قمرالزماں خان

سرکاری معیشت دانوں کے مطابق ملکی معیشت کی بحالی کے لئے ناگزیر قرار دی جانے والی نجکاری پالیسی نے بالآخر ایک اور ’سنگ میل‘ طے کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد ناکام کاوشوں کے بعد 23 دسمبر 2025ء کو حاصل ہونے والی کامیابی دراصل پیسے دے کر قومی ایئر لائن (پی آئی اے) سے چھٹکارہ حاصل کرنے پر مبنی ہے۔ یاد رہے کہ پی آئی اے کبھی پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کی ممتاز ترین ائیر لائنز میں شمار ہوتی تھی۔ یہ اعزاز اس نے سالہا سال برقرار رکھا اور کئی نامور غیر ملکی ایئر لائنز کو کھڑا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔  

پی آئی اے کی نجکاری کا ’کارنامہ‘ سر انجام دینے پر وزیراعظم پاکستان نے کابینہ اور پاکستانی قوم کو مبارکباد پیش کی۔ اسی طرح پاکستانی میڈیا کے سرکاری صحافی اور دانشور بھی اس مبینہ کامیابی پر پنجوں کے بل ناچ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بچی کھچی نام نہاد اپوزیشن اگر کوئی تنقید کر رہی ہے تو اسے خانہ پری ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اپنے دورِ حکومت میں انہوں نے بھی دوسرے اداروں کی طرح پی آئی اے کو اونے پونے بیچنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس سلسلے میں تحریک انصاف کے وزیر ہوا بازی کا پارلیمنٹ میں دیا گیا ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور مجرمانہ مبالغہ آرائی پر مبنی بیان آن ریکارڈ ہے جس نے ملکی و عالمی سطح پر قومی ایئر لائن کی رہی سہی ساکھ کا بھی جنازہ نکال کے رکھ دیا اور ادارے کو ناقابل تلافی مالی نقصان بھی پہنچایا۔ ویسے بھی 1980ء کی دہائی سے نجکاری پاکستان میں برسر اقتدار آنے والی ہر فوجی و سویلین حکومت کی عمومی پالیسی رہی ہے۔

پی آئی اے کی ’کامیاب‘ بولی کا سارا عمل گزشتہ سال کی ناکام بولی سے پیوست ایک اگلا مرحلہ تھا۔ گزشتہ سال ایک مشکوک قسم کے رئیل اسٹیٹ بزنس گروپ کے ذریعے انتہائی کم بولی (36 ملین ڈالر) لگا کر ایک خاص سوچ بنانے اور ادارے کو کباڑ کا ڈھیر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس عمل کو اس مرتبہ بہت ہوشیاری سے پھر آگے بڑھایا گیا۔ آکشن کی شرائط میں تین بولی دہندگان کا ہونا ضروری تھا۔ جبکہ 23 دسمبر کی بولی میں حقیقی طور پر دو گروہ‘ عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کنسورشیم ( جس میں کھاد بنانے والی کمپنی فاطمہ فرٹیلائزر، نجی سکولوں کا نیٹ ورک سٹی سکول اور رئیل اسٹیٹ فرم لیک سٹی شامل ہیں) اور لکی سیمنٹ کنسورشیم ( ہب پاور، کوہاٹ سیمنٹ اور سرمایہ کاری فرم میٹرو وینچرز) ہی آمنے سامنے تھے۔ جب کہ ایئر بلو گروپ کو صرف فارمیلیٹی پوری کرنے کے لئے آکشن میں شامل کروایا گیا تھا۔ ائیر بلو والے 26.5 ارب روپے کی مضحکہ خیز پیشکش کے بعد بولی سے دستبردار ہو گئے۔ پاکستان ائیر لائنز کا 75 فیصد حصہ بولی کے مختلف مراحل کے بعد عارف حبیب گروپ نے بالآخر 135 ارب روپے میں خرید لیا۔ 25 فیصد شیئرز سرکار کے پاس رہیں گے جنہیں مستقبل میں پرائیویٹائز کیا جا سکتا ہے۔ 135 ارب روپے پر پی آئی اے کی نجکاری کو بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن حکومت کو ان 135 ارب روپوں میں سے صرف 10 ارب روپے (7.5 فیصد) کی رقم ہی ملے گی۔ 10 ارب روپے کے بدلے خریدار گروپ (جس میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے شامل ہونے کی اطلاعات بھی ہیں) کو پی آئی اے کے 90 روٹس، جن میں سے کئی بہت منافع بخش ہیں، ملیں گے۔ ٹرانسپورٹ کے بزنس سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ ہارڈ ویئر (طیاروں وغیرہ) کو خریدنا الگ ڈیل ہوتی ہے اور روٹس کا حصول الگ سرمایہ کاری سے ممکن ہوتا ہے۔ پی آئی اے نے اپنے قیام سے اب تک جن روٹس کو حاصل کیا ہے اگر ان کی قدر کا تعین ہی کیا جائے تو الگ سے اربوں ڈالر کی مالیت بن جاتی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس وقت پی آئی اے کے پاس 34 طیارے ہیں۔ 90 سے زائد روٹس پر یومیہ 70 پروازیں آپریٹ کی جاتی ہیں۔ جن میں یومیہ 45 بین الاقوامی اور 25 ڈومیسٹک پروازیں شامل ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں ادارے کے اکاؤنٹس کا زیادہ مواد پبلک کے سامنے نہیں لایا گیا لیکن ماضی کے برعکس 2024ء میں پی آئی اے کا منافع (ٹیکس چھوٹ کے بعد) 26 ارب روپے جبکہ اِس سال کے پہلے چھ مہینوں میں 11 ارب روپے تھا۔ پی آئی اے کے بیڑے میں بوئنگ، ایئربس اور اے ٹی آر طیارے شامل ہیں۔ اس وقت 34 میں سے صرف 18 جہاز آپریشنل ہیں۔ 16 گراؤنڈ ہیں۔ گراؤنڈ طیاروں میں سے بیشتر کچھ خرچ سے پھر آپریشنل حالت میں آ سکتے ہیں۔

