عمران کامیانہ

غزہ میں نام نہاد جنگ بندی ( جو بنیادی طور پر فلسطینیوں کی نسل کشی یا نسلی تطہیر کے عمل میں کچھ سست روی کا نام ہے) کو پانچ مہینے بھی نہیں گزرے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ ایک ایسی جنگ جس سے ممکنہ طور پر جنم لینے والی تباہی کے سامنے خطے کی پچھلی تمام جنگیں اور مسلح تنازعات ماند پڑ سکتے ہیں۔ عراق، لیبیا، شام جیسی بربادی اب ایران کے اوپر منڈلا رہی ہے۔ جبکہ کچھ ہی دوری پر پاک افغان جنگ کی تباہ کاری پہلے سے جاری ہے۔

تہران کے مقامی وقت کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا آغاز ہفتہ 28 فروری کی صبح پونے دس بجے ہوا۔ لیکن چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں تقریباً تمام خلیجی ممالک جنگ کی زد میں آ چکے ہیں اور یوں یہ جنگی بحران سارے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ جس میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات خوفناک حد تک سنگین ہو سکتے ہیں۔ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں بلکہ عالمی سطح پر بھی فضائی سفر کا نظام شدید تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ صرف مشرقِ وسطیٰ کی ایئر لائنز نے ایک ہزار فلائٹیں کینسل کی ہیں۔ دسیوں ہزار مسافر مختلف ایئرپورٹس پر پھنسے ہوئے ہیں۔

تادم تحریر امریکہ اور اسرائیل نے تہران، قم، اصفحان اور شیراز سمیت ایک درجن سے زائد شہروں میں 30 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان اہداف میں کلیدی عسکری تنصیبات کے علاوہ اہم حکومتی شخصیات کی رہائش گاہیں اور سرکاری دفاتر بھی شامل ہیں۔ جبکہ میناب شہر میں لڑکیوں کے ایک سکول پر بھی بمباری کی گئی ہے جس میں 100 سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے ان میں زیادہ تعداد سکول میں پڑھنے والی معصوم بچیوں کی ہو گی۔ اسی طرح تہران میں بھی ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہلال احمر کے مطابق اب تک کے امریکی / اسرائیلی حملوں میں 200 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف محمد پاکپور اور ایران کی ڈیفنس کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی سمیت عسکری قیادت کے اہم افراد کی اموات کی اطلاعات بھی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ ممکنہ طور اس سامراجی یلغار اور خونریزی کی محض شروعات ہے جو کئی دنوں یا ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ایران کے انفراسٹرکچر، سرکاری ویب سائٹس اور سکیورٹی سے جڑے مواصلاتی نظام کو سائبر حملوں کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ مثلاً ایران کے ریاستی میڈیا ادارے ’پریس ٹی وی‘ کی ویب سائٹ مسلسل بندش کا شکار ہے۔ بلکہ ملک میں انٹرنیٹ کے سارے نظام کو ہی تقریباً مفلوج کر دیا گیا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد ایرانی فوج اور پاسداران کی داخلی کمیونیکیشن میں خلل ڈالنا ہے۔ اسرائیل کے مطابق یہ اس کی جانب سے تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ ہے۔

جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے اہم پیش رفت ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کی ہلاکت ہے۔ اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے پہلے تردید کی جاتی رہی ہے لیکن اب سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ وہ ہفتے کی صبح اپنے دفتر میں امور انجام دیتے ہوئے حملے میں مارے گئے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر کی روشنی میں پہلے سے یہ اطلاعات موجود تھیں کہ تہران میں واقع لیڈرشپ ہاؤس کمپاؤنڈ، جو خامنائی کا دفتر ہے، کے کچھ حصوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس سلسلے میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ ’خامنائی کی اپنے دفتر میں شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے چھپنے کی خبریں دشمن کی نفسیاتی جنگ کا حصہ تھیں۔‘ خامنائی کی ہلاکت ایرانی رجیم کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ لیکن شاید وہ ایسے دھچکوں کے لئے ذہنی اور انتظامی طور پر بڑی حد تک تیار بھی ہیں۔

تاہم آیت اللہ خامنائی محض سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ دنیا بھر میں شیعہ مسلمانوں کے لئے انتہائی قابل احترام اور مقدس مذہبی پیشوا کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ یاد رہے کہ ایران کے علاوہ آزربائیجان، بحرین اور عراق میں بھی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی وسیع اکثریت موجود ہے۔ لبنان اور یمن کی تقریباً نصف آبادی شیعہ ہے۔ جبکہ کویت، ترکی، سعودی عرب، شام، افغانستان اور پاکستان میں شیعہ ایک قابل ذکر اقلیت ہیں (15 فیصد سے 25 یا 30 فیصد تک)۔ ان میں سے بیشتر ممالک میں شیعہ آبادی عدم تحفظ کے احساس، ریاستی تعصب یا جبر کا شکار رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں سنی شیعہ ٹکراؤ اور شیعہ شورشوں کی ایک تاریخ بھی موجود ہے۔ یوں آیت اللہ خامنائی کی ہلاکت ان کے کروڑوں عقیدت مندوں کو مشتعل کرنے، شیعہ بغاوتوں کو بھڑکانے اور انفرادی دہشت گردی کے واقعات کو جنم دینے کا موجب بھی بن سکتی ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ خلیجی ممالک ایران پر امریکی حملے اور آیت اللہ کو نشانہ بنانے کے امکان سے خاصے خوفزدہ تھے۔ جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں‘ اطلاعات ہیں کہ کراچی میں خامنائی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ پر دھاوا بولا ہے اور پولیس (بعض اطلاعات کے مطابق امریکی میرینز) کی فائرنگ سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم تاحال جاری ہیں (ملک کے دوسرے شہروں میں بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں)۔ یہ سلسلہ پھیل کر سارے جنوب ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور پہلے سے جاری عدم استحکام کو ایک نئی اور پیچیدہ جہت دے سکتا ہے۔ لیکن مذہبی عنصر سے ہٹ کے‘ اس جنگ کے فوری ردِ عمل یا بالواسطہ اثرات کے نتیجے میں بھی عوامی احتجاج اور بغاوتیں بھڑک سکتی ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے غزہ کے معاملے بھی دیکھا ہے۔

