قمر الزماں خاں

48 گھنٹے کے الٹی میٹم کے بعد وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔ گھڑیاں گویا کچھ زیادہ تیزی سے سوئیاں گھما رہی تھیں۔ 22 مارچ 2026ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے ایرانی بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ جس کا جواب ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کی توانائی کی تنصیبات اور پانی کے ذخائر وغیرہ پر حملوں کا اعلان کر کے دیا (جیسا کہ وہ پہلے بھی اپنی تیل یا گیس کی تنصیبات پر حملوں کے بعد کر چکا ہے)۔ یہ دو طرفہ دھمکیاں اس جنگ کے ایک زیادہ خوفناک اور تباہ کن سمت میں سرکتے چلے جانے کی غمازی کرتی ہیں۔ بہرحال 23 مارچ کو ٹرمپ نے شدید عالمی دباؤ اور ایران کے دھماکہ خیز ردِعمل کے خوف سے اپنے روایتی انداز میں یوٹرن لیتے ہوئے اعلان کیا کہ اس نے اپنا مذکورہ اقدام ملتوی کر دیا ہے اور ایران سے جنگ کے ’’مکمل اور جامع حل‘‘ کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ تاہم صورتحال تاحال واضح نہیں ہے۔ کیونکہ ایرانیوں نے کہا ہے کہ وہ ایسے کوئی مذاکرات امریکہ سے نہیں کر رہے ہیں۔ ایرانی حلقوں کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ انہیں امریکہ پر کوئی اعتبار نہیں ہے، ٹرمپ مسلسل گراوٹ سے دوچار عالمی منڈیوں کو وقتی سہارا دینے کے لئے اپنی دھمکی سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور مزید حملوں کی تیاری کے لئے وقت لینا چاہتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان درپردہ مذاکرات کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ جبکہ ان سطور کی تحریر کے دوران ایران کے گیس انفراسٹرکچر پر امریکی یا اسرائیلی حملوں اور اسرائیل اور سعودی عرب وغیرہ پر جوابی ایرانی حملوں کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ یوں ٹرمپ کے مخصوص لاابالی پن، مسلسل متضاد بیانات اور وعدہ خلافیوں، اسرائیل کے اپنے امریکی آقاؤں کے قابو سے باہر ہو جانے اور ایران کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی پے درپے ہلاکتوں کے بعد معاملات پاسداران انقلاب جیسے زیادہ سخت گیر عناصر کے ہاتھ آ جانے سے یہ جنگ زیادہ پیچیدہ اور صورتحال مزید غیر یقینی سے دوچار ہو گئی ہے۔

اس کشیدگی کے دوران ایران کا یہ بیان کہ آبنائے ہرمز دشمنوں کے سوا سب کے لیے کھلی ہے ایک اہم سفارتی چال بھی ہے۔ اس جملے میں ایک طرف مزاحمت کا اعلان ہے تو دوسری طرف ایک ممکنہ فیس سیونگ راستہ بھی موجود ہے۔ علاوہ ازیں اب وہ اس بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں سے ٹھیک ٹھاک ’’ٹول‘‘ بھی لے رہے ہیں۔ اسی طرح ایران نے عالمی برادری اور خلیجی ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ عالمی تجارت کا دشمن نہیں لیکن اگر اس کے انفراسٹرکچر پر حملہ ہوا تو پورا خطہ اندھیروں اور پیاس کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔

تاہم اس بحران کو صرف چند شخصیات کے بیانات یا کسی ایک حکمران کی نفسیات تک محدود کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ درحقیقت اس کے پیچھے سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کے معاشی اور تذویراتی مفادات کارفرما ہیں۔ توانائی کی ترسیل کے راستوں پر کنٹرول، ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام کی بالادستی، مشرق وسطیٰ پر مکمل تسلط کی کوشش اور چین جیسی ابھرتی طاقت کو محدود رکھنے کی سعی اس کشیدگی کے پس منظر میں موجود وہ عوامل ہیں جو اس تنازعے کو محض علاقائی جھگڑے سے کہیں بڑا بنا دیتے ہیں۔

اس جنگ کا سب سے ہولناک پہلو وہ معاشی تباہی ہے جو کسی بھی غلط اندازے یا عسکری توسیع کے نتیجے میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ بیشتر ایشیائی ممالک تک تیل اور گیس کی ترسیل کی شہ رگ ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کا بیس تا پچیس فیصد تیل اور ایک چوتھائی سے زائد مائع قدرتی گیس (LNG) اسی راستے سے گزرتی ہے۔

