عمران کامیانہ
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگی جارحیت کو ایک مہینہ مکمل ہو گیا ہے۔ اسرائیل اور خلیجی ممالک پر ایران کی جوابی کاروائیوں نے اسے ایک علاقائی (ریجنل) جنگ بنا دیا ہے۔ لیکن دنیا پر اثرات اور دیگر عالمی و علاقائی طاقتوں کی بالواسطہ شمولیت کے حوالے سے دیکھیں تو یہ ایک علاقائی جنگ سے کہیں بڑھ کے ہے۔ جس نے مشرق وسطیٰ میں مستقل نوعیت کی انتہائی گہری تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں اور پہلے سے زبوں حال عالمی معیشت کو بنیادوں سے ہلا ڈالا ہے۔ واقعات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں۔ جنہیں ساری دنیا دم سادھے دیکھ رہی ہے۔ اس دوران ٹرمپ کی جانب سے کئی بار جنگ کے جلد خاتمے کی نوید سنائی جا چکی ہے۔ درحقیقت اس پاگل پن کے خاتمے کے لئے ٹرمپ پر امریکہ کے اندر اور باہر سے شدید دباؤ موجود ہے۔ علاوہ ازیں وہ ایسے بیانات کے ذریعے مسلسل گرتی عالمی منڈیوں کو سہارا دینے کی کوشش بھی کرتا ہے (اور منڈیوں کے اس اتار چڑھاؤ سے اپنے گینگ کیساتھ مل کے خوب مال بھی بنا رہا ہے)۔ لیکن واقعات کی نوعیت اور عمومی سمت دو طرفہ حملوں کی سنگینی میں اضافے کی نشاندہی کر رہی ہے۔ جس میں اب تیل و گیس، پانی اور بجلی کے انفراسٹرکچر کے علاوہ انتہائی حساس جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلکہ بات یونیورسٹیوں پہ حملوں تک پہنچ گئی ہے۔
اس سلسلے میں اسرائیل کا کردار خاص طور پر تخریبی اور تباہ کن ہے۔ جس نے عملاً امریکہ کو اپنے آگے لگایا ہوا ہے اور کشیدگی میں معمولی کمی کے کسی امکان کو بھی مزید اشتعال انگیزی کے ذریعے زائل کرنے کی روش اپنا رکھی ہے۔ جس کے جواب میں ایران کو اسی نوعیت کا ردِ عمل (حساس تنصیبات اور انفراسٹرکچر وغیرہ پر حملے) اسرائیل اور خلیجی ممالک میں دینا پڑتا ہے۔ جس سے ایک نئی مثال (Precedent) قائم ہو جاتی ہے اور جنگ کی شدت یا سنگینی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان سطور کی تحریر کے وقت پاکستان، مصر اور ترکی کی مدد سے مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششوں کی خبریں گردش میں ہیں۔ لیکن معاملات خاصے پیچیدہ ہیں اور اتنی آسانی سے حل ہونے والے نہیں۔ کچھ دیر قبل حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے شروع کر کے اس تنازعے میں ایک نئی جہت کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے ذیل میں گزشتہ ہفتوں کے واقعات اور موجودہ صورتحال کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ یہ بنیادی طور پر جنگ کے آغاز میں پیش کردہ تجزئیے و تناظر کا تسلسل ہے جس کی روشنی میں اس سامراجی یلغار کے نتائج اور مستقبل کے امکانات کی نشاندہی کسی قدر ممکن ہے۔
﴾ تذویراتی حوالے سے دیکھیں تو جنگ کے اہداف کے حوالے سے امریکہ کا ابہام ہر گزرتے دن کے ساتھ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ جب آپ کسی واضح نصب العین یا مقصد کے بغیر لڑائی میں اترتے ہیں تو اس سے نکلنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ ابتدائی حملوں میں ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کے بیشتر افراد کی ہلاکت کے باوجود نہ تو ایرانی رجیم خود بخود منہدم ہوئی ہے‘ نہ ہی کوئی عوامی شورش اٹھ سکی ہے۔ یہ ٹرمپ اور اس کے امریکی و اسرائیلی حواریوں کی جنگی پلاننگ کے لئے سخت دھچکا ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کا بندوبست کس قسم کے جاہل اور جنونی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ ٹرمپ اپنے مخصوص قسم کے الٹے سیدھے، متضاد اور مضحکہ خیز بیانات کے ذریعے فتح کا تاثر پیدا کرنے کی (ناکام) کوشش کر رہا ہے۔ لیکن کم از کم اتنی عقل اس میں ضرور موجود ہے کہ اس طرح سے فیس سیونگ ممکن نہیں ہے۔
﴾ بالعموم جنگ میں دشمن کی تباہی بذات خود کوئی مقصد نہیں ہوتی بلکہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یہ مقاصد دفاعی یا جارحانہ‘ دونوں نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بالکل غیر متوازن جنگ ہے جس میں ایران کو بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور آگے بھی کرنا پڑے گا۔ جس کے ازالے کے لئے کئی سال یا شاید دہائیاں بھی درکار ہو سکتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل، امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے نقصانات بظاہر کم ہیں۔ لیکن یہ بات مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایرانی رجیم نے دوسرے تمام آپشن زیر غور لانے کے بعد یہ جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان کے نزدیک لڑنے کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ لہٰذا وہ ہر حد تک جا کے لڑنے کو تیار نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ تازہ صورتحال سے مزید واضح ہو رہا ہے۔ مزید برآں اپنی مخصوص حکمت عملی کے تحت وہ جنگ کی طوالت کو بھی ایک حربے اور ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گے۔ کیونکہ اس کا زیادہ نقصان امریکی سامراج اور اس کے حواریوں کو ہو گا۔ اس تناظر میں ہنری کسنجر، جو اپنے متناقضانہ مقولوں کے حوالے سے مشہور تھا، کا ویت نام جنگ کا تجزیہ اہمیت کا حامل ہے: ویت نام اس لئے جیت رہا ہے کہ وہ ہار نہیں رہا اور ہم اس لئے ہار رہے ہیں کہ جیت نہیں پا رہے۔
