انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ

(یہ بیان مورخہ 5 جنوری کو انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ (ISL) کے بین الاقوامی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس کے بعد سے مظاہروں کی شدت، ریاستی جبر اور ہلاکتوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔)

مہنگائی میں شدید اضافے، کرنسی کے انہدام اور بڑھتی ہوئی بدحالی کے خلاف تہران اور ایران کے درجنوں دوسرے شہروں کو عوامی تحرک کی ایک نئی لہر لرزا رہی ہے اور ایک بار پھر ملاؤں کے نظام کی جبر و تشدد پر مبنی پالیسیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ اسی دوران امریکی سامراج نے ایک بار پھر ایران کو دھمکیاں دی ہیں اور بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ بغاوت صرف اسی صورت میں ایک ترقی پسندانہ سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے جب ایران کے محنت کش عوام آزادانہ طور پر منظم ہوں، جمہوری ادارے قائم کریں اور ایک انقلابی، سوشلسٹ اور بین الاقوامی متبادل تعمیر کریں۔

احتجاجوں کی لہر

ہزاروں ایرانی عوام بشمول محنت کش، طلبہ اور دکاندار دسمبر کے اواخر میں تہران کی سڑکوں پر نکل آئے اور تیزی سے یہ احتجاج تقریباً پورے ملک میں پھیل گئے۔ ان میں شیراز، مشہد، تبریز، کرج، قزوین اور اصفہان سمیت دیگر کئی شہر شامل ہیں۔ قومی کرنسی کے دھماکہ خیز انہدام اور بے قابو مہنگائی نے فوری محرک کا کردار ادا کیا۔ اس افراطِ زر نے محنت کش خاندانوں کی قوتِ خرید کو تباہ کر دیا ہے۔ ایک امریکی ڈالر اب 14 لاکھ ریال سے زیادہ کا ہو چکا ہے۔ جس سے خوراک اور بنیادی خدمات ناقابلِ برداشت حد تک مہنگی ہو چکی ہیں۔

یہ احتجاج معیارِ زندگی میں بگاڑ کے ردِعمل کے طور پر شروع ہوئے اور جلد ہی رجعتی اور تھیوکریٹک نظامِ حکومت کی مخالفت کی طرف بڑھ گئے۔ جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے اور سیاسی مطالبات شامل تھے۔ عوام کا تحرک سوموار 5 جنوری کو مسلسل آٹھویں دن جاری ہے۔

جابرانہ ردِ عمل اور بڑھتا ہوا علاقائی عدم استحکام

ہمیشہ کی طرح بنیاد پرست ریاست نے بھرپور جبر کے ذریعے جواب دیا ہے۔ سکیورٹی فورسز، جن میں بسیج اور پاسدارانِ انقلاب شامل ہیں، کی کاروائیوں کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد ہلاک، درجنوں زخمی اور تقریباً ایک ہزار گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ سپریم لیڈر نے معاشی بے چینی سے فائدہ اٹھانے کا الزام ’’بیرونی دشمنوں‘‘ پر عائد کیا ہے اور انہیں ’’ان کی اوقات میں رکھنے‘‘ کی اپیل کی ہے۔ جبکہ سرکاری میڈیا ادارہ جاتی تشدد کو جائز ٹھہرانے کے لیے اسی بیانیے کو تقویت دے رہا ہے۔ یہ صورتِ حال مشرقِ وسطیٰ کو مزید غیر مستحکم کر رہی ہے۔ جو پہلے ہی اسرائیلی ریاست کی جانب سے فلسطینی عوام کی نسل کشی اور نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان طے پانے والے جکڑ بندی کے معاہدے سے ہل چکا ہے۔

ٹرمپ کی جارحانہ روش اور نئی دھمکیاں

ایران کو ان معاشی پابندیوں کا سامنا ہے جو 2018ء میں جوہری معاہدے سے امریکہ کے انخلا کے بعد دوبارہ عائد کی گئی تھیں اور جنہوں نے موجودہ معاشی تباہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دوران ایران نے 2025ء میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بمباری اور فوجی حملے بھی جھیلے ہیں۔ اب ٹرمپ ایک بار پھر یہ دھمکی دے رہا ہے کہ اگر ایرانی ریاست مظاہرین کے خلاف تشدد کا استعمال کرتی ہے تو امریکہ کی جانب سے دوبارہ مداخلت کی جائے گی۔ ٹرمپ حد درجہ منافق اور بے شرم انسان ہے۔ اس نے امریکہ میں فلسطین کے حامی مظاہرین کو کچلا ہے اور وینزویلا پر بمباری کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ خود کو ایک ’’امن پسند‘‘ انسان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ (ایران کے خلاف) ٹرمپ کی تازہ بیان بازی کا مقصد بھی مستقبل کی ممکنہ مداخلت کو جائز ٹھہرانے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

