حارث قدیر/اسلام الدین
پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں رواں ماہ جنوری میں اعلان کردہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات سخت موسمی حالات کی وجہ سے ملتوی کر دئیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق یہ انتخابات اب اپریل یا مئی میں منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔ گلیشیرز اور پانی کے بڑے ذخائر کے علاوہ دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال اس وسیع و عریض پہاڑی خطے کے باسی بجلی کے شدید ترین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ سابق حکومت کی طرح نگران حکومت بھی بجلی کامسئلہ حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے اور آنے والے سالوں میں بھی حکمران اس مسئلے کو حل کرتے نظر نہیں آ تے۔
گلگت بلتستان کو نمائشی طور پر ایک عبوری صوبے کا طرز حکومت دیا گیا ہے۔ تاہم اقتدار کا منبع اسلام آباد ہی ہے۔ صدر پاکستان کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت اس خطے کا نظام حکومت 2009ء سے چلایا جا رہا ہے، جس میں 2018ء میں مزید تبدیلیاں کی گئیں تھیں اور نیا گلگت بلتستان آرڈر جاری کیا گیا تھا۔ اس سے قبل یہ خطہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر) جیسے کالے نو آبادیاتی قانون کے تحت کنٹرول کیا جاتا رہا ہے۔
برطانوی سامراج کے زیر انتظام چلنے والی سابق شاہی ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کے بعد پاکستان نے اپنے زیر انتظام علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ گلگت بلتستان کو ایف سی آر کے تحت ایک پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ بعد ازاں بتدریج جمہوری حقوق کو بحال کیا گیا۔ تاہم گلگت بلتستان کی جغرافیائی اہمیت اور بیش بہا قدرتی وسائل کے پیش نظر نو آبادیاتی جکڑ کو ہمیشہ قائم رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی وہی جماعت حکومت بناتی آئی ہے جس کی اسلام آباد میں حکومت ہو۔ راتوں رات وہ پارٹی ان خطوں میں کھڑی ہو جاتی ہے اور انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کر لیتی ہے۔
2020ء میں ہونے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں تحریک انصاف نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوتے ہی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی حکومت کی بساط لپیٹ دی گئی تھی۔ مظفر آباد کی حکومت وزیر اعظم کے توہین عدالت کی وجہ سے نااہل قرار پانے سے ختم ہوئی جبکہ گلگت بلتستان کی حکومت وزیر اعلیٰ کی ڈگری جعلی ثابت ہونے کی صورت نااہلی پر ختم ہوئی۔ تاہم حیرت انگیز طور پر مظفر آباد کی ہی طرح گلگت بلتستان میں بھی تحریک انصاف سے ہی فارورڈ بلاک سامنے آیا اور نئی حکومت تحریک انصاف کے ہی منحرف اراکین پر بنا لی گئی۔ جسے اسلام آباد میں حکمران مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل تھی۔ ایک اور دلچسپ مماثلت یہ ہے کہ دونوں اسمبلیوں میں حکومت بنانے کے لیے ووٹ دینے والے ہی اپوزیشن لیڈر بھی مقرر ہوئے اور حکومت بنانے والے ہی اپوزیشن بنچوں پر بھی تشریف فرما ہوئے۔