﴾ نیتن یاہو کے تحت اسرائیل چونکہ ایک بالکل بے لگام اور بدمعاش ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لہٰذا وہ نہ صرف ایران کو مکمل طور پر تہہ و بالا کر دینے کے درپے ہے۔ بلکہ اس کی یہ کوشش بھی ہے کہ جنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لبنان کے زیادہ سے زیادہ حصے پر قبضہ کر لے۔ لیکن یہ ایک ایسی تباہی کی شروعات ہو سکتی ہے جس کے ممکنہ مضمرات سے خود امریکی بھی خوفزدہ ہیں۔ مثلاً ایران کی جوہری تنصیبات کی تباہی سے پھیلنے والی ریڈی ایشن کئی ممالک کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی طرح ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ ساڑھے چار سو کلو یورینیم موجود ہے۔ جو ایٹم بم نہیں تو ’ڈرٹی بم‘ بنانے کے لئے ضرور استعمال ہو سکتا ہے اور کسی انارکی کی صورتحال میں ریاستی تحویل سے باہر جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ایران میں لیبیا یا شام جیسے حالات مغرب کے لئے مہاجرین کے بے نظیر بحران اور ہمسایہ خلیجی ممالک کے لئے ایک نہ ختم ہونے والے عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایران کی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت کو پہنچنے والا کوئی مستقل یا دوررس نقصان بھی اچھی نوید نہیں ہو گی۔ اسرائیل بہرحال جنگ کی طوالت اور شدت میں ہر اضافے پہ بضد نظر آتا ہے۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ امریکی اگر ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ بھی جاتے ہیں تو ان کے لئے اسرائیل کو قابو کرنا ایک اضافی مسئلہ ہو گا۔
﴾ خالصتاً عسکری حوالے سے دیکھیں تو بہت کچھ ’میزائلوں کے حساب کتاب‘ پر مبنی ہے۔ امریکہ یقیناً تاریخ کی سب سے بڑی عسکری قوت ہے۔ جس کے سامنے چین اور روس جیسی طاقتیں بھی کمتر نظر آتی ہیں۔ لیکن یہ عسکری صلاحیت لامحدود نہیں ہے۔ امریکہ کے جدید ہتھیاروں کی اچھی خاصی تعداد گزشتہ کئی سالوں سے یوکرائن جنگ میں خرچ ہوتی رہی ہے۔ لیکن اب ایران کے خلاف جنگ میں یہ ہتھیار (زیادہ تر حملے اور فضائی دفاع میں استعمال ہونے والے میزائل) جس تیزی سے خرچ ہو رہے ہیں اس نے سامراجی عسکری ماہرین کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مثلاً ’ٹاماہاک‘ کروز میزائلوں کا 25 فیصد ذخیرہ (تقریباً 850 میزائل) اس جنگ کے صرف چار ہفتوں میں خرچ ہو چکا ہے۔ فضائی دفاع کے لئے استعمال ہونے والے تھاڈ اور پیٹریاٹ وغیرہ جیسے میزائل اس سے بھی زیادہ تیزی سے خرچ ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو یہ ہتھیار اب جاپان اور جنوبی کوریا سے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے پڑ رہے ہیں یا یوکرائن کو دئیے جانے والے ہتھیاروں کا رخ موڑنا پڑ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں شمالی کوریا، چین اور روس کے مقابل کھڑے ان امریکی اتحادیوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ لیکن ہتھیاروں کے اتنے بڑے پیمانے پر استعمال سے خود امریکہ کی پوزیشن بھی چین اور روس کے سامنے کمزور ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ میزائلوں کی فی کس لاگت کئی ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے اور پیداوار میں تیزی سے کوششوں کے باوجود ان کے ذخیروں کو جنگ سے پہلے کی سطح تک لے جانے کے لئے ہفتے یا مہینے نہیں بلکہ کئی سال درکار ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں ایران (اور اس کے لبنانی، عراقی اور یمنی اتحادیوں) کے ڈرون اور میزائل خاصے کم قیمت ہیں اور شواہد یہی بتاتے ہیں کہ ایران ان کا استعمال زیادہ لمبے عرصے جاری رکھ سکتا ہے (کچھ ہتھیاروں کے معاملے میں غیر معینہ مدت کے لئے‘ جب تک کہ ان کی تیاری کے انفراسٹرکچر کو تباہ نہ کر دیا جائے)۔
﴾ انہی خدشات کے پیش نظر امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی یوکرائن سے سستے اینٹی ڈرون سسٹم حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ کیونکہ روس کے ساتھ جنگ میں یوکرائن کو ایرانی ساختہ شاہد ڈرون (اور اس کے روسی ورژن) سے مقابلے کا خاصا تجربہ ہے۔ تاہم یہ اینٹی ڈرون سسٹم‘ میزائلوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ ایران کے کلسٹر میزائلوں (جو اپنے اندر موجود بموں کو کئی کلومیٹر کے علاقے میں بکھیر دیتے ہیں) کے مقابلے میں امریکہ اور اسرائیل کے مہنگے دفاعی میزائل بھی بے بس نظر آتے ہیں۔ مزید برآں وقت کے ساتھ ایران زیادہ جدید میزائلوں اور بہتر طریقوں سے حملے کر رہا ہے۔ جبکہ یوکرائن جنگ کی طرز پر اس کے اتحادی گروہ انتہائی سستے کوارڈ کاپٹر ڈرونوں سے اسرائیلی اور امریکی افواج کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی طرح حزب اللہ کی جانب سے ایران کے شاہد ڈرون کے جدید روسی ورژن کے استعمال (اور ایران کو اس کی ترسیل) کے شواہد بھی ملے ہیں ۔
﴾ مذکورہ بالا تین نکات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایران کے حملوں کی تعداد میں کمی کے باوجود ان کی کامیابی کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے۔ مزید برآں موجودہ شکل میں اور خالصتاً عسکری حوالے سے بھی اس جنگ کی طوالت امریکیوں کے لئے پریشانی کا باعث کیسے بن رہی ہے۔
﴾ ایران نے خطے میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو گزشتہ سالوں کے جزوی یا وقتی تصادموں کے دوران کیے جانے والے حملوں کی طرح علامتی نہیں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے دس ممالک میں امریکہ کی 19 عسکری تنصیبات ہیں۔ جن میں سے 13 کو ’خاطر خواہ‘ نقصان پہنچنے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ خطے میں امریکہ کا کوئی بھی اہم فوجی اڈہ سلامت نہیں بچا ہے۔ اس میں فضائی دفاع کے لئے استعمال ہونے والے انتہائی مہنگے ریڈار سسٹم بھی شامل ہیں (یہی وجہ ہے کہ ایرانی حملوں کی پیشگی وارننگ کا ٹائم کئی گنا کم ہو گیا ہے)۔ ان تنصیبات کا بیشتر عملہ اور اہلکار دوسری جگہوں پر منتقل کر دئیے گئے ہیں (ایران خلیجی ممالک میں کچھ سویلین عمارات پر حملوں کا یہی جواز دے رہا ہے کہ یہاں امریکی فوجیوں کو ٹھہرایا گیا ہے)۔ اسی طرح بغداد، ریاض اور دبئی میں امریکی سفارتخانے اور قونصلیٹ بھی نشانہ بنے ہیں۔ نتیجتاً بیشتر خلیجی ممالک میں سفارتی مشن بند کر دئیے گئے ہیں۔ اسی طرح امریکی بینکوں کو بھی حملوں کے ڈر سے اپنے آپریشن بند یا محدود کرنے پڑ گئے ہیں۔ یوں یہ جنگ امریکہ کی عسکری ساکھ کے لئے بھی خاصی مہلک ثابت ہو رہی ہے۔ ان میں سے مستقل نوعیت کی بیشتر عسکری تنصیبات 1991ء کی خلیجی جنگ کے بعد مبینہ طور پر امریکہ کے اتحادی ممالک کی حفاظت کی غرض سے قائم کی گئی تھیں۔ جس کے بدلے میں ان خلیجی ممالک کی رجعتی بادشاہتیں اربوں کھربوں ڈالر امریکہ کو ادا کرتی رہی ہیں۔ لیکن وقت آنے پر یہ فوجی اڈے نہ صرف خود ہدف بن گئے ہیں بلکہ ان کی موجودگی نے میزبان ممالک کو مزید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف خلیج بلکہ دوسرے خطوں میں بھی امریکی اتحادیوں کو ازسرِنو سوچنے پر مجبور کرے گی۔ گزشتہ عرصے میں سعودی عرب کا پاکستان کیساتھ دفاعی معاہدہ بے وجہ نہیں ہے۔ چین، پاکستان، مصر، ترکی وغیرہ پر مبنی نئے دفاعی معاہدوں یا عسکری اتحادوں کی چہ مگوئیاں بھی جاری ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ مجوزہ معاہدے یا اتحاد کوئی عملی شکل اختیار کرتے ہیں یا نہیں‘ ایسی سرگوشیاں ہی امریکی سامراج پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد اور اس کی عسکری بالادستی کے بحران کی غمازی کرتی ہیں۔
﴾ 13 انتہائی مہنگے ڈرون جہازوں سمیت امریکہ کے 25 طیارے اب تک تباہ یا شدید نقصان سے دوچار ہو چکے ہیں۔ جن میں ’فرینڈلی فائر‘ کا نشانہ بننے والے تین ’F-15‘ جنگی جہاز اور مبینہ طور پر حادثے کا شکار ہونے والا ایک ہوائی آئل ٹینکر بھی شامل ہے۔ لیکن باقیوں کو ایران نے فضا میں یا ہوائی اڈوں پر نشانہ بنایا ہے۔ عراق میں ایران کے اتحادی گروہ فوجی اڈوں پر کھڑے ہیلی کاپٹروں کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کی ویڈیوز بھی جاری کر رہے ہیں۔ لیکن اس نوعیت کا اہم واقعہ امریکہ کے سب سے جدید جنگی طیارے ’F-35‘ (جس کے ریڈار میں نظر آنے کو کم و بیش ناممکن سمجھا جاتا ہے) کو فضا میں نشانہ بنائے جانے کا ہے۔ یہ درحقیقت اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ جس سے امریکی ’سٹیلتھ‘ ٹیکنالوجی کے ناقابل شکست ہونے کے تاثر کو نقصان پہنچا ہے اور جو عسکری حوالے سے دوررس اثرات کا حامل ہو گا۔
﴾ اسی طرح کا معاملہ امریکہ کے یورپی اتحادیوں کا ہے۔ افغانستان اور عراق کی جنگوں کے برعکس نیٹو اس جنگ میں شامل نہیں ہوا ہے۔ جبکہ انفرادی طور پر بھی یورپی ممالک زبانی کلامی حمایت یا برائے نام معاونت سے آگے نہیں بڑھے ہیں۔ بلکہ بیشتر نے جنگ میں شمولیت سے صاف انکار کیا ہے۔ یہ بنیادی طور پر نیٹو کے تعطل اور مغربی سامراجی اتحاد میں گہری ہوتی ہوئی دراڑوں کی واضح علامت ہے۔ ٹرمپ نے برسر اقتدار آنے کے بعد اپنے یورپی اتحادیوں کو ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ نیٹو کے لئے پیسے نہ دینے کے طعنے، زیلنسکی کی بے عزتی، گرین لینڈ پر قبضے‘ پیوٹن سے ہاتھ ملانے اور ٹیرف لگانے کی مسلسل دھمکیاں… غرضیکہ یورپ کے معاملے میں بھی ٹرمپ کی بدتمیزیوں کی فہرست طویل ہے۔ لیکن اب جب انہوں نے ہاتھ پکڑانے سے صاف انکار کر دیا ہے تو انہیں مزید طعنے اور گالیاں بک رہا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف ٹرمپ کی حرکتوں یا نیٹو کے قوانین کا نہیں ہے۔ اول تو یورپی ممالک ایسی کسی جنگ میں کودنا نہیں چاہتے جسے شروع کرنے سے پہلے ان سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا گیا۔ لیکن اس سے ہٹ کے بھی ان کی ہچکچاہٹ کی کئی وجوہات ہیں: اپنی پہلے سے بحران زدہ معیشتوں کی فکر، یوکرائن جنگ کے لئے وسائل کم پڑ جانے کے خدشات، فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف بھڑکے ہوئے عوامی غم و غصے کے پھٹ پڑنے کا خوف، اسرائیل کی مسلسل اور بے لگام غنڈہ گردی سے بیزاری، ایران کے ردِعمل اور جنگ کے مزید پھیل جانے کا ڈر وغیرہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹرمپ کے ابھار اور مروجہ سامراجی آرڈر کی بڑھتی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں یورپی ریاستیں عسکری خود انحصاری اور ازسرِ نو اسلحہ بندی (Rearmament) کی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔ جو ان کی جمود سے دوچار معیشتوں پر بھاری بوجھ کا باعث ہیں اور جن کی قیمت یورپ کے محنت کش عوام ہی ادا کریں گے۔ لیکن امریکہ پر مزید انحصار ان کے نزدیک زیادہ گھاٹے کا سودا ہے۔ ایران جنگ نے مغربی سامراجیوں کی آپسی بدگمانی اور تضادات میں مزید اضافہ ہی کیا ہے۔
﴾ لیکن یہاں نہ صرف صیہونی ریاست کی حالت بلکہ بحیثیت مجموعی صیہونیت کے بحران کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے اسرائیلی ریاست نے جو وحشیانہ روش اختیار کی ہے (جو درحقیقت طویل عرصے سے جاری عمل میں ایک معیاری جست تھی) اس نے ایک ناجائز، بدمعاش اور نہ صرف نسلی امتیاز بلکہ نسلی تطہیر پر مبنی ریاست کے طور پر اسرائیل کی پہچان کو عالمی سطح پر راسخ کر دیا ہے۔ بلکہ سارے صیہونی پراجیکٹ سے نفرت آج اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ دنیا کے ہر ذی شعور انسان کے لئے اسرائیل ایک گالی کا نام ہے۔ حتیٰ کہ مغربی دائیں بازو کے حلقوں میں بھی اسرائیل سے بیزاری اور حقارت کے جذبات ابھرے ہیں۔ جو پھر یہود دشمنی کی مختلف شکلوں میں اپنا اظہار کرتے ہیں۔ خود امریکی ریاست اور میڈیا میں ایسے تاثرات پائے جا رہے ہیں اسرائیل ایک اثاثے سے زیادہ ایک بوجھ بنتا جا رہا ہے اور غیر ضروری طور پر امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے لگا ہے۔ اس سلسلے میں ایپسٹین فائلوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ اسرائیل کی داخلی صورتحال کے حوالے سے بھی قابل غور ہے کہ ایک اچھا خاصا ترقی یافتہ معاشرہ کیسے اور کب تک مسلسل حالت جنگ میں رہ سکتا ہے۔ صرف معاشی حوالے سے ہی دیکھیں تو یہ سلسلہ لمبے عرصے تک نہیں چل سکتا۔