امریکی / اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب نے نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکی فوجی اڈوں کے حامل تمام خلیجی ممالک (بشمول سعودی عرب) کو ڈرون جہازوں اور میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جن میں سے زیادہ تر کو امریکہ کے ایئر ڈیفنس سسٹم راستے میں تباہ (Intercept) کر رہے ہیں۔ لیکن تمام تر تکنیکی جدت اور انتہائی بھاری لاگت کے باوجود یہ فضائی دفاعی نظام سو فیصد کارگر نہیں ہو سکتے۔ علاوہ ازیں ایرانیوں نے اسرائیل کے ساتھ پچھلے سال کی بارہ روزہ جنگ کے بعد سے اپنے میزائلوں کی ساخت اور حملوں کی حکمت عملی اور طریقہ کار کو بھی بہتر بنایا ہے۔ چنانچہ بحرین میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح قطر میں قائم امریکی تنصیبات (بشمول ایک انتہائی جدید اور مہنگے ریڈار سسٹم) پر کامیاب حملوں کی اطلاعات اور ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں۔ پاسداران انقلاب کے مطابق انہوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور 27 امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن کو نشانہ بنانے کے علاوہ اسرائیل کے تل نووف ایئر بیس، تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈکوارٹر ہاکیریا اور ایک بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بالعموم ایسے دعووں میں مبالغہ آرائی کے ساتھ کچھ نہ کچھ سچائی بھی موجود ہوتی ہے۔ مثلاً امریکہ نے اب تک اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت اور پانچ کے شدید زخمی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی شہر بیت شیمش میں ایرانی میزائل گرنے سے نو اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔

خامنائی کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد پاسداران کی جانب سے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن ایران کی جانب سے محض فوجی تنصیبات کو ہی نشانہ نہیں بنایا جا رہا بلکہ دبئی، ابوظہبی، کویت، بحرین، قطر، عراق وغیرہ میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل ایئرپورٹس، عمارات اور لگژری ہوٹلوں وغیرہ پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔ یہ ایک طرف ایران کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں سستے ڈرون جہازوں اور کم دوری والے میزائلوں کے ذریعے خطے میں نصب امریکہ کے ایئر ڈیفنس نظاموں کو زیادہ سے زیادہ دفاعی میزائل چلانے پر مجبور کر کے تھکانا اور بتدریج کمزور (Deplete) کرنا مقصود ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ ایرانی رجیم کی جانب سے ایک سنجیدہ انتباہ بھی ہے کہ کسی وجودی خطرے کی صورت میں وہ خطے میں زیادہ سے زیادہ تباہی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

