تحریر: مائیکل رابرٹس
ترجمہ: عمران کامیانہ
بائیں بازو کے معروف ماہرینِ معاشیات جیسن ہیکل اور یانس وروفاکس نے اس ہفتے برطانوی اخبار گارڈین کے لیے مشترکہ طور پر ایک مضمون لکھا۔ اس کی سرخی تھی: ”ہم سرمایہ دارانہ ماڈل سے آگے بڑھ سکتے ہیں اور ماحولیاتی بحران کو روک سکتے ہیں۔ یہ رہے پہلے تین اقدامات۔“
جیسن ہیکل بارسلونا کی آٹونومس یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور ایل ایس ای (لندن سکول آف اکنامکس) میں وزٹنگ سینئر فیلو بھی۔ یانس وروفاکس ”MeRA25“ کے رہنما، یونان کے سابق وزیرِ خزانہ اور کتاب ”ٹیکنو فیوڈلزم: سرمایہ داری کو کس نے قتل کیا“ کے مصنف ہیں۔
ہیکل اور وروفاکس آغاز ہی میں بات بالکل واضح کر دیتے ہیں: ”ہمارا موجودہ معاشی نظام اکیسویں صدی میں درپیش سماجی اور ماحولیاتی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف ہمارے پاس حیرت انگیز نئی ٹیکنالوجیز موجود ہیں اور اجتماعی طور پر ہم اتنی خوراک اور اتنا سامان پیدا کر سکتے ہیں جتنا ہمیں درکار ہے۔ بلکہ اتنا کہ زمین برداشت بھی نہیں کر سکتی۔ لیکن دوسری طرف لاکھوں لوگ شدید محرومی اور غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔“
یہ تضاد کیوں ہے؟ ہیکل اور وروفاکس صاف لفظوں میں بتاتے ہیں کہ مسئلہ ”سرمایہ داری“ ہے۔ وروفاکس کی طرف سے یہ بات کچھ عجیب سی لگتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے حال ہی میں ایک کتاب لکھی ہے جس میں دلیل دی گئی ہے کہ ”سرمایہ داری مر چکی ہے“ اور اس کی جگہ جاگیرداری یا زیادہ درست طور پر بات کریں تو ”ٹیکنو جاگیرداری“ نے لے لی ہے۔ لیکن پھر ہیکل اور وروفاکس نے سرمایہ داری کی تعریف بھی کچھ عجیب انداز میں پیش کی ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ داری سے مراد منڈیاں، تجارت اور کاروبار نہیں‘ جو سرمایہ داری کے ظہور سے ہزاروں سال پہلے بھی موجود تھے۔ یہ بات درست ہے۔ تاہم اس مضمون میں سرمایہ داری کو یوں بیان کیا گیا ہے: ”ہم سرمایہ داری سے مراد ایک نہایت مخصوص اور عجیب چیز لیتے ہیں: ایک ایسا معاشی نظام جو دراصل ایک آمریت ہے۔ جسے سرمائے پر قابض ایک نہایت چھوٹی اقلیت چلاتی ہے: بڑے بینک، بڑی کارپوریشنیں اور وہ ایک فیصد لوگ جو زیادہ تر سرمایہ کاری کے اثاثوں کے مالک ہیں۔“
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان کے نزدیک یہ ”عجیب“ کیوں ہے۔ انسانی سماجی تنظیم کی تاریخ تو پرانے زمانوں سے طبقاتی تقسیم کی تاریخ رہی ہے۔ جہاں ایک حکمران طبقہ مختلف سماجی نظاموں کے ذریعے باقی آبادی کا استحصال کرتا رہا ہے: غلام داری، جاگیرداری، مطلق العنانیت اور پچھلے تقریباً 250 سال سے سرمایہ داری۔ جس میں قوت محنت کا استحصال پیداوار کے ذرائع کی ملکیت اور کنٹرول کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