﴾ اسرائیل کی باقاعدہ سرکاری پالیسی ہے کہ اپنے جنگی نقصانات کو ہر ممکن حد تک چھپایا جائے۔ لیکن موجودہ جنگ میں یہ سنسرشپ شمالی کوریائی طرز اختیار کر گئی ہے۔ یہ بہرحال طے ہے کہ ایرانی حملوں اور حزب اللہ کی کاروائیوں کی نتیجے میں اسرائیل کا جانی و مالی نقصان بہت زیادہ ہے۔ جس کا شاید عشر عشیر بھی مین سٹریم میڈیا پر ظاہر نہیں ہو رہا ہے۔ جنگ کے لئے عوامی حمایت جتنی بھی زیادہ ہو‘ مسلسل قلعہ بندی کے حالات اور ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں جھونک دئیے جانے کا احساس لوگوں کو ازسرِنو غور و فکر پہ مجبور کر دیتا ہے۔ اسرائیل میں بڑھتی ہوئی بے چینی، جنگ مخالف مظاہروں، لوٹ مار اور فسادات کے واقعات کی خبریں پہلے سے زیر گردش ہیں۔ لیکن معاملہ محض عام آبادی کا نہیں بلکہ اسرائیلی فوج میں بھی بددلی، تھکاوٹ اور فرسٹریشن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سے زیادہ نازک صورتحال کیا ہو سکتی ہے کہ کسی فوج کا سپہ سالار عین جنگ کے بیچ میں تنبیہ کر دے کہ اس کی فوج شدید ٹوٹ پھوٹ کے خطرے سے دوچار ہے۔ کچھ دن قبل اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے کابینہ کے ایک اجلاس میں غیر معمولی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اسرائیلی فوج داخلی طور پر انہدام سے دوچار ہو سکتی ہے۔ موصوف کا کہنا تھا کہ وہ ’’دس لال جھنڈے‘‘ اٹھا کر خبردار کر رہا ہے کہ صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور ریزرو فوجی مزید لڑنے کی سکت کھو رہے ہیں جس سے فوجی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینٹ نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت تقریباً 20 ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے اور یہ جنگ بغیر مکمل حکمت عملی، وسائل اور مناسب افرادی قوت کے شروع کی گئی ہے۔ اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ کے مطابق وہ 13 برسوں سے سکیورٹی کابینہ کا حصہ رہا ہے لیکن اس نوعیت کی سنگین وارننگ اس نے پہلے کبھی نہیں سنی۔ ایسے بیانات دراصل اسرائیل کی فوجی اور سیاسی قیادت میں مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نیتن یاہو کا ٹولہ ایک کے بعد دوسرا تنازعہ کھولتے جانے پہ بضد ہے کہ ان کی سیاسی بقا مسلسل خونریزی اور اشتعال انگیزی سے جڑی ہوئی ہے۔ لیکن اسرائیلی معاشرے اور ریاست میں مجتمع ہوتے چلے جا رہے تضادات کسی غیر متوقع اور دھماکہ خیز انداز سے پھٹ سکتے ہیں۔ ان حالات میں نیتن یاہو کے پرتشدد انداز میں ٹھکانے لگائے جانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ لیکن پھر صورتحال بالکل بے قابو ہو جانے پر نیتن یاہو جیسوں کی جانب سے کوئی انتہائی اقدام بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں اسرائیل کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو بالکل رد نہیں کیا جا سکتا۔
﴾ خلیجی ریاستوں کو اس جنگ نے کئی حوالوں سے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ جس میں سرفہرست روزگار، سرمایہ کاری اور سیر و تفریح کے محفوظ مراکز کے طور پر ان ریاستوں کے امیج کا چکنا چور ہو جانا ہے۔ مثلاً دبئی میں رئیل اسٹیٹ سے جڑا لین دین 51 فیصد کم ہو گیا ہے جبکہ سٹاک مارکیٹ 15 فیصد گر گئی ہے۔ رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کی دیوہیکل اماراتی کمپنی ’ایمار‘ کے حصص 40 فیصد تک گر گئے ہیں۔ سرمائے کی پرواز تیزی سے جاری ہے (جسے روکنے کے لئے غیر اعلانیہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں)۔ تیل کی ترسیل میں خلل سے ان معیشتوں کو پہنچنے والا نقصان الگ سے ہے۔ اگر یہ جنگ چند ہفتے اور جاری رہتی ہے تو یہ معیشتیں 20 فیصد تک سکڑ سکتی ہیں۔ یہ ایک خوفناک گراوٹ ہے جس کا مطلب لاکھوں چھوٹے بڑے کاروباروں کی بندش، شدید آسٹیریٹی اور کروڑوں نوکریوں کا خاتمہ ہے۔ دو ارب سے زائد انسانوں کے حامل جنوب ایشیا کے پہلے سے پسماندہ اور زبوں حال ممالک، جن کے روزگار اور ترسیلات زر کا بڑا ذریعہ یہ خلیجی ممالک ہیں، کے لئے اس معاشی بربادی کے سماجی و سیاسی مضمرات کا اندازہ لگانا محال نہیں ہے۔ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ خلیجی حکمرانوں کے بیشتر پیٹرو ڈالرز واپس امریکہ میں انویسٹ ہوتے ہیں۔ لہٰذا خلیج میں بحران کے نتیجے میں اس سائیکل کا ٹوٹ جانا امریکی معیشت کے لئے بھی کوئی اچھی خبر نہیں۔
﴾ ٹرمپ کے مسلسل اصرار کے باوجود خلیجی ممالک نے جنگ میں براہِ راست شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ کون سا جنگی ہدف ہے جو امریکہ اور اسرائیل حاصل نہیں کر پا رہے ہیں اور ان مصنوعی ریاستوں کی مصنوعی اور ناقابل اعتماد افواج کے ذریعے حاصل ہو جائے گا۔ یہ بنیادی طور پر دھماکے کے مقابلے میں پٹاخہ چلانے والی بات ہو گی۔ لیکن انہیں یہ بھی ڈر ہے کہ اگر وہ جنگ میں کودتے ہیں تو یہ ایران کے بلاتمیز اور اندھا دھند قسم کے حملوں کو دعوت دینے والی بات ہو گی جو ان کے تیل اور گیس کے انفرسٹرکچر کو مستقل برباد کر دیں گے (اس خدشے کی ایک جھلک قطر کی گیس تنصیبات پر ایرانی حملے میں نظر آئی ہے)۔ مزید یہ کہ امریکہ انہیں پھنسا کے خود نکل جائے گا یا پیچھے ہٹ جائے گا۔ علاوہ ازیں سعودیوں کو یہ بھی خطرہ ہے کہ اس صورت میں حوثی‘ بحیرہ احمر کو خلیج عدن کے ذریعے بحرہ ہند سے ملانے والی آبنائے باب المندب کو بند کر دیں گے۔ جو آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں سعودی تیل کی ترسیل کا متبادل راستہ ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق ایسی انڈرسٹینڈنگ موجود ہے کہ حوثی مذکورہ بالا راستے میں خلل نہیں ڈالیں گے جس کے بدلے میں سعودی براہِ راست جنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔ بہرصورت خلیجی ممالک کو جنگ میں کودنے کا ممکنہ نقصان‘ فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن ایرانی رجیم اگر اس جنگ میں بچ جاتی ہے تو حالت امن میں بھی اس کی موجودگی خلیجی ممالک کے لئے مسلسل خطرہ تصور ہو گی اور وہاں سرمایہ کاری اور سیاحت وغیرہ کے امکانات کو متاثر کرے گی۔