اس سلسلے میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں، جن میں حزب اللہ (لبنان) اور انصاراللہ (یمنی حوثی) کے علاوہ شام اور عراق میں چھوٹی بڑی کئی تنظیمیں شامل ہیں، کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ یہ گروہ پچھلے عرصے میں اسرائیل کے پے درپے حملوں، قیادت کی ہلاکتوں اور بشار الاسد کی حکومت کے انہدام وغیرہ جیسے عوامل کی وجہ سے خاصے کمزور ہو گئے ہیں اور فی الوقت زیادہ تر دھمکیوں سے ہی کام چلا رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امریکی افواج اور اتحادیوں کے لئے دردِ سر بن جانے کی کچھ نہ کچھ صلاحیت ضرور رکھتے ہیں اور انہیں دوسرے محاذوں پر انگیج کر سکتے ہیں۔ مثلاً ایران پر حملے کے بعد حوثیوں نے باضابطہ طور پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف فوجی کاروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ تین طریقوں یا محاذوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ جن میں بحیرہ احمر (Red Sea) اور آبنائے باب المندب میں کمرشل شپنگ میں تعطل پیدا کرنا اور امریکہ کے بحری اثاثوں کو نشانہ بنانا، اسرائیل پر میزائل حملے اور خطے میں موجود امریکہ کے فوجی اڈوں اور ایئر کرافٹ کیرئیرز وغیرہ پر حملے شامل ہیں۔ ان کے پاس نسبتاً دور مار بیلسٹک اور کروز میزائل، ڈرون اور بحری وسائل وغیرہ موجود ہیں۔ جنہیں پچھلے عرصے میں وہ اسرائیل پر حملوں سمیت دوسری کاروائیوں میں استعمال بھی کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح حزب اللہ اور دوسرے گروہوں کا معاملہ ہے۔ جو کمزور ضرور ہوئے ہیں لیکن بشار الاسد کے دھڑن تختے کے بعد ان کی بقا مکمل طور پر ایرانی رجیم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ چنانچہ یہ جنگ ان کے لئے بھی زندگی موت کا سوال ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی جارحیت کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کئی دہائیوں سے دی جاتی رہی ہے لیکن اب شاید پہلی بار ہے اسے عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایرانی بحریہ نے 28 فروری کی رات کو اعلان کیا ہے کہ کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہ تقریباً  تین کلومیٹر چوڑی بحری گزرگاہ ہے جس سے دنیا کے 20 یا 25 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے اور روزانہ تقریباً 90 (سالانہ 33 ہزار) جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔ اس راستے سے گزرنے والا 80 فیصد تیل ایشیا کی منڈیوں میں جاتا ہے۔ چین اپنی ضروریات کا نصف، بھارت 60 فیصد، جنوبی کوریا 70 فیصد، پاکستان 80 فیصد، جاپان 90 فیصد تیل اس راستے سے درآمد کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف تیل خریدنے والے ممالک کا نہیں ہے۔ سعودی عرب، قطر، کویت اور عراق وغیرہ اپنا 90 فیصد تیل اور گیس آبنائے ہرمز کے راستے برآمد کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس راستے کی بندش کی صورت میں درآمدی ممالک میں تیل اور برآمدی ممالک میں تیل کی آمدن کی کس قدر سنگین قلت پیدا ہو سکتی ہے (یہ ایک اور وجہ ہے کہ خلیجی ممالک اس جنگ سے بچنا چاہتے تھے)۔ مزید برآں چین (جی ڈی پی کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا جبکہ پیداواری حوالے سے سب سے بڑا ملک)، جاپان اور انڈیا جیسی بڑی معیشتوں میں تیل کی اتنے بڑے پیمانے کی قلت کے عالمی معیشت اور اقتصادیات پر اثرات کا اندازہ لگانا بھی محال نہیں ہے۔

جنگ کے خطرات کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافے کا رجحان موجود تھا۔ لیکن اب فی بیرل خام تیل کی قیمت 73 ڈالر سے بڑھ کر 100 یا 150 ڈالر ہو جانے کے امکانات ہیں۔ پہلے سے سست روی اور افراطِ زر سے نبردآزما عالمی معیشت کے لئے یہ مزید بربادی اور بحران کا پیغام ہے۔ جس کا سب سے پہلا اظہار سٹاک مارکیٹوں میں ہو گا۔ جب وہ سوموار کو کھلنے کے بعد سرمائے کی نسبتاً محفوظ اثاثوں (سونا وغیرہ) کی طرف تیز پرواز کے بعد شدید گراوٹ کا شکار ہوں گی اور ہزاروں ارب ڈالر ہوا میں تحلیل ہو جائیں گے۔ ایک خوفناک امکان یہ بھی موجود ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے سعودی عرب اور قطر وغیرہ کو ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست کودنا پڑے گا۔ جبکہ بعض مبصرین کے مطابق اس جنگ کے پیچھے ٹرمپ انتظامیہ کی یہ شرارت بھی کارفرما ہے کہ ایران کو یہ اہم بحری راستہ بند کرنے پر مجبور کر کے چین کو زچ کیا جائے۔ واضح رہے کہ ایک انتہائی یا آخری حربے کے طور پر ایران‘ خلیجی ممالک کی تیل کی تنصیبات پر بھی حملے کر سکتا ہے۔ جو تیل کی سپلائی کی بندش سے بھی زیادہ خطرناک تناظر ہے۔

اس جنگ کا ایک اور معاشی پہلو سرمایہ کاری اور سیاحت وغیرہ کے حوالے سے خلیجی ممالک کی ساکھ کو شدید نقصان کا ہے۔ یہ ممالک معاشی سرگرمیوں، مالیاتی منڈیوں، ہر قسم کی سرمایہ کاری، سیاحت اور لوگوں کی نقل و حرکت کے بڑے مراکز ہیں۔ان کا بنیادی مقدمہ ہی یہ ہے کہ آپ ہمارے ہاں دفاتر کھولیں‘ سیر کریں‘ عیاشی کریں یا سرمایہ کاری‘ آپ کی جان و مال کا تحفظ یقینی ہے۔ یہ دنیا کے مصروف ترین شہر ہیں جن کی سڑکیں، منڈیاں، تفریخی مقامات اور شاپنگ مال جدت اور گہما گہمی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ یوں انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے عالمی سرمائے کے ان مراکز کے بموں، میزائلوں اور افراتفری کی زد میں آ جانے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ شارٹ ٹرم میں بھی ان کی معیشتیں شدید متاثر ہوں گی۔ لیکن یہ حالات اگر طویل عرصہ جاری رہتے ہیں تو یہاں سے سرمائے کا بڑے پیمانے پر انخلا ہو گا اور آئندہ کی سرمایہ کاری کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔

لہٰذا یہ جنگ کئی حوالوں سے خطے میں بڑی تبدیلیوں کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