پی آئی اے کی نجکاری کے نتائج کے کئی پہلو ہیں۔ سب سے سنگین پہلو ملازمین کے مستقبل کے مخدوش ہونے کا ہے۔ اس نام نہاد کامیابی کی پاداش میں ایک سال بعد پی آئی اے کے تقریباً آٹھ ہزار میں سے بیشتر محنت کشوں کا روزگار چھن جانے کا شدید خطرہ ہے۔ عارضی ملازمین کو کنٹریکٹ کے بعد برطرف کیا جانا، دیگر ملازمین کی ملازمت کی شرائط میں تبدیلیاں، مستقل حاصلات میں کٹوتیاں اور تنخواہوں میں کمی کے امکانات ہیں۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ نئے مالکان کے مالی مفادات میں کیا جائے گا اور ہزاروں مزدوروں کی جدوجہد کو کالے قوانین اور بندشوں کے ذریعے غیر موثر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

دوسری اہم بات یہ کہ نجکاری کی تقریباً ساری رقم ادارے کی بحالی کے نام پر واپس عارف حبیب گروپ کو ہی مل جائے گی۔ 600 سے 800 ارب روپے کے پی آئی اے کے واجبات خریدار کی بجائے حکومت پاکستان عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر اتارے گی۔ یہ بنیادی طور پر لوٹ مار کا وہی عمل ہے جو چار دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔ جس میں ملک کے مختلف زرعی و پیداواری شعبہ جات، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم سروسز کو نجی تحویل میں منتقل کیا گیا ہے۔ اِس نجکاری کو پاکستان کی معیشت کے لئے امرت دھارا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن سینکڑوں اداروں کی نجکاری کے باوجود مصنوعی ترقی کے چند ایک سالوں کے علاوہ کوئی دور ایسا نہیں آیا ہے جس میں پاکستان کی معیشت نے ٹھوس اور پائیدار ترقی کی ہو، قرضوں میں کمی ہوئی ہو، معیشت خود انحصاری کی طرف گامزن ہوئی ہو یا نجکاری کے ’ثمرات‘ نے پیداوار، برآمدات، روزگار، سماجی بہتری، انفراسٹرکچر اور معیار زندگی کے اشاریوں کو بہتر بنایا ہو۔ بلکہ لمبے عرصے میں دیکھیں تو معیشت کا ہر بنیادی اشاریہ مزید خراب ہی ہوا ہے۔