جیسا کہ مصنفین خود لکھتے ہیں کہ سرمایہ داری میں ”پیداوار کا مقصد بنیادی طور پر انسانی ضروریات پوری کرنا یا سماجی ترقی حاصل کرنا نہیں ہے۔ نہ ہی اس کا مقصد ماحولیاتی اہداف کو پورا کرنا ہے۔ اس کا مقصد منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا اور جمع کرنا ہے۔ یہی سرمایہ داری کا قانونِ قدر ہے۔ اور منافع بڑھانے کے لیے سرمائے کو مسلسل ترقی اور لا متناہی پیداوار درکار ہوتی ہے۔ چاہے وہ ضروری ہو یا نقصان دہ۔“
ہاں! سرمایہ داری ایک منافع پر مبنی نظام ہے جو محنت کش عوام کا استحصال کرتا ہے۔ لیکن اس مضمون میں مصنفین کی توجہ اس استحصالی پہلو سے زیادہ سرمایہ داری کی ”نامعقولیت“ پر ہے۔ یعنی ”ایس یو ویز، محلات اور فاسٹ فیشن جیسی اشیا، جو سرمائے کے لیے بے حد منافع بخش ہیں، کی بڑے پیمانے پر پیداوار۔ جبکہ واضح طور پر ضروری چیزوں، مثلاً سستے مکانات اور عوامی ٹرانسپورٹ، کی شدید کمی۔ کیونکہ یہ یا تو کم منافع بخش ہیں یا بالکل منافع بخش نہیں۔“
وہ درست طور پر بتاتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس گیسوں کا مسئلہ سرمایہ داری کے تحت اس لیے حل نہیں ہو رہا کہ اگرچہ قابلِ تجدید توانائی اب فوسل فیول سے کہیں سستی ہے لیکن فوسل فیول کی پیداوار تین گنا زیادہ منافع بخش ہے۔ ”اسی طرح موٹرویز کی تعمیر اور دیکھ بھال ایک جدید، تیز رفتار اور محفوظ عوامی ریلوے نظام کی نسبت نجی ٹھیکیداروں، گاڑیاں بنانے والوں اور تیل کی کمپنیوں کے لیے کہیں زیادہ منافع بخش ہے۔ چنانچہ سرمایہ دار حکومتوں پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ فوسل فیول اور سڑکوں کی تعمیر کو سبسڈی دیں۔ چاہے دنیا جل ہی کیوں نہ رہی ہو۔“ مصنفین نہایت پرزور انداز میں کہتے ہیں: ”سرمایہ داری کو ہماری نوع کے مستقبل کی اتنی ہی پروا ہے جتنی ایک بھیڑیے کو میمنے کی۔“
سرمایہ داری اجتماعی بھلائی کی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو روکے ہوئے ہے اور ہمیں ”سامراجی تشدد کے نہ ختم ہونے والے چکروں میں جکڑے ہوئے ہے۔“ سامراجیت سرمایہ داری کی پیداوار ہے۔ جس میں ”ترقی یافتہ معیشتوں میں سرمائے کے ارتکاز کا انحصار گلوبل ساؤتھ (ترقی پذیر دنیا) کی سستی محنت اور قدرتی وسائل کے وسیع استحصال پر ہوتا ہے۔ اس بندوبست کو قائم رکھنے کے لیے سرمایہ ہر ہتھیار استعمال کرتا ہے: قرضے، پابندیاں، فوجی بغاوتیں اور یہاں تک کہ کھلی عسکری جارحیتیں بھی۔ تاکہ ساؤتھ کی معیشتوں کو تابع رکھا جا سکے۔“
تو پھر سرمایہ داری اور سامراجیت کا حل کیا ہے؟ مصنفین ایک بار پھر دو ٹوک جواب دیتے ہیں: ”حل تو ہمارے سامنے ہے۔ ہمیں فوری طور پر سرمایہ داری کے قانونِ قدر پر قابو پانا ہو گا۔“
یہ بات درست ہے۔ لیکن جب اس قانونِ قدر پر قابو پانے کے عملی پروگرام کی بات آتی ہے تو ہیکل اور وروفاکس کی تجاویز خاصی کند ہو جاتی ہیں۔ وہ تین ضروری شرائط پیش کرتے ہیں۔ جن کا مقصد سرمایہ داری کی جگہ سوشلزم نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ ”آمریت“ کی جگہ ایک ”کارآمد اور ماحولیاتی طور پر معقول جمہوری نظام“ لانا ہے۔ یعنی سرمایہ داری سے سوشلزم نہیں بلکہ آمریت سے جمہوریت۔ اس مضمون میں لفظ ”سوشلزم“ سرے سے موجود ہی نہیں ہے!
