ریحانہ اختر

ہم حالات و واقعات کے تند و تیز عہد میں رہ رہے ہیں۔ ابھی جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت کے سات روز گزر چکے ہیں۔ جو کہ ایک انتہائی غیر متناسب جنگ ہے جس میں معصوم بچوں سے بھرے سکولوں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایران پر صیہونی و امریکی بمباری میں اب تک 1300 کے قریب بیگناہ افراد کو مارا جا چکا ہے اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ جو کہ نہ صرف اس خطہ بلکہ سارے کرہ ارض کو تباہی و بربادی کی بھٹی میں جھونک رہا ہے۔ ان حالات میں محنت کش خواتین کا عالمی دن ہم ایران، افغانستان، فلسطین اور دیگر تمام خطوں میں بسنے والی محنت کش طبقات کی ان خواتین کے نام کرتے ہیں جو اِن سامراجی جنگوں کا نشانہ بن رہی ہیں اور ان کی گودوں میں کھلنے والے نوخیز پھول جن کو ابھی مہکنا تھا‘ منوں بارود سے کچل دئیے جا رہے ہیں۔

سرمایہ داری کو اپنے آپ کو تاریخ کی بند گلی سے نکالنے کے لیے بڑے پیمانے کی تباہی اور جنگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس سے کہ نہ صرف انتہائی تباہ کن اسلحہ فروحت کیا جا سکے، نئی نئی منڈیوں پر قبضہ جمایا جا سکے بلکہ انتہائی ہولناک تباہی کے بعد تعمیر نو کے بہانے مزید منافع بھی بنایا جائے۔

ان حالات میں اس سوال کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے کہ خواتین محنت کشوں کے دن کو کیسے منایا جا سکتا ہے۔ یا پھر یہ کہ آج کے عہد میں فیمنسٹ تحریک کا کیا کردار اور مستقبل ہے۔ کسی بھی تحریک کو اس عہد سے جس میں کہ وہ رونما ہو کاٹ کر دیکھنے یا سمجھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ ایسا کرنا ہمیں مزید کنفیو ز ہی کر سکتا ہے۔ آج کے عہد میں خواتین کی تحریک کو لے کر کئی طرح کی تھیوریاں موجود ہیں اور آئے روز نئی نئی مزید تیار ہوتی رہتی ہیں۔ خاص کر پوسٹ ماڈرنزم سب کو یہ گنجائش مہیا کرتا ہے کہ وہ اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا لیں اور اپنا اپنا الگ سچ مان لیں۔ تاہم سچائی آفاقی ہوتی ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا اور جسے جھٹلانا پاگل پن کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔

خواتین کے عالمی دن کے آغاز کی جڑیں ہمیں بیسویں صدی کی مزدور خواتین کی تحریک اور سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ کی خواتین کی جدوجہد میں ملتی ہیں جس کے مقبول نعروں میں کام کے اوقات کار آٹھ گھنٹے کرنا، مساوی اجرتیں اور ووٹ کا حق شامل تھا۔ آج پوری دنیا میں کام کے معین آٹھ گھنٹے کے اوقات کار (جن پر کم از کم ترقی یافتہ ممالک میں کچھ عمل درآمد ہوتا ہے) کے پیچھے نیویارک میں خواتین ٹیکسٹائل ورکرز کی ماضی کی وہ شاندار جدوجہد کارفرما ہے جس نے اس کو ممکن بنایا۔ یہ ایک شاندار تحریک تھی جس نے نہ صرف عالمی سطح پر اس دن کی اہمیت کو منوایا بلکہ کئی ایسے قوانین بھی پاس کروائے جو آج تک محنت کشوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں بائیں بازو کے نظریات مقبول ہو رہے تھے۔ دوسری انٹرنیشنل کے تحت مختلف ممالک میں دیوہیکل سوشلسٹ پارٹیاں اور ٹریڈ یونینیں منظم تھیں۔ روس میں بھی بالشویک پارٹی سمیت سوشلسٹوں کی جدوجہد موجود تھی۔ ایسے وقت میں خواتین ٹیکسٹائل مزدوروں کی ہڑتال نے صورت حال کو اس طرف موڑ دیا کہ جہاں نہ صرف ایک تاریخی جدوجہد سے حاصلات لی گئیں بلکہ مزاحمت کی شاندار تاریخ رقم کی گئی۔

عرف عام میں اس تحریک کو فرسٹ ویو فیمنزم (حقوق نسواں کی تحریک کی پہلی لہر) بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم بعد کے عرصوں میں جنگ نے اور پھر دوسری انٹرنیشنل کی زوال پذیری نے خواتین محنت کشوں کی تحریک کو بھی (بالخصوص نظریاتی حوالے سے) ضرب لگائی۔

