راہول
17 جنوری 2026ء کی رات کراچی کے تاریخی ایم اے جناح روڈ پر ایک عمارت نہیں جلی۔ بلکہ اس سارے نظام کا بھرم ایک بار پھر جل کے راکھ ہو گیا۔ گل پلازہ، جہاں روزانہ ہزاروں افراد روزگار کماتے تھے، چند ہی گھنٹوں میں ایک ایسا مقتل بن گیا جہاں سے اٹھنے والی چیخیں آج بھی فضا میں دھوئیں کی صورت معلق ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 67 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ درجنوں اب بھی لاپتہ ہیں۔ جبکہ اربوں روپے کا تجارتی سامان، سرمایہ اور برسوں کی محنت ایک ہی رات میں خاک ہو گئی۔
تین منزلہ عمارت، جس میں تقریباً 1200 دکانیں قائم تھیں، چند منٹوں میں آگ اور زہریلے دھوئیں کی لپیٹ میں آ گئی۔ زندہ بچ جانے والے محمد فیصل کے مطابق، ’’یہ قیامت کا منظر تھا۔ لوگ چیخ رہے تھے۔ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے۔ مگر راستے بند تھے۔ اوپر جانے یا نیچے آنے کا کوئی محفوظ راستہ نہیں تھا۔ نہ کوئی ایمرجنسی ایگزٹ، نہ فائر الارم، نہ اسپرنکلر سسٹم، نہ فائر فائٹنگ کا کوئی موثر انتظام۔‘‘
درجنوں افراد بالائی منزلوں میں پھنس گئے۔ کچھ نے کھڑکیوں سے کودنے کی کوشش کی۔ کچھ دم گھٹنے سے مر گئے اور کچھ آگ کی نذر ہو گئے۔ دکاندار آج بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اگر بروقت ریسکیو اور فائر فائٹنگ ہوتی تو درجنوں جانیں بچ سکتی تھیں۔ حکومت ایک طرف انکار کرتی ہے۔ دوسری طرف تسلیم بھی کرتی ہے کہ شہر میں فائر سیفٹی کے معقول انتظامات موجود ہی نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاشرے میں جنم لینے والے ہر ’’حادثے‘‘ اور ’’سانحے‘‘ کی طرح یہ ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان بھی کسی اچانک اور بے وجہ حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی غفلت، کرپشن اور منافع خوری کا منطقی نتیجہ تھا۔
گل پلازہ کی عمارت سے اٹھنے والا دھواں ایک قاتل نظام کی سفاکی کا گواہ ہے۔ ریسکیو اہلکار مسلسل ایکسکیویٹرز، تھرمل کیمروں اور جدید آلات کے ساتھ ملبہ کھود رہے ہیں مگر اب یہ تلاش زندہ انسانوں کی نہیں بلکہ لاشوں کی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ امید اس ملبے میں دفن ہوتی جا رہی ہے۔ سینکڑوں دکانداروں، مزدوروں اور دوسرے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کسی معجزے کے انتظار میں ہیں۔ حالانکہ ریسکیو حکام بار بار واضح کر چکے ہیں کہ کسی کے زندہ بچ جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ایم اے جناح روڈ پر واقع یہ تاریخی پلازہ، جو کل تک متوسط طبقے کے لیے خریداری اور شہر کی معیشت کا اہم مرکز تھا، آج جلے ہوئے ساز و سامان (قالین، کراکری، الماریاں، بستے وغیرہ) کی راکھ اور اَن گنت انسانوں کی اجتماعی قبر بن چکا ہے۔ کئی دن گزر چکے ہیں لیکن اب بھی ملبے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ درجنوں خاندان اجڑ چکے ہیں لیکن انصاف کہیں نظر نہیں آتا۔
یہ پچھلے دس سالوں میں کراچی میں آتش زدگی کا بدترین سانحہ ہے۔ بالکل جیسے 2012ء میں بلدیہ ٹاؤن کی ایک فیکٹری میں 289 مزدور ایک فسطائی سیاسی جماعت کی بھتہ خوری کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ فرق صرف عمارت اور وقت کا ہے۔ نظام اور مجرم وہی ہیں۔
اس بار بھی شاید یہی ہو گا۔ ایک انکوائری کمیٹی بنے گی، کسی فرضی یا نچلے درجے کے کردار کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا اور اصل قاتل ایک بار پھر بری الذمہ ہو جائیں گے۔
کراچی میں آگ لگنا اب معمول بن چکا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق صرف گزشتہ ایک سال میں شہر میں 1700 سے زائد آتش زدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ تعمیرات کے قوانین فائلوں میں دفن ہیں، فائر سیفٹی انسپیکشن کا عمل رشوت خوری تلے دب چکا ہے اور انسانی جان کی قیمت منافع سے کم سمجھی جاتی ہے۔ یہ شہر اب محض بد انتظامی کا شکار نہیں ہے بلکہ بیشتر سیاسی، ریاستی، قومی و لسانی دھڑوں پر مبنی حکمران ٹولے کی لوٹ مار کی ہوس اور آپس کی مسلسل لڑائیوں نے اسے ناقابلِ انتظام بنا کے رکھ دیا ہے۔
عالم یہ ہے کہ بیس ملین آبادی کے شہر میں صرف ایک ہزار کے قریب تربیت یافتہ فائر فائٹرز موجود ہیں۔ جبکہ ضرورت کم از کم پندرہ ہزار کی ہے۔ حکومت ان ذمہ داریوں سے دستبردار نظر آتی ہے۔ ریسکیو کا زیادہ تر کام ویسے ہی این جی اوز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ فائر بریگیڈ کے پاس نہ مناسب گاڑیاں ہیں، نہ جدید آلات، نہ حفاظتی لباس۔ یہ محض نااہلی اور غفلت نہیں بلکہ ایک طبقاتی مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسا پسماندہ اور بحران زدہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جس کے لیے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کی کوئی قیمت، کوئی وقعت نہیں ہے۔ پھر وہ چاہے ٹریفک حادثات میں مریں، ڈمپروں تلے کچلے جائیں یا زندہ جل جائیں۔ بس حکمران طبقات کی دولت میں اضافہ ہوتے رہنا چاہئے۔ چاہے ’جائز‘ منافع خوری سے ہو یا پھر بھتہ خوری، ٹیکس چوری، کرپشن اور دوسرے ہر طرح کے کالے طریقوں سے۔
پیپلز پارٹی، جو اٹھارہ برس سے سندھ میں برسرِ اقتدار ہے، آج پھر مگرمچھ کے آنسو بہاتے تین دن کے الٹی میٹم اور نمائشی کمیٹیوں کا اعلان کر رہی ہے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم، جو دہائیوں تک مختلف شکلوں میں کراچی پر مسلط رہی ہے اور آج بھی اربن سندھ کی نمائندگی کی دعویدار ہے، ایک بار پھر لاشوں پر اپنی بیہودہ اور بدقماش سیاست چمکا رہی ہے۔ یہی معاملہ دیگر مروجہ سیاسی پارٹیوں کا ہے۔ سچ یہ ہے کہ حل ان میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ یہ سب ایک اسی نظام کے محافظ اور رکھوالے ہیں۔ ایک ایسا نظام جو عوام کو خام مال سمجھتا ہے اور جس کی ہر پارٹی اقتدار میں آ کے انہیں جلتی عمارتوں کی نذر کر دیتی ہے۔ یہ انہی سرمایہ داروں، انہی بلڈروں اور اسی کرپٹ ریاستی مشینری کی پارٹیاں اور حکومتیں ہیں۔ اسی لئے نہ کسی بلڈر کو سزا ملتی ہے، نہ کوئی افسر کبھی جیل جاتا ہے۔ بلکہ اب تو متعلقہ وزرا بھی استعفیٰ دینے کی غیرت اور زحمت گوارا نہیں کرتے۔ لاشیں راکھ ہو جاتی ہیں، فائلیں بند ہو جاتی ہیں اور شہر اگلے سانحے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کی بیشتر پبلک عمارات اور کمرشل پلازے کسی بھی وقت گل پلازہ جیسے انجام سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ جب تعمیرات انسانی سہولت اور حفاظت کی بجائے منافع خوری کی غرض سے کی جائیں، جب سیفٹی کو زائد اور فضول خرچ اور انسانی جان کو قابلِ تلافی نقصان سمجھا جائے تو آگ محض حادثہ نہیں رہتی بلکہ ایک سوچا سمجھا قتل بن جاتی ہے۔
سوال محض گل پلازہ کے ملبے تلے دبنے والی لاشوں کی گنتی کا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ معاملہ ایسے حادثات کی فوری وجوہات سے بھی آگے کا ہے۔ یہ سارے سماج کے مستقبل کا سوال ہے۔ وہ معاشرہ جہاں عام انسانوں کی زندگیاں محض اعداد و شمار بن کے رہ گئی ہیں۔ پاکستان کا سرمایہ دارانہ نظام اس قدر دیوالیہ اور ریاست اس قدر کھوکھلی و نااہل ہو چکی ہے کہ ایسی آفات و حادثات معمول بن چکے ہیں اور حکمران طبقات نے ان کے سدباب کے لیے سنجیدگی سے سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ اظہارِ افسوس، روایتی مذمتوں اور خانہ پری پر مبنی انکوائریوں کے علاوہ وہ کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ محنت کش عوام کو اپنی نجات کے لیے خود ایک وسیع تر اور فیصلہ کن جدوجہد میں اترنا ہو گا اور اس نااہل، بے حس اور قاتل نظام کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ ورنہ یہ نظام کسی کالونی ٹیکسٹائل مل، کسی بلدیہ ٹاؤن یا گل پلازہ میں ان کا قتل عام جاری رکھے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ یا تو پیرس کمیون اور بالشویک انقلاب کے عہد ساز واقعات کی طرح جبر و استحصال کے ایوان محنت کشوں کے قدموں تلے روندے جاتے ہیں۔ یا ان ایوانوں سے چلایا جانے والا نظام ایک نہ ختم ہونے والی ہولناکی اور بربادی بن کر محنت کشوں پر مسلط رہتا ہے۔ گل پلازہ کا سانحہ ایک بار پھر یہ انتخاب ہمارے سامنے رکھ گیا ہے۔
