نذر مینگل (مرکزی چیئرمین پی ٹی یو ڈی سی)

بلوچستان میں حکومتی انتقامی کاروائیوں، جھوٹے مقدمات،چھاپوں،گرفتاریوں اور معطلی کے احکامات کے باوجود سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک جاری ہے۔اس احتجاجی تحریک کا آغاز گزشتہ سال کے پہلے مہینے سے ہوا۔ 22 جنوری 2025ء کو بلوچستان میں ملازمین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مختلف ایسوسی ایشنز، ٹریڈ یونینز اور فیڈریشنز کا ایک اجلاس ہوا۔اس اجلاس کی میزبانی بلوچستان پرفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے کی۔ اس اجلاس میں ”بلوچستان گرینڈ الائنس“ کے نام سے ایک نئے اتحاد کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 11 فروری 2025ء کو ایک تاریخی اور پرہجوم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ایک ایسی پریس کانفرنس جس میں ایک ہزار کے قریب مختلف محکموں کے ملازمین نے شرکت کی۔ اس میں اتحاد کے قیام، اس کے اغراض و مقاصد اور آئندہ کے احتجاجی شیڈول و لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا۔ فوری طور پر بلوچستان بھر میں اضلاع کی سطح پر اس الائنس کی ضلعی باڈیز کا قیام عمل میں لایا گیا اور فروری میں ہی کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں اضلاع کی سطح پر ضلعی کنونشنز کا انعقاد کیا گیا۔مئی 2025ء میں پورے بلوچستان میں ریلیاں اور جلسے منعقد کیے گئے۔مئی کے اواخر اور جون میں کام کی جگہوں پر ملازمین نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کراحتجاج ریکارڈ کرایا۔احتجاج کے اگلے فیز میں کام چھوڑ، قلم چھوڑ ہڑتال اور پھر تالابندی کی گئی۔ اس کے فوری بعد ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کلبوں کے سامنے چار دن علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیے گئے۔جس میں ملازمین نے بھر پور شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ لیکن اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج اور آواز بلند کرنے کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ اگلے مرحلے میں 17 جون 2025ء کو جب بلوچستان کا بجٹ پیش کیا جارہا تھا‘ بلوچستان گرینڈ الائنس نے بلوچستان کے ملازمین کو کوئٹہ کی جانب مارچ کرنے کی ہدایت کی اور بلوچستان اسمبلی کے سامنے ریڈ زون میں دھرنے کا اعلان کر دیا۔ احتجاج کے اس مرحلے پر حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور 16 جون کو رات گئے صوبائی وزیر خزانہ، صوبائی وزیر تعلیم اور صوبائی وزیر صحت نے گرینڈ الائنس کی کور کمیٹی سے مذاکرات کر کے مرکز کی طرز پر تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔ اس یقین دہانی کا اعلان ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔جس پر گرینڈ الائنس نے اسمبلی کے سامنے ریڈ زون میں دھرنا مؤخر کر کے ایوب اسٹیڈیم میں ایک جلسے پر اکتفا کیا۔لیکن جلد ہی حکومتی بدنیتی سامنے آگئی۔ بلوچستان حکومت نے وفاق کے طرز پر 30 فیصد ڈی آر اے دینے کی بجائے پانچ فیصد کا اعلان کیا۔ اس حکومتی بد عہدی نے اعتماد کے سارے پل گرا دیئے۔خود بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بلوچستان گرینڈ الائنس نے 24جون 2025ء کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنے کا اعلان کردیااور بلوچستان بھر سے ملازمین کوئٹہ پہنچنا شروع ہو گئے۔لیکن ایک بار پھر وعدہ خلافی کرتے ہو 23 جون کی رات بلوچستان گرینڈ الائنس کے چیف آرگنائزر پروفیسر قدوس کاکڑ کو مذاکرات سے نکلتے ہی پیچھا کر کے گرفتار کرلیا گیا۔جس پر ملازمین کا غم و غصہ اور اشتعال ناگزیر تھا۔ لہٰذا اگلے دن یعنی 24 جون کو صوبائی دارالحکومت میدان جنگ بنا رہا۔دن بھر آنسو گیس کے شیل چلتے رہے۔ ایکسپائرڈ آنسو گیس بھی پھینکی گئی۔متعدد ملازمین جن میں خواتین بھی شامل تھیں زخمی ہو گئے۔اگلے دو دن تک گرفتاریاں ہوتی رہیں۔ سو سے زائد گرفتاریاں ہوئیں۔چیف آرگنائزرسمیت درجن سے زائد کو بدنام زمانہ مچھ جیل منتقل کردیا گیا۔ مچھ بلوچستان کا گرم علاقہ ہے۔جون جولائی میں وہاں کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جاتا ہے۔ 90 کے قریب ملازمین کو ہدہ جیل کوئٹہ میں ایک ہی بیرک میں رکھا گیا۔جہاں صرف ایک عارضی واش روم تیار کیا گیا تھا۔ ان ملازمین میں ریٹائرڈ ملازمین بھی شامل تھے۔ ان حکومتی اقدامات اور مظالم کے خلاف اگلے ایک ہفتے تک بلوچستان بھر میں تعلیمی ادارے اور دفاتر بند رہے۔جس پر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور گرینڈ الائنس کے سامنے جھکنا پڑا۔ ڈیڑھ ہفتے بعد تمام گرفتار ملازمین کو رہا اور کمیٹی قائم کر کے مذاکرات کی راہ اپنائی گئی۔لیکن کون جانتا تھا کہ حکومت کی نیت کا کھوٹ ابھی تک نہیں گیا۔ کمیٹیاں بن گئیں۔ مذاکرات کا سلسلہ چل نکلا۔ میٹنگ در میٹنگ کے بعد ایک متفقہ سمری بنائی گئی۔ جسے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ ہوا۔گزشتہ تین ماہ کے دوران کابینہ کے نصف درجن اجلاس منعقد ہونے کے باوجود حکومت نے وہ سمری کابینہ اجلاس کے ایجنڈے پر نہیں رکھی۔ جس پر بلوچستان گرینڈ الائنس نے موخر شدہ اپنی احتجاجی تحریک ایک بار پھر اٹھا دی۔ 23 دسمبر کو صوبائی دارالحکومت میں ایک تاریخی ریلی نکالی گئی۔دوسرے اضلاع میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔ پریس کلبوں کے سامنے تین دن تک احتجاجی کیمپ لگائے گئے۔ دفاتر میں کام چھوڑ،قلم چھوڑ ہڑتال کی گئی۔ بلوچستان بھر کے اضلاع میں منتخب عوامی نمائندوں کو یادداشتیں پیش کی گئیں۔ دن 12بجے سے دو بجے تک بلوچستان میں مختلف مقامات پر شاہراہوں پر ٹریفک روک دی گئی۔ جبکہ 15 جنوری 2026ء کو بلوچستان بھر میں تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر کو تالے لگا دیئے گئے۔اور 20 جنوری کو بلوچستان بھر کے ملازمین کو کوئٹہ کی جانب مارچ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جہاں 20 جنوری کو صوبائی دارالحکومت کے ریڈ زون میں دھرنا دیا جائے گا۔دوسری جانب حکومتی بوکھلاہٹ بھی واضح ہے۔ انتقامی کاروائیاں عروج پر ہیں۔ ملازمین کو اٹھا اٹھا کر جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔ ہدہ جیل کوئٹہ سمیت اس وقت بلوچستان کے مختلف جیلوں میں درجنوں ملازمین گزشتہ دو ہفتوں کے پابند سلاسل ہیں۔ گھروں پر چھاپے پڑ رہے ہیں۔ جہاں پولیس ملازمین کے اہل خانہ کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کے لئے ویڈیوز بناتی ہے۔ اس وقت تک تین درجن سے زائد پروفیسرز اور لیکچررز کو معطل کردیا گیا ہے جن میں خواتین لیکچررز اور پروفیسرز بھی شامل ہیں۔ جبکہ بلوچستان گرینڈ الائنس کے چیف آرگنائزر پروفیسرعبدالقدوس کاکڑ جو کہ پوسٹ گریجویٹ کالج سریاب کوئٹہ میں عمرانیات کے پروفیسر ہیں کو برطرف کردیا گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر حکومت نے ہٹ دھرمی نہیں چھوڑی،انتقام کی آگ جلتی رہی تو 20 جنوری کو کوئی بہت بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ہوش کے ناخن لے۔اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ وہ اس موقع پر لاتعلق نہ رہے۔ لیکن بدقسمتی سے بلوچستان میں اپوزیشن پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ وہ ملازمین کے اس احتجاج سے لاتعلق ہیں۔ یقینا بلوچستان کے اڑھائی لاکھ ملازمین بلوچستان میں نام نہاد اپوزیشن کا یہ کردار نہیں بھولیں گے۔