اس نظام میں مصنوعی ذہانت اور سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت نے محنت کشوں کی زندگی کو آسان کرنے کی بجائے طبقاتی جبر و استحصال کو بڑھا دیا ہے۔ کیونکہ سرمایہ داری کا مطمع نظر انسانی ضروریات کی تکمیل اور فلاح نہیں بلکہ منافع خوری ہے۔
مارکسی تعلیم
لینن نے مارکس کا مطالعہ کیسے کیا
ولادیمیر اولیانوف نے اپنے شاگردی کے دور میں بھی فکر اور پیش قدمی کی ایسی قوت کا مظاہرہ کیا کہ یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس نے دوسروں سے کیا سیکھا اور خود کیا تخلیق کیا۔
سرمایہ داری کا متبادل: سوشلزم یا جمہوریت؟
”سرمایہ داری کو ہماری نوع کے مستقبل کی اتنی ہی پروا ہے جتنی ایک بھیڑیے کو میمنے کی۔“
”محبت کی آزادی“ پر ایک خط
مورخہ 17 جنوری 1915ء کو محنت کش خواتین سے متعلقہ ایک پمفلٹ پر تبادلہ خیال کے سلسلے میں لکھا گیا۔
دوبارہ اور ایک بار پھر‘ سوویت یونین کی نوعیت کے بارے میں…
ٹراٹسکی کا یہ مضمون صرف سوویت یونین کی نوعیت کے سوال پر روشنی نہیں ڈالتا بلکہ دوسرے حوالوں سے بھی تجزئیے و تناظر کی وسعت، انقلابی حکمت عملی کی گہرائی اور استدلال کے جدلیاتی طریقہ کار کا شاہکار ہے۔
جنگ اور انقلاب
“میرے نزدیک جنگ کے معاملے میں سب سے اہم بات جسے عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے وہ جنگ کے طبقاتی کردار کا سوال ہے۔”
ہتھیاروں کے بیوپاری
اس سے بڑی منافقت اور کیا ہو گی کہ ایک طرف امن کے راگ الاپے جائیں تو دوسری طرف جنگ کے طبل بجا کر، دہشت گرد ریاستوں کی پشت پناہی کر کے ہتھیار بیچے جائیں۔ یہ اس نظامِ سرمایہ کی حدود و قیود ہیں کہ آپ نیک خواہشات کے باوجود دنیا میں امن قائم نہیں کر سکتے۔
لینن کی میراث کے 100 سال
اس عظیم انقلابی کی سیاسی و نظریات میراث آج بھی روشنی کا وہ مینار ہے جو اس فرسودہ اور متروک نظامِ سرمایہ کے خاتمے کی تاریخی جدوجہد میں پوری دنیاکے انقلابیوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔
کارل مارکس کون تھا؟
انٹرنیشنل کے لئے انتھک کام اور اس سے بھی بڑھ کر انتھک فکری مصروفیات نے مارکس کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔ اُس نے سیاسی معاشیات کو ازسر نو مرتب کرنے اور ’سرمایہ‘ کو مکمل کرنے کا کام جاری رکھا، جس کے لئے اُس نے بہت سا نیا مواد اکٹھا کیا اور کئی زبانوں (مثلاً روسی زبان) کا مطالعہ کیا۔ تاہم صحت کی خرابی نے اسے ’سرمایہ‘ کی تصنیف مکمل نہ کرنے دی۔
قومی سوال اور لینن
’’بورژوا قوم پرستی اور پرولتاری بین الاقوامیت دو ناقابل مصالحت نعرے ہیں جو پوری سرمایہ دارانہ دنیا میں دو دیوہیکل طبقاتی کیمپوں سے وابستہ ہیں اور قومی سوال کی طرف دو پالیسیوں بلکہ دنیا کو دیکھنے کے دو طریقوں کی غمازی کرتے ہیں‘‘
جمہوری مرکزیت اور مروجہ تنظیمی طریقہ کار پر
نہ ہی میرا خیال ہے کہ میں کوئی ایسا فارمولا پیش کر سکتا ہوں جو ”ہمیشہ ہمیشہ کے لئے“ غلط فہمیوں اور غلط تشریحات کا خاتمہ کر سکے۔ پارٹی ایک زندہ جسم ہوتی ہے۔ یہ بیرونی رکاوٹوں کے خلاف جدوجہد اور داخلی تضادات کیساتھ ہی آگے بڑھتی ہے۔
اصل دشمن سرمایہ داری
ایک سرمایہ دارانہ سماج میں غربت، محرومی، مشکلات، بے معانی نوکری اور عدم اطمینان کا ذمہ دار ہمیشہ ایک فرد کو قرار دیا جاتا ہے۔
بحران زدہ معروض میں انقلابی پارٹی کا سوال
انقلابی تنظیم ہر قسم کے ریاستی جبر سے ٹکرا کر ہی محنت کشوں کی نمائندہ پارٹی بن سکتی ہے جس میں استحصالی نظام کو شکست دینے کی صلاحیت موجود ہو۔
انسان کا مستقبل
دانائی اور ذہانت کی چنگاریوں کو شعلوں میں بدلنے سے قبل ہی انسانوں کی مخفی گہرائیوں میں دبا دیا جاتا ہے۔
ترمیم پسندی، موقع پرستی اور انقلابی سوشلزم
”ایسے ممالک جو سرمایہ دارانہ طرزارتقا میں پیچھے رہ گئے ہیں، بالخصوص نوآبادیاتی اور نیم نو آبادیاتی ممالک، وہاں جمہوریت اور قومی نجات کے فرائض صرف پرولتاری آمریت کے ذریعے ہی ادا کیے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں پرولتاریہ محکوم اقوام اور سب سے بڑھ کر کسان عوام کے قائد کا کردار ادا کرے گا۔“