﴾ ایران نے آبنائے ہرمز (جس سے دنیا کا 20 تا 25 فیصد تیل اور 30 فیصد تک گیس کی ترسیل ہوتی ہے) کی ’’بندش‘‘ کو اپنے کلیدی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ لیکن اگر غور کریں تو عملاً اسے بند نہیں کیا بلکہ کچھ بحری جہازوں پر حملوں کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لینے کا اعلان کیا ہے۔ جنگی زون سے گزرنا ویسے بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا اور بحری جہازوں کی انشورنس کے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ پھیرنا ہو تو اتنی دھمکی ہی کافی ہوتی ہے کہ جو یہاں سے گزر سکتا ہے گزر جائے۔ ایران نے بہرحال ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے تین چار آئل ٹینکروں کو جلا کے راکھ بھی کر دیا ہے۔ اب ٹرمپ سو بار کہتا رہے کہ اس نے ایران کی بحریہ کو نیست و نابود کر دیا ہے‘ خوف اور بے یقینی کی یہ فضا ختم ہونے والی نہیں۔ اس حوالے سے آبنائے ہرمز کو ’’کھلوانے‘‘ کا سارا خیال ہی مضحکہ خیز اور احمقانہ ہے۔ اس مقصد کے لئے اپنے بحری جنگی جہاز بھیجنا ایران کو مزید اہداف فراہم کرنے کے مترادف ہو گا (خارگ جزیرے پر فوج اتارنے یا کسی اور طریقے سے اسے ’’کنٹرول‘‘ میں لینے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے)۔ اپنی دھاک اور غیر یقینی کی صورتحال کو قائم رکھنے کے لئے ایران کے اِکا دُکا حملے ہی کافی ہوں گے۔ جس کے بے شمار طریقے اور وسائل اس کے پاس موجود ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق وہ ’دوست‘ ممالک کے بحری جہازوں کو گزرنے دے رہا ہے جبکہ بعض صورتوں میں فی جہاز دو ملین ڈالر تک کا ’’ٹول ٹیکس‘‘ بھی وصول کر رہا ہے۔ یہ ایک اور مثال ہے جو اس سامراجی حملے کی حماقت کے نتیجے میں نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ دنیا بھر کے ایسے بحری راستوں کے حوالے سے قائم ہو گئی ہے اور مستقبل میں انہی سامراجیوں کے لئے دردِ سر کا باعث بنتی رہے گی۔ بہرحال جب تک یہ جنگ جاری ہے ایرانی اپنی مرضی کے مطابق کم یا زیادہ خلل کے ذریعے آبنائے ہرمز کو ’’بند‘‘ رکھیں گے اور تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی۔
﴾ تیل اور ایل این جی کے علاوہ خلیجی ممالک کھاد کی مصنوعات کا 27 تا 44 فیصد فراہم کرتے ہے۔ ہرمز کے بند ہونے سے یوریا، سلفر، امونیا اور فاسفیٹ وغیرہ کی ترسیل نہیں ہو سکتی اور تیل کے برعکس ان مصنوعات کے کوئی سٹریٹجک ذخائر بھی موجود نہیں ہیں۔ لہٰذا اہم کھادوں کی عدم دستیابی عالمی سطح پر زرعی اور غذائی بحران کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
﴾ عالمی معیشت (بالخصوص مغربی معیشتیں) پہلے ہی 2008ء کے بعد ایک عمومی سست روی کا شکار چلی آ رہی ہے۔ کووڈ کی وبا کے بعد سے بلند افراطِ زر کیساتھ مل کے یہ سست روی ’’سٹیگفلیشن‘‘ میں بدل گئی۔ یہ رجحان ابھی جاری تھا کہ پہلے روس یوکرائن جنگ شروع ہو گئی اور اب پاگلوں کے اس ٹولے نے یہ نئی جنگ کھول دی ہے۔ جس کے نتیجے میں اب تک خام تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ بیشتر ممالک میں تیل اور گیس کی راشن بندی جاری ہے یا زیر غور ہے۔ جنگ کی طوالت کے ساتھ یہ مسئلہ گھمبیر ہی ہو گا۔ اگر خطے میں تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچتا ہے تو قیمتوں میں اضافہ مستقل شکل اختیار کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ جنگ بندی کی صورت میں بھی ترسیل کی بحالی کئی مہینے لے سکتی ہے۔ اب تک کی جنگ کے معاشی نقصانات کا تخمینہ عالمی سطح پر مہنگائی میں 1.36 فیصدی پوائنٹس اضافے جبکہ جی ڈی پی میں 1.26 فیصدی پوائنٹس (1.4 ٹریلین ڈالر) کمی کے مساوی لگایا جا رہا ہے۔ لیکن اگر یہ صورتحال تین مہینے جاری رہتی ہے تو یہ نقصان مہنگائی میں 2.80 فیصدی پوائنٹس اضافے جبکہ جی ڈی پی میں 3.15 فیصدی پوائنٹس (3.5 ٹریلین ڈالر) کمی تک پہنچ جائے گا۔ مزید اعداد و شمار میں جائے بغیر بات کریں تو اس کا نتیجہ بیشتر معیشتوں کی سست روی، پہلے سے سست روی کا شکار معیشتوں کے جمود اور جمود سے دوچار معیشتوں کے سکڑاؤ کی صورت میں نکلے گا۔ دنیا کے معاشی حالات پہلے بھی اچھے نہیں ہیں۔ لیکن اب مزید بگڑ جائیں گے۔ یہ جنگ‘ مہنگائی، خساروں، قرضوں، بیروزگاری اور غربت میں مزید اضافے کا پیغام ہے۔
﴾ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یہ امریکی تاریخ کی سب سے غیر مقبول جنگ ہے۔ جس سے خود امریکی عوام کے بدلتے مزاج اور معروضی حالات کا پتا چلتا ہے۔ ویت نام، افغانستان اور عراق کی جنگوں کو شروعات میں امریکی عوام کی حمایت حاصل تھی جو بعد میں ختم ہوئی۔ یہ جنگ پہلے دن سے امریکی عوام کی حمایت سے محروم ہے۔ مثلاً ویت نام جنگ کے آغاز کے وقت 60 فیصد امریکی اس کے حق میں تھے۔ جب کہ خاتمے تک 62 فیصد اس کے مخالف ہو چکے تھے۔ اسی قسم کی صورتحال افغانستان اور عراق کی جنگوں کی تھی۔ لیکن اس جنگ کو اپنے آغاز میں ہی 61 فیصد امریکی عوام کی مخالفت کا سامنا ہے۔ جبکہ 74 فیصد امریکی ایران میں زمینی فوج اتارنے کے خلاف ہیں۔ جنگ کی حمایت کرنے والوں کی تعداد بھی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کی اپنی مقبولیت (یا عدم مقبولیت) بھی جنگ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ مہنگائی میں کمی اور جنگوں کا خاتمہ یا امریکہ کو مزید جنگوں میں نہ جھونکنا اس کی انتخابی مہم کے بنیادی نعرے یا وعدے تھے۔ اس جنگ نے دونوں پہ پانی پھیر دیا ہے۔ اپنی تمام تر بیہودگیوں کے باوجود اتنا غیر مقبول وہ پچھلے ایک سال میں نہیں ہوا جتنا پچھلے ایک مہینے میں ہو گیا ہے۔ حالانکہ ابھی بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کے تابوت آنا شروع نہیں ہوئے۔ یہ بھی اہم وجہ ہے کہ اسے اور اس کے گینگ کے لوگوں کو بار بار جنگ کے جلد خاتمے کی نوید سنانی پڑتی ہے۔ بلکہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس ملک پر انہوں نے چڑھائی کر رکھی ہے‘ مہنگائی کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے اسے تیل بیچنے کی اجازت بھی دے رہے ہیں!