اقتدار کے اس نو آبادیاتی کھیل میں گلگت بلتستان کی زمین، گلیشیرز، پانی اور معدنیات سمیت سی پیک کا گیٹ وے ہونے کی وجہ سے تذویراتی اہمیت کو تو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ لیکن اگر توجہ نہیں دی جاتی تو وہاں بسنے والے انسانوں کے مسائل پر۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان کی آبادی 18 لاکھ ہے۔ جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ آبادی 22 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ تاہم انسانی ترقی کے اشاریوں پر نظر دوڑائی جائے تو گلگت بلتستان کی یہ آبادی انتہائی تلخ حالات زندگی کا سامنا کر رہی ہے۔ شدید سردی میں درجہ حرات منفی 20 ڈگری سنٹی گریڈ تک گر جاتا ہے اور ایسے حالات میں 24 گھنٹوں میں ایک سے دو گھنٹے بجلی کی دستیابی توانائی کے متبادل ذرائع حاصل کرنے پر شہریوں کو مجبور کرتی ہے۔ 72 ہزار 496 مربع کلو میٹر کے اس علاقے میں محض 2.5 فیصد رقبہ جنگلات پر مبنی ہے اورتوانائی کے متبادل ذرائع کے لیے تمام تر بوجھ جنگلات پر منتقل ہوتا ہے۔ گھروں کو گرم رکھنے کے لیے آگ اور گیس جلانے کی وجہ سے فضا میں پھیلنے والی کاربن شدید ماحولیاتی بحران کا باعث بھی بنتی ہے۔
سرکاری طور پر آبادی کے لیے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ شرح خواندگی 57 فیصد ہے۔ لیکن عورتوں میں خواندگی کا تناسب 52 فیصد سے بھی کم ہے۔ دیامر استور ڈویژن کے اکثریتی علاقوں میں خواتین کی تعلیم پر ایک طرح سے غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے۔ خواتین کے تلخ حالات زندگی کی وجہ سے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی آبادی مسلسل کم ہو رہی ہے اور آبادی کا 52 فیصد حصہ مردوں پر مشتمل ہے۔
تعلیم و صحت کا انفراسٹرکچر بھی آبادی کے تناسب کے مطابق موجود نہیں ہے۔ اس وسیع و عریض خطے میں محض 28 چھوٹے بڑے ہسپتال ہیں۔ جن میں کل 622 ڈاکٹر موجود ہیں۔ جبکہ نرسز سٹاف کی کل تعداد صرف 829 ہے۔ معدنیات، سیاحت اور زراعت سے ہٹ کے روزگار کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو پاکستان کے مختلف شہروں میں معاشی ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ قابل کاشت رقبہ محض 2 فیصد ہے۔ اس لیے زراعت بھی بڑے پیمانے پر نہیں ہو سکتی۔
دوسری طرف حکمرانوں کی پالیسیاں پہلے سے موجود ذرائع بھی چھیننے پر ہی مبنی ہیں۔ لینڈ ریفارمز ایکٹ کے تحت دیہاتوں کے زیر استعمال زمینوں کو سرکاری تحویل میں لے کر لیز پر دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے آبادیاں لکڑی کے استعمال سے بھی محروم ہو جائیں گی۔ بجلی سے تو وہ پہلے ہی محروم ہیں۔پہلے لیز پر معدنیات نکالنے والے سرمایہ کاروں کو منافع میں سے ایک حصہ مقامی دیہاتوں کو دینا پڑتا تھا۔ تاہم اب وہ بھی اس سے محروم ہو جائیں گے۔
گلگت بلتستان میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔ 2023ء کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 9 لاکھ مقامی اور 12 ہزار سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے گلگت بلتستان کا سیاحتی دورہ کیا۔ اس کے علاوہ گلیشیرز کو سر کرنے، ٹرافی ہنٹنگ سمیت دیگر مقاصد کے لیے آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد الگ ہے۔ سیاحت کے اس پوٹینشل کو دیکھتے ہوئے تمام اہم سیاحتی مراکز پاک فوج کے زیر سایہ چلنے والی گرین ٹورازم کمپنی کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کا تمام انفراسٹرکچر بھی اسی کمپنی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آمدن کا یہ ذریعہ بھی بالواسطہ طریقے سے ریاستی اشرافیہ نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور گلگت بلتستان کے باسیوں کے لیے اس میں بھی کچھ نہیں ہے۔