دنیا بھر کی طرح یہاں بھی سرکاری پالیسی سازوں اور آئی ایم ایف جیسے سامراجی اداروں کی جانب سے نجکاری کی پالیسی کے جواز کے لئے معیشت کی بحالی اور ’نقصان‘ والے قومی اداروں سے چھٹکارے کے ذریعے خساروں اور قرضوں میں کمی کا موقف اپنایا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو اس سارے عمل کے پیچھے بدنیتی، نرخوں کے تعین میں اجارہ داری کی ذہنیت اور کرپشن و منافع خوری کی ہوس ہی نظر آتی ہے۔ جس میں سرمایہ دارانہ معیشت و ریاست کا بڑھتا ہوا بحران ایک اہم عامل کے طور پر شامل ہے۔ بجلی کی پیداوار کو نجی شعبے کے سپرد کرنے کا جو خمیازہ اس ملک کی معیشت اور عوام بھگت رہے ہیں اس سے یہاں کا بچہ بچہ واقف ہے۔ یہ نجی شعبہ کتنا بدعنوان، ظالم اور منافع خور ہوتا ہے‘ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے ساتھ کیے جانے والے ڈاکہ زنی پر مبنی یکطرفہ معاہدوں سے ہی واضح ہو جاتا ہے۔ حالیہ تاریخ میں پی ٹی سی ایل کی نجکاری میں سینکڑوں ارب روپے کے غبن سمیت یہی حال نجی تحویل میں دیئے جانے والے تقریباً ہر ادارے اور ہر سیکٹر کا ہوا ہے۔

90ء کی دہائی میں ن لیگ حکومت کا موقف تھا کہ نجکاری کے عمل سے حاصل ہونے والی رقم سے مالیاتی خسارہ ختم ہو گا۔ جو بے دریغ اور بہیمانہ نجکاری کے باوجود آج تک نہ ہو سکا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ریاست کا کام نہیں کہ وہ بزنس کرے یا کارخانے اور ادارے چلائے۔ میڈیا، تعلیمی اداروں، مروجہ سیاست و صحافت میں اس بیانئے کے ذریعے ایک مخصوص ’رائے عامہ‘ بنائی جاتی ہے۔ جس کا مقصد نیشنلائزیشن کو ہر برائی کی جڑ اور شجر ممنوعہ ثابت کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اسی دوران نندی پور، یوسف والا، قائد اعظم پاور پلانٹس وغیرہ سرکار نے قرضے لے کر لگائے۔ پھر ان کی ناکامی و بربادی کے سکینڈل مشتہر کیے گئے۔ اور بعد ازاں ان کو نجکاری کی لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔ یعنی عوام کے پیسے اور ملکی معیشت پر دو طرفہ حملہ۔

پاکستان میں پبلک سیکٹر میں چلنے والے بہت سے ادارے کبھی خسارے میں نہیں گئے۔ لیکن ان کو نجی شعبے کے ہاتھوں بیچتے ہوئے نقصان اور ضیاع کے الزامات بھی لگائے گئے اور نجکاری کے بعد ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ جانے کے دعوے بھی کیے گئے۔ لیکن نہ تو وہ ادارے خسارے میں تھے‘ نہ ہی ان کے بکنے سے ملکی معیشت بہتر ہوئی۔ البتہ لاکھوں مزدور بے روزگار ضرور ہوئے، قیمتیں بڑھیں، معاشی انتشار میں اضافہ ہوا اور دولت چند کمپنیوں یا گھرانوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتی گئی۔ پاکستانی بینکوں، کھاد، گھی، چینی کے کارخانوں اور پی ٹی سی ایل وغیرہ کے سالانہ منافع جات کا ریکارڈ سرکاری موقف کو بالکل غلط ثابت کرتا ہے۔

جن اداروں کو خساروں کا شکار یا ’’سفید ہاتھی‘‘ قرار دیا جاتا ہے‘ ان کے حوالے سے (ایک آدھ دیانتدار مین سٹریم معیشت دان سے قطع نظر) کبھی شفاف جائزہ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا کہ ایک وقت میں ان کی کارکردگی بہترین تھی، وہ منافع بخش بھی تھے، قومی دولت میں حصہ ڈالتے اور روزگار کو فروغ بھی دیتے تھے تو ان کو برباد کرنے والے عاملین کیا تھے؟ کہا جاتا ہے کہ پی آئی اے اور پاکستان سٹیل ملز میں سیاسی بھرتیوں سے ان کے اخراجات بڑھتے گئے جس سے وہ غیر منافع بخش ہو گئے۔ لیکن اداروں کے نقصان میں جانے کی فقط یہی وجہ نہیں ہے۔ علاوہ ازیں مبینہ طور پر زائد ملازمین کی ’سیاسی‘ یا من پسند بھرتی اور پھر اس کی سزا سارے ادارے اور وسیع تر عوام کو دینا بھی حکمرانوں کی اقربا پروری، سیاسی رشوت ستانی (جس کے ذریعے یہ سیاسی کارکنان اور محنت کشوں کو اپنی طرح کرپٹ کرتے ہیں) اور انتظامی نااہلی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

