طبقاتی جدوجہد ایک انقلابی رجحان کے طور پر گزشتہ 42 سال سے مندرجہ ذیل پروگرام کے لئے ایک ناقابل مصالحت جدوجہد کا علم بلند کیے ہوئے ہے اور سوشلسٹ انقلاب کی لڑائی آگے بڑھ رہی ہے۔
ریاست
محنت کشوں کے مستند نمائندوں پر مشتمل انقلابی آئین ساز اسمبلی کا قیام۔ جو وسیع تر عوام کی فوری معاشی، سیاسی و سماجی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سماج کی نئی تنظیم اور تعمیر کا منصوبہ مرتب کرے اور ہر سطح پر منتخب مزدور کسان پنچایتوں کے کنٹرول پر مبنی حقیقی جمہوری معاشرے کی تشکیل کرے۔ یونین سازی، حق رائے دہی اور نقل و حمل پر ہر قسم کی قدغنوں کا خاتمہ۔
محنت کش عوام
افراطِ زر سے منسلک کر کے کم از کم اجرت کو فی الفور دو گنا کرتے ہوئے بتدریج ایک تولہ سونے کی قیمت تک لے جایا جائے۔ تمام نجی و سرکاری اداروں میں کم از کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ ریاست کی جانب سے ہر شہری کو باعزت اور مستقل روزگار کی ضمانت۔ بیروزگاری کی صورت میں کم از کم اجرت کے برابر بیروزگاری الاؤنس۔ بنیادی انسانی ضروریات بشمول صحت و تعلیم کی بالکل مفت فراہمی۔ اجرتوں میں کمی کے بغیر کام کے اوقات کار کو بتدریج کم کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیا جا سکے۔ چائلڈ لیبر کا مکمل خاتمہ۔ محنت کشوں کی پنشن اور دیگر مراعات پر حملوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ قبل از وقت جبری ریٹائرمنٹ کی ہر شکل نامنظور۔ 55 سال کی عمر میں معقول گریجویٹی اور پنشن کیساتھ ریٹائرمنٹ کا حق۔ ماہانہ پنشن کسی صورت آخری تنخواہ کے 50 فیصد اور مقررہ کم از کم اجرت سے کم نہیں ہونی چاہئے۔
صنعت و معیشت
ٹھیکیداری نظام، نجکاری اور ڈاؤن سائزنگ کا مکمل خاتمہ۔ مفادِ عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے بینکنگ، سروسز اور صنعت کے کلیدی حصوں کی مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں نیشنلائزیشن کے ذریعے منصوبہ بند معیشت کی تشکیل۔ سامراجی قرضوں کی واپسی سے انکار۔ ان ذرائع سے حاصل ہونے والے بیش بہا وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے صنعتکاری، سماجی و مادی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور جدید ترین سائنس و ٹیکنالوجی کی تحقیق و ترویج میں بڑے پیمانے کی ریاستی سرمایہ کاری کی جائے۔ تاکہ ملک کی پیداواری صلاحیتوں، اجرتوں اور روزگار کے مواقع میں تیز رفتار اضافہ ہو اور پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔
زراعت
تمام جاگیروں اور کارپوریٹ زمینوں کو قومی تحویل میں لیتے ہوئے مزارعوں، کھیت مزدوروں اور غریب و بے زمین کسانوں میں تقسیم کیا جائے۔ بیج، کھاد، زرعی ادویات اور مشینری کی منافع خوری سے پاک منصوبہ بند پیداوار اور ارزاں نرخوں پر فراہمی۔ آبپاشی کے غیر موثر اور متروک طریقوں کو بتدریج ختم کرتے ہوئے جدید نظامِ آبپاشی کا قیام اور ہر سطح پر پانی کی منصفانہ تقسیم۔ زرعی اجناس کی ترسیل اور خرید و فروخت کے عمل میں غیر پیداواری و طفیلی عناصر کا خاتمہ۔ ریاستی سرپرستی میں اجتماعی کاشتکاری کا فروغ اور جدید تکنیکی بنیادوں پر زرعی انقلاب۔
