قمرالزماں خاں

اس وقت ساری دنیا ایک گہرے انتشار کے دور سے گزر رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت کا بحران بیشتر خطوں، ریاستوں اور سماجوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ جنگیں، خانہ جنگیاں، سامراجی مداخلتیں اور قبضہ گیریاں جہاں اس بحران سے شدت پکڑ گئی ہیں وہاں اس کو مزید گہرا اور پیچیدہ بھی بنا رہی ہیں۔ سامراجی استحصال، بیگانگی اور محرومی میں اضافے نے عالمی سطح پر تیز ہجرت کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف غریب ممالک سے امیر ممالک کی جانب نقل مکانی جاری ہے تو دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک میں مالی دباؤ، روزگار کے سکڑتے مواقع اور بڑھتے عدم تحفظ نے فار رائٹ اور نسلی نفرت کے نئے رجحانات اور ظالمانہ امیگریشن پالیسیوں کو جنم دیا ہے۔

مذہب اور وطن پرستی کو حکمران طبقہ ہمیشہ سے محنت کش عوام کو تقسیم اور کمزور کرنے کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ کی نسل پرستانہ اور آمرانہ روش کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کو ریاستی جبر سے دبایا جا رہا ہے جبکہ ایران میں معاشی مسائل کے حل کے مطالبات نے ایک نئی عوامی تحریک کو ابھار دیا ہے۔ جسے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں عام لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر دینے پر بضد ٹرمپ انتظامیہ ایرانی عوام کی مسیحائی کی آڑ میں اپنے مکروہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ ایران پر حملے یا مداخلت کی تازہ امریکی دھمکیاں بظاہر جابرانہ ایرانی ملائیت کے خلاف ہیں لیکن حقیقت میں مغربی طاقتوں کی ایران میں دلچسپی ایرانی عوام کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ سامراجی مقاصد کے تابع ہے۔ جن میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر پر قبضہ اور خطے پر کنٹرول سرفہرست ہیں۔ اس سلسلے میں شاہِ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی پر مغربی دست شفقت ایک واضح اشارہ ہے۔

ایرانی عوام کی کئی نسلیں امریکہ دشمنی کے ماحول میں پلی بڑھی ہیں۔ اس لیے کسی عوامی تحریک کے ساتھ امریکی حکمرانوں کی ’’یکجہتی‘‘ اس جدوجہد کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔ ایسا ماضی میں بارہا ہو چکا ہے۔ جب ایران میں برسرِ اقتدار ملائیت نے حقیقی سماجی و معاشی مسائل کے خلاف ابھرنے والی مستند عوامی تحریکوں کو کچلنے کے لیے یہ جواز تراشا کہ یہ امریکہ یا اسرائیل کی سپانسرڈ شورشیں ہیں۔ یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ایرانی عوام کی معاشی بدحالی کی ذمہ دار جہاں ایرانی تھیوکریٹک ریاست کی انتہائی استحصالی اور بدعنوان پالیسیاں ہیں وہیں امریکی یا مغربی پابندیاں بھی ایران کے معاشی بحران میں بنیادی عنصر کے طور پر شامل ہیں۔

وقت کے ساتھ یہ معاشی بحران گہرا ہوتا چلا گیا ہے اور 28 دسمبر 2025ء سے کرپٹ، ظالم اور نااہل ملاں ریاست کے خلاف ایک نئی عوامی تحریک کا آغاز ہوا ہے۔ جو تہران کے گرینڈ بازار کے تاجروں سے نکل کر بیشتر صوبوں اور شہروں کے طلبہ اور محنت کشوں تک پھیل گئی۔ اس تحریک کو ماضی کی تحریکوں کا تسلسل سمجھا جا سکتا ہے۔ جس میں مہسا امینی کے قتل کے بعد 2022ء میں ابھرنے والی ’’زن، زندگی، آزادی‘‘ کے نعرے پر مبنی تحریک بھی شامل ہے۔ صرف پچھلے پندرہ سال کے دوران ایران میں دس بڑی احتجاجی تحریکیں ابھر چکی ہیں۔ اس سے قبل 1999ء میں جمہوری آزادیوں کے لیے طلبہ کے بڑے مظاہرے ہوئے تھے جو انقلابِ ایران کے بعد اس وقت تک ہونے والے وسیع ترین احتجاج تھے۔ 2009ء میں ریاست کے الیکشن فراڈ کے خلاف بھی بڑی تحریک ابھری تھی۔ ماضی و حال کی یہ عوامی بغاوتیں، جن میں نوجوانوںٗ بالخصوص نوجوان خواتین کا ہراول کردار رہا ہے، ایرانی ریاست کے بدترین جبر کی بھی گواہ ہیں۔ جنہیں ہمیشہ امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دے کر خون میں ڈبویا گیا۔

