پاکستانی حکام کی دوڑیں اس لئے بھی لگی ہوئی ہیں کہ وہ واقعی خطے میں کوئی بڑی تباہی نہیں چاہتے۔ معاملات مزید بگڑ جانے کی صورت میں نہ صرف پاکستان کی ایک اور سرحد غیر محفوظ ہو جائے گی بلکہ جو معاشی بربادی آئے گی‘ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
مشرق وسطیٰ
ایپسٹین ٹولے کی ایران پر جارحیت کا ایک مہینہ
یہ جنگ عالمی و علاقائی سطح پر نہ صرف مستقل نوعیت کی بہت سی تبدیلیاں بلکہ کئی خطرناک قسم کی مثالیں بھی اپنے پیچھے چھوڑ جائے گی۔ جو آنے والے دنوں میں دہرائی جاتی رہیں گی۔
ایران جنگ: ٹرمپ کی دھمکیاں، یوٹرن اور موجودہ صورتحال
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال محض دو یا چند ریاستوں کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کے بحران کی پیداوار ہے جو گہرے معاشی اور سیاسی تضادات سے دوچار ہے۔
ایران جنگ: سامراجی غارت گری کا نیا سلسلہ
مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ ایک ایسی جنگ جس سے ممکنہ طور پر جنم لینے والی تباہی کے سامنے خطے کی پچھلی تمام جنگیں اور مسلح تنازعات کے ماند پڑ سکتے ہیں۔
امریکی دھمکیاں اور سامراجی مداخلت نامنظور! ایران میں جاری عوامی احتجاجوں کے ساتھ مکمل یکجہتی!
مہنگائی میں شدید اضافے، کرنسی کے انہدام اور بڑھتی ہوئی بدحالی کے خلاف تہران اور ایران کے درجنوں دوسرے شہروں کو عوامی تحرک کی ایک نئی لہر لرزا رہی ہے اور ایک بار پھر ملاؤں کے نظام کی جبر و تشدد پر مبنی پالیسیوں کا سامنا کر رہی ہے۔
ایرانی عوام کی نئی آزمائش
ماضی کی قیادتوں کی غلطیوں کا خمیازہ ایران کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں اور تاریخ نے ایک بار پھر انہیں ایک امتحان اور آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
روسی سامراج اور صیہونی ریاست: حالیہ جنگی بحران سے کچھ اسباق
مشرق وسطیٰ کے مظلوم عوام کسی ’’دوست‘‘ سامراجی ملک پر انحصار نہیں کر سکتے۔ کیونکہ کوئی بھی سامراج مظلوم قوموں کا دوست نہیں ہوتا۔
غزہ: کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل
آخری تجزئیے میں اسرائیلی یلغار کے خلاف مزاحمت اور آزادی فلسطین کی راہ خطہ عرب، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے محکوم و محنت کش انسانوں کی جڑت اور اتحاد میں پنہاں ہے۔ جس میں اسرائیل کے صیہونیت مخالف محنت کشوں کو بھی شامل کرنا ہو گا۔
غزہ میں خون کی ہولی، ٹرمپ کے لئے ارغوانی قالین
فلسطینی عوام کا قتل عام جاری ہے اور دیگر عرب اقوام پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں ہم سامراجی رہنماؤں کے ”شراکت داروں“ اور ”دوستوں“ کے طور پر استقبال کی مذمت کرتے ہیں۔
غزہ میں جنگ بندی: کچھ بنیادی نکات اور مستقبل کے امکانات
امریکی سامراج اگرچہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور کھلی، واضح اور بڑے پیمانے کی ’’جنگ‘‘ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے کالونیل منصوبے کو جاری رکھنے سے روکے گا۔
شام: سامراجی کھلواڑ سے برباد عوام
اسد خاندان کے جابرانہ اقتدار کا خاتمہ تو ہوا ہے لیکن ہیئت تحریر الشام ایسی قوتوں سے امیدیں وابستہ کرنا بھی درست نہیں ہے۔
شام: ایک اور آمریت کا خاتمہ، لیکن مستقبل غیر یقینی سے دوچار
انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ کا نصب العین ایک انقلابی اور سامراج و سرمایہ داری مخالف متبادل کی تعمیر ہے جو مشرق وسطیٰ کی سوشلسٹ فیڈریشن کی کڑی کے طور پر ایک سوشلسٹ شام کے قیام کی جدوجہد کو آگے بڑھائے۔
مشرق وسطیٰ میں نیا کہرام: صورتحال اور امکانات
دنیا آج ماضی کے کسی دور سے کہیں زیادہ عدم استحکام، انتشار اور خونریزی سے دوچار ہے۔ یہ استحصال، جبر اور انسان دشمنی پر مبنی‘ ایک تاریخی طور پر متروک سماجی نظام کے ناگزیر مضمرات ہیں۔ جو ہر گزرتے دن کے ساتھ نسل انسان کو بربریت کی طرف دھکیلتا جاتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورت حال
جدید ہتھیاروں اور جنگی صلاحیتوں سے لیس چند بین الاقوامی اجارہ داریوں کی محافظ سامراجی ریاستوں کے حلقہ اثر میں بٹی دنیا، جو ایک ایسے عالمی نظام کے تحت چلائی جا ئے جس کا واحد دھرم سرمایہ پرستی اور کل منطق بے رحم مقابلے بازی ہو، جب بھی بحران میں داخل ہو گی تو اس کا جنگی شکلوں میں اظہار ناگزیر ہے۔
فلسطین کیسے آزاد ہو گا؟
اپنی فطرت سے مجبور اسرائیلی ریاست کو اگر شکست نہیں دی جاتی تو یہ فلسطینیوں کی نسل کشی کو مکمل کر کے اور فلسطین کو نقشے سے مٹا کر ہی دم لے گی۔