نوجوان
طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ۔ عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق قدامت پرستی اور رجعت سے پاک سائنسی نصابوں کا اجرا۔ ’رٹا سسٹم‘ کی حوصلہ شکنی۔ مقابلہ بازی پر مبنی امتحانی نظام سمیت طلبہ کے لئے تضحیک اور ذہنی تناؤ کا باعث بننے والے تعلیمی طریقوں اور رویوں کا خاتمہ۔ فنون لطیفہ، کھیلوں اور سیاسی و نظریاتی بحثوں سمیت تمام صحتمند غیر نصابی سرگرمیوں میں طلبہ کی شرکت کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔ تمام سطحوں پر مفت تعلیم کی فراہمی۔ سولہ سال کی عمر میں ووٹ کا حق۔ کیمپس کا انتظام طلبہ، ا ساتذہ اور والدین کی منتخب کمیٹیوں کے کنٹرول میں دیا جائے۔ ’انٹرن شپ‘کے نام پر بیگار اور طلبہ کا استحصال نامنظور۔ طلبہ یونین پر عائد پابندی فوری اٹھائی جائے اور یونین انتخابات کا شیڈول جاری کیا جائے۔ ناخواندگی کے جلد از جلد خاتمے کے لئے انقلابی بنیادوں پر طلبا و طالبات کی ملک گیر موبلائزیشن کے ذریعے تعلیم بالغان کے جامع پروگرام کا اجرا‘ جس میں ترغیبی مراعات کی مدد سے وسیع تر عوام کی شمولیت کو ممکن بنایا جائے۔
خواتین
خواتین کے خلاف تمام رجعتی اور کالے قوانین کا خاتمہ۔ صنفی تعصب و امتیاز پر مبنی فرسودہ روایات اور رویوں کے خلاف اعلانِ جنگ۔ تمام شعبوں میں محنت کش خواتین کے مساوی حقوق اور نمائندگی۔ تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر خواتین کی معقول نمائندگی پر مبنی کمیٹیوں سمیت انسدادِ ہراسانی کے شفاف اور جامع نظام کی تشکیل۔ زچگی کے دوران مکمل تنخواہ کیساتھ چھ ماہ کی رخصت۔ گھریلو اور صنعتی محنت میں تفریق کا خاتمہ۔
مذہب
مذہبی عقائد سے قطع نظر تمام انسانوں کے لئے مساوی حقوق کی ضمانت۔ مذہب کی بنیاد پر سماجی و ثقافتی تعصب اور جداگانہ طرز ِانتخاب کا خاتمہ۔ سیاست میں مذہب کے استعمال کے خلاف سخت قوانین۔ ریاست کو مذہب سے الگ کیا جائے۔
میڈیا
مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر ہر طرح کی عوام دشمن پابندیوں، فائر وال اور رجعتی سنسر شپ کا خاتمہ۔ پبلک مقامات پر برق رفتار انٹرنیٹ کی مفت فراہمی۔ تمام کارپوریٹ میڈیا ہاؤسز کی میڈیا مزدوروں کے جمہوری کنٹرول اور عوامی احتساب و نگرانی کے تحت نیشنلائزیشن۔ بین الاقوامی کارپوریٹ اور سوشل میڈیا کو نجی ملکیت، منافع خوری اور عوام دشمن عناصر کی جکڑ سے آزاد کرانے کی جدوجہد۔
رہائش
ہنگامی رہائشی منصوبے کا اجرا۔ جس کے تحت ریاست بڑے پیمانے پر نئے فلیٹوں اور رہائشی یونٹوں کی تعمیر کی ذمہ داری لے۔ ہر انسان کے لئے باعزت، صحت افزا اور جدید سہولیات سے مزین رہائش۔ جس کے اخراجات محنت کشوں کی اوسط آمدن کے دس فیصد سے زیادہ نہ ہوں۔ قیمتی زرعی زمینوں، باغات اور جنگلات کو نگلنے والے رئیل اسٹیٹ کے طفیلی شعبے اور بے ہنگم تعمیراتی عوامل کا قلع قمع کیا جائے۔
ماحولیات