﴾ 28 مارچ کو امریکہ بھر میں ٹرمپ کے خلاف ’نو کنگز‘ کے عنوان سے کیے جانے والے تین ہزار سے زائد مظاہروں میں دسیوں لاکھ لوگوں نے شرکت کی ہے۔ خود ریپبلکن حلقوں، ٹرمپ انتظامیہ اور فوجی قیادت میں داخلی اختلافات واضح ہو رہے ہیں۔ نومبر میں مڈٹرم الیکشن آ رہے ہیں۔ لہٰذا حالیہ دنوں ٹرمپ کی حرکتوں ( بشمول ایک ہی تقریر میں گالیوں کی آمیزش کے ساتھ کئی متضاد باتیں کرتے چلے جانے) کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھوتا جا رہا ہے اور نیم پاگل پن سے مکمل پاگل پن کی طرف گامزن ہے۔ لیکن پھر اس کے ارد گرد بھی ’’وزیر جنگ‘‘ پیٹر ہیگسیتھ جیسے جنونی لوگ جمع ہیں۔ جو عالمی سطح کی مذہبی جنگ اور قتل عام کو کسی عظیم روحانی نصب العین کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے لئے دعائیہ رسومات کی ادائیگی کے جو مکروہ مناظر دیکھنے کو ملے ہیں اور ان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کس قماش کے لوگ ہیں اور ان کے نظام کا سیکولرزم کتنا سطحی ہے۔ موصوف کے تازہ بیان کے مطابق ایران کے بعد کیوبا کی باری ہے۔ ظاہر ہے ایک پاگل انسان سے کسی بھی حد تک جانے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لیکن پھر ایسے لوگوں کو ان کے اصل ٹھکانے تک پہنچانے کے لئے بھی بہت سی حدیں عبور کرنی پڑ سکتی ہیں۔
﴾ امریکہ کے لئے ایران میں فوج اتارنا‘ دلدل پہ کھڑا ہونے کے مترادف ہو گا۔ ایران رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے دو گنا سے بھی بڑا ملک ہے۔ جس کی آبادی نو کروڑ اور فوج دس لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ہے (ریگولر فوج، پاسداران، بسیج ملیشیا، ریزو اہلکار وغیرہ)۔ زمینی ساخت کے لحاظ سے بھی ایران ایک ’’قدرتی قلعہ‘‘ ہے اور زیادہ تر ناہموار اور پہاڑی قسم کے علاقوں پر مبنی ہے۔ علاوہ ازیں عسکری اور نفسیاتی طور پر ایرانی فوج کے ڈھانچوں کو مرکزی قیادت کے خاتمے کی صورت میں بھی خودمختار انداز میں لڑتے رہنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔ فضائی حملے کتنے بھی تابڑ توڑ ہوں‘ زمینی جنگ کے بغیر ان کی افادیت ادھوری رہتی ہے۔ لیکن زمینی جنگ (وہ بھی ایک انجان سرزمین اور بیگانے دیس میں) فضائی لڑائی سے کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہوتی ہے۔ امریکہ سے زیادہ اس چیز کا اندازہ کس کو ہو گا۔ لیکن اسرائیل کو بھی یہ سبق ایک بار پھر جنوبی لبنان میں مل رہا ہے جہاں شدید گھائل ہونے کے باوجود حزب اللہ اس کے فوجیوں، بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کو روزانہ نشانہ بنا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے زمینی فوج اتارنے سے اب تک احتراز برتا ہے اور آگے بھی ایسے امکانات بہت کم ہیں۔ جیسا کہ مارکو روبیو نے 27 مارچ کو ایک بار پھر کہا ہے کہ ہم زمینی فوج اتارے بغیر ہی اپنے اہداف حاصل کر لیں گے (یہ اہداف کیا ہیں‘ اس بارے موصوف نے کچھ نہیں فرمایا)۔ کسی جزوی نوعیت کے نمائشی آپریشن کے امکانات بہرحال موجود رہیں گے۔ لیکن ایسا کوئی ایڈونچر 1980ء کے نام نہاد آپریشن ’ایگل کلا‘ کی طرح گلے بھی پڑ سکتا ہے اور شدید سبکی کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم یہ صرف عسکری حکمت عملی کا نہیں بلکہ سیاسی معاملہ بھی ہے۔ ٹرمپ کو یہ بھی ڈر ہے کہ زمینی کاروائی (اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بڑے پیمانے کی ہلاکتوں) کے ردِعمل میں امریکہ میں پہلے سے موجود بے چینی اور مزاحمت‘ ایک بغاوت کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
﴾ یہ تاثر موجود رہا ہے کہ چین اور روس اس تنازعے سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ سال بارہ روزہ جنگ کے وقت بظاہر ان کا طرز عمل تھا۔ تاہم حالیہ تصادم کی نوعیت اور وسعت کو دیکھیں تو یہ کوئی معقول تجزیہ نہیں لگتا۔ ان دونوں ممالک کی جانب سے ایران کو فوجی معاونت فراہم کرنے کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ جو مجہول یا محدود ہونے کے باوجود نہ صرف اہم بلکہ دو طرفہ فوائد کی حامل ہو سکتی ہے (انٹیلی جنس، فوجی نوعیت کا خام مال، جی پی ایس کے چینی یا روسی متبادل، ڈرون ٹیکنالوجی، تذویراتی مشورے یا ایسی معلومات کا تبادلہ جن کے ذریعے جنگ میں براہِ راست شامل نہ ہونے والے ممالک بھی اپنے دشمن کی کمزوریوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں)۔ غالباً یہ تسلی ہو جانے کے بعد کہ ایرانی رجیم اتنی آسانی سے گرنے والی نہیں‘ انہوں نے تھوڑی ہمت دکھائی ہے۔ مثلاً ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا روس اور چین کے ساتھ ’اچھا تعاون‘ موجود ہے۔ جس میں ’سیاسی، اقتصادی، حتیٰ کہ فوجی‘ شعبہ جات بھی شامل ہیں۔ مزید یہ کہ روس ’مختلف پہلوؤں سے‘ ایران کی مدد کر رہا ہے اور یہ شراکت داری ’کوئی راز نہیں‘ ہے۔ بہرحال کیمسپٹ بائیں بازو کے آسان اور بلیک اینڈ وائٹ فارمولوں کے برعکس اس حوالے سے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہئے کہ مذمتی بیان بازیوں سے قطع نظر‘ چین اور روس دونوں کے اسرائیل کے ساتھ بھی گہرے مراسم موجود ہیں۔ لہٰذا یہ بنیادی طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ہی پالیسی ہے۔ اگرچہ نازک حالات میں ایسے توازن بھی بہت نحیف ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان کے سعودی عرب، ایران اور چین، امریکہ کے ساتھ ’’متوازن‘‘ تعلقات کا معاملہ ہے۔
﴾ اس حوالے سے امریکی تھنک ٹینک سی این اے کے مطابق چینی حکومت اگرچہ اس تنازعے کے خاتمے کے لئے سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیتی ہے‘ لیکن اسے جاری رکھنے کا ایک عامل بھی ہے۔ اگرچہ چین کا کردار روس جیسا براہِ راست نہیں ہے۔ مثلاً مارچ کے اوائل میں پابندیوں کے شکار ایران کے دو بحری جہازوں نے چین کی بندرگاہ ژوہائی سے کیمیائی مواد حاصل کیا۔ جس میں راکٹ کے ایندھن میں استعمال ہونے والا سوڈیم پرکلوریٹ شامل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح فرانسیسی انٹیلی جنس ماہرین کے مطابق چین نے ایران کو جی پی ایس کے چینی متبادل (BeiDou) تک رسائی فراہم کی ہے (جو امریکی جی پی ایس سے کہیں زیادہ جدید ہے)۔ جس کی وجہ سے ایرانی میزائلوں کے نشانے گزشتہ سال کے مقابلے میں خاصے بہتر ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ممکن ہے کہ چین اپنا کچھ ملٹری ہارڈ ویئر ایران میں ٹیسٹ کر رہا ہو۔