ویسے اس مسئلے سے جڑی ایک پیچیدگی یہ بھی ہے کہ بالفرض موجودہ ایرانی رجیم کی جگہ اگر کوئی نسبتاً لبرل یا سامراج کی منظور نظر حکومت لیتی ہے تو ایرانی تیل بڑے پیمانے پر عالمی منڈیوں میں آئے گا۔ جو تیل پیدا کرنے والی خلیجی ریاستوں کے لئے کوئی خوشگوار صورتحال نہیں ہو گی۔ لہٰذا ایران کے ساتھ جہاں ان (بالخصوص سعودی عرب) کی مخاصمت موجود ہے وہاں ایرانی رجیم کو گرانے کے لئے کیے جانے والے حملے سے جڑا عدم استحکام اور حملے کی کامیابی کی صورت میں بعد کے امکانات بھی تشویش کا باعث ہیں۔

انیسویں صدی کے پروشین ( جرمن) سپہ سالار ہیلمْتھ فان مولٹکے نے بڑی بصیرت والی بات کہی تھی کہ پہلی گولی چلتے ہی ساری جنگی پلاننگ دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ جنگ ایک بار شروع ہو جائے تو اس کی اپنی ہی منطق بن جاتی ہے۔ اسے اپنی مرضی سے شروع تو کیا جا سکتا ہے‘ ختم نہیں۔ تاریخ کی طاقتور ترین اور بظاہر ناقابل شکست افواج بھی ان المیوں سے دوچار ہوتی رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے پیشگی منصوبہ بندی کی اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔ لیکن اگر منصوبہ بندی پہلے ہی جلدی بازی، ابہام یا کمزوری کا شکار ہو تو شکست کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ بلکہ بعض صورتوں میں تو شکست یقینی ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے رعونت بھی اکثر مروا دیتی ہے۔ ویت نام، افغانستان (اور بڑی حد تک عراق میں بھی) امریکہ کے سامراجی عزائم کی ناکامی اور ذلالت کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان شکستوں کو امریکی سامراج کے عمومی معاشی، صنعتی اور نظریاتی زوال کے ساتھ جوڑ کے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اب ایران جنگ کے حوالے سے بھی سرمائے کے سنجیدہ مبصرین اور پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ عراق جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی عسکری مشینری کے سب سے بڑے اجتماع کے باوجود ٹرمپ کے پاس کوئی واضح لائحہ عمل یا ہدف موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے امریکی فوج کے اندر تحفظات کے اشارے بھی ملتے ہیں۔ مثلاً امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین کی جنگ سے ہچکچاہٹ اور ٹرمپ کو تنبیہ کی خبریں مسلسل گردش میں رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ڈین کین کے اس تذبذب کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں:

۱) پچھلے عرصے میں ایران کے ساتھ تصادموں میں اسرائیل کے دفاع اور یوکرائن جنگ میں مسلسل استعمال کی وجہ سے ’پیڑیاٹ‘ اور ’تھاڈ‘ جیسے امریکی میزائلوں کا ذخیرہ کم ہو چکا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ اسے خطرناک حد تک گرا سکتی ہے جس سے اپنے علاقائی اتحادیوں کے دفاع اور چین یا روس کے خلاف لڑنے کی امریکی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوں گی۔ ہتھیاروں کی قلت کے ایسے خدشات امریکہ کی صنعتی اور معاشی کمزوری کا پتا بھی دیتے ہیں۔
۲) ایران کے خلاف جنگی مہم وینزویلا میں آپریشن جیسا آسان معاملہ نہیں ہو گی اور اس میں امریکہ کو فوجیوں کی اموات کی صورت میں خاصا جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
۳) ایرانی میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کے لئے سینکڑوں ہزاروں حملے کرنے پڑیں گے۔ یوں امریکہ نہ صرف ایک طویل بلکہ پیچیدہ تنازعے میں پھنس جائے گا۔
۴) بیشتر عرب اتحادی اس جنگ میں پڑنا نہیں چاہتے اور شاید اپنی فضائی حدود اور سرزمین کو امریکی حملوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ اس نکتے کو ٹرمپ کی حرکتوں کے نتیجے میں نیٹو کے تعطل، مغربی سامراج کی داخلی ٹوٹ پھوٹ اور (ماضی کی جنگوں کے برعکس) امریکہ کی تنہائی کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ فی الوقت امریکہ اور اسرائیل اکیلے ہی یہ جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ امریکہ کے نیٹو اتحادی تحفظات اور مذاکرات پر اصرار کیساتھ جڑی زبانی کلامی حمایت سے آگے نہیں بڑھے۔ سپین اور ناروے نے تو امریکی حملے کی مخالفت کی ہے۔ جبکہ ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل کے ملک نے امریکی حملے کی پرزور مذمت کی ہے!

