ایک سیاسی، جمہوری اور انٹرنیشنلسٹ انقلاب ہی سماجی حاصلات کے دفاع اور کیوبا کو بحران سے نکالنے کے لیے ایک انقلابی راستہ تشکیل دینے کا واحد ذریعہ ہے۔
دنیا
فرانس جل رہا ہے: آسٹیریٹی اور جبر کے خلاف نوجوانوں کی بغاوت
ہمیں مئی 1968ء کا بھوت دوبارہ منڈلاتا نظر آ رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے احتجاجوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدوجہد کا جذبہ اب بھی پوری طرح موجود ہے۔
نیپال: نظام کی تبدیلی یا انتہائی دائیں بازو کی طرف سفر؟
بالن شاہ نے بطور میئر جو اقدامات کیے وہ بھی تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد بھی بالن شاہ کا چلن اسی طرز کا نظر آتا ہے۔
ایران جنگ: ناکام نظام کے بدحواس حکمران
پاکستانی حکام کی دوڑیں اس لئے بھی لگی ہوئی ہیں کہ وہ واقعی خطے میں کوئی بڑی تباہی نہیں چاہتے۔ معاملات مزید بگڑ جانے کی صورت میں نہ صرف پاکستان کی ایک اور سرحد غیر محفوظ ہو جائے گی بلکہ جو معاشی بربادی آئے گی‘ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایپسٹین ٹولے کی ایران پر جارحیت کا ایک مہینہ
یہ جنگ عالمی و علاقائی سطح پر نہ صرف مستقل نوعیت کی بہت سی تبدیلیاں بلکہ کئی خطرناک قسم کی مثالیں بھی اپنے پیچھے چھوڑ جائے گی۔ جو آنے والے دنوں میں دہرائی جاتی رہیں گی۔
ایران جنگ: ٹرمپ کی دھمکیاں، یوٹرن اور موجودہ صورتحال
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال محض دو یا چند ریاستوں کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کے بحران کی پیداوار ہے جو گہرے معاشی اور سیاسی تضادات سے دوچار ہے۔
ایران جنگ: سامراجی غارت گری کا نیا سلسلہ
مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ ایک ایسی جنگ جس سے ممکنہ طور پر جنم لینے والی تباہی کے سامنے خطے کی پچھلی تمام جنگیں اور مسلح تنازعات کے ماند پڑ سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش: عوامی بغاوت کے بعد کی کشمکش
سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے علاقائی سامراجی طاقتوں کے مفادات اور مقاصد کی تکمیل کے لیے نئی صف بندی کرنے سے عالمی خبروں میں نمایاں مقام تو مل سکتا ہے۔ لیکن بنگلہ دیش کے 17 کروڑ سے زائد عوام کے مقدر تبدیل ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔
بھارت: مودی سرکار کے جبر تلے دبے تضادات
مودی سرکار نے ہندوتوا کو محض ایک انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ریاستی طاقت، سنیما، کرکٹ، تعلیمی نصاب اور عوامی شعور کے ہر کونے میں سرایت کر جانے والا ہمہ گیر بیانیہ بنا دیا ہے۔
وینزویلا پر امریکی یلغار: کچھ بنیادی نکات
ہم نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمپ کی یہ جارحانہ یلغار صرف وینزویلا تک محدود نہیں بلکہ تمام لاطینی امریکی اور کیریبین ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔
امریکی دھمکیاں اور سامراجی مداخلت نامنظور! ایران میں جاری عوامی احتجاجوں کے ساتھ مکمل یکجہتی!
مہنگائی میں شدید اضافے، کرنسی کے انہدام اور بڑھتی ہوئی بدحالی کے خلاف تہران اور ایران کے درجنوں دوسرے شہروں کو عوامی تحرک کی ایک نئی لہر لرزا رہی ہے اور ایک بار پھر ملاؤں کے نظام کی جبر و تشدد پر مبنی پالیسیوں کا سامنا کر رہی ہے۔
ایرانی عوام کی نئی آزمائش
ماضی کی قیادتوں کی غلطیوں کا خمیازہ ایران کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں اور تاریخ نے ایک بار پھر انہیں ایک امتحان اور آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
وینزویلا کیخلاف سامراجی جارحیت نامنظور!
سامراج کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ جب چاہے اپنے مفادات کے دفاع کے نام پر کسی بھی بہانے سے دوسرے ممالک کی سالمیت پر پوری ڈھٹائی کے ساتھ حملہ آور ہو جائے۔
عالمی منظر نامہ: کچھ کلیدی نکات
ایک منقسم (پولرائزڈ) دنیا میں جہاں ایک طرف عوام پر سرمایہ دارانہ یلغار شدت اختیار کر رہی ہے وہیں دوسری طرف ہڑتالوں، بڑے پیمانے کی تحریکوں اور بغاوتوں کی صورت میں محنت کش عوام کی مزاحمت بھی بڑھ رہی ہے۔
امریکی معیشت اور مصنوعی ذہانت کا بلبلہ
اے آئی ٹیکنالوجی بالآخر پیداواریت میں اضافہ ممکن بنا سکتی ہے۔ اگر یہ انسانی محنت کو بڑی مقدار میں بے دخل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ لیکن شاید یہ سب کچھ ایک مالیاتی کریش اور اس کے بعد آنے والی معاشی گراوٹ کے بعد ہی ممکن ہو۔














