لانس سیلفا
ڈونلڈ ٹرمپ نے 4 جولائی (امریکہ کا یوم آزادی) کی تعطیلات کا مزہ اس وقت کرکرا کر دیا جب اس نے ایک قانون پر دستخط کیے جسے اس نے بڑے فخر سے ’’ایک عظیم الشان بل‘‘ (A Big Beautiful Bill) قرار دیا۔ یہ شاید امریکہ کی تاریخ میں آج تک کا سب سے نقصان دہ قانون ہے۔ آخری بار اتنا کالا قانون کب منظور ہوا تھا؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا!
اگر اس کا موازنہ رونلڈ ریگن کے پہلے بجٹ، جو کہ 1981ء میں پیش کیا گیا تھا اور امریکی سماجی اور معاشی پالیسی میں ایک اہم قدامت پسندانہ موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، کے ساتھ کیا جائے تو وہ بھی اس کے مقابلے میں معتدل لگتا ہے۔ اس کا موازنہ ماضی کے نسل پرستانہ، جابرانہ اور امیگرنٹس دشمن قوانین‘ جیسے کہ 1950ء کے مک کیرن انٹرنل سکیورٹی ایکٹ، 1924ء کے امیگریشن ایکٹ یا 1850ء کے ’Fugitive Slave Act‘ سے کیا جا سکتا ہے۔
سینیٹ میں 50-50 ووٹ برابر ہونے پر نائب صدر جے ڈی وینس نے فیصلہ کن ووٹ دیا اور اس طرح یہ قانون صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے بمشکل منظور ہوا۔ جبکہ اسے 435 رکنی امریکی ایوان نمائندگان میں صرف 218 ووٹ ملے۔
یہ قانون تقریباً 1000 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کئی خطرناک شقیں شامل کی گئی ہیں۔ جنہیں شاید خود ریپبلکن ارکان نے بھی مکمل طور پر نہیں پڑھا۔ لیکن جلد ہی وہ اس کی حقیقت سے آشکار ہو جائیں گے۔ بہرحال ریپبلکن اسے پڑھنے کے بعد شاید غیر متوقع خوشی سے سرشار ہوں۔ لیکن عام لوگوں کے لیے یہ قانون ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو گا۔ اس تجزیے میں ہم اس قانون کے تین بڑے اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔
امیر مزید امیر ہوں گے…
یہ قانون 2017ء کی ان ٹیکس کٹوتیوں کو مستقل بناتا ہے جو پہلے ہی امیروں کے حق میں تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس قانون کے مکمل اثرات کے تحت غریب ترین 20 فیصد گھرانوں کی آمدنی میں کمی آئے گی جبکہ امیر ترین 0.01 فیصد کو اوسطاً 301,550 ڈالرز سالانہ کا فائدہ ہو گا۔
اس بل کا ٹیکس سے متعلق حصہ موجودہ صورتحال کو کم و بیش برقرار رکھتا ہے۔ تاہم یہ بڑی جائیدادوں کو اسٹیٹ ٹیکس سے مستثنیٰ کرتا ہے اور ریاستی و مقامی ٹیکسوں کی مد میں دی گئی رقوم کو وفاقی ٹیکس سے مزید قابل کٹوتی بناتا ہے۔ اگرچہ محنت کش طبقے کے لیے بظاہر کچھ ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے جس کے بارے میں ٹرمپ اور اس کے ریپبلکن بڑے فخر سے بتائیں گے۔ جیسے ٹِپ پر ٹیکس نہ لگنا، 65 سال یا اس سے زائد کی عمر کے افراد کے لیے اضافی ٹیکس کٹوتیاں اور اوور ٹائم پر ٹیکس سے استثنا۔ لیکن یہ سب عارضی اقدامات ہیں اور 2028ء تک ختم ہو جائیں گے۔
اگر کوئی یہ دلیل مان بھی لے کہ امیروں پر ٹیکس کم کرنے سے سرمایہ کاری اور معاشی ترقی میں اضافہ ہو گا (جسے ’ٹریکل ڈاؤن‘ نظریہ کہا جاتا ہے) تو بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ موجودہ نظام کو تقریباً جوں کا توں برقرار رکھ کر معیشت کو ’راکٹ فیول‘ کیسے فراہم کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ الی نوائے کے ریپبلکن ڈیرن لاہوڈ نے واضح کیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خیالی بات یہ ہے کہ اس سے پیدا ہونے والی معاشی ترقی بجٹ خسارے کو کم کر دے گی اور ٹیکس کٹوتیوں کی ادائیگی از خود ممکن ہو جائے گی۔ یہ ریپبلکن پارٹی کا ایک ایسا عقیدہ بن چکا ہے جو تقریباً مذہبی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ حالانکہ گزشتہ 50 سال کا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ لیکن ریپبلکن پارٹی نے اپنی اس حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے کہ حکومت کو مالی وسائل سے محروم کیا جائے اور مستقبل کی ممکنہ ڈیموکریٹک حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکس بڑھائے ۔
زیادہ تر لوگوں کو اس بل کے ٹیکس سے متعلق حصے سے اپنی زندگی میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہو گا۔ لیکن بل کے دوسرے حصوں کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی۔ خاص طور پر ان حصوں میں جو سماجی تحفظ کے نظام میں کٹوتیوں سے متعلق ہیں۔
غریب مزید غریب ہوں گے…
2017ء کے ٹیکس ریٹس کو مستقل بنانے، فوجی بجٹ کو پہلی بار 1 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کرنے اور ایک وسیع ملک بدری کے نظام کو قائم کرنے کے لیے ٹرمپ اور اس کی ریپبلکن پارٹی نے غریبوں سے وسائل چھین لیے ہیں۔ اس قانون کے تحت اگلے 10 سالوں میں میڈیکیڈ (غریبوں کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہیلتھ انشورنس) سے تقریباً 1 ٹریلین ڈالر اور فوڈ سٹامپ پروگرام (غریب طبقات کو خوراک کی مد میں دی جانے والی حکومتی امداد) اور میڈی کیئر (بوڑھے اور معذور افراد کے لیے میڈیکیڈ سے ملتا جلتا حکومتی منصوبہ) سے تقریباً 500 بلین ڈالر کی کٹوتی کی جائے گی (یعنی سماجی تحفظ کے بنیادی منصوبوں میں سے مجموعی طور پر 1500 ارب ڈالر کی کٹوتی!)۔ یہ امریکی تاریخ میں سماجی تحفظ کے نظام، جو پہلے ہی بہت بری حالت میں ہے، پر سب سے بڑی ضرب ہے۔
جیسا کہ ساشا ابرامسکی نے دی نیشن میں لکھا: ’’اگر آپ سمجھتے تھے کہ ترقی پسند دور، نیو ڈیل اور عظیم سوسائٹی (Great Society) جیسے منصوبوں کے ذریعے جن سماجی تحفظ کے نظاموں کے لیے جدوجہد کی گئی اور انہیں حاصل کیا گیا تھا‘ وہ جدید معاشرے کا ایک مستقل حصہ بن چکے ہیں تو آپ دوبارہ سوچیں۔ اگر آپ کو لگتا تھا کہ ایک دہائی سے زیادہ کی کشمکش کے بعد قابل استطاعت کیئر ایکٹ (Affordable Care Act) کے تحت حاصل کی گئی صحت کی سہولیات اب معاشرتی ڈھانچے کا ایک عام اور قابل قبول حصہ بن چکی ہیں تو آپ سخت غلط فہمی کا شکار تھے۔‘‘
میڈیکیڈ میں کی جانے والی کٹوتیوں کے نتیجے میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے 1 کروڑ 70 لاکھ افراد اپنی صحت کی انشورنس سے محروم ہو جائیں گے۔ تقریباً 30 لاکھ افراد خوراک کی امداد سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ لیکن ان کٹوتیوں کے اثرات اس سے بھی کہیں زیادہ گہرے ہوں گے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں سماجی تحفظ فراہم کرنے والے ہسپتال یا تو اپنی خدمات اور ملازمتوں میں کمی کریں گے یا مکمل طور پر بند ہو جائیں گے۔ قابل استطاعت کیئر ایکٹ کے تحت انشورنس پر دی جانے والی سبسڈی میں کمی سے لوگوں کے ذاتی اخراجات میں اضافہ ہو گا۔ جلد ہی ہر شخص کو اپنی صحت کی انشورنس کی بڑھتی ہوئی لاگت اور کم ہوتی ہوئی سہولیات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ریپبلکن ممبران کے دعوے کے برعکس اس سب کا تعلق نہ تو کسی ’ضیاع اور دھوکہ دہی‘ کو ختم کرنے سے ہے‘ نہ ہی ان پروگراموں کو مستقبل کے لیے محفوظ بنانے سے۔ ان میں سے کئی نے تو یہ کہتے ہوئے کہ اس قانون میں میڈیکیڈ میں کوئی کٹوتی نہیں کی گئی کھلم کھلا جھوٹ بولا ہے۔ حالانکہ بل کے الفاظ اس حوالے سے بالکل واضح ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ قانون دائیں بازو کے مکمل ایجنڈے کی ایک واضح جھلک ہے۔ جس میں امیروں کے لیے ٹیکس چھوٹ، غریبوں کے لیے سماجی تحفظ میں کٹوتیاں اور فوج و دیگر جابرانہ ریاستی اداروں پر دولت کی بارش شامل ہے۔
جیسا کہ لبرل مصنف پال والڈمین نے کہا ہے کہ ’’…جب تارکین وطن کو ان کے بچوں سے جدا کیا جائے گا، غریب خاندان اپنی صحت کی سہولیات سے محروم ہوں گے، نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم ترک کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا، دیہی صحت کے مراکز بند ہو جائیں گے، تحقیقی گرانٹس منسوخ ہوں گی اور شمسی توانائی کے منصوبہ ختم کیے جائیں گے تو وہ (ٹرمپ کے ٹولے والے) آرام سے بیٹھ کر مسکرائیں گے اور کہیں گے کہ ’اسی لیے تو ہم واشنگٹن آئے تھے۔ کل کو کچھ بھی ہوتا رہے‘ ہمارے لیے یہ فائدے کا سودا ہے۔‘‘‘
تارکین وطن کے خلاف جبر کو مزید تیز کیا جائے گا…
اس بل سے سب سے زیادہ فائدہ امیگریشن نافذ کرنے والے نظام کو پہنچے گا۔ جسے آئندہ چار سالوں میں 170 ارب ڈالر سے زائد کی رقم دی جائے گی۔ موازنے کے لیے واضح کر دیں کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) ایجنسی، جس کے نقاب پوش اہلکار سڑکوں اور کام کی جگہوں سے لوگوں کو اغوا کر رہے ہیں، کا موجودہ بجٹ 10 ارب ڈالر سے بھی کم ہے۔
اس گرفتاری، حراست اور ملک بدری کے نظام کے لیے مختص کی گئی رقم ایف بی آئی، جیل خانہ جات، حتیٰ کہ امریکی میرین کور جیسے وفاقی اداروں سے بھی زیادہ ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سال کے آغاز میں لاس اینجلس میں ’ICE‘ کی جانب سے کی گئی کاروائی جیسے آپریشنز نہ صرف لاس اینجلس بلکہ ملک کے ہر بڑے شہر میں بیک وقت پھیلائے جائیں گے۔ اور جب ایک غیر جواب دہ، عسکری طرز کی پولیس فورس پورے ملک میں سرگرم ہو گی تو کوئی بھی‘ حتیٰ کہ امریکی شہری بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
یہ قانون فلوریڈا کے ’ایلیگیٹر الکاٹراز‘ جیسے حراستی مراکز کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے کے لئے 45 ارب ڈالر سے زائد کی رقم خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ان مراکز میں زیادہ تر وہ افراد رکھے جائیں گے جن پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔ لیکن جنہیں امریکہ سے نکالنے کا منصوبہ ہے۔ یوں سماجی ڈھانچے اور شہری آزادیوں پر جو حملہ ہونے والا ہے وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی نژاد امریکیوں کی نظربندی کے بعد اپنی نوعیت کا سب سے بڑا واقعہ ہو گا۔
چونکہ ان میں سے زیادہ تر حراستی مراکز نجی طور پر چلائے جائیں گے اور عجلت میں تعمیر کیے جائیں گے اس لیے بدعنوانی کے امکانات لامحدود ہوں گے۔ ’ضیاع، دھوکہ دہی اور غلط استعمال‘ (جنہیں جواز بنا کر آسٹیریٹی اور نجکاری وغیرہ کی پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں) کی بات کریں تو یہاں ان کی بھرمار ہو گی! یہ مراکز زراعت اور تعمیرات جیسی صنعتوں کے لیے جبری مشقت کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ یہ وہ صنعتیں ہیں جو ویسے بھی تارکین وطن مزدوروں پر انحصار کرتی ہیں۔