بعض مبصرین کے مطابق امریکہ کے جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کی سست روی اور اس کے باتھ روموں کی خرابی کا معاملہ ساری دنیا کے سامنے اچھالے جانے کے پیچھے بھی امریکی فوج میں موجود بے چینی اور پینٹاگون کی جنگ سے ہچکچاہٹ کارفرما ہو سکتی ہے۔

چین اور روس نے بھی ہمیشہ کی طرح امریکی جارحیت کی زبانی کلامی مذمتوں سے ہی کام چلایا ہے۔ موجودہ حالات میں ان سے زیادہ سے زیادہ ایران کی بالواسطہ اور مجہول قسم کی مدد کی توقع ہی کی جا سکتی ہے۔ دونوں کی خارجہ پالیسی کی قوت محرکہ طبقاتی یکجہتی یا سامراج دشمنی نہیں بلکہ ان کے اپنے سامراجی مفادات ہیں۔ روس‘ یوکرائن میں پھنسا ہوا ہے جبکہ چین کے حالات یہ ہیں کہ شی جن پنگ اپنے اعلیٰ ترین جرنیلوں کو فارغ کرنے میں مصروف ہے۔ ویسے بھی چین فی الوقت کسی جنگ میں پھنسنا نہیں چاہتا۔

جنگی حکمت عملی کے حوالے سے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی اعلانِ جنگ کی تقاریر کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔ جن میں تاثر تو یہ دیا گیا کہ ان کا ہدف ایرانی رجیم کا خاتمہ ہے۔ لیکن الفاظ کے محتاط چناؤ کے ذریعے دوسرے آپشن بھی کھلے رکھے گئے۔ ٹرمپ کی تقریر اس حوالے سے بھی انتہائی بھونڈی تھی کہ اسے ایران پر حملے کا جواز کئی دہائیوں پہلے کے واقعات (1979ء میں ایران میں امریکی سفارتحانے پر قبضہ، 1983ء میں بیروت میں امریکی فوجیوں پر حملہ، وغیرہ) اور ایرانی رجیم کے داخلی جبر سے پیش کرنا پڑ رہا تھا ۔ جیسے یہ لوگ پچھلے دو سال سے غزہ پر پھول برسا رہے ہیں اور ان کی ملکوں کے ملک اجاڑ ڈالنے والی عسکری مہمات کے پیچھے انسانی ہمدردی اور بہتری کے جذبات کارفرما تھے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’ہم ان (ایران) کے میزائل تباہ کر دیں گے اور میزائلوں کی صنعت زمین بوس کر دیں گے… ہم ان کی بحریہ کو نیست و نابود کر دیں گے… اور ہم یقینی بنائیں گے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ اس (ایرانی) رجیم کو جلد پتا چل جائے گا کہ امریکی افواج کی طاقت اور قوت کو چیلنج نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ یہ قابل غور الفاظ ہیں جن میں ٹرمپ ایرانی رجیم کو سبق سکھانے کی بات کر رہا ہے۔ آگے چل کر اس نے امریکی فوجیوں کے ہلاکت کا خدشہ بھی ظاہر کیا اور ایک طرح سے اس کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنے کو کہا۔ یہ کئی حوالوں سے اہم بات ہے۔ ایک یہ کہ ٹرمپ کو ڈر ہے کہ یہ جنگ اتنی آسان نہیں ہو گی اور ایران کی طرف سے سخت ردِ عمل مل سکتا ہے۔ دوسرا اسے احساس ہے کہ امریکی فوجیوں کو ایران میں اتارنا پڑ سکتا ہے۔ تیسرا اور شاید سب سے اہم یہ کہ وہ امریکی عوام کی جنگوں سے شدید بیزاری کے حالات میں امریکہ کو مزید جنگوں میں نہ جھونکنے کے نعروں کیساتھ برسر اقتدار آیا ہے۔ لیکن اب امریکی فوجیوں کے تابوت امریکہ پہنچنے سے پیدا ہونے والے ممکنہ ردِ عمل سے خوفزدہ ہے۔ آخر میں اس نے ایرانی افواج، پاسداران اور پولیس سے ہتھیار ڈالنے اور ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی مضحکہ خیز اپیل کی۔ ’’جب ہم اپنا کام مکمل کر لیں تو اپنی حکومت کو قبضے میں لے لو…‘‘ یعنی ٹرمپ کا اپنا خیال ہے کہ کام مکمل ہونے کے بعد بھی ایرانی حکومت موجود ہو گی۔ باقی کاموں کی طرح ٹرمپ کی یہ جنگ اور جنگی اعلان بھی اس کی لاابالی، ہٹ دھرم اور غیر سنجیدہ شخصیت کے ساتھ ساتھ جنگی نتائج کے حوالے سے بے یقینی کا غماز تھا۔

نیتن یاہو نے بھی اپنے اعلانِ جنگ میں اسرائیل کے نام نہاد آپریشن ’لائنز رور‘ (شیر کی دھاڑ) کا مقصد ’’ایران میں آیت اللہ رجیم سے لاحق خطرات کا خاتمہ‘‘ قراد دیا۔ یہ قابل غور بات ہے۔ رجیم کا خاتمہ نہیں بلکہ رجیم سے لاحق خطرات کا خاتمہ۔ مزید برآں ’’جب تک ضروری ہوا آپریشن جاری رہے گا۔‘‘ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ رجیم کے مکمل خاتمے کے لئے اس نے ٹرمپ کی حکمت عملی کا اعادہ ہی کیا: ’’ہم امریکہ کے ساتھ مل کر اس دہشت گرد رجیم پر سخت ضربیں لگائیں گے اور ایسے حالات پیدا کریں گے جو بہادر ایرانی عوام کو اس قاتل حکومت کے جبر سے نجات حاصل کرنے کا موقع فراہم کریں۔‘‘ ٹرمپ کی طرح نیتن یاہو بھی ایران کے جوابی حملوں اور ان کے نتیجے میں جنم لینے والے اسرائیلی عوام کے ردِ عمل سے خوفزدہ دکھائی دیا۔ اس نے اسرائیل کے شہریوں سے ’’آگے کے مشکل دن‘‘ صبر اور استقامت سے کاٹنے کی اپیل کی۔

