مائیکل رابرٹس
’’معاشیات (Economics) کس طرح تبدیل ہو رہی ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں فنانشل ٹائمز کے کالم نگار ہاروے نریپیا نے اکیسویں صدی میں ایک علمی شعبے کی حیثیت سے معاشیات کی عمومی طور پر ایک مثبت تصویر پیش کی ہے۔ اس کا استدلال ہے کہ معاشیات اب زیادہ تخلیقی اور تجرباتی (Empirical) ہو گئی ہے اور مجموعی طور پر معیشتوں کے بارے میں ہماری معلومات میں مسلسل ایسے مفید اضافے کر رہی ہے جو اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ انسانی معاشرے کس طرح خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔ اب معاشیات کو وہ ’’ افسردہ سائنس‘‘ (Dismal Science) نہیں کہا جا سکتا جس نام سے مبینہ طور پر تھامس کارلائل نے انیسویں صدی کے وسط میں اسے پکارا تھا۔ اس زمانے میں جسے عموماً ’’سیاسی معاشیات‘‘ (Political Economy) کہا جاتا تھا وہ انسانی ترقی کے بارے میں زیادہ تر مایوس کن نقطہ نظر رکھتی تھی۔
تقریباً ڈھائی سو سال گزر چکے ہیں جب ایڈم سمتھ نے اجارہ داریوں کے خاتمے، آزاد منڈیوں کے فروغ اور محنت کی تقسیم کی حمایت کی تھی اور اس کے خیال میں یہ عوامل انسانی پیداواری صلاحیت اور خوش حالی میں ایک بہت بڑی پیش رفت کا باعث بن سکتے تھے۔ تاہم انیسویں صدی کے اوائل میں ڈیوڈ ریکارڈو اور تھامس مالتھس اقتصادی ترقی کے امکانات کے بارے میں اس قدر پرامید نہیں تھے۔ ریکارڈو کا خیال تھا کہ جاگیردارانہ نظام اور زمین داری کے باعث منافع میں کمی واقع ہوتی جائے گی۔ جبکہ مالتھس کو خدشہ تھا کہ آبادی میں ضرورت سے زیادہ اضافے کے نتیجے میں غربت کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔
لیکن نریپیا کے مطابق اب صورتِ حال کہیں زیادہ خوش آئند ہے۔ ایک علمی شعبے کی حیثیت سے معاشیات تیزی سے پھیل رہی ہے اور دریافت و تحقیق کے نئے میدانوں میں داخل ہو رہی ہے۔ آج برطانیہ میں اے لیول کی سطح پر معاشیات پانچواں سب سے مقبول مضمون ہے۔ 1960ء کی دہائی میں تو شاید ہی کبھی معاشیات کا نام سننے کو ملتا تھا۔ یہ وہ وقت ہے جب مجھے مشورہ دیا گیا تھا کہ اس ’’تازہ تازہ متعارف ہوئے مضمون‘‘ کو آزمانا چاہیے جو سائنس اور آرٹس کے درمیان کہیں موجود ہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ گزشتہ 40 برسوں کے دوران سکولوں اور جامعات میں معاشیات کی مقبولیت میں جو زبردست اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ شاید اس کی علمی کشش سے زیادہ یہ ہے کہ انگریزی یا سائنس وغیرہ کے مقابلے میں معاشیات کے ذریعے مالیاتی اداروں اور حکومتوں میں زیادہ اچھی تنخواہ والے کیریئر کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ یورپی مرکزی بینک (ECB) سے تعلق رکھنے والے بینوا کوئرے نے 2019ء میں پیرس سکول آف اکنامکس کے ایک جاب فورم میں معاشیات کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’بہت سے لوگوں کے لیے ماسٹرز کی ڈگری پی ایچ ڈی کی طرف ایک فطری قدم ہے۔ اور پی ایچ ڈی بنیادی طور پر ملازمت کے حصول کی ضمانت ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں پی ایچ ڈی کرنے والے ماہرین معاشیات میں بے روزگاری کی شرح صرف 0.8 فیصد ہے۔ جو تمام سائنسی شعبوں میں سب سے کم ہے۔ اس لحاظ سے شروعات کے لیے یہ کوئی بری جگہ نہیں۔‘‘
فنانشل ٹائمز کے نریپیا نے معاشیات کے جرائد کے ایک سروے کو نمایاں کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشیات انسانی رویوں اور سماجی اصول و اقدار کے ہر طرح کے شعبوں میں پھیل چکی ہے۔ ترقی، جرائم اور صنفی معاملات پر تحقیق کرنے والے مقالے ’’تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔‘‘
