حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کو جن قوتوں نے برباد کیا ہے‘ وہ اسے دوبارہ آباد نہیں کر سکتیں۔ اور جب تک افغانستان گھائل اور برباد ہے‘ پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
تاریخ
بالشویک انقلاب 1917ء: بڑھے قدم تو راہیں بنیں!
آج متبادل کی تلاش اور پیاس موجود ہے۔ پوری دنیا میں سوشلزم اور مارکسزم کی طرف نوجوان نسل راغب ہو رہی ہے۔ حقائق کو جاننے اور متبادل کی تخلیق کی تگ و دو میں انہیں ادراک حاصل کرنا ہو گا کہ سوویت یونین میں درحقیقت ہوا کیا تھا۔
انقلابِ فرانس کے اسباق
مارکسزم نے انقلابِ فرانس کا مطالعہ ایک ایسے سیاسی اظہار کے طور پر کیا جس کے ذریعے بورژوازی نے اٹھارہویں صدی میں معاشی و سماجی بالادستی حاصل کی۔
لال خان: کچھ یادیں، کچھ باتیں
آج انقلابیوں کی نئی نسل کا فریضہ یہی ہے کہ وہ ان کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں اور اس نصب العین تک پہنچائیں جس کے لیے لال خان کی تمام زندگی وقف رہی۔
جمی کارٹر نے کیسے ریگن کا راستہ ہموار کیا…
کارٹر کا دورِ حکومت ایک اہم موڑ تھا۔ جہاں سے مزاحمتی تحریکوں کے عروج کی بجائے دہائیوں پر مبنی پسپائی اور گراوٹ کے سفر کا آغاز ہوا۔
منزلوں کے سراب!
اس خطے کے سوشلسٹ انقلاب کو جہاں دوسرے تاریخی فرائض ادا کرنے ہیں وہاں سامراج کی کھینچی خونی لکیروں کو بھی مٹانا ہے۔ پورے برصغیر جنوب ایشیا کے محنت کشوں اور مظلوموں کو طبقاتی بنیادوں پر یکجا کرنا ہے۔
وہ منزل ابھی نہیں آئی…
نصابوں میں جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے وہ حکمران طبقے کی تاریخ ہے۔ اس خطے کے محنت کشوں کی تاریخ کچھ اور ہے۔ یہ تاریخ اس نظام کے خلاف جدوجہد، انقلابی تحریکوں اور بغاوتوں سے عبارت ہے۔
5 جولائی کا شب خون، ایک تاریخی تناظر میں
پاکستان میں اگر سماج کی سوشلسٹ تعمیر نو کا عمل آگے بڑھتا تو یہ انقلابی چنگاریاں پورے خطے میں پھیل سکتی تھیں۔ کیونکہ بیشتر ممالک میں سوشلسٹ تحریکیں پہلے سے مصروف عمل تھیں۔
الوداع چاچا کرامت!
گراوٹ، جبر، گھٹن اور تعفن سے بھرے اس ماحول میں ان وفات یقینا ایک دردانگیز واقعہ ہے۔ ان سے تمام تر سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی اور ان کی طویل سیاسی و تنظیمی زندگی سے سیکھتے ہوئے ایک مختلف طریقے اور انداز سے ہی سہی لیکن ان کے خوابوں کی تعبیر کی جدوجہد جاری رہے گی۔
یوم مئی 2024ء: چھین کے لینا ہو گا حق!
ماضی میں اوقات کار میں کمی اور دوسرے حقوق کی درخشاں تحریکوں کا وارث آج کا مزدور بھی ناامیدی، غلامی اور ذلت کی بجائے لڑائی کے میدان میں اتر کے اور فوری مطالبات کو سرمایہ داری کے یکسر خاتمے کی جدوجہد کے ساتھ مربوط کر کے ہی ایک باعزت، سہل اور بھرپور زندگی کا حق چھین سکے گا۔
مشال خان کی شہادت کے سات سال
مشال خان کے قتل کے بعد ان عناصر کا خیال تھا کہ مشال کے جانے سے طلبہ کی آواز دب جائے گی اور ان کا جھوٹا پراپیگنڈہ طلبہ سیاست کے اندر خوف پیدا کرے گا اور طلبہ کو جبر و استحصال کے خلاف جدوجہد سے دور کر دے گا۔
بھگت سنگھ: وہ تاریخ جو مٹ نہیں سکتی!
’’ہم نوجوانوں کو پستول اور بم چلانے کا نہیں کہہ سکتے۔ نوجوانوں کو دیہاتوں اور صنعتی مراکز کی جھونپڑ پٹیوں میں رہنے والے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو بیدار کرنے کا تاریخی فریضہ سرانجام دینا ہے۔‘‘
لال خان: جو مٹ کے ہر بار پھر جئے!
انسانی تاریخ میں موجودہ عہد کئی حوالوں سے نہ صرف منفرد بلکہ بہت گنجلک اور پیچیدہ ہے۔ ماضی کی دہائیوں میں بڑے واقعات اتنے تواتر سے رونما نہیں ہوتے تھے۔ مگر آج ہر روز نئے واقعات کا جنم ہوتا ہے اور بعض اوقات تو وہ اپنی پرکھ کا وقت دیئے بغیر ہی اور نئے واقعات کے پیچھے غائب ہو جاتے ہیں۔
بالشویک انقلاب: حاصلات، زوال اور آج کی دنیا
بالشویک پارٹی کی قیادت میں محنت کش طبقے نے نجی ملکیت اور بورژوا ریاست کو پاش پاش کر دیا اور انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے منصوبہ بند معیشت کی تشکیل کی۔
کارل مارکس کون تھا؟
وہ لیگ کی دوسری کانگریس (لندن، نومبر 1847ء) میں بہت نمایاں تھے اور اسی کانگریس کے کہنے پر انہوں نے مشہورِ زمانہ ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ مرتب کیا، جو فروری 1848ء میں چھپ کر سامنے آیا۔