ان دونوں جنگی جنونیوں کی باتوں یہی پتا چلتا ہے کہ ان کی بنیادی جنگی حکمت عملی اس انتہائی معمولی امکان پہ ٹکی ہوئی ہے کہ جس کام کے لئے زمین پر فوج اتارنے کی ضرورت پڑتی ہے وہ ایرانی عوام خود کر لیں گے۔ یا شاید انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ایرانی رجیم کی ٹوٹ پھوٹ سے جنم لینے والے خلا کو کون پُر کرتا ہے۔ چاہے ایران میں عراق، لیبیا یا شام جیسے حالات پیدا ہو جائیں۔ سارا خطہ مزید عدم استحکام اور انتشار سے دوچار ہو جائے اور لاکھوں کروڑوں لوگ موت، بے گھری، بھوک، ہجرت اور نہ ختم ہونے والی ذلت میں غرق ہو جائیں۔ ایک تیسری ممکنہ صورت ایران میں وینزویلا جیسے بندوبست کی بھی ہو سکتی ہے۔ یا سامراجیوں کی جانب سے ایسی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ ہم نے اپنی سابقہ تحریروں میں ایرانی کاؤنٹر انٹیلی جنس نظام کی شدید کمزوری، ملک میں موساد کے وسیع نیٹ ورک اور ایرانی ریاست میں موجود تضادات پر روشنی ڈالی ہے۔ ایرانی قیادت کو جتنی آسانی سے‘ بالکل ٹھیک نشانہ باندھ کر اڑایا جاتا رہا ہے (اور اڑایا جا رہا ہے) وہ اندر کی سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس حوالے سے ایرانی رجیم کے کسی دھڑے یا کچھ دھڑوں کی امریکہ سے ساز باز اور اس مفاہمت کے نتیجے میں ایک نسبتاً منظورِ نظر حکومتی سیٹ اپ کے قیام کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ وینزویلا میں کامیاب واردات نے امریکیوں کو مزید شہ تو دی ہے لیکن یہ کام ہر جگہ وینزویلا جیسی سرعت اور آسانی سے نہیں ہو سکتا اور ریاست میں موجود سخت گیر عناصر (جن کی ایران میں کمی نہیں ہے) کی مزاحمت سے ٹکراؤ اور خانہ جنگی کی کیفیت بھی جنم لے سکتی ہے۔ جس کی ایک جزوی تاریخی مثال سوویت یونین کے انہدام کے وقتوں میں بھی ملتی ہے جب سوویت ریاست کی شدید معاشی اور نظریاتی زوال پذیری کے حالات میں بھی پارٹی ہارڈ لائنرز نے سٹالنسٹ سیٹ اپ کو بچانے کی نیم دلانہ لیکن مسلح اور پرتشدد کاوش کی تھی۔

اسرائیل اور امریکہ نے حساب لگایا ہے کہ ایرانی رجیم اس وقت کمزور پوزیشن میں ہے، ایک شدید معاش بحران سے نمٹ رہی ہے، کچھ ہفتے پہلے مظاہرین کے خلاف بے رحمانہ کریک ڈاؤن کے نتائج کا سامنا کر رہی ہے اور اسرائیل کے ساتھ گزشتہ جنگ سے اس کے دفاعی ڈھانچے اب بھی بری طرح متاثر ہیں‘ لہٰذا یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اب آنے والے دنوں میں کیا حالات بنتے ہیں یہ وقت ہی بتائے گا۔ لیکن مذکورہ حالات اور اب خامنائی کی ہلاکت کا یہ مطلب نہیں کہ ایرانی ریاست خود بخود ڈھے جائے گی۔ حتیٰ کہ اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کے کئی افراد کی ہلاکت (جیسا کہ حالات بنتے جا رہے ہیں) کی صورت میں بھی یہ یقینی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے الٹ نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ ممکنہ حملے کی تیاری کے دوران جانشینی کا ایک باقاعدہ نظام قائم کیا گیا ہے اور عسکری و انتظامی معاملات کو ایک ڈی سنٹرلائزڈ طریقے (یعنی عدم مرکزیت کے ذریعے) سے چلانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ویسے بھی ایران کا معاملہ صدام حسین کے عراق اور قذافی کے لیبیا سے کافی مختلف ہے۔ ایک مختلف انداز میں سہی لیکن بشار الاسد کے شام کی طرح ایرانی ریاست ایک خاصے منظم ڈھانچے کی حامل ہے جس کی آج بھی کچھ نہ کچھ سماجی بنیادیں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں یہ ایک مذہبی حوالے سے ہی لیکن مسلسل مزاحمت، برداشت اور استقامت کے نظرئیے پر قائم ہے اور روزِ اول سے بحرانات، پابندیوں، جنگوں اور حملوں کے تجربے سے گزری ہے۔ لہٰذا اس کی مزاحمت اور جنگ کی طوالت حملہ آور سامراجیوں کی توقعات سے بڑھ کے ہو سکتی ہے۔