ایک اور سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’معاشیات میں سبب یا علّت (Cause) سے متعلقہ دعووں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 1990ء میں علمی لٹریچر میں کیے جانے والے دعووں میں صرف 7.7 فیصد علّت کے بارے میں تھے۔ 2023ء تک یہ شرح بڑھ کر 32.6 فیصد ہو گئی ہے۔ مزید برآں تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن مقالوں میں علّت کے دعوے زیادہ ہوتے ہیں‘ ان کے زیادہ حوالہ جات (Citations) حاصل کرنے اور پانچ اعلیٰ ترین جرائد میں شائع ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو معاشیات بتدریج ایک باقاعدہ سائنسی شعبے سے مشابہ ہوتی جا رہی ہے۔‘‘
یہ اچھی خبر معلوم ہوتی ہے۔ لیکن یہاں کچھ تضادات بھی موجود ہیں۔ جدید معاشیات کو ریاضیاتی ماڈلوں سے خاص رغبت ہے۔ جنہوں نے بڑی حد تک نظرئیے کی جگہ لے لی ہے۔ مارکسی ماہر معاشیات بین فائن نے ماڈلوں پر مبنی اس طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے:’’معیشت کی ماڈلنگ کا مقصد ہی بنیادی طور پر غلط تصور پر مبنی ہے… معیشت کا ایک ماڈل خود معیشت نہیں ہوتا۔‘‘ چنانچہ میکرو اکنامکس اب بھی حقیقی معیشت میں رونما ہونے والے واقعات اور عمل سے بڑی حد تک کٹی ہوئی ہے۔ میکرو اکنامکس میں شاید سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ماڈل ’’غیر یقینی عوامل پر مبنی عمومی توازن کے متحرک‘‘ (DSGE) ماڈل ہیں۔ ان کی بنیاد ایک ایسے مفروضے پر ہے جسے ثابت شدہ حقیقت نہیں کہا جا سکتا: یعنی یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ معیشت میں رسد اور طلب برابر ہوتی ہیں۔ انہیں متحرک اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان میں افراد اور کاروباری اداروں کے بدلتے ہوئے رویوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ جبکہ غیر یقینی یا احتمالی اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان میں توازن کو متاثر کرنے والے اچانک اور غیر متوقع عوامل یعنی ’شاکس‘(جھٹکے) بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
آج کل میکرو اکانومی کے زیادہ تر ماہرین اپنا زیادہ تر وقت اسی طرح کے ماڈل بنانے اور ان پر کام کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ یعنی عملی شواہد کو ایک طرف رکھ دیں، معیشت کے حقیقی اعداد و شمار کو بھی نظرانداز کر دیں اور ایک ایسی ’مائیکرو‘ بنیاد یا ماڈل تلاش کریں جو کم از کم یہ اندازہ لگانے میں کچھ رہنمائی دے سکے کہ مستقبل میں ممکنہ طور پر کیا ہو سکتا ہے۔
لیکن یہ ’DSGE‘ ماڈل کچھ بھی واضح کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ 2007ء کی عظیم کساد بازاری (Great Recession) کی پیش گوئی کرنے میں ناکام رہے اور اس کے بعد بھی اس کی کوئی قابلِ ذکر وضاحت پیش نہ کر سکے۔ اسی طرح وہ کریش کے بعد ہونے والی کمزور معاشی بحالی یا طویل بحران کی بھی وضاحت نہیں کر پائے۔ اور یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ دراصل ان ماڈلوں میں سرمایہ کاری یا منافعوں کو ایسے ممکنہ ’شاکس‘ کے طور پر سرے سے شامل ہی نہیں کیا جاتا جو معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کی پوری کہانی صارفین کی ترجیحات سے شروع ہوتی ہے۔ نیو کلاسیکل معاشی نظرئیے کی طرح یہاں بھی صارف کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جبکہ کینیشیئن نظرئیے کی مجموعی طلب کو گھٹا کر محض صارفین کی کھپت تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