موجودہ تحریک کی بنیادی وجہ شدید معاشی بحران ہے۔ ایرانی ریال کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ دسمبر 2025ء کے آخر میں ایک امریکی ڈالر تقریباً 14 لاکھ ریال تک جا پہنچا۔ جب کہ 2015ء میں یہ 32 ہزار اور 1979ء میں صرف 70 ریال تھا۔ ایک سال میں مہنگائی 70 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ مرکزی بینک کے سربراہوں کی تبدیلی اور کرنسی نوٹوں کے صفر کم کرنے جیسے نمائشی اقدامات نے صورتحال میں کوئی بہتری پیدا نہیں کی۔

سامراجی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی معیشت خاصی بندش کا شکار اور دنیا سے کٹے ہوئے نظام میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جس کا فائدہ پاسداران انقلاب (IRGC) جیسی ریاستی تنظیموں کو پہنچتا ہے۔ یہ ادارہ ایک متوازی‘ نظریاتی فوج کے ساتھ ساتھ ایک وسیع معاشی امپائر بھی ہے جو توانائی، تعمیرات، بندرگاہوں اور تجارت جیسے اہم معاشی امور پر قابض ہے۔ اسی قسم کا کردار ’’بنیاد‘‘ نامی مذہبی ’’رفاحی‘‘ اداروں کا بن چکا ہے جو ملاں ریاست کے کلیدی سماجی اور معاشی ستونوں کا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ریاستی مشینری کو طاقت کے حصول اور بدعنوانی کے وسیع مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ پابندیوں کی وجہ سے ایرانی ریاست کی جانب سے تیل کی برآمدات خفیہ اور مہنگے نیٹ ورکس کے ذریعے سستے داموں کی جاتی ہیں۔ جس سے ایران اپنی ممکنہ آمدنی کا بڑا حصہ کھو دیتا ہے۔ اس متوازی معیشت میں ریاست کے وفادار طبقات کے لیے بے شمار مراعات ہیں۔ جبکہ عام آدمی بدترین مہنگائی کا شکار ہے۔

اسی پس منظر میں شروع ہونے والی تحریک جلد ہی معاشی مطالبات سے آگے بڑھ کر سیاسی بغاوت میں بدل گئی ہے۔ نعرے ’’مرگ بر دیکتاتور‘‘ اور ’’نہ غزہ نہ لبنان، میری جان فقط برای ایران‘‘ اس بات کا اظہار ہیں کہ ایرانی عوام ملاؤں کی سخت گیر آمریت سے بھی تنگ ہیں اور داخلی جبر کو بیرونی محاذوں کے ذریعے جواز دینے کی پالیسیوں سے بھی بیزار ہیں۔ یہ تحریک حکومت کے لیے 2022ء کے بعد سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ریاستی جبر، انٹرنیٹ بندش، گرفتاریوں اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تحریک کی شروعات سے اب تک ہلاکتوں کا تخمینہ دو ہزار تک پہنچ چکا ہے۔ اس سلسلے میں ایک بار پھر مظاہرین پر اسرائیلی موساد کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ریاست ایک طرف نمائشی مذاکرات کے ذریعے تحریک کو زائل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہے اور جوابی مظاہرے منعقد کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ اس طرح ایک بڑا ریاست نواز مظاہرہ آج مورخہ 12 جنوری کو بھی منعقد کیا گیا ہے۔