عسکری حوالے سے بھی دیکھیں تو ایرانی ایئرفورس عملاً ناپید ہے لیکن محتاط اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تین ہزار ایسے نسبتاً دور مار میزائل موجود ہیں جو اسرائیل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبکہ ہمسایہ ممالک میں اہداف کو نشانہ بنانے کے قابل (شارٹ یا میڈیم رینج) میزائلوں کی تعداد دسیوں ہزار ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں مختلف قسم کے ڈرون جہاز ہیں جو ایران خود بنا بھی رہا ہے اور دوسرے ممالک کو بیچ بھی رہا ہے۔ ان میں ایسے میزائل اور ڈرون بھی شامل ہیں جن کی تیاری پر نسبتاً کم لاگت آتی ہے لیکن انہیں فضا میں تباہ کرنے کے لئے استعمال ہونے والے امریکی میزائل انتہائی مہنگے ہیں۔ لہٰذا ایران کی جانب سے بہت سے ڈرون اور میزائل صرف امریکی اور اسرائیلی ائیر ڈیفنس کے نظاموں کو مصروف اور مغلوب (Overwhelm) اور زیادہ سے زیادہ میزائل داغنے پر مجبور کرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ امریکیوں کے لئے یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بھی ذکر کیا ہے۔ مثلاً گزشتہ سال بارہ روزہ ایران اسرائیل جنگ میں ’تھاڈ‘ میزائلوں کا 25 فیصد ذخیرہ ختم ہو گیا تھا۔ اسی قسم کی صورتحال دوسرے میزائلوں کی تھی۔ ان بارہ دنوں میں اسرائیل کو 12 ارب ڈالر کے میزائل اپنے دفاع کے لئے استعمال کرنے پڑے تھے۔ لیکن یہ میزائل صرف مہنگے نہیں ہیں بلکہ ان کی تیاری میں وقت بھی بہت لگتا ہے (بنیادی طور پر یہ ایک ہی بات ہے)۔ مثلاً امریکہ کو اپنے پچھلے سال استعمال ہونے والے میزائلوں کی کمی کو پورا کرنے میں بھی کئی سال لگ جائیں گے۔ اس حوالے سے بھی دیکھیں تو یہ جنگ امریکہ کے لئے دردِ سر بن سکتی ہے جب تک کہ ایرانی میزائلوں کے ذخائر کو بڑے پیمانے پر زمین پر ہی تباہ نہ کر دیا جائے۔ لیکن یہ بذات خود کوئی آسان کام نہیں ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ملاں رجیم سے ایرانی عوام کی بیزاری کا مطلب یہ نہیں کہ وہ امریکہ کی حمایت اور رضا پہلوی جیسے گھٹیا اور کاسہ لیس انسان کی پیروی پر مائل ہو جائیں گے۔ بالخصوص ایسے حالات میں جب وہ بیرونی حملہ آوروں کی شکل میں ان کے سامنے کھڑے ہیں اور آسمان سے بارود کی بارش کر کے معصوم انسانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ ایرانی طلبہ اور محنت کش‘ سامراج کے خلاف مزاحمت اور سماج کی انقلابی تبدیلی کی جدوجہد کی درخشاں روایات کے امین ہیں۔ جس سے یہ امکان بھی واضح ہوتا ہے کہ ایرانی ریاست گھٹنے ٹیک دیتی ہے یا ٹوٹ کے بکھر جاتی ہے تو بھی کسی گماشتہ حکومت کو مسلط کرنا یا ملک کو سامراجی قبضے میں لانا اتنا آسان نہیں ہو گا اور فیکٹریوں، یونیورسٹیوں، گلیوں اور بازاروں میں نعروں، ہتھیاروں، ہڑتالوں اور احتجاجوں سے ایک نئی مزاحمت‘ نئی جدوجہد جنم لے گی۔

ایران پر حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔ جمعرات 26 فروری کو جنیوا میں ختم ہونے والے مذاکراتی سلسلے کے بعد مبہم سی امید پیدا ہوئی تھی معاملہ بات چیت سے حل ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ثالث کا کردار ادا کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حماد نے امریکی حملے کے بعد اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمت ممکن تھی لیکن سنجیدہ مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا گیا۔ ٹوئٹر پر جاری کردہ ان کے پیغام میں شدید بے بسی کے احساس کے ساتھ ایک سنجیدہ تنبیہ بھی موجود تھی، ’’اس (حملے) سے نہ تو امریکہ کے مفادات پورے ہوں گے‘ نہ ہی عالمی امن کے نصب العین کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ میں ان معصوم لوگوں کے لئے دعاگو ہوں جو اس کا خمیازہ بھگتیں گے۔ میں امریکہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں مزید نہ پھنسے۔ یہ تمہاری جنگ نہیں ہے!‘‘