ایک بھٹکا ہوا نقلاب

1979ء کا ایرانی انقلاب لاکھوں محنت کشوں، کسانوں، غریب شہری طبقات اور نوجوانوں کی ہڑتالوں اور آزادانہ عوامی تحرک کے ذریعے برپا ہوا تھا۔ اس دوران سے آزادانہ سیاسی تنظیم، سیلف ڈیفنس اور گراس روٹ سطح پر تعاون اور ہم آہنگی کے ادارے وجود میں آئے۔ ان میں محنت کشوں کی کونسلیں (شورا)، ہڑتال کمیٹیاں، فیکٹری کمیٹیاں اور محلّہ کمیٹیاں وغیرہ شامل تھیں۔ اس انقلاب کی قوت نے فارس (ایران) کے آخری شاہ‘ محمد رضا پہلوی، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کا ایک اہم ستون تھا، کی آمریت کا تختہ الٹ دیا۔

اس سارے عمل میں محنت کش طبقے نے عام ہڑتالوں اور تیل جیسے اہم شعبوں پر کنٹرول کے ذریعے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ لیکن اس کے پاس ایسی انقلابی قیادت نہ تھی جو اقتدار پر قبضے کے لیے مقابلہ اور جدوجہد کر سکتی۔ خمینی کی قیادت میں ملاؤں نے دوہرے اقتدار کی ابھرتی ہوئی نوزائیدہ تنظیموں کو توڑ دیا، بائیں بازو کو کچل دیا اور اپنے سماجی اور مذہبی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پورے سیاسی عمل پر غلبہ حاصل کر لیا۔

عوامی جدوجہد بمقابلہ رجعتی ریاست

ملاؤں نے داخلی طور پر ایک بورژوا، تھیوکریٹک، رجعتی اور ردِ انقلابی نظام قائم کیا۔ جس کی پالیسی وقت کے ساتھ امریکی سامراج کے ساتھ جزوی محاذ آرائیوں اور معاہدوں کے درمیان جھولتی رہی۔ اسرائیل پر محدود اور پیشگی اعلان شدہ حملوں سے بڑھ کر ایرانی ریاست نے صیہونیت کی جانب سے جاری نسل کشی کے دوران فلسطینی عوام کو کوئی مستقل اور فیصلہ کن حمایت نہیں دی۔ بلکہ اپنے علاقائی مفادات کے مطابق طرزِ عمل اپنایا۔

ایسے میں 2025-2026ء میں مختلف سماجی پرتوں کے موجودہ مطالبات اور ریاست کا جوابی جبر و تشدد کوئی ’’اچانک‘‘ امر نہیں ہے۔ ایران میں گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران کم و بیش شدت کے ساتھ عرب بہار (2011-2012ء) سے جڑے اور (2017ء سے تاحال) سیاسی و سماجی حقوق کے لیے احتجاج جاری رہے ہیں۔ مثلاً 2022ء میں حراست کے دوران مہسا امینی کے قتل کے بعد ملک بھر میں ایک وسیع عوامی بغاوت پھوٹ پڑی تھی اور مذہبی جبر اور عدم مساوات کے خلاف ایک پکار بن گئی تھی۔

ایرانی عوام کی جدوجہد سے یکجہتی اور انقلابی سوشلسٹ لائحہ عمل

1979ء کے نامکمل انقلاب کے فرائض حالیہ تحریکوں فرائض کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور تھیوکریٹک سرمایہ داری کی ناانصافیوں، ایرانی ریاست کی آمرانہ روش اور سامراجی صیہونی جارحیتوں سے مہمیز پکڑتے ہیں۔ لہٰذا:

  • ہم سماجی حقوق کے حصول، غربت، عدم مساوات اور معیارِ زندگی میں بگاڑ کے خلاف اور جبر و تشدد کے ذریعے سلب کیے گئے جمہوری حقوق کے دفاع میں ہونے والے احتجاجوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
  • ہم ریاستی جبر کے خاتمے، اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے قتل کے مادی اور سیاسی ذمہ داران کو سزا دینے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
  • ہم ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جو صیہونیت نواز، سامراج نواز اور شاہ پرست قوتوں سے آزادانہ طور پر محنت کش عوام کی تنظیم سازی اور سیلف ڈیفنس کو فروغ دیتے ہیں۔
  • ہم غیر ملکی طاقتوں کی کسی بھی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔ بالخصوص ٹرمپ اور اس کے صیہونی اتحادیوں کی جانب سے۔ جو ایرانی عوام کی جدوجہد کو محض اپنے جغرافیائی و سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
  • معاشی انصاف، جمہوری آزادیوں اور انسانی وقار کے مطالبات صرف اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان کی جدوجہد نچلی سطح سے منظم ہو، سارے نظامِ ریاست، جس نے ایرانی محنت کشوں کی نسلوں کو استحصال اور جبر کا نشانہ بنایا ہے، کو شکست دے اور ساتھ ہی چین اور روس جیسی دوسری سامراجی طاقتوں کے مفادات سے بھی فاصلہ رکھے۔
  • سب سے اہم فریضہ بائیں بازو کے ایک مضبوط اور مربوط متبادل کی تعمیر ہے۔ جو ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں سوشلسٹ انقلاب کے مقصد کے گرد منظم ہو۔ تاکہ شہنشاہی، بنیاد پرست، سامراج نواز اور صیہونی حکومتوں کا خاتمہ کیا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ طاقت ان کے ہاتھ آئے جو ہمیشہ بے بس رہے ہیں۔ یعنی جبر و استحصال سے پاک اور سماجی و جمہوری حقوق کے ضامن سوشلسٹ نظام کے تحت محنت کش طبقات اور مظلوم و محکوم عوام کا اقتدار۔