بابر پطرس
جون 2025ء کے آخر سے مون سون کی شدید بارشوں اور کلاوڈ برسٹس (بادل پھٹنے کے واقعات) نے ایک بار پھر پاکستان کو ایک تباہ کن ماحولیاتی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ پختونخوا خصوصاً بونیر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ لیکن پنجاب، کشمیر، سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد میں بھی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ ان سطور کی تحریر کے وقت بالائی و وسطی پنجاب کے بیشتر اضلاع سنگین سیلابی صورتحال سے دوچار ہو چکے ہیں۔ ان واقعات میں سینکڑوں افراد موت کا لقمہ بن گئے ہیں‘ ان گنت لاپتہ ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ سکولوں کی عمارات اور صحت کے مراکز سمیت سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے ہیں۔ ہزاروں گھر برباد ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیہات مکمل طور سے نیست و نابود ہو گئے ہیں۔ پختونخوا کی تحصیل چغرزئی کے گاؤں بشونئی میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ تحصیل دگر میں پیر بابا اور مالک پور کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ پہلے سے طویل معاشی بحران سے دوچار ایک پسماندہ ملک کے لیے یہ کوئی چھوٹے نقصانات نہیں ہیں۔
26 اگست کی شدید بارش اور بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا پانی دریائے توی، چناب، راوی اور ستلج میں بدترین طغیانی کا سبب بنے گا۔ جس سے ایک نیا انسانی بحران جنم لے گا۔ اس کا نشانہ ایک بار پھر مہنگائی اور بیروزگاری کے ستائے ہوئے مزدوروں اور کسانوں کی وہ پرتیں بنیں گی جن کا اس ماحولیاتی تباہی پیدا کرنے میں حصہ صفر کے برابر ہے۔ اس لیے یہ بربادیاں سائنسی تجزیے کی متقاضی ہیں تاکہ محرکات اور عوامل کی جانچ پڑتال کر کے ان ذمہ داران کے چہروں سے نقاب ہٹایا جا سکے جن کے کالے کرتوتوں کی بدولت یہ المیے پیدا ہوتے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور قحط سالیوں جیسی تباہیوں کو قدرتی آفات کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے گویا ان کے رونما ہونے میں سماج کی بالائی پرتوں کے کسی سرمایہ دار یا صنعت کار کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ٹی وی کی سکرینوں پر بات ہوتی ہے تو بڑی مکاری سے ان آفات کو ’قدرت کا عذاب‘ کہہ کر اپنا دامن بچا لیا جاتا ہے یا بات کو درختوں کی کٹائی اور برسر اقتدار جماعت یا حکومت کی نااہلی تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ انفراسٹرکچر کی زبوں حالی نے نقصانات کو شدید تر کر دیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایسی بربادیاں محض قدرتی آفات نہیں ہیں بلکہ سرمایہ داری کی منافع خوری کی بے لگام ہوس اور اس کے متروک ہو جانے کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
ان آفات کی بڑی وجہ کاربن کے اخراج کا سبب بننے والی صنعتیں اور اس اخراج کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں (بنیادی طور پر کرہ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت) ہیں۔ اس کی بدولت ہمالیہ، ہندو کش اور قراقرم کے برف پوش پہاڑ اور دیگر گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ موسم اپنی فطری ترتیب کھو چکے ہیں اور یہ سب کوئی اچانک رونما ہونے والی تبدیلی نہیں ہے۔ نہ یک دم کوئی قہر برپا ہو رہا ہے۔ بلکہ یہ منافع حاصل کرنے کے جنون کا حتمی نتیجہ ہے۔ جس میں فطرت کو زبردست نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ گارڈین نے 2025ء میں رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ دنیا کے محض 36 فوسل فیول پروڈیوسرز نے پیدا کیا ہے۔ ان میں سعودی آرامکو، ایکسن موبیل، شیل، کول انڈیا اور چینی کمپنیاں وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں صرف 2023ء کے ایک سال میں 20 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی ذمہ دار رہی ہیں۔