بعض اطلاعات کے مطابق ایرانی یورینیم کی افزودگی کا عمل کئی سال کے لئے بند کرنے پر بھی راضی تھے اور پہلے سے افزودہ یورینیم کسی تیسرے ’نیوٹرل‘ ملک کے حوالے کرنے کو بھی تیار تھے۔ ایرانیوں کی کوشش رہی ہے کہ اپنے جوہری پروگرام کو امریکہ کے ساتھ بارگیننگ چپ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہی وجہ ہے وہ اپنا جوہری پروگرام کبھی تیز تو کبھی سست اور کبھی بند تو کبھی دوبارہ شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اب مسئلہ صرف ایران کے جوہری پروگرام کا نہیں رہا بلکہ پچھلے کچھ عرصے کے واقعات کے بعد نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ بھی ایران کے میزائل پروگرام سے شدید خطرہ محسوس کرنے لگا ہے۔ لیکن میزائل پروگرام کے خاتمے کا مطالبہ ایران کے ہاتھ پیر باندھ دینے کے مترادف ہے۔ جس کے بعد اس کے منہ پر تھپڑ بھی مارے جا سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر گردن پہ چھری بھی چلائی جا سکتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایران سے بغیر لڑے سرنڈر کر دینے کا مطالبہ ہے۔ لہٰذا ایران نے حالیہ مذاکرات میں امریکہ کے اصرار کے باوجود اپنے روایتی ہتھیاروں پر بات کرنے سے یکسر انکار کر دیا تھا۔ اس زاویے سے دیکھیں تو یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ امریکہ ان مذاکرات کے ذریعے حملے کی تیاری کا وقت حاصل کرنا چاہ رہا تھا۔ لیکن یہ کوئی ایسی بات نہیں جو ایرانیوں کو معلوم نہ ہو اور انہوں نے اس وقت کو اپنی تیاری کے لئے استعمال نہ کیا ہو۔

ٹرمپ نے اپنے نام نہاد بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے صرف ایک ہفتے بعد اتنی بڑی جنگ کھول دی ہے۔ یوں اس نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور نیٹو سمیت سارے لبرل آرڈر کو جوتے کی نوک پہ رکھتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک استحصالی سامراجی آرڈر کی جگہ ایک استحصالی اور زیادہ تباہ کن ڈس آرڈر (انتشار) لے رہا ہے۔ نہ صرف جنگیں بلکہ بڑے پیمانے کی تباہی، ہلاکتوں اور نسل کشی پر مبنی جنگیں ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ جن کے پیچھے سامراجی قوتوں کے بیرونی عزائم ہی نہیں بلکہ داخلی بحرانات بھی کارفرما ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ کی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ایپسٹین فائلوں میں موصوف کا نام 55 ہزار بار آیا ہے۔ امریکی معیشت کی حالت پتلی ہے۔ عدالتیں آئے روز اس کے اقدامات کو کالعدم کر رہی ہیں اور رائے شماریوں میں اس کی مقبولیت مسلسل گر رہی ہے۔ آئس (ICE) کی کاروائیاں شدید غم و غصہ اور مزاحمت کو جنم دے رہی ہیں۔ دوسری طرف صیہونی ریاست کا سرغنہ، چھٹا ہوا بدمعاش اور جنگی مجرم ہے۔ جس پر کرپشن، رشوت خوری اور فراڈ کے سنگین مقدمات ہیں اور ایک کے بعد دوسری جنگ کھولتے جانا جس کی مجبوری ہے۔ لیکن مسئلہ صرف دو افراد کا نہیں ہے بلکہ ان سے بڑے خبیث، لالچی، موقع پرست، رجعتی اور ظالم لوگ ان کے ارد گرد حکومت اور ریاست میں موجود ہیں اور نیچے سماج میں اسی قماش کے لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ جہالت اور بدتمیزی کا راج ہے جس نے اس گلتی سڑتی سرمایہ داری کے بطن سے جنم لیا ہے اور ایک کے بعد دوسرے ملک میں پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ یہ لوگ نسل انسان کی مکمل بربادی کے پیامبر ہیں اور ایسے حالات پیدا کرتے جا رہے ہیں جو آخری بار نازی جرمنی میں دیکھے گئے تھے۔ ان کا راستہ نہ روکا گیا تو جبر، جنگوں، ماحولیاتی تباہی اور معاشی بربادی کے نہ ختم ہونے والے سلسلے انسانیت کو بربریت کی طرف لے جائیں گے۔ جیسا کہ آئین سٹائن نے کہا تھا کہ مجھے یہ تو نہیں پتا کہ تیسری عالمی جنگ کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی‘ لیکن چوتھی عالمی جنگ پتھروں اور لاٹھیوں سے لڑی جائے گی۔ یہ بظاہر مزاحیہ بات آج ایک سنجیدہ انتباہ کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ مستقبل کے ان خوفناک امکانات سے نجات حاصل کرنے کے لئے سامراجی سرمایہ داری کے اس نظام سے نجات حاصل کرنا ہو گی جو دنیا کو اس جانب دھکیلتا جا رہا ہے۔ خود کو مارکسزم اور انقلابی سوشلزم کی سائنسی فکر اور طبقاتی لائحہ عمل سے لیس کر کے نہ صرف سامراج بلکہ اس کے سارے نظام کے خلاف ہر سطح اور ہر محاذ پر بے رحم اور مسلسل نظریاتی، سیاسی اور ثقافتی جدوجہد کرنا ہو گی۔ یہ ایک طویل، کٹھن اور صبر آزما لڑائی ضرور ہے۔ لیکن اسے نہ لڑاگیا تو فنا یقینی ہے۔