اسی طرح خلیجی ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت وغیرہ) اپنی پینے کے پانی کی ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں جو بجلی سے چلتے ہیں۔ اگر ایران ان تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو ان شیشے کے محلات جیسے شہروں میں انسانی زندگی کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح یہ ممالک اپنی ضرورت کی 90 فیصد تک خوراک درآمد کرتے ہیں۔ جس کا 70 فیصد پھر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ یوں جنگ کے مزید بھڑک جانے کی صورت میں (جس کے امکان بار بار ظاہر ہو رہے ہیں) چند ہی دنوں میں خلیجی ممالک میں پانی، خوراک اور بجلی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز کی نیم بندش سے بھی تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہو گا تو ظاہر ہے پیداواری لاگت بھی بڑھے گی۔ جس سے افراط زر کا ایک نیا طوفان پیدا ہو گا۔ منڈیاں سرد پڑ جائیں گی، کارخانے بند ہوں گے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گا۔ یوں عالمی معیشت پہلے سے موجود بحران میں مزید گہرائی تک دھنس سکتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ دنیا میں کھاد کی تیس فیصد تجارت بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے۔ کھاد کی فراہمی میں خلل کا مطلب عالمی سطح پر زراعت کا بحران اور خوراک کی قلت ہے۔

ان حالات میں امریکہ میں خلیجی ممالک کی کئی ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی خطرے میں پڑ چکی ہے۔ جس سے عالمی مالیاتی نظام کی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔ خلیجی ممالک کی چکا چوند اندھیروں میں بدل سکتی ہے اور سعودی حکمرانوں کے وژن 2030ء سمیت ان ممالک کے مستقبل کے دیوہیکل منصوبے شدید کھٹائی میں پڑھ سکتے ہیں۔

تیل کی قیمتوں سے ہٹ کے بھی اس جنگ کے ہولناک اثرات پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک پر پڑیں گے۔ ان ممالک کی معیشتیں خلیجی ممالک پر بہت انحصار کرتی ہیں۔ جنوب ایشیا کے کروڑوں محنت کش خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں۔ مثلاً پاکستان کی ترسیلات زر کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ اگر خلیجی معیشتیں بحران کا شکار ہوئیں (جس کے آثار واضح ہوتے جا رہے ہیں) تو یہ ترسیلات بھی متاثر ہوں گی۔ خلیجی ممالک میں مقیم کروڑوں جنوب ایشیائی محنت کشوں کی ممکنہ واپسی ایک المناک انسانی اور معاشی المیہ بن سکتی ہے۔ جس سے بیروزگاری بڑھے گی اور بالخصوص پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسی پہلے سے زبوں حال معیشتیں مزید خساروں اور قرضوں کا شکار ہو جائیں گی۔

پاکستان اور بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی تیل اور ایل این جی سے پورا کرتے ہیں۔ سپلائی لائن کی بندش کا مطلب ہے بجلی کے کارخانوں کا بند ہونا، ٹرانسپورٹ کا پہیہ رک جانا اور زراعت کی لاگت میں شدید اضافہ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کی زندگی مفلوج ہو رہی ہے جس سے داخلی سیاسی اور سماجی عدم استحکام پیدا ہونے کا قوی امکان ہے۔ بھارت میں پہلے سے کھانا پکانے کے ایندھن کے طور پر ایل این جی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ جبکہ پاکستان میں بھی گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ کا اس جنگ میں پھنس جانا بظاہر چین کے فائدے میں جاتا ہے۔ لیکن اس صورتحال کے منفی اثرات چین پر بھی مرتب ہوں گے۔ چین دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس کی صنعتی معیشت کا ایک بڑا حصہ خلیجی توانائی پر منحصر ہے۔ اس صورت میں بیجنگ شاید زیادہ دیر تک خاموش نہ رہ سکے اور اپنے معاشی و سفارتی اثر و رسوخ کو استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے۔

دوسری طرف روس کو اس جنگ کا خاصا فائدہ ہوا ہے۔ روسی تیل کی خوب مانگ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ روسی خزانے کو بھر رہا ہے جبکہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں گھمبیر قسم کی ’مصروفیت‘ اسے یوکرائن کے محاذ پر زیادہ آزادی فراہم کر رہی ہے۔ تاہم ایرانی رجیم اگر انہدام یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے تو یہ روس کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہو گی۔ مزید برآں وہ کوئی ایسی بے قابو قسم کی جنگ بھی نہیں چاہے گا جس کے شعلے اسے بھی لپیٹ میں لے لیں۔