اس کی وجہ تب واضح ہوتی ہے جب وہ تبدیلی کے لیے اپنی تین شرائط یا تجاویز پیش کرتے ہیں۔
پہلی شرط ہے: ”ایک نیا مالیاتی ڈھانچہ‘ جو تباہ کن نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے اور عوامی مقاصد کے لیے عوامی مالیات کو ممکن بنائے۔“ یہ بات خاصی مبہم ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب کیا ہے؟ مصنفین کہتے ہیں: ”اس ڈھانچے کے مرکز میں ہمیں ایک نیا عوامی سرمایہ کاری کا بینک چاہیے۔ جو مرکزی بینکوں کے ساتھ مل کر دستیاب پیسے کو ایسی سرمایہ کاری میں بدلے جو مشترکہ اور پائیدار خوشحالی سے ہم آہنگ ہو۔“
کیا؟ تو مالیاتی سرمائے کی بالادستی کا حل بینکوں، انشورنس کمپنیوں، ہیج فنڈز وغیرہ کو نیشنلائز کرنا اور منصوبہ بند سرمایہ کاری نہیں بلکہ صرف ایک عوامی بینک قائم کرنا ہے جو موجودہ سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام سے مقابلہ کرے گا؟ لیکن جدید معیشتوں میں تو نجی سرمایہ کاری‘ عوامی سرمایہ کاری سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ تو یہ تجویز اس تناسب کو کیسے پلٹے گی اور سرمایہ داری کی ”آمریت“ کو کیسے ختم کرے گی؟
دوسری شرط یہ ہے کہ ”مشاورتی جمہوریت کا وسیع استعمال کیا جائے تاکہ شعبہ جاتی، علاقائی اور قومی اہداف طے کیے جا سکیں (مثلاً کن شعبوں کی پیداوار بڑھانی ہے یا کم کرنی ہے) اور نئے عوامی مالیاتی اوزار ان اہداف کو پورے کرنے میں استعمال ہوں۔“ یعنی عوامی سرمایہ کاری بینک جمہوری طریقے سے چلایا جائے اور اس کی سرمایہ کاری کے فیصلے بھی جمہوری ہوں۔ ٹھیک ہے۔ لیکن امریکہ کے بڑے نجی سرمایہ کاری بینکوں یا برطانیہ کے پانچ بڑے کمرشل بینکوں وغیرہ کے سرمایہ کاری کے فیصلوں کا کیا ہو گا؟ وہ تو ویسے ہی رہیں گے۔
آہ! نہیں… کیونکہ تیسری شرط کے مطابق سرمایہ دارانہ ”آمریت“ کے خاتمے کے لیے کمپنیاں ”ایک ملازم، ایک شیئر اور ایک ووٹ“ کے اصول پر چلائی جائیں گی۔ یعنی کارپوریشنوں کو اشتراکی ملکیت میں نہیں لایا جائے گا۔ بلکہ ہر مزدور کو ایک شیئر اور ایک ووٹ دیا جائے گا۔ یہ عجیب ہے۔ کیونکہ آج بھی کوئی مزدور کمپنی کے شیئر خرید کر ووٹ دے سکتا ہے۔ لیکن بڑی کارپوریشنوں، نجی ایکویٹی فرموں اور مالیاتی اداروں کے پاس موجود شیئرز (حصص) کا کیا ہو گا؟ کیا ان کی ضبطی (Expropriation) نہیں ہو گی؟ اگر ہو گی تو صاف صاف کیوں نہیں کہتے؟
مضمون کے آخر میں مصنفین دعویٰ کرتے ہیں کہ ماحولیاتی تباہی سے نجات اور عالمی غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ ”یہ ایک حقیقی امکان ہے۔“ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہیکل اور وروفاکس کی تین پالیسی تجاویز اس مقصد کے حصول کے لیے ناکافی ہیں۔ کیونکہ وہ اس چیز کا خاتمہ نہیں کر سکتیں جسے وہ سرمایہ دارانہ ”آمریت“ کہتے ہیں۔
