راہول
عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کے بے لوث سپاہی، طبقاتی جدوجہد کے دیرینہ کامریڈ اور نظریاتی استقامت کی پختہ مثال کامریڈ گوپال شام چارن 28 نومبر 2025ء کی رات کراچی کے ایک نجی اسپتال میں ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ تین ماہ تک شدید جسمانی تکلیف اور اذیت سے مسلسل لڑتے رہنے کے بعد بالآخر ان کی سانسوں کی ڈورٹوٹ گئی۔ لیکن ان کی عمر بھر کی جدوجہد، ان کا حوصلہ اور ان کی تظیمی و نظریاتی ذمہ داری کی حرارت ہمیشہ محسوس کی جا سکے گی۔
چند ماہ پہلے وہ ایک نہایت خوفناک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئے تھے۔ ایسا سانحہ جس میں ان کے کولیگ نے موقع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ کامریڈ گوپال شدید زخمی حالت میں موت کے پنجوں سے نکل کر واپس آئے۔ لیکن اس واپسی کے ساتھ ہی ایک نئی جنگ ان کی منتظر تھی۔ ان کے جسم کا نچلا حصہ تقریباً مفلوج ہو چکا تھا، درجنوں فریکچرز نے ہڈیوں کو توڑ ڈالا تھا اور اندرونی زخموں نے پورے نظامِ جسم کو متزلزل کر دیا تھا۔ اس تمام اذیت کے باوجود وہ تین ماہ تک اپنی مخصوص پرسکون مسکراہٹ اور نسل انسان کے بہتر مستقبل پر یقین کے ساتھ جیتے رہے۔
کامریڈ گوپال 15 کتوبر 1968ء کو تلہار (ضلع بدین) کے ایک محنت کش گھرانے میں پیدا ہوئے۔ یوں ان کا جنم کسی مراعات یافتہ طبقے میں نہیں ہوا تھا بلکہ وہ ان لاکھوں محنت کش خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھتے تھے جن کی روزی، زندگی اور مستقبل ہمیشہ محنت، جدوجہد اور محرومی کی کشمکش کے درمیان گزرتے ہیں۔ شاید یہی وہ حالات تھے جنہوں نے ان کے اندر کم عمری سے طبقاتی شعور کی پہلی شمع روشن کی۔ جس نے بعد ازاں انقلابی تنظیم سے تعلق کے ساتھ مل کر ان کی زندگی کا رُخ موڑ دیا۔
شدید معاشی مشکلات کے باوجود کامریڈ گوپال نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول تلہار سے حاصل کی جس کے بعد انٹرمیڈیٹ کے لیے وہ سعیدپور کالج گئے۔ یہ وہ دور تھا جب مفلسی اور ہر طرح کی سماجی مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے ذہن، کردار اور رویے سے دوسرے انسانوں پر مسرت اور امید بھرے اثرات چھوڑنا شروع کیے۔ آگے چل کر کامریڈ گوپال نے ایل ایل بی کی ڈگری جناح کالج حیدرآباد سے حاصل کی اور ساری زندگی محنت کش طبقے کی وکالت و جدوجہد میں وقف کر دی۔ ایک نسبتاً مراعت یافتہ پیشہ ورانہ پوزیشن رکھنے کے باوجود بھی کامریڈ گوپال محنت کشوں کے درد و تکالیف کو ہمیشہ اپنا سمجھتے تھے۔ مظلوموں کے حقوق کی ہر جدوجہد اور احتجاج میں پیش پیش نظر آتے۔ اُن کے نزدیک نوکری محض معاشی گزر بسر کا ذریعہ رہی اور انہوں نے ہمیشہ اپنا اصل کام و نصب العین طبقاتی جدوجہد کو ہی گردانا۔
اپنے سیاسی سفر کا آغاز کامریڈ گوپال نے وطن دوست انقلابی پارٹی سے کیا مگر 1995ء میں جب وہ ’طبقاتی جدوجہد‘ کے ذریعے انقلابی مارکسزم کے نظریات سے متعارف و وابستہ ہوئے تو ان کی زندگی نے ایک انقلابی جہت اختیار کر لی۔ وہ ضلع بدین میں تنظیم کی بنیادیں تعمیر کرنے والے معتبر اور متحرک کامریڈز میں سے ایک تھے۔ تنظیم میں شمولیت کے بعد کامریڈ گوپال نے ہر محاذ پر سوشلسٹ انقلاب کا سرخ پرچم سربلند رکھا۔ وہ ضلع بدین کے ہر گاؤں ہر شہر میں کھیتوں کھلیانوں سے لے کر اساتذہ کے کمروں، کلاس رومز اور مزدوروں کے جلسوں تک پہنچتے اور تنظیم کے انقلابی پیغام کو عام کرتے۔ جب بھی کامریڈ لال خان تلہار یا بدین کا تنظیمی دورہ کرتے تو سیاسی و انتظامی حوالے سے کامریڈ گوپال پیش پیش نظر آتے۔ انقلابی سیاست کے دوسرے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ وہ بہت اچھے منتظم بھی تھے۔ تنظیم کے داخلی اجلاس ہوں، عوامی رابطہ مہمات ہوں، تنظیمی فناسز یا پرچے کی ترسیل کا کام ہو‘ کامریڈ گوپال ہر فرض بہت خاموشی لیکن انتہائی سرعت اور مہارت کے ساتھ انجام دیتے۔ ان کے اس اخلاص اور عاجزی میں ہر انقلابی کے لیے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔
آج تلہار سمیت ضلع بدین میں جو بھی تنظیمی کام موجود ہے، جو نوجوان انقلابی نظریات سے لیس ہیں یا لیس ہو رہے ہیں، جو نظریاتی مباحث کے حلقے موجود ہیں‘ اس سب میں کامریڈ گوپال کی دہائیوں پر مبنی محنت، قربانی، لگن اور تنظیمی وفاداری کا بہت اہم کردار ہے۔ لیکن ہر ٹھوس اور سنجیدہ انقلابی کی طرح وہ اپنی تشہیر پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ نظریات پر چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے اس عظیم لیکن گمنام انسان نے کبھی مایوسی، تھکن یا بددلی کو اپنے اوپر غالب نہیں ہونے دیا۔ خواہ حالات کتنے ہی سخت ہوں، تنظیم کتنے ہی شدید بحرانوں سے گزر رہی ہو، سامنے خواہ کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ ہوں‘ وہ ہمیشہ امید اور حوصلے کی بات کرتے تھے۔
کامریڈ گوپال جس ہولناک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئے‘ وہ اس پسماندہ اور بحران زدہ ملک میں محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک معمول کی بات اور خوفناک حقیقت بن چکا ہے۔ اس خطے کے تاریخی طور پر بوسیدہ اور نامراد سرمایہ دارانہ نظام کے ناقص انفراسٹرکچر کی بھاری قیمت یہاں کے عوام اپنی زندگیوں سے چکا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ٹریفک قوانین اور حفاظتی تدابیر کی پابندی نہ کرنے کے پیچھے بھی ہمارے جیسے خطوں میں سرمایہ داری کا غیر ہموار و مشترک طرزِ ارتقا کارفرما ہے۔ عام لوگ کبھی روڈ حادثات، کبھی ادویات کی عدم دستیابی، کبھی گندے پانی تو کبھی جرائم و دہشت گردی کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں بیشتر اموات ایسی وجوہات سے ہوتی ہیں جن پر آج کی سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی و معاشی علوم کو انسانی ضروریات کے تحت بروئے کار لا کر مکمل قابو پایا جا سکتا ہے۔ عام طور پر ایسے حادثات میں لوگ موقع پر ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ لیکن کامریڈ گوپال کے انقلابی عزم اور حوصلے نے انہیں کئی ماہ تک زندہ رکھا۔
حادثے کے بعد جب دیگر کامریڈز انہیں کراچی کے ایک ہسپتال ملنے گئے تو ان کے جسم کا نچلا حصہ حرکت سے تقریباً محروم تھا۔ مگر ان کے چہرے پر موجود ہلکی مسکراہٹ اور نحیف ہاتھ سے بنایا گیا ’وِکٹری سائن‘ ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ انقلابی نظریات انسان کو ایسا حوصلہ دیتے ہیں جو اسے آخری سانس تک مایوس نہیں ہونے دیتا، جھکنے نہیں دیتا، بکنے نہیں دیتا۔ وقت کے ساتھ ہر مشکل اور آفت سے مسلسل لڑتے رہنا انقلابیوں کی جبلت کا حصہ بن جاتا ہے۔ کامریڈ گوپال کی جدوجہد، ان کی لگن، ان کی گہری تنظیمی وابستگی ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ جسمانی طور پر ہم سے رخصت ہو گئے لیکن دنیا کی ہر انقلابی جدوجہد اور محنت کشوں کی ہر فتح میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