قدرتی وسائل کے حوالے سے بھی یہ خطہ مالال مال ہے۔ سرکاری تخمینے کے مطابق 45 ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی کی پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ اسی طرح موجودہ حالات میں بھی 15 ہزار ٹن کے قریب سالانہ معدنیات گلگت بلتستان سے نکالی جا رہی ہیں۔ جبکہ نئی قانون سازیوں کے بعد یہ سلسلہ مزید وسعت اختیار کر جائے گا۔ بڑے پیمانے پر غیر مقامی افراد بالخصوص بیرونی سرمایہ کاروں کو زمینیں الاٹ کرنے اور پہاڑ لیز پر دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ریونیو ڈیپارٹمنٹ کا اندازہ ہے کہ گلگت میں 85 فیصد، ضلع شگر میں 45 فیصد، ضلع سکردو میں 35 فیصد، ضلع ہنزہ میں 15 فیصد اور غذر اور استور میں 10 فیصد زمینیں غیر مقامی لوگوں کے پاس ہیں۔ اسی طرح پہاڑوں کو لیز پر دینے کا سلسلہ بھی تیزی سے جاری ہے۔ بتدریج مقامی آبادیوں کو ان زمینوں پر جانے سے روک دیا جائے گا جن سے وہ صدیوں سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔
ایسے حالات میں گلگت بلتستان میں انتخابات کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔ انتخابات کے نتیجے میں ایک بار پھر وہی جماعتیں اقتدار کا حصہ بنیں گی جو اسلام آباد کے اقتدار پر براجمان ہیں۔ تاہم اس اسمبلی میں قانون سازی کا حتمی اختیار وزیر اعظم پاکستان کے پاس ہی ہے۔ اس لیے یہ اسمبلی اگر آزادانہ طور پر وجود میں آ بھی جائے تو اس کا کردار ایک ربڑ سٹمپ سے زیادہ نہیں ہو گا۔
گلگت بلتستان میں وسائل پر اختیار اور آئینی، سیاسی اور جمہوری آزادیوں کے حوالے سے گزشتہ عرصے میں طویل‘ صبر آزما جدوجہد کی گئی ہے۔ آج بھی یہ جدوجہد کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ ریاست کی جانب سے فورتھ شیڈول اور دیگر کالے قوانین کے استعمال کے ذریعے سے سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں عروج پر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود گلگت بلتستان میں ایک تسلسل کے ساتھ عوامی حقوق کی بازیابی کی جدوجہد کی جا رہی ہے۔ نوجوان گلگت بلتستان کی تاریخ، جموں کشمیر کے مسئلے کے پس منظر اور گلگت بلتستان کے جمہوری اور طبقاتی مسائل کے حل کے حوالے سے سنجیدہ مباحثوں اور مکالموں کا حصہ بن رہے ہیں۔ متبادل کی تلاش اور پیاس موجود ہے۔ جس کے آنے والے دنوں میں بڑھنے کے امکانات ہیں۔
گلگت بلتستان کے عوام کے معاشی، سیاسی اور ثقافتی حقوق کی بازیابی کی یہ لڑائی جہاں مسئلہ جموں کشمیر کے حل سے منسلک ہے وہیں عبوری طور پر گلگت بلتستان کے موجودہ سیٹ اپ کے اندر بھی یہ جدوجہد ناگزیر ہے۔ یہ گلگت بلتستان کے عوام کا حق اور اختیار ہے کہ وہ اپنے خطے کے وسائل سے مستفید اور سیاسی و معاشی حوالے سے بااختیار ہوں اور حکومت پاکستان کے ساتھ سیاسی اور معاشی تعلق کی وضاحت خود کرنے کے قابل ہوں۔ چنانچہ گلگت بلتستان پر مسلط سامراجی قوانین اور طریقوں کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ وسائل کی بے دریغ لوٹ مار ختم ہونی چاہئے۔ سیاحت اور معدنی وسائل سے مستفید ہونے کا اولین حق مقامی آبادی کو دیا جائے۔ اسی طرح آئین و قانون سازی کے اختیارات کا معاملہ ہے۔تاکہ اس سرزمین پر بسنے والے عام انسان اپنے مستقبل کے فیصلے جمہوری بنیادوں پر خود کرنے میں بااختیار ہوں۔ وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور گلگت بلتستان آرڈرکا خاتمہ کر کے گلگت بلتستان کی آئین ساز اسمبلی کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔ حق خود ارادیت کے تحت گلگت بلتستان سمیت جموں کشمیر کے تمام ریجنوں کی رضاکارانہ فیڈریشن پر مشتمل ایک آزاد، خود مختار، سیکولر اور سوشلسٹ جموں کشمیر کا قیام ہی اس خطے کے باسیوں کو قلت، محرومی اور محکومی سے نجات دلا سکتا ہے اور پورے جنوب ایشیا کے سوشلسٹ مستقبل کی نوید ثابت ہو سکتا ہے۔
