ہم نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمپ کی یہ جارحانہ یلغار صرف وینزویلا تک محدود نہیں بلکہ تمام لاطینی امریکی اور کیریبین ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔
مزید پڑھیں...
سانحہ گُل پلازہ: جسے کہتے ہو تم جہنم مجھ پہ گزری ہے…
پاکستان کا سرمایہ دارانہ نظام اس قدر دیوالیہ اور ریاست اس قدر کھوکھلی و نااہل ہو چکی ہے کہ ایسی آفات و حادثات معمول بن چکے ہیں اور حکمران طبقات نے ان کے سدباب کے لیے سنجیدگی سے سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
اندھیرے کے حصار میں سویرے کی پکار!
یہ نظام اپنی ہر شکل میں ظلمت ہے۔ جس نے مشرق سے مغرب تک نسل انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
امریکی دھمکیاں اور سامراجی مداخلت نامنظور! ایران میں جاری عوامی احتجاجوں کے ساتھ مکمل یکجہتی!
مہنگائی میں شدید اضافے، کرنسی کے انہدام اور بڑھتی ہوئی بدحالی کے خلاف تہران اور ایران کے درجنوں دوسرے شہروں کو عوامی تحرک کی ایک نئی لہر لرزا رہی ہے اور ایک بار پھر ملاؤں کے نظام کی جبر و تشدد پر مبنی پالیسیوں کا سامنا کر رہی ہے۔
ایرانی عوام کی نئی آزمائش
ماضی کی قیادتوں کی غلطیوں کا خمیازہ ایران کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں اور تاریخ نے ایک بار پھر انہیں ایک امتحان اور آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
وینزویلا کیخلاف سامراجی جارحیت نامنظور!
سامراج کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ جب چاہے اپنے مفادات کے دفاع کے نام پر کسی بھی بہانے سے دوسرے ممالک کی سالمیت پر پوری ڈھٹائی کے ساتھ حملہ آور ہو جائے۔
پی آئی اے کی ’کامیاب‘ نجکاری!
پی آئی اے کی نجکاری میں کامیابی جہاں مزدور دشمن پالیسیوں کی وقتی جیت ہے وہاں پاکستان میں مزدور تحریک کی کمزوری اور ٹریڈ یونین کے دگرگوں حالات کی غماز بھی ہے۔
عالمی منظر نامہ: کچھ کلیدی نکات
ایک منقسم (پولرائزڈ) دنیا میں جہاں ایک طرف عوام پر سرمایہ دارانہ یلغار شدت اختیار کر رہی ہے وہیں دوسری طرف ہڑتالوں، بڑے پیمانے کی تحریکوں اور بغاوتوں کی صورت میں محنت کش عوام کی مزاحمت بھی بڑھ رہی ہے۔
گوپال شام چارن: انقلابی عزم، ہمت اور جدوجہد کا استعارہ
نظریات پر چٹان کی طرح ڈٹ ہوئے اس عظیم لیکن گمنام انسان نے کبھی مایوسی، تھکن یا بد دلی کو اپنے اوپر غالب نہیں ہونے دیا۔
امریکی معیشت اور مصنوعی ذہانت کا بلبلہ
اے آئی ٹیکنالوجی بالآخر پیداواریت میں اضافہ ممکن بنا سکتی ہے۔ اگر یہ انسانی محنت کو بڑی مقدار میں بے دخل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ لیکن شاید یہ سب کچھ ایک مالیاتی کریش اور اس کے بعد آنے والی معاشی گراوٹ کے بعد ہی ممکن ہو۔
بالشویک انقلاب 1917ء: بڑھے قدم تو راہیں بنیں!
آج متبادل کی تلاش اور پیاس موجود ہے۔ پوری دنیا میں سوشلزم اور مارکسزم کی طرف نوجوان نسل راغب ہو رہی ہے۔ حقائق کو جاننے اور متبادل کی تخلیق کی تگ و دو میں انہیں ادراک حاصل کرنا ہو گا کہ سوویت یونین میں درحقیقت ہوا کیا تھا۔
جموں کشمیر: عوامی حقوق تحریک کا نیا مرحلہ اور قیادت کا امتحان
اب ایک بار پھر وقت یہ تقاضا کر رہا ہے کہ معاشی مسائل کو سیاسی پروگرام سے منسلک کیا جائے۔ کم از کم نو آبادیاتی ڈھانچے کو چیلنج کرنے والا پروگرام عوام کے سامنے رکھا جائے۔
لداخ: نو آبادیاتی جکڑ کے خلاف عوامی مزاحمت
ماضی میں لیہہ اور کارگل کا اتحاد بھی ناممکن نظر آ رہا تھا۔ جو وقت کے تھپیڑوں نے ممکن بنا دیا ہے۔ اب آگے بڑھتا یہ سفر جموں کشمیر کے مسئلے کے ساتھ جڑی دیگر قوموں کے ساتھ جڑت بنانے کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔
انڈونیشیا: ”ایشین سپرنگ“ کا نیا محاذ
آج جب عوام غربت، بیروزگاری اور محرومی کے ہاتھوں برباد ہیں تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے دنوں میں مزید بغاوتیں ابھریں گی۔
پاکستان: بحرانوں کی آماجگاہ
اس ملک کے معاشی مسائل لمبے عرصے کی ٹھوس منصوبہ بندی پر مبنی معیشت کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ جس میں معیشت کے کلیدی شعبوں کو قومی تحویل میں لے کر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے اور پیداوار سے ترسیل اور کھپت تک منصوبہ بندی کے ذریعے معیشت کو چند سرمایہ داروں کی بجائے وسیع تر عوام کے مفادات کے مطابق چلایا جائے۔














