نظر انسانی ضروریات کی تکمیل اور فلاح نہیں بلکہ منافع خوری ہے۔

ایران جنگ: ناکام نظام کے بدحواس حکمران

ایران جنگ: ناکام نظام کے بدحواس حکمران

پاکستانی حکام کی دوڑیں اس لئے بھی لگی ہوئی ہیں کہ وہ واقعی خطے میں کوئی بڑی تباہی نہیں چاہتے۔ معاملات مزید بگڑ جانے کی صورت میں نہ صرف پاکستان کی ایک اور سرحد غیر محفوظ ہو جائے گی بلکہ جو معاشی بربادی آئے گی‘ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

لینن نے مارکس کا مطالعہ کیسے کیا

لینن نے مارکس کا مطالعہ کیسے کیا

ولادیمیر اولیانوف نے اپنے شاگردی کے دور میں بھی فکر اور پیش قدمی کی ایسی قوت کا مظاہرہ کیا کہ یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس نے دوسروں سے کیا سیکھا اور خود کیا تخلیق کیا۔

خواتین کے عالمی دن کا پیغام

خواتین کے عالمی دن کا پیغام

ہم سمجھتے ہیں کہ محنت کش خواتین کی تحریک کو عورت اور مرد کے درمیان کی لڑائی بنا کر پیش کرنا ایک تاریخی جرم ہے جس کا نہ صرف ارتکاب ہو رہا ہے بلکہ آج سب سے زیادہ بکنے والا چورن بھی یہی ہے۔

بسنت: تفریح کا حق اور رجعتی دیواروں کی بوسیدگی

بسنت: تفریح کا حق اور رجعتی دیواروں کی بوسیدگی

نہ صرف لاہور کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ باسیوں کی وسیع اکثریت بلکہ دوسرے شہروں اور صوبوں سے خصوصی طور پر بسنت منانے کے لئے آنے والے لاکھوں لوگوں نے بنیاد پرستی، رجعت، ملائیت اور تحریک انصاف جیسے نیم فسطائی سیاسی رجحانات کا ’بو کاٹا‘ کیا ہے۔

نو آبادیاتی استحصال سے گھائل گلگت بلتستان کی پکار

نو آبادیاتی استحصال سے گھائل گلگت بلتستان کی پکار

حق خود ارادیت کے تحت گلگت بلتستان سمیت جموں کشمیر کے تمام ریجنوں کی رضاکارانہ فیڈریشن پر مشتمل ایک آزاد، خود مختار، سیکولر اور سوشلسٹ جموں کشمیر کا قیام ہی اس خطے کے باسیوں کو قلت، محرومی اور محکومی سے نجات دلا سکتا ہے اور پورے جنوب ایشیا کے سوشلسٹ مستقبل کی نوید ثابت ہو سکتا ہے۔

بنگلہ دیش: عوامی بغاوت کے بعد کی کشمکش

بنگلہ دیش: عوامی بغاوت کے بعد کی کشمکش

سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے علاقائی سامراجی طاقتوں کے مفادات اور مقاصد کی تکمیل کے لیے نئی صف بندی کرنے سے عالمی خبروں میں نمایاں مقام تو مل سکتا ہے۔ لیکن بنگلہ دیش کے 17 کروڑ سے زائد عوام کے مقدر تبدیل ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