اس بحران میں اسرائیل کا انتہائی مہلک کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مشرق وسطیٰ کی بساط میں اسرائیل ایک اہم تذویراتی عنصر ہے۔ جو خطے میں امریکی سامراج کی ’آؤٹ پوسٹ‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان طویل کشیدگی دونوں ممالک کے درمیان علاقائی اثر و رسوخ کی چپقلش پر مبنی رہی ہے۔ دوسرے حوالے سے بات کریں تو امریکہ اور اسرائیل‘ ایران کو اپنی کالونی یا نیم کالونی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ امر اب کسی سے مخفی نہیں ہے کہ امریکی فیصلہ سازی پر اسرائیلی لابی کا کردار وقت کے ساتھ حاوی ہوتا گیا ہے۔ اس دوران ایک کے بعد دوسری جنگ اور جارحیت کھولتے چلے جانا نیتن یاہو ٹولے کی مجبوری بھی بن چکی ہے۔ چنانچہ یہ جنونی صیہونی ٹولہ خطے میں اتنی بڑی بربادی چاہتا ہے جس سے امریکی بھی ڈرتے ہیں۔

الٹی میٹم، جوابی الٹی میٹم کے اس نہ رکنے والے سلسلے اور مسلسل طول پکڑتی جنگ کے مہلک اثرات سے کیسے نمٹا جائے؟ یہ سوال واشنگٹن میں جنگی نقشوں کے میزوں پر کھڑے ماہرین کو بھی کھٹک رہا ہو گا۔ دوسری طرف ایران بھی جنگی حالات میں نظر آنے والی قومی وحدت کے باوجود کئی طرح سے منقسم ہے۔ یہ جنگ ایران میں اندرونی تبدیلی کے راستے کھول سکتی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ تبدیلی مثبت اور تعمیری ہی ہو۔ مخصوص حالات میں قیادت کا بحران انارکی پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔ حزب اللہ اور عراق کی شیعہ ملیشیاؤں جیسے ایران نواز گروہ پہلے سے جنگ میں سرگرم ہیں اور امریکہ و اسرائیل کے لیے کسی قدر سر درد بھی بنے ہوئے ہیں۔ یمن کے حوثی بھی بحیرہ احمر میں رکاوٹیں پیدا کر کے ایک نیا بحران پیدا کر سکتے ہیں۔

امریکی اسلحہ ساز کمپنیاں خوب مال بنا رہی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی جنگی اخراجات سے امریکی معیشت اور مہنگائی سے امریکی عوام کا کباڑہ بھی ہو رہا ہے۔ سامراجی پالیسی ساز بخوبی جانتے ہیں کہ ایران پر کتنی بھی بمباری کر لیں‘ خاطر خواہ نتائج نہ نکلے تو جنگ طول پکڑتی جائے گی اور ان کے لیے بری خبروں میں اضافے کا باعث ہی بنے گی۔ امریکہ کے انتہائی مہنگے اسلحے کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ ایران نہ تو عراق ہے‘ نہ افغانستان۔ یہاں فوجیں اتارنا خودکشی کے مترادف ہے (اگرچہ اس حماقت کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا)۔ ایران کے اتحادی مسلح گروہ پورے خطے کو امریکی فوجوں کے لیے دلدل میں بدل سکتے ہیں۔ اسی لیے ٹرمپ بار بار جنگ کے خاتمے کی ٹائم لائن بھی دیتا ہے۔ جسے پھر خود ہی بدلتا بھی رہتا ہے۔کیونکہ جنگ اپنی مرضی سے شروع تو کی جا سکتی ہے‘ ختم نہیں۔ علاوہ ازیں اسرائیل میں برسر اقتدار بدمعاشوں کا ٹولہ بھی کشیدگی میں کمی کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اسی لیے خود امریکی پالیسی سازوں میں بھی اختلافات اور کنفیوژن موجود ہے۔ جس کے شواہد اب زیادہ سے زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ایسی فرسٹریشن کے عالم میں سامراجی طاقتیں کسی انتہا پر بھی جا سکتی ہیں۔ دو عالمی جنگیں اس کی واضح مثال ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال محض دو یا چند ریاستوں کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کے بحران کی پیداوار ہے جو گہرے معاشی اور سیاسی تضادات سے دوچار ہے۔ امریکی سامراج کے زوال اور مغربی سامراجی اتحاد کی ٹوٹ پھوٹ کے حالات میں دنیا ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک بڑی جنگی تباہی عالمی پیداواری قوتوں اور معیشت کو دہائیوں پیچھے دھکیل سکتی ہے۔ جنوب ایشیا سے لے کر یورپ اور لاطینی امریکہ تک کوئی خطہ اس عدم استحکام سے محفوظ نہیں ہے۔ سرمایہ داری نظام اپنے بحران کی قیمت جنگوں کی صورت میں بھی وصول کرتا ہے۔ جس کے سامنے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی ہلاکت اور پورے پورے سماجوں کی بربادی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ کرہ ارض کو ایک نئی دنیا کی تلاش ہے۔ جس کی تعمیر کے لیے سامراجی جنگوں کے خلاف بین الاقوامی مزاحمت اور احتجاجی مہمات کو سامراجی سرمایہ داری کے انقلابی خاتمے کی جدوجہد سے جوڑنا ہو گا۔