بابر پطرس

سرمایہ داری کے مسلسل معاشی بحران کے حالات میں مروجہ دائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں کی زوال پذیری اور بائیں بازو کی اصلاح پسند حکومتوں کی ناکامیوں نے پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر سیاسی خلا کو جنم دیا ہے۔ اس سیاسی خلا کی وسعت امریکہ سے افریقہ اور ایشیا سے یورپ تک ہے۔ صرف بنگلہ دیش میں گزشتہ ایک ہفتے کے اندر 28 سیاسی جماعتیں وجود میں آئی ہیں۔ جس سے عوامی بے چینی اور اضطراب کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ آج ہر ملک اور ہر خطہ تبدیلی کا خواہاں ہی نہیں بلکہ اس کے لیے تڑپ رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا پسماندہ معیشتیں‘ ان میں کم و بیش ہر الیکشن میں تبدیلی کے نعرے کو پذیرائی مل رہی ہے۔ حکمران طبقے کی پرانی سیاسی شکلیں عوام کو مایوس کر کے نئی جماعتوں کے لیے جگہ خالی کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ سارا عمل نا گزیر ہے۔ چونکہ فطرت میں خلا کی گنجائش نہیں ہوتی اور انسانی سماج بھی انہی عناصر سے مرکب ہے لہٰذا سماج میں بھی لمبے عرصوں تک سیاسی خلا قائم نہیں رہ سکتا۔ سیاسی معاشیات کے جاری عوامل کے تحت عوامی شعور کے اندر جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اگر انہیں انقلابی سمت یا جہت نہیں ملتی تو ناگزیر طور پر اصلاح پسندی کی نئی شکلیں خالی جگہ کو بھرنے کی طرف جائیں گی۔ یا جیسا کہ ہم بہت سے ممالک میں دیکھ رہے ہیں کہ دائیں بازو کے زیادہ سخت گیر اور رجعتی رجحانات کا ابھار ہو سکتا ہے۔

امریکہ میں ایلون مسک کا نئی پارٹی بنانے کا اعلان، برطانیہ میں زہرہ سلطانہ اور جیرمی کوربن کا لیبر پارٹی کی موجودگی میں ’بائیں بازو‘ کی نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کا منصوبہ اور اٹلی، فرانس، ترکی، بنگلہ دیش، کینیا، مالٹا، بولیویا اور سلووینیا وغیرہ میں گزشتہ چند مہینوں میں درجنوں نئی سیاسی جماعتیں وجود میں آنا بے معنی و بے سبب نہیں ہے۔ ایلون مسک کی ’امریکہ پارٹی‘ محض ایک دولت مند شحض کی امریکی صدر کے ساتھ مخاصمت یا ذاتی عناد کی بنیاد پر نہیں بن رہی۔ اسی طرح برطانیہ میں جیرمی محض لیبر پارٹی سے نکالے جانے کے دکھ یا ردعمل کے طور پر نئی جماعت نہیں بنا رہا۔ بلکہ ان سیاسی جماعتوں کی تشکیل کی بنیادیں معروضی حالات میں بھی موجود ہیں۔ یہ عوام میں مروجہ پالیسیوں، طریقوں اور حالات کے خلاف پائی جانے والی نفرت اور بے چینی کا اظہار ہے۔ جس کا سبب محض کوئی مخصوص حکومت یا کسی مخصوص حاکم کی شخصیت نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام کی تاریخی متروکیت ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سرمائے کا نظام ترقی یافتہ ملکوں کی وسیع آبادی کو بھی بہتر زندگی کے وسائل مہیا کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ مثلاً نیویارک میں ظہران ممدانی جیسے ’سوشلسٹ‘ کا طبقاتی مطالبات اور نعروں کیساتھ شہر کے میئر کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر پرائمری الیکشن جیت جانا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے (آنے والے دن ہی واضح کریں گے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی مشینری اسے سبوتاژ کرنے میں کس حد تک جاتی ہے)۔ ظہران کے مدمقابل تقریباً دس امید اوار تھے۔ جن میں نیو یارک کا سابق گورنر اینڈریو کومو بھی شامل تھا۔ کومو جیسے بااثر اور تجربہ کار امیدوار کو شکست دینا آسان نہیں تھا۔ لیکن ظہران کی عوامی حمایت کومو سے کہیں زیادہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ظہران اگرچہ ایک اصلاح پسندانہ انداز میں ہی سہی لیکن ان عوامی مسائل کے حل کی بات کرتا ہے جن سے محنت کش طبقہ براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ یہ ایسی باتیں ہیں جنہیں مروجہ سیاست سے ویسے ہی غائب کر دیا گیا ہے۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور ایک نوکری میں گزارا کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ایسے میں ظہران نے مفت بس سروس کی سہولت، عوامی گروسری سٹورز، مکانوں کے کرایوں کو منجمد کرنے، دو لاکھ نئے فلیٹ تعمیر کرنے، بچوں کی بہتر دیکھ بھال کے مراکز قائم کرنے اور کم از کم 30 ڈالرز فی گھنٹہ کی اجرت کا منشور دیا ہے (یہ الگ بحث ہے کہ سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے ایسے وعدوں کو کس حد تک پورا کیا جا سکتا ہے اور ایسی کوششوں کے مضمرات کیا ہو سکتے ہیں)۔ یہ ایک ترقی یافتہ ملک کے ترقی یافتہ شہر کی صورت حال ہے جس کی چکا چوند میں دشت افلاس کی بنجر زمینیں آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح کی محرومیوں میں ظہران جیسے سیاست دان ابھر کر سامنے آتے ہیں اور نئی سیاسی جماعتوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ انقلابی قیادت کی عدم موجودگی میں اصلاح پسند اس خلا کو بھرتے ہیں جبکہ پچھلی کئی دہائیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ ا صلاح پسندی کی ہر شکل ناکام و نامراد ہو چکی ہے۔ اس میں 2008ء کے بعد ابھرنے والے ’’نئے‘‘ اصلاح پسند رجحانات بھی شامل ہیں۔ ایسے میں مارکس وادیوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ سیاسی افق پر ابھرنے والے نئے سیاسی رجحانات کا تجزیہ کرتے ہوئے ان حالات کی وضاحت کریں جن میں وہ جنم لے رہے ہیں۔ یعنی دائیں اور بائیں بازو کی طاقتور بورژوا جماعتوں کی موجودگی میں نئی پارٹیوں کے بننے اور کئی صورتوں میں غیر متوقع طور پر مقبولیت حاصل کرنے کے راستے کیونکر ہموار ہو رہے ہیں۔ اس سے اہم مارکسی تناظر کی روشنی میں یہ وضاحت کرنا ہے کہ سرمایہ داری کو اکھاڑے اور انقلابی سوشلسٹ نظام سے بدلے بغیر یہ رجحانات آخرکار عام لوگوں کو مایوس ہی کریں گے۔

اس پس منظر میں برطانیہ کی سیاسی اور سماجی پڑتال کرنا بھی ضروری ہے۔ یورپ کے بیشتر دوسرے ممالک کی طرح وہاں بھی اجرتوں میں کمی، بیروزگاری، مہنگائی، ہاؤسنگ کا بحران اور گرتا ہوا معیار زندگی عوام میں غم و غصہ کو ہوا دے رہا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کی حکومت کے بعد موجودہ لیبر حکومت کی معاشی پالیسیوں سے بھی عوام مایوس ہیں۔ سٹارمر جدید تاریخ میں سب سے تیزی سے غیر مقبول ہونے والا برطانوی وزیر اعظم ہے۔ اس لیے ایک نئی عوامی پارٹی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ جیرمی کوربن یقینا انقلابی سوشلزم کا نمائندہ نہیں ہے بلکہ موجودہ سرمایہ دارانہ آرڈر میں ہی جوڑ اور پیوند لگانے کا آرزو مند ہے۔ تاہم ایک رائے شماری کے مطابق دس فیصد ووٹروں نے اس کے نئی جماعت بنانے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ جبکہ ’YouGov‘ کے ایک سروے میں 18 فیصد ووٹروں نے اس نئی پارٹی کو ووٹ دینے پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بغیر کسی انتخابی مہم میں اترے، بغیر کسی منشور اور سیاسی سرگرمی کے‘ ووٹروں کی اتنی بڑی تعداد کا مائل ہونا یقینا غیر معمولی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سماج تبدیلی کے لیے کس قدر تڑپ رہا ہے کہ محض اعلان پر ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے نئی پارٹی کی حمایت شروع کر دی ہے۔ یقیناً جیرمی کوربن کی جانب سے عوامی ایشوز پر مسلسل بات کرنا، سامراجی جنگوں کی مخالفت اور غزہ اور تارکین وطن وغیرہ کے معاملات پر ترقی پسندانہ موقف اپنانا برطانوی عوام کے سامنے ہے۔ سرمائے کے کاسہ لیس اس پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’چند لوگوں کی بجائے سب کے لیے‘‘ کے نعرے کے باوجود وہ ٹوری پارٹی کے بورس جانسن سے ہار گیا تھا۔ اگرچہ کوربن قیادت کی موضوعی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ بریگزٹ کے اُس ماحول میں قوم پرستی کو بھی خوب استعمال کیا گیا تھا۔ عوامی رائے ہموار کی گئی تھی کہ اگر برطانیہ یورپی یونین سے الگ نہیں ہوا تو باہر کے لوگ‘ مقامی لوگوں کے روزگار کو چھین لیں گے۔ اس واردات کے باوجود جیرمی نے موجودہ وزیر اعظم کئیر سٹارمر کے مقابلے 32 لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ یوں لیبر سے شدید عوامی مایوسی اور بدگمانی کے موجودہ حالات میں آنے والے دنوں میں اس کی پارٹی کے بڑے ابھار کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

دراصل یہ حالات جن میں نئی سیاسی پارٹیوں یا رجحانات کا جنم ہو رہا ہے محض روایتی سیاسی جماعتوں کی عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے مرہون منت نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے پیچھے سرمایہ داری کا نامیاتی بحران کارفرما ہے۔ جس کو کسی ’عقل مند‘ حکمران کی ذاتی خواہشات یا ٹرمپ کے ’’اے بگ بیوٹی فل بل‘‘ جیسی پالیسیوں کے ذریعے حل کر کے لوگوں کی زندگیوں کو بہترنہیں کیا جا سکتا۔ ان پارٹیوں کی ضرورت اور گنجائش کا پیدا ہونا نشاندہی کر رہا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی اب سرمایہ داری کے تحت زندگی گزارنا آسان نہیں رہا ہے۔ یہ جماعتیں عام لوگوں کے عتاب کی تپش اور حرارت محسوس بھی کر رہی ہیں اور اس راز کو آشکار بھی کر رہی ہیں کہ اب دنیا کو کہنہ مشق نظام سے نہیں چلایا جا سکتا۔ لیکن اسی نکتے میں ان کی ناگزیر ناکامی و زوال کی وجوہات بھی پنہاں ہیں۔ ان میں سے کچھ اپنے نظریاتی ابہام کے تحت ایک ڈوبتے بیڑے، جس کے انجن ناکارہ ہو چکے ہیں، کو ملاح کی تبدیلی کے ذریعے پار لگانے کے خواہش مند ہیں۔ جبکہ دانستہ طور پر ’’تبدیلی‘‘ اور انقلاب کے نعروں کے ذریعے محنت کش عوام سے کھلواڑ کرنے والے بھی کم نہیں ہیں۔ جبکہ مسئلہ محض ’کپتان‘ کی تبدیلی کا نہیں رہا بلکہ بیڑے کے انجنوں کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اس کا غرق آب ہونا طے ہے۔ انسانی سماج کے لیے اس تباہی کا مطلب بربریت ہے۔