اداریہ جدوجہد
ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جارحیت نے چند دنوں میں پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے۔ ایک طرف عسکری حوالے سے امریکہ کی سبکی اور اسے چند ہفتوں میں انتہائی مہنگے اسلحے کے بے دریغ استعمال سے پہنچنے والے بھاری مالی اور تذویراتی نقصان کا معاملہ ہے۔ جس نے واحد عالمی طاقت یا سپر پاور کے طور پر امریکہ کے امیج پر (ایک اور) بھاری ضرب لگائی ہے۔ یہ درست ہے کہ جنگیں‘ اسلحہ سازی کی صنعت اور عسکریت سے جڑے دوسرے شعبوں اور ٹھیکیداروں وغیرہ کے لئے بہت منافع بخش ہوتی ہیں۔ لیکن جنگ کوئی تعمیری یا پیداواری عمل نہیں ہے۔ یہ کھلی تخریب اور تباہی کا نام ہے۔ جس میں وسائل کا رخ تعمیر سے تخریب کی طرف موڑا جاتا ہے۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ تخریب کے اس عمل میں پیداواری قوتوں کو مزید تباہ و برباد کیا جاتا ہے۔ یوں یہ ایک دو دھاری تلوار ہوتی ہے۔ جو جب تک چلتی ہے‘ انسانوں کا قتل عام بھی کرتی ہے اور نوع انسان کو غریب بھی بناتی جاتی ہے۔ قلت، مانگ اور مہنگائی بڑھتی ہے۔ جنگی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ریاستوں کو خساروں اور قرضوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ لیکن یہ خسارے کون بھرتا ہے اور قرضے کون ادا کرتا ہے؟ اسلحے کی پیداوار سے لے کر اس کے استعمال کے نتیجے میں ہونے والی تباہی و بربادی تک کی قیمت آخر کار محنت کشوں کو ہی ادا کرنی پڑتی ہے۔
جنگوں یا عسکری صنعتوں کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے ان سے سائنس و ٹیکنالوجی میں پیش رفت ہوتی ہے۔ جسے بعد میں پرامن مقاصد یا انسانی فلاح کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ یوں نئے شعبے یا صنعتیں ابھرتی ہیں۔ جو دوررس معاشی اور اقتصادی فوائد کی حامل ہوتی ہیں۔ بلکہ اسی قسم کی دلیل سرمایہ داری کے حق میں بھی دی جاتی ہے کہ اگرچہ یہ جبر و استحصال کا نظام ہے لیکن سائنس و ٹیکنالوجی میں جدت لاتا ہے اور لمبے عرصے میں معیارِ زندگی کو بلند کرتا ہے (اگرچہ ’معیارِ زندگی‘ کے سرمایہ دارانہ پیمانے بذات خود قابل بحث ہیں)۔ بہرحال دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے۔ عہد حاضر کی بہت سی ایجادات، جن میں روز مرہ استعمال کی بہت سی چیزیں بھی آتی ہیں، جنگوں یا جنگی صنعتوں میں سے برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں جدید راکٹ، ریڈار، جی پی ایس اور جیٹ انجن سے لے کے انٹرنیٹ، کمپیوٹر، مائیکرو ویو اوون، ڈکٹ ٹیپ، مصنوعی ربر، کلائی پر باندھی جانے والی گھڑی، سینیٹری پیڈز اور ایروسول سپرے تک شامل ہیں۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے کی قتل و غارت اور تباہ کاری کا عمل اگر ضمنی یا بالواسطہ طور پر اتنی ایجادات کو جنم دے سکتا ہے تو تخلیق و تعمیر کی براہِ راست کاوشیں نسل انسان کو کس معراج تک پہنچا سکتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کیا یہ ضروری ہے کہ ایجادات کے لئے جنگ کی جائے؟ کیوں نہ ان دیوہیکل وسائل اور تخلیقی و پیداواری صلاحیتوں کا رخ پہلے ہی انسانی ترقی اور بہتری کی طرف موڑ دیا جائے۔
یہی بات جنگ کے نتیجے میں ہونے والی ’ترقی‘ یا معاشی گروتھ کے حوالے سے بھی درست ہے (جس کے ذریعے سرمایہ داری بحران سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے)۔ جو دراصل کسی بنی بنائی چیز کو توڑ کر دوبارہ بنانے کے مترادف ہوتی ہے۔ بجائے اس کے کہ اضافی یا نئی چیزیں بنائی جائیں۔ بلکہ بحیثیت مجموعی سرمایہ دارانہ نظام کی بھی یہی حقیقت ہے۔ ایک مخصوص وقت تک اپنے تمام تر ظلم اور استحصال کے باوجود یہ نظام تاریخ کی ایک ناگزیر ضرورت تھا۔ جو پیداواری قوتوں کی جدت اور افزائش کا ترقی پسندانہ تاریخی فریضہ سرانجام دے رہا تھا۔ لیکن آج اس کا جبر و استحصال (بلکہ سارا وجود) نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ تاریخی حوالے سے رجعتی کردار کا حامل ہے۔ جو پیداواری قوتوں کی ترقی کے راستے میں ایک رکاوٹ اور انسانی تہذیب کے وجود کے لئے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ آج نسل انسان شعوری اور انتظامی حوالے سے اس سطح پر کھڑی ہے کہ پیداواری عمل کی تنظیم و بڑھوتری کے لئے بورژوازی کی ضرورت سرے سے موجود نہیں ہے۔ اور سرمائے کی لگائی قدغنوں اور بندشوں کو توڑ کر ایسی تیز رفتار تخلیق و ترقی ممکن ہے جس کا سرمایہ داری میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
مسئلہ صرف امریکہ، ایران یا مشرق وسطیٰ کا نہیں بلکہ یہ جنگ ساری دنیا کے لئے انتہائی مہنگی اور تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ افغانستان اور عراق سمیت حالیہ تاریخ کی کسی جنگ میں اتنی گمبھیر صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔ وسعت یا شدت میں جنگ کے مزید بھڑک جانے کی صورت میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ خوفناک تباہی (بشمول جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال) سے دوچار ہو گا بلکہ توانائی اور غذا کا بحران پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ایشو صرف تیل کی بندش یا قیمتوں میں فوری اضافے کا بھی نہیں ہے۔ بلکہ مسلسل غیر یقینی کے عالم میں معیشت ویسے ہی نہیں چل سکتی۔ ہر روز جنگ بندی، مذاکرات اور لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے حوالے سے متضاد قسم کی خبریں آ رہی ہیں۔ جن کے تحت منڈیاں کبھی اوپر جا رہی ہیں‘ کبھی نیچے گر رہی ہیں۔ اس طرح کے حالات میں سرمایہ کاری نہیں سٹہ اور جوا ہوتا ہے‘ سو خوب ہو رہا ہے۔ اس بے یقینی کی کلیدی وجہ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد امریکی ریاست کے انتشار اور مغربی سامراجی کیمپ کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہو جانا ہے۔ جاہلوں اور پاگلوں کا یہ ٹولہ، جس کے ہاتھ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور عسکری مشینری آ گئی ہے، ایک ہیجان کے عالم میں یہ جنگ شروع تو کر بیٹھا ہے۔ لیکن کسی واضح ہدف اور معقول لائحہ عمل کے بغیر انہیں اب جنگ سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ ایران کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے خاتمے نے مسئلہ حل کرنے کی بجائے مزید الجھا دیا ہے۔ لیکن فرسٹریشن کے عالم میں ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے خود پسند اور وحشی لوگوں سے کسی بھی حد تک جانے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ جس کے جواب میں پھر ایرانی بھی کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
عالمی سرمایہ داری پہلے ہی طویل عرصے کے بحران سے دوچار ہے۔ نیو لبرل پالیسیوں کی یلغار نے دنیا بھر میں معاشروں کو نہ صرف معاشی بلکہ ثقافتی اور سیاسی طور پر بھی مجروح کر کے رکھ دیا ہے۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میں لمپن رجحانات تیزی سے بڑھے ہیں جبکہ ذہانت اور مشاہدے کی صلاحیتوں (جنہیں بالعموم ’آئی کیو‘ سے ناپا جاتا ہے) میں کمی آئی ہے۔ اس کیفیت کا اظہار سیاست میں پاپولسٹ یا سخت گیر دائیں بازو کے ابھار جبکہ سوشل میڈیا اور روز مرہ زندگی میں نت نئی قسم کی بیہودگیوں سے ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک سماجی نظام کا بحران ہے۔ جس کی نوعیت وقتی یا حادثاتی نہیں بلکہ تاریخی اور ساختی ہے اور جو معیشت اور سیاست سمیت ہر شعبے میں اپنا اظہار کر رہا ہے۔ ٹرمپ جیسے لوگ اس بحران کی وجہ نہیں بلکہ علامت ہیں۔
تاریخ میں فرد کے کردار کی جدلیات بڑی دلچسپ ہوتی ہے۔ کسی نظام کی تاریخی کیفیت کا فوری اور سب سے واضح اظہار اس کی نمایاں یا برسر اقتدار شخصیات میں ہوتا ہے۔ کامریڈ لیون ٹراٹسکی کے بقول بیشتر صورتوں میں لوگوں کی ’انفرادی‘ اور ’ممتاز‘ عادتیں یا اوصاف بھی وقت اور حالات کے انفرادی نقوش ہی ہوتے ہیں: ’’گدگدی کرنے پر مختلف لوگ مختلف طرح کے رد عمل دکھا سکتے ہیں۔ لیکن تپتا ہوا لوہا لگایا جائے تو سب کا ردِ عمل ایک جیسا ہوتا… بڑے اور بے رحم واقعات کی چوٹ تلے (افراد کی) مزاحمتیں ٹوٹ جاتی ہیں اور ’انفرادیت‘ کی سرحدیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ‘‘ اس کا مطلب تاریخ میں فرد کے کردار کی نفی نہیں۔ جو بعض اوقات مبالغہ آرائی کی حد تک بڑا اور فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ لیکن حالات کا جبر جوں جوں بڑھتا جاتا ہے‘ افراد کے پاس عمل کی آزادی یا آپشن کم ہوتے جاتے ہیں۔ کسی نظام کی حالت نزع بالعموم ایسے ہی حالات پیدا کرتی ہے۔ ایسی کیفیت میں بالفرض کوئی بہت ذہین اور قابل انسان بھی اقتدار میں آ جائے تو ’مقدر‘ کے لکھے کو وقتی طور پر ہی ٹال سکتا ہے (اس کے برعکس کوئی ضرورت سے زیادہ جاہل انسان آ جائے تو زوال کا عمل تیز بھی ہو جاتا ہے)۔ مزید برآں ہر عہد اپنے کردار کی مطابقت سے شخصیات کو ابھارتا ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیں گویا اپنے مطلب کے لوگ ڈھونڈ لیتا ہے۔ یوں معاملہ صرف اتنا نہیں ہے کہ امریکی سامراج (یا بحیثیت مجموعی سارے سامراجی آرڈر) کا بحران ٹرمپ جیسے بدتمیز، جھوٹے، منہ پھٹ اور ناقابل اعتماد انسان کو اقتدار میں لے آیا ہے۔ بلکہ بدتمیزی، دروغ گوئی، گالم گلوچ اور دھوکہ و فراڈ اس کی مجبوری بھی ہے۔ نظام جب نامعقول ہو جائے تو اس کے نمائندے بھلا کیسے مہذب اور معقول ہو سکتے ہیں۔
تاہم اس ساری صورتحال کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ جو بیشتر دنیا کے لئے حیران کن تو ہے لیکن اس پر گہرائی میں غور کم ہی لوگوں نے کیا ہو گا کہ اس سارے تنازعے کا کلیدی ثالث پاکستان ہے۔ یعنی انسانی تاریخ کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری قوت، جو ساری دنیا کے مسئلے حل کروانے کی دعویدار رہی ہے، کا مسئلہ اب پاکستان حل کروائے گا۔ دوسرے الفاظ میں (چین یا دوسری طاقتوں کے پس پردہ کردار سے قطع نظر) دنیا میں امن اور بقا کی امنگوں کا مرکز پاکستان ہے۔ جس کی اپنی تاریخ ریاستی جبر و تشدد اور پراکسی جنگوں سے عبارت ہے اور جو خود ازل سے امن اور استحکام کو ترس رہا ہے۔ صورتحال اگر نازک نہ ہوتی تو یقینا مضحکہ خیز ہوتی۔
یہ درست ہے کہ گزشتہ سال مئی کے پاک بھارت تصادم کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کچھ دھاک بنی ہے۔ جبکہ مودی سرکار کی ذلالت اور زوال کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا آغاز ہوا ہے (جس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ مودی کا ’شائننگ انڈیا‘ اندر سے کتنا تاریک اور کھوکھلا ہے)۔ پاکستان کے حکمرانوں نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ جس میں کم از کم وقتی طور پر انہیں کامیابی بھی مل رہی ہے۔ لیکن یہ اس سارے معاملے کا جزوی پس منظر ہے۔ پاکستان راتوں رات کوئی بہت بڑی قوت نہیں بن گیا۔ بلکہ یہ امریکی سامراج کا زوال ہے جس سے بہت سی مطیع یا ذیلی قوتوں کو ابھرنے یا جزوی طور پر آزادانہ روش اپنانے کے حالات میسر آ رہے ہیں۔ غیر یقینی اور عدم استحکام کے انہی حالات میں نئے دفاعی معاہدوں کی بازگشت بھی مسلسل سنائی دے رہی ہے۔ جس میں نسبتاً بہتر عسکری صلاحیتوں اور جوہری طاقت کی حامل ریاستوں کو اہمیت مل رہی ہے۔ اور وہ ایسے مواقع کو کیش کروانے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔ ویسے تو وقت کی طرح ٹرمپ کا مزاج بدلتے بھی دیر نہیں لگتی۔ لیکن دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک وہ پاکستانی حکمرانوں کے گن گاتا نہیں تھک رہا۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی سے بھی پیسے پکڑ سکتا ہے۔ ویسے چیزوں کے اپنے اُلٹ میں بدل جانے کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے!
لیکن پاکستانی حکام کی دوڑیں اس لئے بھی لگی ہوئی ہیں کہ وہ واقعی خطے میں کوئی بڑی تباہی نہیں چاہتے۔ معاملات مزید بگڑ جانے کی صورت میں نہ صرف پاکستان کی ایک اور سرحد غیر محفوظ ہو جائے گی بلکہ جو معاشی بربادی آئے گی‘ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بہرحال موجودہ حالات میں پاکستان کی اہمیت جتنی بھی بڑھ گئی ہو‘ ایک ترقی یافتہ اور پائیدار معیشت کے بغیر اسے ایک ناپائیدار مظہر ہی سمجھا جانا چاہئے۔ بلکہ یہ نئے دفاعی معاہدے اور ثالثی کی کوششیں گلے بھی پڑ سکتی ہیں۔ جس کی ایک جھلک نظر بھی آئی ہے کہ ناراض ہونے والے ایک ’برادر‘ ملک نے اپنے پیسے واپس مانگ لیے ہیں۔ جو پھر ایک دوسرے ’برادر‘ ملک سے پکڑنے پڑے ہیں۔ لیکن اس واقعے سے ہٹ کے بھی پاکستانی ریاست ایک تنی ہوئی رسی پر انتہائی مشکل اور نحیف توازن قائم کر کے چلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جنگ کے بعد مہنگائی، لاک ڈاؤن اور لوڈ شیڈنگ کی نئی لہر نے داخلی صورتحال کو بھی مزید بگاڑ دیا ہے۔ معیشت کی شرح نمو پہلے ہی کئی سالوں سے عملاً جمود کا شکار ہے۔ جنگ جاری رہتی ہے تو معاشی بحران گہرا ہو کے عوامی غم و غصے کو بھڑکا سکتا ہے۔ اس بات کا اندازہ حکمرانوں کو بھی ہے۔ لیکن یہ ان کے اپنے نظام کی بند گلی ہے جس میں وہ پھنس چکے ہیں۔ یہ ایک تاریخی اور سائنسی حقیقت ہے کہ پاکستان جیسی پسماندہ معیشتوں کو سرمایہ داری کے ذریعے کوئی دوررس اور پائیدار ترقی نہیں دی جا سکتی۔ نمائشی منصوبے اور اقدامات تو جاری رہتے ہیں۔ لیکن ان ممالک کے عوام کی زندگیوں میں حقیقی نوعیت کی معمولی تبدیلی بھی سرمایہ داری کے ضابطوں کو پامال کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لیکن ایسی ’بدتمیزی‘ کی توقع سامراج کے پیوند کردہ‘ اطاعت شعار حکمرانوں سے نہیں کی جا سکتی۔
صورتحال یہاں سے کسی طرف بھی جا سکتی ہے۔ جنگ بندی میں توسیع اور وقتی مفاہمت بھی ممکن ہے۔ لیکن جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو زیادہ خوفناک اور بے لگام ہو گی۔ یہ بات شاید ٹرمپ کو بھی نہیں پتا کہ کل اس نے کیا بولنا اور کیا کرنا ہے۔ انسانیت کا مستقبل بہرحال خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ جنگوں کے درمیان ’امن‘ کے وقفے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں کی بدحواسی بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکہ سامراج کی اجارہ داری اور اس سے جڑے سامراجی آرڈر کو ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوتے بھی کئی دہائیاں لگ سکتی ہے۔ اس دوران اتار چڑھاؤ اور جزوی بحالی کے کئی وقفے آسکتے ہیں۔ لیکن بائیں بازو کے کچھ بھولے (یا احمق) رجحانات کی خوش فہمیوں کے برعکس جو نام نہاد ’ملٹی پولر‘ دنیا وجود میں آ رہی ہے وہ زیادہ غیر مستحکم اور پرانتشار ہو گی۔ سرمایہ داری ایک نہ ختم ہونے والی وحشت کا نام ہے۔ اس کے انقلابی خاتمے ہی میں نسل انسان کی بقا اور بہتری مضمر ہے۔