﴾ ’’لیکن اس تنازعے نے ان دونوں اسٹریٹجک شراکت داروں (یعنی چین اور روس) کے درمیان کچھ حقیقی اختلافات کو بھی نمایاں کیا ہے۔ روس کے پاس ایران کی مزاحمت کی حمایت کرنے کے زیادہ معاشی اور سیاسی محرکات موجود ہیں۔ اس کے برعکس جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں چین کو معاشی اور سیاسی طور پر زیادہ نقصان کا خطرہ ہے۔ امریکی اور اسرائیلی مداخلت کے بارے میں مشترکہ سیاسی مؤقف کے باوجود اس تنازعے کی عملی حقیقتوں نے چین روس تعلقات میں موجود کچھ دراڑوں کو عیاں کر دیا ہے۔‘‘
﴾ شاید بہت سے لوگوں کے لئے یہ غیر متوقع ہو کہ چین فی الوقت توانائی کی سپلائی کی رکاوٹوں کو نسبتاً بہتر طور سے برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ کیونکہ اس کے پاس تقریباً چار ماہ تک کے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ ویسے بھی وہ فوسل فیول پر اپنا انحصار کم کر رہا ہے۔ اس کے پاس کوئلے کے وافر ذخائر بھی موجود ہیں۔ جسے وہ گیس میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی بڑھا رہا ہے۔ مزید برآں اس نے توانائی کی برآمدات پر کچھ پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ لیکن خلیج فارس کی بندش یا خلل کا مسئلہ صرف توانائی تک محدود نہیں ہے۔ چین اس راستے سے سیمی کنڈکٹرز کی پیداوار کا خام مال بھی حاصل کرتا ہے۔ اس سے پہلے چین کی کمپنیاں یہ سامان امریکہ سے خریدتی تھیں۔ لیکن سپلائی سے جڑے خدشات کے باعث انہوں نے قطر کا رخ کر لیا ہے۔ اسی طرح چین کی سلفر کی درآمدات کا تقریباً نصف بھی خلیج فارس سے آتا ہے۔ جس کی قلت کھاد کی پیداوار کو متاثر کرے گی۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب کاشت کا موسم شروع ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس روس اس قسم کے مسائل سے دوچار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں امریکہ اور یورپ آج بھی چینی مصنوعات کی بڑی منڈیاں ہیں۔ جنگ عالمی معیشت پر جس قدر منفی اثرات مرتب کرے گی‘ چین کی برآمدی معیشت اتنی ہی متاثر ہو گی۔ یوں امریکہ کا ایران میں پھنسے رہنا جہاں چین کے فائدے میں ہے وہاں لمبے عرصے میں یہ جنگ چین کے لئے مسئلے کا باعث ہے۔
﴾ روس کے لئے یہ جنگ عسکری اور معاشی حوالے سے زیادہ سود مند ہے۔ اس کے تیل کی خوب مانگ ہے۔ جس سے وہ مختصر وقت میں اچھا خاصا مال بنا رہا ہے۔ امریکہ کی توجہ اور عسکری وسائل کا رخ یوکرائن سے ہٹ کے ایران جنگ کی طرف ہو گیا ہے۔ جس سے روس کی سودے بازی کی پوزیشن بھی مستحکم ہو گی۔ لیکن اس کے باوجود روس کے لئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ مثلاً یوکرائن نے خلیجی ریاستوں کی ایرانی ڈرون روکنے میں براہِ راست معاونت شروع کر دی ہے۔ جس سے اس کی بین الاقوامی پوزیشن بہتر ہو گی۔ جبکہ روس کی خلیجی ممالک سے دوری بڑھنے کے امکان پیدا ہو جائیں گے۔ ایرانی رجیم کا گر جانا بھی روس کے لئے عسکری، تذویراتی، اقتصادی حوالے سے شدید دھچکے کا باعث ہو گا۔ اسی طرح جنگ کا بے قابو پھیلاؤ اور عالمی معیشت کا گہرا بحران بھی روس کے فائدے میں نہیں ہے۔
﴾ بہرصورت یہ حقیقت مدنظر رہنی چاہئے یہ دونوں کوئی سامراج دشمن نہیں بلکہ خود سامراجی عزائم کی حامل طاقتیں ہیں۔ انہی عزائم اور مفادات کے تحت روس نے شام میں الشرع سے ہاتھ ملا لیا ہے، یوکرائن میں جنگ کے باوجود ٹرمپ کے پیوٹن سے یارانے بھی ہیں اور کل کو وہ اپنے پراپرٹی ڈیلروں والے مخصوص انداز میں چین سے بھی ’’ڈیل‘‘ کر سکتا ہے۔ لہٰذا ’سامراجیت‘ سے مراد کوئی ایک سامراجی کیمپ یا قوت نہیں بلکہ بنتی بگڑتی دھڑے بندیوں پر مبنی سامراجی استحصال اور جبر کا پورا نظام ہے۔ ان سامراجی قوتوں کی آپسی چپقلش کا فائدہ اٹھانا ایک چیز ہے جو کہ خالصتاً تذویراتی معاملہ ہے۔ لیکن ان میں سے کسی ایک ’کیمپ‘ کی سیاسی و نظریاتی حمایت اور چاپلوسی شروع کر دینا ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ حتیٰ کہ ایران کا معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں ہے۔ وہ زیر عتاب ضرور ہے لیکن درجہ بندی میں نیم نوآبادیاتی ممالک سے اوپر آتا ہے۔ جس پر ایک رجعتی تھیوکریٹک ریاست مسلط ہے جو ضرورت پڑنے پر اپنے عوام پر جبر کی کسی بھی حد تک چلی جاتی ہے۔ لہٰذا ایران پر سامراجی حملے کی مذمت اور مزاحمت کے باوجود ایرانی رجیم کو کوئی سیاسی حمایت یا نظریاتی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
﴾ لڑائی کھول دینا آسان ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ اسے سمیٹنے کا ہوتا ہے۔ جنگ نہ صرف شدت بلکہ وسعت میں بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ 28 مارچ تک کی اطلاعات کے مطابق یوکرائنوں کے بعد حوثی بھی (اسرائیل پر میزائل حملوں کے ذریعے) باقاعدہ اس تنازعے میں کود پڑے ہیں۔ جبکہ ایران نے دبئی میں یوکرائن کے اینٹی ڈرون ساز و سامان کے ایک گودام پر حملہ کیا ہے۔ پاکستانی ریاست ایک باریک رسی پر توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے چل رہی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ یہ جنگ جلد از جلد ختم ہو۔ مزید برآں خلیجی شیخوں اور امریکی سامراج پر پاکستان کا غلامانہ انحصار کتنا بھی زیادہ ہو اور ایران کیساتھ اس کے تعلقات جیسے بھی رہے ہوں‘ لیکن ایرانی رجیم کا انہدام اور اپنے ہمسائے میں ایک اسرائیل نواز حکومت کا قیام پاکستانی ریاست کے لئے قابل قبول نہیں ہو گا۔ اس چیز کو خطے کے مجموعی حالات (بالخصوص افغانستان، بلوچستان، بھارت) کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ عرصے میں ایرانی حکام کی جانب سے پاکستان کے لئے تشکر کے پیغامات جتنے غیر متوقع ہیں اتنے ہی غیر معمولی اور قابل غور بھی ہیں۔ ایران کے بعد پاکستان تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑی شیعہ آبادی والا ملک ہے۔ جس کا سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاع کا معاہدہ بھی ہے۔ جنگ کے آغاز سے ہی پاکستان میں سنی شیعہ فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ علی خامنائی کی ہلاکت کے بعد ملک کے کچھ حصوں میں فسادات بھی ہوئے ہیں۔ ذرا غور کریں کہ اگر سعودی عرب بھی (ایران پر حملوں یا حوثیوں کے ساتھ تصادم دوبارہ شروع ہو جانے کی صورت میں) جنگ میں کود پڑتا ہے تو پاکستان کہاں کھڑا ہو گا اور اس کے داخلی حالات کیا رُخ اختیار کریں گے۔