لیکن یہاں ایک اور زہریلی نظریاتی واردات بھی کی جاتی ہے۔ پیداوار اور خدمات کے بیشتر سرکاری شعبہ جات یا اداروں کے معاشی کردار کو نفع نقصان کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ جو سراسر غلط ہے۔ کیونکہ ان کا ’’نقصان‘‘ میں چلنا مجموعی طور پر ساری معیشت اور سماج کے لئے ’نفع بخش‘ (فائدہ مند) بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً سستی بجلی کی فراہمی سے بجلی کے شعبے میں منافع حاصل نہیں ہوتا لیکن ملک میں صنعت کاری اور معاشی ترقی کا سفر آگے بڑھتا ہے جو بجلی کے شعبے کے شارٹ ٹرم منافع جات سے کہیں زیادہ سود مند اور دوررس معاشی و سماجی ثمرات کا حامل ہوتا ہے (واضح رہے کہ موجودہ دور میں پاکستان میں صنعتی زوال اور برآمدات کے نہ بڑھ سکنے کی کلیدی وجہ بجلی کی مہنگی اور غیر یقینی فراہمی ہے)۔ اسی طرح زرعی آلات و اشیا (کھادیں، سپرے، بیج، مشینری وغیرہ)، صنعتی خام مال، تعلیم و صحت، مادی انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کا معاملہ ہے۔ سرکار جب ان بنیادی اشیا یا سروسز کی ’’غیر منافع بخش‘‘ (سستی) فراہمی کو ایک مربوط منصوبہ بندی کے تحت اپنی ملکیت اور کنٹرول میں یقینی بناتی ہے تو صنعت و تجارت، روزگار، برآمدات اور دولت کی پیداوار میں ملنے والے فوائد مذکورہ ’نقصانات‘ سے کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ درحقیقت دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا بھر میں اپنائے جانے والے ’’ریاستی سرمایہ داری‘‘ کے ماڈل کے پیچھے جزوی طور پر یہی سوچ کارفرما تھی۔ آج ’’بوجھ‘‘ تصور ہونے والے بہت سے دیوہیکل سرکاری ادارے اسی دور میں تعمیر کیے گئے تھے۔ اس سلسلے میں سوویت یونین میں منصوبہ بند معیشت کے تحت ہونے والی ہوشربا ترقی کا اہم کردار تھا جس نے مغربی سرمایہ داری کے پالیسی سازوں کو بھی متاثر کیا اور پاکستان اور انڈیا سمیت مشرق کے بیشتر سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی معیشت کے ’پانچ سالہ منصوبہ جات‘ کا رواج ہوا۔ لیکن یہ ساری ریاستی ملکیت اور منصوبہ بندی چونکہ آخری تجزئیے میں سرمایہ داری کی حدود میں مقید تھی لہٰذا ایک مخصوص نہج پر نجی منافع خوری کے راستے میں رکاوٹ بننے لگی۔ جس کے بعد پھر نیولبرل معاشی ماڈل (نجکاری، ڈی ریگولیشن، ڈاؤن سائزنگ وغیرہ) کی یلغار پوری دنیا میں نظر آتی ہے۔ پاکستان جیسے پسماندہ یا تاخیر زدہ سرمایہ داری والے ممالک میں ریاستی سرمایہ داری کا ماڈل ویسے بھی ہر طرح کے تضادات سے لبریز تھا۔ اس سلسلے میں 60ء کی دہائی کی ’’مثالی ترقی‘‘ کے باوجود ایوب خان کے زوال اور پھر بھٹو صاحب کی ادھوری اور افسرشاہانہ نیشنلائزیشن کی ناکامی کی مثال ہی کافی ہے۔