پیداوار، ترسیل اور کھپت (استعمال) میں ہر طرح کے ماحول دشمن طریقوں اور تعمیرات کا خاتمہ۔ ملک بھر میں باعزت، تیز رفتار اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ کے جامع نظام کا قیام۔ نجی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی۔ آئی پی پیز کی نیشنلائزیشن اور قابل تجدید توانائی کا فروغ۔ محنت کشوں اور ماحولیات کے تحفظ کا خیال نہ رکھنے والے نجی اداروں کی فوری نیشنلائزیشن اور متعلقہ تقاضوں کے مطابق ری سٹرکچرنگ۔ منڈی کے طریقوں سے ماحولیات کے تحفظ (کاربن کریڈٹس، کاربن ٹیکس، گرین بانڈز وغیرہ) کے سرمایہ دارانہ فریب کو مسترد اور بے نقاب کیا جائے۔ مقامی ماہی گیروں کو بے دخل اور بے دریغ شکار کے ذریعے سمندری حیات کو تباہ یا معدوم کرنے والے ماہی گیری کے طریقوں پر فوری پابندی۔
نظامِ انصاف
عدلیہ اور پولیس میں رائج نوآبادیاتی دور کے تمام طریقوں اور رویوں کا خاتمہ۔ ہر قسم کی بدعنوانی، تاخیر اور طبقاتی تعصبات سے پاک جمہوری اور عوام دوست نظامِ انصاف کی تشکیل۔ ماورائے عدالت اقدامات اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
قومی مسئلہ
محنت کشوں کو تقسیم کرنے والے ہر طرح کے لسانی، نسلی اور قومی تعصبات کو مسترد کیا جائے۔ مظلوم قوموں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا جائے۔ ہر قسم کے قومی تعصب، جبر اور استحصال کا خاتمہ۔ ریاست کی جانب سے کسی ایک زبان کو مسلط کرنے کی بجائے تمام قومی زبانوں کی ترویج و ترقی کے مساوی مواقع۔ قومی آزادی سمیت بنیادی جمہوری مطالبات کو طبقاتی جدوجہد سے منسلک کرتے ہوئے تمام قوموں اور نسلی و مذہبی برادریوں کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق کے ضامن نظامِ ریاست کی تشکیل۔ جس کی بنیاد تمام قوموں کے محنت کش عوام کی یکجہتی، ہم آہنگی اور مساوات ہو۔
فوج
فوج میں کمیشن سسٹم کا خاتمہ۔ افسران اور سپاہیوں کی مساوی تنخواہیں اور مراعات۔ تمام افسران کا سپاہیوں کی کمیٹیوں کے ذریعے انتخاب۔ عالمی سطح پر اسلحے کی دوڑ اور جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی جدوجہد۔
بین الاقوامی معاہدہ جات
تمام خفیہ سیاسی و معاشی بین الاقوامی معاہدوں کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ کانکنی، انفراسٹرکچر کی ترقی، صنعت کاری یا ٹیکنالوجی کی منتقلی کی غرض سے کیے جانے والے بین الاقوامی معاہدے اور انتظامات مکمل طور پر شفاف ہوں۔ جن کی تمام شقیں عوامی بحث کے لئے شائع کی جائیں اور وہ مزدوروں، کسانوں اور مقامی آبادیوں کی نمائندہ تنظیموں کی جمہوری نگرانی اور منظوری کے تابع ہوں۔
خارجہ پالیسی
طبقاتی یکجہتی کی بنیاد پر خارجہ پالیسی کی تشکیل۔ افغانستان سمیت دنیا کے دوسرے ممالک میں سامراجی مداخلت اور بنیاد پرستی کی حمایت کا خاتمہ۔ سامراجی گماشتگی اور قومی شاونسٹ طرز کی خارجہ پالیسی کو مسترد کیا جائے۔ مقامی محنت کشوں اور طلبہ کو دنیا بھر کی عوامی تحریکوں سے منسلک کرتے ہوئے جنوب ایشیا کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام اور عالمی سوشلزم کی جدوجہد۔
