مشرق وسطیٰ

ایران جنگ: ناکام نظام کے بدحواس حکمران

ایران جنگ: ناکام نظام کے بدحواس حکمران

پاکستانی حکام کی دوڑیں اس لئے بھی لگی ہوئی ہیں کہ وہ واقعی خطے میں کوئی بڑی تباہی نہیں چاہتے۔ معاملات مزید بگڑ جانے کی صورت میں نہ صرف پاکستان کی ایک اور سرحد غیر محفوظ ہو جائے گی بلکہ جو معاشی بربادی آئے گی‘ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

امریکی دھمکیاں اور سامراجی مداخلت نامنظور! ایران میں جاری عوامی احتجاجوں کے ساتھ مکمل یکجہتی!

امریکی دھمکیاں اور سامراجی مداخلت نامنظور! ایران میں جاری عوامی احتجاجوں کے ساتھ مکمل یکجہتی!

مہنگائی میں شدید اضافے، کرنسی کے انہدام اور بڑھتی ہوئی بدحالی کے خلاف تہران اور ایران کے درجنوں دوسرے شہروں کو عوامی تحرک کی ایک نئی لہر لرزا رہی ہے اور ایک بار پھر ملاؤں کے نظام کی جبر و تشدد پر مبنی پالیسیوں کا سامنا کر رہی ہے۔

ایرانی عوام کی نئی آزمائش

ایرانی عوام کی نئی آزمائش

ماضی کی قیادتوں کی غلطیوں کا خمیازہ ایران کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں اور تاریخ نے ایک بار پھر انہیں ایک امتحان اور آزمائش میں ڈال دیا ہے۔

غزہ: کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل

غزہ: کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل

آخری تجزئیے میں اسرائیلی یلغار کے خلاف مزاحمت اور آزادی فلسطین کی راہ خطہ عرب، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے محکوم و محنت کش انسانوں کی جڑت اور اتحاد میں پنہاں ہے۔ جس میں اسرائیل کے صیہونیت مخالف محنت کشوں کو بھی شامل کرنا ہو گا۔

غزہ میں جنگ بندی: کچھ بنیادی نکات اور مستقبل کے امکانات

غزہ میں جنگ بندی: کچھ بنیادی نکات اور مستقبل کے امکانات

امریکی سامراج اگرچہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور کھلی، واضح اور بڑے پیمانے کی ’’جنگ‘‘ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے کالونیل منصوبے کو جاری رکھنے سے روکے گا۔

مشرق وسطیٰ میں نیا کہرام: صورتحال اور امکانات

مشرق وسطیٰ میں نیا کہرام: صورتحال اور امکانات

دنیا آج ماضی کے کسی دور سے کہیں زیادہ عدم استحکام، انتشار اور خونریزی سے دوچار ہے۔ یہ استحصال، جبر اور انسان دشمنی پر مبنی‘ ایک تاریخی طور پر متروک سماجی نظام کے ناگزیر مضمرات ہیں۔ جو ہر گزرتے دن کے ساتھ نسل انسان کو بربریت کی طرف دھکیلتا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورت حال

مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورت حال

جدید ہتھیاروں اور جنگی صلاحیتوں سے لیس چند بین الاقوامی اجارہ داریوں کی محافظ سامراجی ریاستوں کے حلقہ اثر میں بٹی دنیا، جو ایک ایسے عالمی نظام کے تحت چلائی جا ئے جس کا واحد دھرم سرمایہ پرستی اور کل منطق بے رحم مقابلے بازی ہو، جب بھی بحران میں داخل ہو گی تو اس کا جنگی شکلوں میں اظہار ناگزیر ہے۔

فلسطین کیسے آزاد ہو گا؟

فلسطین کیسے آزاد ہو گا؟

اپنی فطرت سے مجبور اسرائیلی ریاست کو اگر شکست نہیں دی جاتی تو یہ فلسطینیوں کی نسل کشی کو مکمل کر کے اور فلسطین کو نقشے سے مٹا کر ہی دم لے گی۔