جب ریاستیں اور مقامی حکومتیں میڈیکیڈ کی مد میں ملنے والی وفاقی فنڈنگ سے محروم ہو جائیں گی تو ان کے لیے ایک ہی راستہ باقی رہ جائے گا۔ اور وہ یہ ہے کہ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ’ICE‘ میں شامل یا اس کے تابع کر نے کے بدلے وفاق سے پیسے لیے جائیں۔ اور اگر دیہی ہسپتال بند ہو جاتے ہیں تو ریپبلکن پارٹی والوں کو امید ہے کہ ’ICE‘ کی جیلیں ان کی جگہ مقامی معیشت میں روزگار فراہم کریں گی اور یوں یہ قید خانے مقامی سیاست اور معیشت کا مستقل حصہ بن جائیں گے۔
فی الحال ’بِگ بیوٹی فل بل‘ عوامی رائے کے معتبر پیمانوں کے مطابق انتہائی غیر مقبول ہے۔ درحقیقت یہ 1990ء کی دہائی کے بعد کانگریس میں پیش ہونے والا دوسرا سب سے غیر مقبول بل ہے (پہلا بل ٹرمپ کی جانب سے 2017ء میں افورڈیبل کیئر ایکٹ کو منسوخ کرنے کی کوشش پر مبنی تھا)۔ چونکہ اس بل پر ووٹنگ مکمل طور پر پارٹی لائن پر ہوئی، یعنی کسی بھی ڈیموکریٹ نے نہ ایوانِ نمائندگان میں اور نہ ہی سینیٹ میں اس کے حق میں ووٹ دیا۔ لہٰذا اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری ریپبلکن پارٹی پر عائد ہو گی۔
ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ اس بل کی غیر مقبولیت اور اس کے منفی اثرات انہیں 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے ایک یا دونوں ایوانوں میں کامیابی دلائیں گے۔ لیکن نومبر 2026ء ابھی کافی دور ہے!
مزید یہ کہ ڈیموکریٹس خود بھی بالکل بے قصور نہیں ہیں۔ ان کا اس بل پر موقف صرف اس پہلو پر مرکوز رہا کہ یہ میڈیکیڈ میں کٹوتی کر کے امیروں کو ٹیکس میں چھوٹ دیتا ہے۔ یہ بات درست ہے۔ لیکن 2023ء اور 2024ء میں کووڈ وبا کے بعد ’معمول کی بحالی‘ کی کوشش میں بائیڈن انتظامیہ نے بھی میڈیکیڈ کی توسیع کو ختم کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں 1 کروڑ 60 لاکھ افراد اس پروگرام سے محروم ہو گئے تھے۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ کملا ہیرس کو 2024ء کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
ڈیموکریٹس نے ’ICE‘ اور اس کے حراستی نظام کی توسیع کی کھل کر مذمت کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ کیونکہ یہ وہی جماعت ہے جو گزشتہ چند برسوں سے امیگریشن کے حق میں ہر قسم کے موقف سے پیچھے ہٹتی رہی ہے۔ یاد رہے کہ 48 ڈیموکریٹک ارکانِ کانگریس اور 12 سینیٹرز نے ریپبلکن پارٹی کے ساتھ مل کر ’لیکن رائلی ایکٹ‘ کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ یہ ایکٹ ’ICE‘ کو لوگوں کو گرفتار کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ اسی طرح 75 ڈیموکریٹس نے ایک قرارداد کی حمایت کی جس میں ’ICE‘ کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔
ان تمام باتوں کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو ڈیموکریٹس، نہ عدالتیں اور نہ ہی دیگر ادارے ہمیں بچانے آ رہے ہیں۔ درحقیقت ان میں سے بیشتر مجبوری یا بدعنوانی کی وجہ سے ٹرمپ کی آسٹیریٹی پر مبنی آمریت کو ’نیا معمول‘ تسلیم کر چکے ہیں۔ محنت کش طبقہ اور سماجی تحریکیں صرف خود پر انحصار کر کے ہی امریکہ کو مزید بربادی کی طرف جانے سے روک سکتی ہیں۔