اس کے بعد ہمیں خواتین کی تحریک ایک دوسرے مرحلے میں داخل ہوتے ہوئے نظر آتی ہے جسے سیکنڈ ویو فیمنزم کہا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں تحریک کے مطالبات معاشی تھے جب کہ دوسرے مرحلے میں تحریک کے مطالبات زیادہ تر ثقافتی نوعیت کے تھے۔ جس کا ایک مقبول نعرہ ’آل دیٹ از پرسنل از پولیٹیکل‘ تھا۔ جس وجہ سے اس مرحلے پر ہمیں یہ تحریک زیادہ پذیرائی حاصل کرتے ہوئے نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کی 1970ء کی دہائی کے آخر میں اور 1980ء کی دہائی کے آغاز میں ہمیں فیمنسٹ تحریک کی تیسری لہر دیکھنے کو ملتی ہے۔ تاہم یہ وہ وقت تھا جب پوری دنیا میں دوبارہ دائیں بازو کے نظریات زور پکڑ رہے تھے۔ سوویت یونین ٹوٹ رہا تھا اور بڑے بڑے بائیں بازو کے برج سوشلزم اور کمیونزم سے توبہ تائب ہو رہے تھے۔ ان حالات کے واضح اثرات خواتین کی تحریک پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ جس نے اس تحریک کی ترقی پسند اور انقلابی روح کو مجروح کرتے ہوئے تمام تر لڑائی کا رخ مردوں کے خلاف موڑ دیا۔ جیودیتھ بٹلر جیسی خواتین لکھاریوں کے نظریات نے بہت مقبولیت حاصل کی جن کے بقول عورت کو زندگی گزارنے کے لیے مرد کی قطعی ضرورت نہیں۔ اس ضمن میں پوسٹ ماڈرنزم کی یلغار نے بھی کردار ادا کیا۔ ہر کوئی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا کر بیٹھ گیا۔ سب کی اپنی اپنی سچائی بن گئی اور ایک آفاقی سچ کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ شناخت کا سوال اور بحران شدت اختیار کر گیا۔ پہلی بار جینڈر اور اس کی شناخت کا سوال ایک بڑا موضوع بن کر سامنے آیا۔ استحصال کنندہ، نظام کے بجائے مرد کو قرار دیا گیا اور اس ضمن میں طبقاتی نقطہ نظر کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور ساری لڑائی کو جینڈر تک محدود کر دیا گیا۔ پدرسری کی مذمت کی جانے لگی لیکن سرمایہ داری، جس کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے استحصال کی ضرورت ہے، بارے خاموشی اختیار کی گئی۔ تمام تر لڑائی کو عورت اور مرد کے بیچ کی جنگ بنا دیا گیا اور اس کے بعد سے اس سوال کو لے کر ایک طوفان شروع ہو گیا جس پر بیشمار لکھا اور بولا گیا اور جس میں سوشل میڈیا کی آمد نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ محنت کش خواتین کی تحریک کو عورت اور مرد کے درمیان کی لڑائی بنا کر پیش کرنا ایک تاریخی جرم ہے جس کا نہ صرف ارتکاب ہو رہا ہے بلکہ آج سب سے زیادہ بکنے والا چورن بھی یہی ہے۔ جس سے پھر این جی اوز کا کام بھی چلتا ہے۔ رہی سہی کسر سرمایہ داری کے زوال کے باعث امڈ آنے والے پرانے تعصبات (جن کو ایک وقت میں صنعتی انقلاب کے برپا ہونے کے بعد سرمایہ داری بڑی حد تک دبا چکی تھی) نے پوری کر دی ہے۔ تاہم اب فیمنزم کی چوتھی لہر چل رہی ہے۔ جو زیادہ تر تیسری لہر کے نظریات سے ہی متاثر ہے۔ آج کے دور کی مقبول ترین بحث یہ ہے کہ کیا خاوند بیوی کی کمائی کھا سکتا ہے یا نہیں اور اس تلخ مباحثے اور نفرت کے ماحول میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ بعض اوقات انقلابی بھی بہہ جاتے ہیں۔ روزانہ ہزاروں افراد سوشل میڈیا پر بیٹھ کر ان متعصب اور فروعی بحثوں کو پھیلاتے ہیں جن سے شاید ان کا تو دھندہ چلتا ہو گا لیکن کہیں نہ کہیں عوامی رائے یا پاپولر بیانیہ بھی بن رہا ہوتا ہے۔ اس گھناؤنے جرم میں عورتیں بھی شامل ہیں اور مرد بھی۔ جو سب کے سب واضح طور پر دائیں بازو کے نظریات کے ترجمان اور سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کے معذرت خواہ ہیں۔