تحریک کی بڑی کمزوری ایک واضح قیادت، سیاسی تنظیم اور متبادل پروگرام کا فقدان ہے۔ فی الوقت تحریک میں ہر طرح کے نظریات اور مطالبات سے وابستہ لوگ شامل ہیں۔ جن میں لبرلزم، شاہ پرستی اور بائیں بازو کے رجحانات وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ایسی تحریکوں میں بیرونی قوتیں بھی اپنے مفادات کے تحت دراندازی کی پوری کوشش کرتی ہیں۔ لیکن احتجاجی عوام سے سامراج کی ’’یکجہتی‘‘ یا مداخلت کی کوششوں کے پیش نظر ساری تحریک کو ’’سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے رد کر دینا بھی انتہا درجے کی سیاسی جہالت کے زمرے میں آتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی عوام کی اکثریت ملائیت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ لیکن اس کے بعد کیا؟ یہی سوال ماضی میں کئی تحریکوں کو فتح کے قریب لے جا کر شکست سے دوچار کر چکا ہے۔ ہم سجھتے ہیں کہ سامراجی مداخلت یا کسی کٹھ پتلی حکومت کا قیام ایران کے عوام کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ الٹا ایسی سامراجی وارداتیں ملک کو مزید انتشار کی طرف ہی دھکیلیں گی۔ ایرانی محنت کشوں اور طلبہ کی بڑی تعداد‘ بالخصوص ہراول اور باشعور پرتیں ان حقائق سے بخوبی واقف ہیں اور ملائیت کے ساتھ ساتھ بادشاہت اور امریکی سامراج کو بھی رد کرتے ہیں۔

1978-79ء کے عہد ساز واقعات کی بات کریں تو ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے کہ انقلاب اگر ادھورا رہ جائے تو ردِ انقلاب کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ ماضی میں محنت کش طبقے نے شاہ ایران کی نام نہاد لبرل آمریت کو اکھاڑ پھینکنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ لیکن ایک واضح انقلابی پروگرام کی عدم موجودگی نے اقتدار ملائیت کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس سلسلے کا سب سے تلخ سبق تودہ پارٹی کے کردار سے جڑا ہے۔ 1979ء کی انقلابی تحریک میں ایرانی محنت کش طبقے‘ بالخصوص تیل کے مزدوروں کی ہڑتالی کمیٹیوں اور محلوں میں تشکیل پانے والی عوامی پنچایتوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ لیکن تودہ پارٹی، جو محنت کش طبقے کی نمائندہ ہونے کی دعویدار تھی، نے سٹالنزم کی فرسودہ روایات کے تحت مرحلہ وار انقلاب کی پالیسی اختیار کی۔ اس پالیسی کے تحت قومی بورژوازی اور ملائیت کو ’’سامراجی مخالف‘‘ قوتیں قرار دے کر انقلاب کے ’’جمہوری‘‘ مرحلے میں ان کے ساتھ مفاہمت کی راہ اپنائی گئی۔ یہ ایک تاریخی جرم تھا۔ جس نے محنت کشوں کی جیتی ہوئی بازی کو ملائیت کے سامنے طشتری میں پیش کر دیا۔ اقتدار میں مستحکم ہوتے ہی ملائیت نے سب سے پہلے اسی تودہ پارٹی کو نشانہ بنایا۔ پارٹی کی قیادت گرفتار ہوئی، دسیوں ہزار کارکنان جیلوں اور پھانسی گھاٹوں تک پہنچے اور ایک ردِ انقلاب نے انقلاب برپا کرنے والی قوت کو تہہ تیغ کر دیا۔ یہ تاریخ کا اٹل قانون ہے کہ جب انقلاب کا راستہ روکا جاتا ہے تو ردِ انقلاب اسے خون میں ڈبو دیتا ہے۔

ماضی کی قیادتوں کی غلطیوں کا خمیازہ ایران کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں اور تاریخ نے ایک بار پھر انہیں ایک امتحان اور آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ انقلابی عوام کی آزاد اور خودمختار سیاسی تنظیم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تاکہ معاشی بہتری اور سیاسی آزادیوں کے فوری مطالبات کو یکجا کر کے ملائیت کی طرز اور طریقوں میں ڈھلی بدعنوان اور نامراد ایرانی سرمایہ داری کے خاتمے کے انقلابی پروگرام سے منسلک اور پھر اس پروگرام کو عوامی عمل کے ذریعے ایک مادی قوت میں تبدیل کیا جا سکے۔ ایران میں انقلابی عوام کی فتح نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوب ایشیا میں بھی کروڑوں مظلوم انسانوں کو لڑنے اور جدوجہد کرنے کا نیا حوصلہ اور ہمت عطا کر سکتی ہے۔