سرمایہ داری میں زمین، آسمان، دریا، صحرا حتیٰ کہ انسانی محنت کی قوت تک سب کچھ اس سرمایہ دارانہ اجارہ داری کے تابع ہے جو صرف منافع اور شرح منافع کو نظر میں رکھتی ہے۔ ماحولیات، انسانی جان یا زندگی‘ حتیٰ کہ کرہ ارض کی بقا اس کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ سرمایہ دار قدرتی وسائل کو اپنے طبقاتی مفادات کے لیے حسب ضرورت استعمال میں لاتے ہیں۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی اس کی ہولناک مثال ہے۔ محض یورپ میں سالانہ 8.7 ملین ٹن ٹشو پیپر استعمال ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں پروکٹر اینڈ گیمبل اور کمبرلی کلارک جیسی کمپنیاں سالانہ 87 لاکھ درخت کٹوا دیتی ہیں۔ یہ ابھی صرف ٹشو پیپر بنانے کی غرض سے کاٹے جاتے ہیں۔ ان میں فرنیچر یا دیگر تعمیراتی استعمال کے لیے ہونے والی کٹائی شامل نہیں ہے۔
پاکستان کے سرمایہ داروں اور ٹمبر مافیہ نے گزشتہ پچاس سالوں میں جنگلات کے 30 سے 35 فیصد حصے کا صفایا کر دیا ہے۔ آخری برفانی دور کے بعد قابل رہائش زمین پر کم و بیش 70 فی جنگلات موجود تھے۔ لیکن اب یہ عالم ہے کہ اس کا ایک تہائی حصہ کاٹ ڈالا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ’نئے جہانوں‘ کی تلاش میں جانے والا ایک خلائی مشن تقریباً 300 سے 400 ٹن تک کاربن خارج کرتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اکیلے سپیس ایکس نے 2024ء میں 104 فضائی راکٹ لانچ کیے ہیں (جن کا مقصد خلائی تحقیق و تسخیر نہیں بلکہ منافع خوری کے نئے طریقے تلاش کرنا ہے)۔ اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ داری کی صنعت کاری اور ایندھن کے جلاؤ نے ماحول کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ یوں موسمیاتی تبدیلیاں، غیر ہموار ترقی اور کمزور انفراسٹرکچر نے نئے انسانی المیوں کو جنم دیا ہے۔ خود اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں تسلیم کیا گیا ہے کہ کرہ ارض کے حالات یکسر بدل گئے ہیں۔ بارشیں ماضی کی نسبت زیادہ غیر متوقع، خطرناک اور شدید ہو چکی ہیں۔ جس کی وجہ سے زندگی کو سخت خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اس لیے موجودہ ’قدرتی آفات‘ کی نوعیت ماضی کے مقابل بالکل مختلف ہے۔
سیلاب اور طوفان کوئی نئے مظاہر نہیں ہیں۔ ماضی کے سیلابوں نے کئی ایک تہذیبوں کا خاتمہ بھی کیا ہے۔ لیکن آج کی آفات کی شدت، رفتار، پھیلاؤ اور دائرہ اثر پہلے سے کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ انسانی تاریخ کے ماضی بعید کے ادوار میں فطرت کی ان منہ زور قوتوں کو اس عہد کے دستیاب سائنسی علوم کے مطابق ہی تسخیر کیا جا سکتا تھا۔ وہ انسانی تاریخ میں علوم اور تحقیق کی شیر خواری کی عمر تھی۔ لہٰذا اس حالت میں ان تہذیبوں کا مٹ جانا یا آبادیوں کا ہجرت کر جانا کوئی بہت اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ آج سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور تکنیک اس سطح پر ہے جہاں ان بے لگام فطری قوتوں کو قابو یا معتدل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ اجتماعی انسانی وراثت سرمایہ داروں کی لونڈی بن چکی ہے۔ جس کا مقصد حکمران طبقات کے منافعوں میں اضافے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی سبب موسموں کی قدرتی ترتیب اور ان کا پیٹرن سرمایہ داری کی منافع خوری کی نذر ہو کر بدل چکا ہے۔ طبقاتی نظام نے قدرتی وسائل اور فطری نعمتوں کو نجی ملکیت کی شے بنا دیا ہے۔ اس کے لیے ہر جنس‘ ہر شے منافع کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اسی پاگل پن میں جنگل کے جنگل کاٹے جا رہے ہیں۔ زہریلے مادے صاف پانیوں میں بہائے جا رہے ہیں۔ فوسل فیول کے استعمال سے ٹنوں کے حساب سے زہریلی گیسیں فضا میں چھوڑی جا رہی ہیں اور یوں فطرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اس کے ردعمل میں فطرت اپنے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کا بدلہ وباؤں، طوفانوں، خشک سالیوں اور سیلابوں کی صورت لی رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی بدولت گلیشیرز پگھل رہے ہیں۔ سموگ جیسے عذاب اور کورونا جیسی وبائیں پھوٹ پڑتی ہیں۔ مختصر وقت میں شدید بارش برس جاتی ہے۔ آج کے سیلاب محض دریاؤں، جھیلوں اور ندی نالوں کے بند ٹوٹ جانے کی بدولت نہیں آ رہے بلکہ پہاڑی سلسلوں میں برف کے تیز پگھلاؤ اور اچانک بادلوں کے پھٹ جانے سے جنم لے رہے ہیں۔ یہ سب براہ راست گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے۔ اور گلوبل وارمنگ منڈی کے نظام کی منافع خوری کے ساتھ منسلک ہے۔ لہٰذا بڑھتے درجہ حرارت، ٹوٹتے ایکو سسٹم، سیلاب، قحط، طوفان، وبائیں اور غیر معمولی بارشیں نہ صرف نسل انسان بلکہ ساری زندگی کی بقا کے لیے اس وقت تک خطرہ ہیں جب تک سامراجی سرمایہ داری کا نظام قائم ہے۔