﴾ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے علی خامنائی اور ایران کی دوسری اعلیٰ سیاسی قیادت کا قتل نہ صرف ایک گھٹیا حرکت ہے بلکہ عسکری حوالے سے بھی انتہائی احمقانہ اقدام ہے۔ اس سے نہ صرف ایران کے اندر سخت گیر عناصر مضبوط ہوئے ہیں بلکہ دنیا بھر میں یہ پیغام گیا ہے کہ اعتدال پسندی اور سفارتکاری کی کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بالکل جیسے مبینہ طور پر ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لئے شروع کی گئی اس ساری جنگ نے عالمی سطح پر یہ تاثر دیا ہے کہ ایران کو ایٹم بم نہ بنانے کی سزا مل رہی ہے اور اگر آپ ایران، لبنان یا کیوبا والا حشر نہیں چاہتے ہیں تو جوہری ہتھیار حاصل کریں۔ چنانچہ آنے والے دنوں میں جوہری پھیلاؤ کے رجحانات بڑھیں گے۔ یا بہت سے ممالک کی یہ کوشش ہو گی کہ کسی نہ کسی جوہری طاقت کی چھتری تلے پناہ لی جائے۔
﴾ سیاسی قیادت کے بیشتر حصے کے قتل ہو جانے بعد ایرانی ریاست کا کنٹرول عملاً پاسداران کے ہاتھ میں آ چکا ہے۔ جو اگر جنگ کو جاری رکھنے پر بضد نہیں تو کم از کم اس کا خاتمہ اپنی شرائط پہ چاہتے ہیں۔ ایران کے پاس ایسے ہتھیار یا جنگی حربے موجود ہو سکتے ہیں جنہیں اس نے پہلے ظاہر نہیں کیا (یا شاید جو اس کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے علم میں بھی نہ ہوں)۔ مزید برآں اب ایران میں جوہری ہتھیار اور دور مار میزائل بنانے کے حمایت میں اضافہ ہو گا۔
﴾ ایرانی‘ ٹرمپ پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ مذاکرات کی آڑ میں جارحیت کی تیاری کا وقت حاصل کرنا ٹرمپ کی عادت ہے۔ اسی قسم کا تاثر جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف کے بارے میں بھی موجود ہے کہ یہ غیر سنجیدہ اور وارداتیے قسم کے لوگ ہیں جن سے کوئی بامعنی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ تاہم نائب صدر جے ڈی وینس کا معاملہ کچھ مختلف معلوم ہوتا ہے جس کے بارے ایسی اطلاعات گردش میں رہی ہیں کہ وہ اس جنگ کے خلاف ہے۔ شاید اس وجہ سے وہ کچھ وقت منظر عام سے غائب بھی رہا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان نے تجویز دی ہے کہ مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی جے ڈی وینس کرے۔ جس پر ایرانیوں نے کچھ آمادگی ظاہر کی ہے۔ لیکن ماحول اس قدر کشیدہ ہے کہ دونوں پارٹیاں آمنے سامنے بیٹھنے کو بھی تیار نہیں ہیں اور پاکستانی حکام کو پیغام رسانی کے لئے دو کمروں کے درمیان دوڑنا پڑے گا۔ مزید برآں ایسی افواہیں بھی ہیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان چاہتا ہے کہ ایران پر حملے جاری رہیں۔ یہ بھی ایک سوال ہے کہ خود ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اور اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بھی کوئی اتفاق رائے قائم ہو سکتا ہے یا نہیں۔ لہٰذا غیر یقینی کی اس فضا میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ عین ممکن ہے کہ یہ مذاکراتی عمل شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے اور جنگ زیادہ خطرناک اور مستقل شکل اختیار کر جائے۔
﴾ لیکن صورتحال میں کسی بہتری کی صورت میں بھی یہ جنگ عالمی و علاقائی سطح پر نہ صرف مستقل نوعیت کی بہت سی تبدیلیاں بلکہ کئی خطرناک قسم کی مثالیں بھی اپنے پیچھے چھوڑ جائے گی۔ جو آنے والے دنوں میں دہرائی جاتی رہیں گی۔ نتیجہ جو بھی نکلے اس مہم جوئی سے امریکی سامراج کی زوال پذیری اور مروجہ سامراجی آرڈر کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہی ہو گا۔ لیکن ایرانی رجیم اگر انتہائی کمزور حالت میں بھی بچ جاتی ہے تو یہ امریکہ کے لئے ویت نام، افغانستان اور عراق سے زیادہ بڑی اور ذلت آمیز شکست تصور ہو گی۔ امریکہ کی سامراجی ساکھ کے لئے یہ بہت بڑا دھچکا ہو گا کہ وہ نہ اپنے اڈے بچا سکا، نہ اپنے اتحادیوں کی حفاظت کر سکا، نہ ہی زمینی فوج اتارنے کی جرات بھی کر سکا اور سالہا سال سے پابندیوں کے شکار ایک نیم ترقی یافتہ ملک کے ہاتھوں ذلیل ہو کے واپس آ گیا۔
﴾ ٹرمپ کو اپنے پاگل پن کی قیمت بہرحال چکانی پڑے گی۔ اس کے خلاف نہ صرف امریکی عوام میں نفرت اور مزاحمت بڑھے گی بلکہ سیاسی اسٹیبلشمنٹ میں بھی اس کے مواخذے کی آوازیں زور پکڑیں گی۔ اگرچہ اس سلسلے میں ڈیموکریٹک پارٹی سے امیدیں وابستہ کرنا سراسر حماقت اور خوش فہمی ہے۔ اس شیطان صفت ایپسٹین ٹولے کا مسئلہ صرف امریکہ تک بھی محدود نہیں ہے۔ بلکہ یہ بین الاقوامی و عالمی سطح پہ سرمایہ دارانہ نظام کی تاریخی متروکیت اور بحران کا مظہر ہے۔ لیون ٹراٹسکی کے بقول اپنی تاریخی معیاد پوری کر لینے والے نظاموں کے حکمران کبھی منطقی اور حقیقت پسند نہیں ہو سکتے۔ نظام کا زوال انہیں ایک ایسے ہیجان اور جنون میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ ساری دنیا کو برباد کر دینے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ آج اس وجودی بحران میں مبتلا نسل انسان کی بقا کا راستہ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کی فنا سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔
