یہ وقتی ریلیف یقینا خوش آئند ہے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے یہ فلسطینی جدوجہد کی فتح نہیں ہے۔ جیسا کے کچھ حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں...
جموں کشمیر کی تحریک: عوامی ابھار، قیادت کا بحران اور جدوجہد کا نیا موڑ
یہ وہ موقع ہے جب ہمیں یہ سوال اٹھانا ہو گا کہ اس تحریک نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اگر سارے مطالبات بھی تسلیم کر لیے جاتے تو کیا کشمیری عوام کے مسائل ختم ہو جاتے؟
شنگھائی تعاون تنظیم: استحصالی مفادات کے رشتے
ہم مارکس وادی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بنتی بگڑتی ساجھے داریاں عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات کا اظہار ہیں۔ نہ تو سرمایہ دارانہ نظام‘ نہ ہی اس کی طاقتوں کے اتحاد مظلوم اور محنت کش عوام کے لئے کسی آسودگی اور نجات کا باعث بن سکتے ہیں۔
نیپال: اصلاح پسندی کی ایک اور ناکامی
نیپال کی اس تحریک نے ایک بار پھر مرحلہ واریت اور اصلاح پسندی کی ناکامی و نامرادی کو بالکل عیاں کیا ہے۔
بارشیں اور سیلاب: ماحولیاتی بربادی کی وجوہات کیا ہیں؟
یہ سب براہ راست گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے۔ اور گلوبل وارمنگ منڈی کے نظام کی منافع خوری کے ساتھ منسلک ہے۔
انارکلی: انفرادی واردات سے اجتماعی المیہ کی داستان تک
ادب بچوں کا کھیل نہیں اور ڈرامہ نگار امتیاز علی تاج‘ غالبؔ کے اس نکتے سے واقف تھے۔ وہ تو بھلا ہو کہ غالب پر مارکس وادی ہونے کا الزام نہیں‘ ورنہ اس کو بھی ترقی پسند اور نعرہ باز کہہ کر رد کر دیا جاتا۔
درد کی انجمن‘ جو میرا دیس ہے!
انگریز نوآباد کاروں سے ’آزادی‘ کی تقریباً آٹھ دہائیوں بعد اس خطے کی حالت یہ ہے کہ حادثے، سانحے اور المیے ایک معمول بن کے رہ گئے ہیں۔
”محبت کی آزادی“ پر ایک خط
مورخہ 17 جنوری 1915ء کو محنت کش خواتین سے متعلقہ ایک پمفلٹ پر تبادلہ خیال کے سلسلے میں لکھا گیا۔
طبقاتی سماج میں عورت کا مقدمہ
اس معاشرے میں غیرت کا مطلب احساس، جدوجہد، شرم، لحاظ، حرمت یا انصاف نہیں بلکہ اپنی ملکیت پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس لیے یہ نام نہاد غیرت عورت کو خاموش کرانے کا ہتھیار ہے۔
دوبارہ اور ایک بار پھر‘ سوویت یونین کی نوعیت کے بارے میں…
ٹراٹسکی کا یہ مضمون صرف سوویت یونین کی نوعیت کے سوال پر روشنی نہیں ڈالتا بلکہ دوسرے حوالوں سے بھی تجزئیے و تناظر کی وسعت، انقلابی حکمت عملی کی گہرائی اور استدلال کے جدلیاتی طریقہ کار کا شاہکار ہے۔
انقلابِ فرانس کے اسباق
مارکسزم نے انقلابِ فرانس کا مطالعہ ایک ایسے سیاسی اظہار کے طور پر کیا جس کے ذریعے بورژوازی نے اٹھارہویں صدی میں معاشی و سماجی بالادستی حاصل کی۔
ٹرمپ کے ’’بِگ بیوٹی فل بل‘‘ کی بھیانک حقیقت
یہ شاید امریکہ کی تاریخ میں آج تک کا سب سے نقصان دہ قانون ہے۔ آخری بار اتنا کالا قانون کب منظور ہوا تھا؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا!
نئی سیاسی جماعتیں اور اصلاح پسندی کی محدودیت
دراصل یہ حالات جن میں نئی سیاسی پارٹیوں یا رجحانات کا جنم ہو رہا ہے محض روایتی سیاسی جماعتوں کی عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے مرہون منت نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے پیچھے سرمایہ داری کا نامیاتی بحران کارفرما ہے۔
روسی سامراج اور صیہونی ریاست: حالیہ جنگی بحران سے کچھ اسباق
مشرق وسطیٰ کے مظلوم عوام کسی ’’دوست‘‘ سامراجی ملک پر انحصار نہیں کر سکتے۔ کیونکہ کوئی بھی سامراج مظلوم قوموں کا دوست نہیں ہوتا۔
سوات سانحہ: حادثہ ایک دم نہیں ہوتا!
مسئلہ یہ نہیں کہ پانی میں پھنسے سیاحوں کو بچانے کے لئے وقت کم تھا یا پانی کا ریلہ اچانک آ گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے ان حکومتوں کی تیاریاں کیا ہیں؟