لیکن نریپیا کا دعویٰ ہے کہ اب معاشیات میں واقعی پیش رفت ہو رہی ہے! اس کے مطابق معاشی خیالات اور نظریات کا دائرہ وسیع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ماہرینِ معاشیات نے نظریاتی ماڈلوں کے بجائے تجرباتی (Empirical) طریقہ کار اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن جن تجرباتی طریقوں کی نریپیا تعریف کرتا ہے ان میں ’فرقوں کے فرق‘ (Difference-in-Differences) کا طریقہ اور ’تصادفی کنٹرول شدہ تجربات‘ (Randomised Controlled Trials) شامل ہیں۔ یہ دراصل ’لیبارٹری‘ طرز کی تحقیق ہے جس میں انفرادی انسانی رویوں کو بہت محدود اور چھوٹے پیمانے پر جانچا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کو اختیار کرنے والے ماہرین ایسے تجربات کا جواز کچھ یوں پیش کرتے ہیں کہ ’’اچھی معاشیات بہت سخت گیر اور کرخت نہیں ہوتی۔ یہ سائنس سے کم اور انجینئرنگ یا پلمبنگ سے زیادہ مشابہ ہوتی ہے۔ یعنی یہ بڑے مسائل کو چھوٹے اور زیادہ آسان حصوں میں تقسیم کرتی ہے اور پھر انہیں ایک عملی (Pragmatic) طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ طریقہ وجدان، نظرئیے، آزمائش اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے مجموعے پر مبنی ہوتا ہے۔ ‘‘
لیکن جیسا کہ سنجے ریڈی اور دیگر اہلِ علم نے نشاندہی کی ہے‘ بدقسمتی سے کنٹرول شدہ تجربات کے طریقہ کار میں بھی اتنی ہی بنیادی کمزوریاں موجود ہیں جتنی ’DSGE‘ ماڈلوں میں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح جدید مین سٹریم معاشیات کے میکرو اکنامک نظریات کی تائید کے لیے درکار تجرباتی شواہد یا تو غیر موجود ہیں یا پھر ناکافی۔ میرے نزدیک معاشیات ایک سائنس ہے۔ یعنی ایسا علم جو تھیوری کو شواہد کے مقابل رکھ کر جانچتا ہے۔ لیکن یہ سماجی سائنس ہے۔ جس کا موضوع مجموعی طور پر رونما ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ نہ کہ محض افراد کے انفرادی رویوں کا مطالعہ۔
مثلاً افراطِ زر کو ہی لیجیے۔ افراطِ زر کی وجوہات کے بارے میں مین سٹریم معاشیات کے معاشی نظریات اب تک تسلی بخش ثابت نہیں ہوئے۔ جبکہ مانیٹرازم، لاگت کے دباؤ سے پیدا ہونے والی مہنگائی (Cost Push Inflation) یا صارفین کی توقعات کو افراطِ زر کی وجہ قرار دینے کے حق میں تجرباتی شواہد بھی کمزور ہیں۔ جدید معیشتوں میں پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار کے باقاعدہ اور بار بار آنے والے بحرانوں کی وضاحت کے معاملے میں مین سٹریم معاشیات کی ناکامی اس سے کہیں زیادہ نمایاں ہے۔ نیو کلاسیکل معاشیات ایسے بحرانوں کو سرمایہ دارانہ نظام کی نامیاتی یا ساختی خصوصیت تسلیم ہی نہیں کرتی۔ اس کی بجائے وہ جدید معیشتوں کی بظاہر ہم آہنگ اور متوازن ترقی میں پیدا ہونے والے اتفاقی اور بے ترتیب ’شاکس‘ (خلل یا جھٹکے) تلاش کرتی رہتی ہے۔ کینیشیئن معاشیات کے نزدیک بھی یہ بحرانات بنیادی طور پر سرمایہ کاری اور کھپت میں پیدا ہونے والی ایک ’تکنیکی خرابی‘ ہیں۔ جنہیں مناسب معاشی پالیسی کے ذریعے درست کیا جا سکتا ہے۔
معاشیات کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے بینوا کوئرے نے اس تنقید کو بھی مسترد کیا ہے کہ جدید معاشیات 2008-09ء کے عالمی مالیاتی بحران کے پھوٹ پڑنے کی پیش گوئی کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اس کے الفاظ میں: ’’یہ تنقید ہی بے معنی ہے۔ کیا ہم ڈاکٹروں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بیماریوں کی پیش گوئی کریں؟ یقینا نہیں۔ لیکن ہم یہ توقع ضرور رکھتے ہیں کہ وہ بیماریوں کا علاج کرنے میں ہماری مدد کریں۔ ماہرینِ معاشیات کو بھی یہی کرنا چاہیے۔ انہیں اس بات سے پرکھا جانا چاہیے کہ وہ جو مشورے دیتے ہیں‘ ان کا معیار کیا ہے۔‘‘