1980ء کی دہائی کے بعد سے سامراجی قوتوں نے شرح منافع کی بحالی کے لئے نہ صرف اپنے ممالک میں ٹریڈ یونین کی حوصلہ شکنی اور نجکاری کی روش اختیار کی بلکہ انہیں ہمارے جیسے محکوم اور پسماندہ خطوں کی لوٹ مار میں بھی تیزی لانی پڑی۔ اس حوالے سے کلیدی شعبہ جات کا پبلک سیکٹر میں ہونا ہی عالمی اجارہ داریوں اور سامراجی جکڑ بندیوں کی راہ میں مزاحم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ معیشت کی ڈی ریگولیشن اور بے رحمانہ نجکاری کی پالیسیاں یہاں بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کے ذریعے مسلط کی گئیں۔ ویسے بھی پاکستان جیسی سابقہ نوآبادیات کی ازل سے کرپٹ، کمیشن خور اور مطیع بورژوازی اور سیاسی اشرافیہ میں کسی خاطر خواہ مزاحمت کی نیت تھی نہ سکت۔ چنانچہ نجکاری کی سامراجی پالیسی کو پایہ تکمیل دینے کے لئے بہت سے چلتے، منافع کماتے، روزگار فراہم کرتے، ذیلی صنعتوں یا معاشی سرگرمیوں میں معاونت کرتے اداروں کو دانستہ طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ سابق وزیر ہوا بازی ذہنی طور پر معذور تو نہیں تھا جب اس نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر پی آئی اے کے ہوا بازوں کی اسناد کو جعلی قرار دیا تھا۔ یہ بیان دانستہ طور پر دیا گیا تھا۔ اسی طرح چلتی ہوئی اسٹیل ملز کی بندش کا معاملہ ہے۔ جسے منصوبہ بند کرپشن اور نااہلی کے ذریعے سکریپ کے ڈھیر میں تبدیل کیا گیا۔

پی آئی اے کی نجکاری میں کامیابی جہاں مزدور دشمن پالیسیوں کی وقتی جیت ہے وہاں پاکستان میں مزدور تحریک کی کمزوری اور ٹریڈ یونین کے دگرگوں حالات کی غماز بھی ہے۔ یہ کیفیت سامراجی اداروں کی مسلسل یلغار، ریاستی جبر اور مزدور تحریک کے سیاسی و نظریاتی بحران سے گہری ہوئی ہے۔ اس سارے عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور اس کے ’’نظریاتی‘‘ کاسہ لیس بھی پوری طرح شریک جرم ہیں۔ یہاں دائیں بازو کی حکومتیں اگر سامنے سے وار کرتی ہیں تو یہ سرکاری بایاں بازو پیٹھ میں چھرا گھونپتا ہے۔ یہ تمام عوام دشمن قوانین، پالیسیوں اور اقدامات کو تشکیل دینے اور نافذ کرنے میں شریک بھی ہوتے ہیں اور پھر منافقت پر مبنی مکروہ قسم کا واویلا بھی کرتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کا محنت کش طبقہ، جس کی اکثریت آج نوجوانوں پر مبنی ہے، مزدور تحریک کی ازسر نو صف بندی کرے۔ ٹریڈ یونینوں کی تنظیم نو کرے اور انہیں مزدور مفادات کے ضامن انقلابی نظریات پر استوار کرتے ہوئے طبقاتی جدوجہد کی بے باک تنظیموں میں تبدیل کرے۔ بوقت ضرورت ہڑتالی کمیٹیوں کا قیام ہنگامی بنیادوں پر عمل میں لایا جائے۔ سرمایہ داری نظام پاکستان سمیت دنیا بھر میں گہرے زوال اور بحران کا شکار ہے اور اس سے چیزوں کو مزید بگاڑنے، عوام کے بے شمار پیسے اور محنت کشوں کی بے دریغ محنت سے تعمیر ہونے والے پبلک اثاثوں کو اونے پونے بیچنے اور بچی کھچی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کے علاوہ کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ سرمایہ دار انسان اور فطرت‘ دونوں کو مکمل طور پر منڈی کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔ محنت کش عوام کی پہنچ سے تعلیم، علاج، رہائش، بجلی، روزگار جیسی ہر بنیادی سہولت اور راحت دور کی جا رہی ہے۔ اس بربادی میں ان کا کوئی پرسان حال‘ کوئی ہمدرد نہیں۔ اپنی بقا کی جنگ انہیں خود لڑنا ہو گی۔ ملکی، علاقائی و عالمی سطح پر سرمایہ داری کے انقلابی خاتمے اور سوشلسٹ سماج کے قیام کو اپنا حتمی مقصد بنا کے ہی وہ حکمران طبقات کے حملوں کے خلاف صف آرا ہوتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں۔