المیہ یہ ہے کے پاکستان جیسے ممالک میں شاید 90 فیصد لوگوں کی زندگیوں کا ان پیٹی بورژوا بحثوں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ وہ اپنی جسم و جان کے رشتے کو بمشکل قائم رکھنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ان کے مسائل آج بھی مغربی دنیا کے سو سال پہلے کے ماضی کی سطح پر کھڑے ہیں۔ لیکن پھر ترقی یافتہ مغرب بذات خود گہرے معاشی، سیاسی اور ثقافتی بحران سے گزر رہا ہے۔ دنیا بھر میں جنگیں کھل رہی ہیں۔ معقول روزگار نہیں ہے۔ ترقی یافتہ دنیا سمیت ہر سال لاکھوں خواتین زچگی کے دوران مر جاتی ہیں۔ اجرتیں آج بھی غیر مساوی ہیں۔ ہمارے جیسے پسماندہ خطوں میں تو کم و بیش ہر عورت خون، نمکیات اور وٹامنز کی کمی کا شکار ہے۔ یہ ایک سنگین غذائی بحران ہے جس پر مراعت یافتہ طبقات کا فیمنزم بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ جنسی ہراسانی اور تشدد اتنا بڑھ گیا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ خواتین سمیت محنت کشوں کی وسیع اکثریت ایسے ڈربہ نما مکانوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں ایک کمرے میں درجن بھر لوگ زندگی گزارتے ہیں۔ نہ پینے اور استعمال کا صاف پانی ہے‘ نہ نکاس کا کوئی معقول بندوبست۔ ایسے میں یہ لبرل‘ پوسٹ ماڈرنسٹ بحثیں زیادہ تر شہروں میں بسنے والی ان مراعت یافتہ پرتوں تک محدود ہیں جن کی فی کس ماہانہ آمدن لاکھوں میں ہے اور جنہیں انٹرنیٹ پر بیٹھ کر گھنٹوں دانشوری جھاڑنے کا وقت بھی میسر ہے۔

سوال یہ نہیں ہے کہ کون کس کی کمائی کھا سکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ سوال ہی کیوں پیدا ہو۔ انسان نے ہزاروں سالوں کی اجتماعی محنت سے جو سائنس، ٹیکنالوجی اور ذرائع پیداوار تخلیق کیے ہیں کیا وہ مٹھی بھر حکمران طبقے کی تجوریاں بھرنے اور عیاشیوں پر ہی خرچ ہوتے رہنے چاہئیں؟ یا انہیں جانوروں سے بدتر زندگی بسر کرنے والے کروڑوں اربوں انسانوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہئے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسانوں کو بالکل مفت تعلیم و علاج، موزوں رہائش، صحت بخش غذا، باعزت روزگار کے مواقع اور جینے کے تمام بنیادی لوازمات نہ صرف فراہم کیے جا سکتے ہیں بلکہ یہ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اسی طرح گھریلو محنت کو سماجی بنانے (Socialize) کا معاملہ ہے۔ جس کے لیے پبلک یا اشتراکی کچن، لانڈریاں، کنڈرگارٹن اور دوسرے متعلقہ ادارے بنائے جا سکتے ہیں۔ مزید برآں جدید مشینری اور ہوم اپلائنسز وغیرہ کے ذریعے بچے کھچے گھریلو کام کو بھی ختم کر کے عورت کو ہزاروں سالوں کی مشقت سے آزاد کیا جا سکتا ہے۔ جس کے بعد یہ مسئلہ ہی ختم ہو جانا چاہئے کہ بچے کی فیس کون ادا کرے گا، کھانا کون گرم کرے گا اور کما کے کون لائے گا۔ معاشی آزادی کے حصول کے بعد مرد و زن اپنی زندگی کے فیصلے بھی آزادی سے لے سکیں گے اور جنسی نفرتیں اور تعصبات دم توڑنے لگیں گے۔ لیکن لبرل فیمنزم حقوقِ نسواں کے مسئلے کو نہ اتنے بڑے تاریخی و سماجی تناظر میں دیکھ سکتا ہے‘ نہ اس مسئلے کی جڑوں کو ختم کر سکتا ہے۔ الٹا اس سوال کو وہ مردوں اور خواتین کو ایک دوسرے سے لڑانے اور محنت کش طبقے کی یکجہتی میں دراڑیں ڈالنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بالکل جیسے حکمران طبقے کی جانب سے قومی، لسانی اور مذہبی تعصبات کو ابھارا اور استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے حکمران طبقات، ان کے نظام اور ان کی ریاست کا اصل مقام تاریخ کا کوڑا دان ہی ہے۔ جس میں اس تاریخی غلاظت کو پھینکنے کے لیے محنت کش طبقے کی خواتین اور مردوں کو مل کے جدوجہد کرنا ہو گی۔