بابر پطرس

اس ملک میں لاکھوں بوڑھے، بچے اور جوان ان بیماریوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں جن کا علاج آج ممکن ہے۔ نئی زندگیوں کو جنم دیتی ان گنت خواتین اپنی جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ روڈ حادثات میں مارے جانے والوں کا کوئی ریکارڈ ہے نہ حساب۔ زلزلے اور طوفان تو خیر ’’ قدرتی آفات‘‘ ہیں۔ جن میں مرنے والوں کا خون ’’کسی کے ہاتھ‘‘ پر تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ حالانکہ ایسی تمام نہیں تو بیشتر اموات درحقیقت قتل کے زمرے میں آتی ہیں۔ کیونکہ ان کا سدباب عین ممکن ہوتا ہے۔

کائنات میں کوئی ایک واقعہ ایسا نہیں ہوتا جو ’’اچانک‘‘، بغیر کسی سبب کے رونما ہوا ہو۔ اِس ملک میں حکومتی اخراجات یا بجٹوں کا خفیف ترین حصہ‘ سرکاری شعبہ صحت و تعلیم کے لئے رکھا جا تا ہے۔ جس سے یہ بنیادی ترین شعبے زبوں حال ہو چکے ہے۔ آدھی آبادی بدترین غربت سے دوچار ہے۔ متوازن غذا کی عدم دستیابی اور غیر سائنسی طریقہ علاج نسل در نسل وٹامنز اور نمکیات کی قلت کے شکار لوگوں کو موت کے مزید قریب کر دیتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے جن میں خون کی کمی اس ملک میں معمول کی بات ہے۔ ایک طرف غیرمنصوبہ بند آبادیوں سے گزرتی ہوئی سڑکوں کے غلط ڈیزائن ہیں‘ دوسری طرف کریڈٹ فنانسنگ سے حاصل کی گئی بے تحاشا گاڑیاں ہیں جو سڑکوں پر چنگھاڑتی پھرتی ہیں۔ ایسے میں پھر غیر تربیت یافتہ ڈرائیور خواتین و حضرات اور حصول رزق کی دوڑ میں تیز رفتاری‘ مسلسل ٹریفک حادثات کا سبب ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس قتل عام پر کوئی سوال اٹھانے والا ہے نہ کوئی نوحہ خوانی کرنے والا۔

تاہم کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو معاشرتی بے حسی و بے گانگی کی تہوں کو چیر کر سماج کو مجموعی طور پر جھنجوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ دریائے سوات میں ایک پورے خاندان کے لہروں میں بہہ جانے کا دل سوز واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ یہ کوئی اچانک برپا ہونے والی قیامت نہیں ہے جس میں ایک ہی خاندان کے دس افراد سمت کل 18 لوگ دریا کی تیز لہروں کی نذر ہو گئے۔ بلکہ یہ ایک طویل عرصے سے چلے آ رہے متروک نظام کی ناکامی و نامرادی کا واضح پیغام ہے۔

جس ملک کے17 ہزار ارب روپے کے وفاقی بجٹ میں سے 9 تا 10 ہزار ارب روپے قرضوں کے سود کی نذر ہو جائیں اور جہاں دو گھونٹ پینے کا صاف اور صحت افزا پانی بھی دستیاب نہ ہو‘ وہاں تفریحی مقامات کے انفراسٹرکچر کی تعمیر اور حفاظتی اقدامات پر خرچ کرنے کے لئے کیا بچ سکتا ہے؟ ایک ایسا نظام جو تعلیم اور صحت ایسے بنیادی عوامی اداروں کو فروخت کرتا جا رہا ہو، ضعیفوں کی پنشن کو وسائل کا ضیاع سمجھتا ہو‘ اس کے رکھوالوں سے یہ امید باندھ لینا کہ وہ سیاحتی مقامات کو خوب صورت اور محفوظ بنانے پر پیسہ خرچ کریں گے‘ کس قدر نادانی کی بات ہے۔

دریائے سوات، جس کے سوتے ہندوکش کے پہاڑی سلسلے سے پھوٹتے ہیں‘ مہوڈنڈ جھیل اور اوشو وادی کے مختلف علاقوں سے ندی نالوں کو سمیٹتا ہوا نیچے کی طرف کالام، بحرین، مدین، منگورہ اور دیگر علاقوں سے گزرتا ہوا چارسدہ کے مقام پر میدانوں میں داخل ہو کر بالآخر دریائے کابل میں شامل ہو جاتا ہے۔ ہندوکش کے گلیشیرز سے دریائے کابل میں شامل ہونے تک اس کی کل لمبائی 240 کلومیٹر بنتی ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2022ء میں پاکستان میں لوگوں نے سیاحت پر کل 16 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی جس کے 2033ء تک 30 ارب ڈالر ہو جانے کے امکانات ہیں۔ اس ٹورازم کا سب سے بڑا حصہ پختونخوا سے جڑا ہوا ہے جہاں صرف 2021-22ء میں 12 لاکھ ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے وزٹ کیا۔ لیکن 240 کلومیٹر کے بہاؤ والے صرف مذکورہ دریا کو ہی لیں تو حالت یہ ہے کہ چند ایک استثنات کے علاوہ کہیں کوئی مناسب حفاظتی انتظامات نہیں ہیں۔ نہ صفائی و تعمیرات کے حوالے سے کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے (شفاف پانی کے دریاؤں اور قدرتی ندی نالوں میں دن رات غلاظت انڈیلی جا رہی ہے)۔ خطرات کی نشاندہی کے لئے کوئی سائن بورڈ آویزاں ہیں نہ خطرناک مقامات پر حفاظتی جنگلے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں سرچ اینڈ سکیورٹی کی ٹیمیں تعینات ہیں نہ اہم سیاحتی مقامات پر ایمرجنسی میڈیکل کیمپس کی سہولت موجود ہے۔ ہائی رسک علاقوں کی نشاندہی ہے نہ ان کی بندش کا کوئی انتظام۔ موسمی حالات سے متعلق رئیل ٹائم اپڈیٹس کا کوئی میکنزم ہے نہ مقامی افراد کی گائیڈنس اور مدد کے حوالے سے کوئی ٹریننگ ہوتی ہے۔ ٹور آپریٹرز اور ہوٹل مالکان کے لئے کاغذوں میں اگر کوئی سیفٹی گائیڈ لائنز ہیں بھی تو ان کی پاسداری افسر شاہی کے بھتوں کی نذر ہو جاتی ہے۔ ٹریکنگ سسٹم تو سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ہیلی کاپٹر محض حکمرانوں (’’تبدیلی‘‘ اور ’’نئے پاکستان‘‘ والوں سمیت) کی سواری کے لئے ہیں کہ وہ ’’سستے‘‘ پڑتے ہیں اور پٹرول کا خرچ ’’کم‘‘ آتا ہے!

ویسے 240 کلومیٹر کوئی ایسا رقبہ یا طوالت نہیں جس کو محفوظ نہ بنایا جا سکے۔ عام طور پر سیاح ایسے پہاڑی علاقوں میں پانی کے کناروں اور بہتے ندی نالوں کے آس پاس ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس لئے ان مقامات کو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن حکومتی سنجیدگی کی یہ حالت ہے کہ پنجاب حکومت نے تازہ صوبائی بجٹ میں سیاحت کے لئے محض 6.5 ارب روپے جبکہ پختونخوا حکومت نے 8 ارب روپے مختص کیے۔ جو سیاحت کی انڈسٹری کے مالیاتی ہجم کا ایک فیصد بھی نہیں بنتا۔ وفاق کا بجٹ بھی اس معاملے میں تقریباً صفر ہے۔ لیکن نظام زر کے رکھوالے سادہ لوحوں کی کچھ اس طرح سے ذہن سازی کرتے ہیں کہ ایسے حادثات میں سارا قصور متاثرین کا ہی لگنے لگتا ہے۔ خاطر غزنوی نے کیا خوب کہا تھا:

کیا قیامت ہے کہ خاطر کشتہ شب تھے بھی ہم
صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے

ایسی سوچوں کا جنم لینا اور نمو پانا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے جو ستم زدوں پر ہی سوال اٹھانا شروع کر دیں کہ ’’وہ پانی میں کیا لینے گئے تھے؟‘‘، ’’ان کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ دریا کبھی بھی چڑھ سکتا ہے‘‘، ’’تصاویر لینے کے چکر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے‘‘ وغیرہ۔ پھر حکومتی نمائندوں کی بھونڈی دلیلیں ہیں کہ ’’پانی اچانک آ گیا‘‘ اور ہمارے پاس وقت بہت کم تھا۔ ایسی تاویلیں کوئی راہ گیر پیش کرے تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اگر حکومت، جس کی پیچھے پورے ریاستی وسائل کے ساتھ دیوہیکل مشینری کھڑی ہوتی ہے (یا ہونی چاہئے)، اس طرح کے بیہودہ بیانات دے تو سمجھ لینا چاہے کہ بالائی طبقات کی ترجیحات کیا ہیں اور کیسے وہ ہر آفت کا ملبہ عوام پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پانی میں پھنسے سیاحوں کو بچانے کے لئے وقت کم تھا یا پانی کا ریلہ اچانک آ گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے ان حکومتوں کی تیاریاں کیا ہیں؟ وہ بھی ایسے میں جب ایسے سانحات مسلسل رونما ہوتے جا رہے ہوں۔ ویسے ایک ڈیڑھ گھنٹے کا وقت ریسکیو کے لئے کم نہیں ہوتا۔ بشرطیکہ اس حوالے سے کوئی نیت‘ کوئی انتظام موجود ہو۔

پانیوں کا ’’اچانک‘‘ چڑھ جانا بھی کوئی بے وجہ امر نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے موسمیاتی تبدیلیاں کارفرما ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، فوسل فیول کے بے تحاشہ استعمال اور کاربن کے بے لگام اخراج کی وجہ سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت (جس سے گلیشیرز پگھل رہے ہیں) کے ذمہ دار عام لوگ تو نہیں ہیں۔ یہ منافعوں کے حصول کا پاگل پن ہے جس نے موسموں کی قدرتی ترتیب کو برباد کر دیا ہے۔ پھر جہاں تک تعلق ہے عمومی شعور کا تو یہ کوئی ہواؤں میں نمو نہیں پاتا بلکہ اپنے معروضی حالات کا پروردہ ہوتا ہے۔ شعور کو متعین کرنے یا کم از کم اس پر اثر انداز ہونے والے اداروں یعنی کمرہ جماعت کے نصاب سے ٹیلی وژن کی سکرینوں تک‘ سب پر ریاست کا سخت کنٹرول ہوتا ہے۔ اس لئے پست شعور اور ثقافتی پسماندگی کا سوال محکوموں سے نہیں‘ ان بالادست طبقات سے کرنا چاہیے۔ کیونکہ بھوک تو آداب کے سانچوں میں ڈھلنے سے رہی۔

مختصر یہ کہ متروک معاشی نظاموں اور بحران زدہ قومی ریاستوں کی اپنی حدود و قیود اور مسائل ہوتے ہیں۔ مثلاً یہاں بجٹ میں 10 ہزار ارب روپے کے سود اور ڈھائی تین ہزار ارب روپے کے ’’دفاعی اخراجات‘‘ پر کوئی کٹ نہیں لگایا جا سکتا۔ ایسے میں سیاحت کا تو خیر ذکر ہی کیا‘ یہاں صحت، تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی کے لئے بھی کچھ نہیں بچتا۔ اور بڑے بڑے ’’نیک‘‘ اور ’’پارسا‘‘ حکمران بھی خود کو بے بس اور لاچار ہی پاتے ہیں۔ اس گلے سڑے نظام کو بچانے کے لئے وہ اپنا حصہ بقدر جثہ بہرحال وصولتے رہتے ہیں۔ اس لئے جب تک یہ گلا سڑا سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے‘ ایسے حادثات اور سانحات جنم لیتے رہیں گے۔ آج کی سماجی زندگی کے بنیادی ترین مسائل کے بارے میں سوچنے کے لئے بھی اس نظام کا انقلابی خاتمہ درکار ہے۔