یعنی کوئرے کے نزدیک ماہرینِ معاشیات بھی دانتوں کے ڈاکٹروں، طبیبوں یا پلمبروں کی طرح ہیں۔ جو مسئلہ پیدا ہو جانے کے بعد اسے درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کیا انسانی صحت کے معاملے میں صرف ڈاکٹر ہی اہم ہوتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ مریض کے بیمار ہو جانے کے بعد علاج کی بہتر صلاحیتیں دراصل بیماریوں، حیاتیات اور ماحول کے بارے میں ہونے والی سائنسی دریافتوں کا نتیجہ ہیں۔ کامیاب ادویات اور طبی طریقہ علاج اسی وقت وجود میں آتے ہیں جب یہ معلوم ہو جائے کہ بیماری کی اصل وجہ کیا ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں ڈاکٹر ہر طرح کے بے فائدہ بلکہ خطرناک علاج کرتے تھے۔ مثلاً مریض کے جسم سے خون نکالنے کے لیے جونکیں لگانا۔ کیونکہ انہیں جراثیم (بیکٹیریا اور وائرس) کے بارے میں علم نہیں تھا۔ بعد ازاں لندن میں ہیضے کے پھیلاؤ کے بارے میں ایک جغرافیائی اور تجرباتی مطالعے سے معلوم ہوا کہ یہ بیماری ایسے علاقوں میں زیادہ پائی جاتی تھی جہاں پینے کے پانی کے کنویں آلودہ تھے۔ اسی طرح ملیریا اور چیچک کے معاملے میں بھی مختلف جانداروں میں بیماری پھیلانے والے جراثیم کے حامل ذرائع دریافت کیے گئے۔ جس کے بعد ان بیماریوں کے مؤثر علاج اور تدارک کے طریقے سامنے آئے۔
حیرت انگیز طور پر نریپیا اکیسویں صدی میں معاشیات کو درپیش ایک اہم ترین مسئلے کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ یعنی موسمیاتی تبدیلی کی معاشیات۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس انتہائی سنگین اور باقاعدہ سلگتے ہوئے مسئلے پر مین سٹریم معاشیات‘ سماجی سائنسی تجزئیے اور حل پیش کرنے کے لیے بہت کم‘ بلکہ تقریباً کوئی کام نہیں کر رہی۔
نریپیا کو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ’’حقیقی دنیا کے اعداد و شمار اور تجربات سے اخذ کیے جانے والے بہت سے نتائج کو انہی حالات اور اسی طریقہ کار کے تحت دوبارہ حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حالیہ عرصے میں جانچے گئے معاشیات کے 70 فیصد تک تحقیقی مقالوں میں ایسے نتائج شامل ہو سکتے ہیں جنہیں دوبارہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ بعض اوقات اس کی وجہ ’مشکوک تحقیقی طریقہ کار‘ یا ’جعلی ڈیٹا سیٹس‘ بھی ہوتے ہیں۔‘‘ مزید یہ کہ مصنوعی ذہانت (AI) بھی معاشیات کے مستقبل کے بارے میں نریپیا کی رجائیت پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔ نریپیا کے اپنے الفاظ میں ’’اگرچہ بعض ماہرین غیر تحریری ڈیٹا‘ مثلاً تصاویر اور آوازوں پر کام کرنے کے لیے مشین لرننگ کو اپنا رہے ہیں۔ لیکن مصنوعی ذہانت کم معیار کا مواد بھی پیدا کر رہی ہے‘‘ اور سرقہ (Plagiarism) بھی بڑھا رہی ہے۔
نریپیا اپنے مضمون کا اختتام ایک مثبت نوٹ پر کرتا ہے: ’’جب تک علمی دنیا تحقیق کے معیار اور اصولوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے… خصوصاً اس وقت جب ماہرینِ معاشیات جدید ترین ٹیکنالوجی اور طریقہ کار کو اپنا رہے ہیں‘ معاشیات کا مستقبل متحرک دکھائی دیتا ہے۔ ایک ایسے مضمون کے لیے یہ کوئی بری بات نہیں جسے کبھی بہت ’افسردہ علم‘ سمجھا جاتا تھا۔‘‘
لیکن میرے نزدیک معاشیات اب بھی ایک ’افسردہ علم‘ ہی ہے۔ کیونکہ وہ اہم ترین معاشی نظریات جو دنیا کی افسردہ حالت کو بے نقاب کرتے ہیں‘ معاشیات کے پیشہ ورانہ حلقوں میں بڑی حد تک نظرانداز کر دئیے جاتے ہیں۔ چنانچہ اربوں انسانوں کی غربت، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، مسلسل مالیاتی بحران اور ماحول کی تباہی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن نریپیا تیز رفتار پیش رفت کے بیان میں ان بنیادی مسائل کو نظرانداز کر دیتا ہے جن کا تجزیہ اور حل ہی جدید معاشیات کا کام ہونا چاہئے۔
