ولادیمیر لینن
ترجمہ: عمران کامیانہ
(مورخہ 17 جنوری 1915ء کو محنت کش خواتین سے متعلقہ ایک پمفلٹ پر تبادلہ خیال کے سلسلے میں لکھا گیا۔ اگرچہ یہ پمفلٹ کبھی شائع نہ ہو سکا۔)
انیسا آرمنڈ کے نام
پیاری دوست،
میرا بھرپور مشورہ ہے کہ تم پمفلٹ کا خاکہ ہر ممکن حد تک تفصیل سے تحریر کرو۔ ورنہ بہت سی باتیں مبہم رہ جائیں گی۔
فی الوقت لازم ہے کہ میں ایک نکتے کے بارے میں اپنی رائے یہاں پیش کروں:
میری صلاح ہے کہ تم ”(خواتین کے لئے) محبت کی آزادی کا مطالبہ“ بالکل نکال دو۔
یہ دراصل ایک پرولتاری نہیں بلکہ بورژوا مطالبہ ہے۔
آخر اس جملے سے مراد کیا ہے؟ اور کیا مراد لی جا سکتی ہے؟
1۔ محبت کے معاملات میں مادی (مالی) حساب کتاب سے آزادی؟
2۔ اسی طرح مادی فکروں سے آزادی؟
3۔ مذہبی تعصبات سے آزادی؟
4۔ باپ یا خاندان وغیرہ کی پابندیوں سے آزادی؟
5۔ ”سماج“ کے تعصبات سے آزادی؟
6۔ اپنے (کسان، پیٹی بورژوا یا بورژوا دانشورانہ) ماحول یا حالات کی سختی و تنگی سے آزادی؟
7۔ قانون، عدالت اور پولیس کی زنجیروں سے آزادی؟
8۔ محبت میں سنجیدگی کے عنصر سے آزادی؟
9۔ بچے کی پیدائش سے آزادی؟
10۔ زنا یا بدکاری (Adultery) کی آزادی؟ وغیرہ۔
میں نے کئی پہلو گنوائے ہیں (ظاہر ہے کہ سارے نہیں)۔ تمہاری مراد یقینا نمبر 8 تا 10 سے نہیں ہے۔ بلکہ نمبر 1 تا 7 یا ان سے ملتی جلتی چیزیں تمہارے ذہن میں ہیں۔
لیکن پھر 1 تا 7 کے لئے کوئی دوسرے الفاظ استعمال کیے جانے چاہئیں۔ کیونکہ ”محبت کی آزادی“ یہ خیال بالکل ٹھیک طور سے بیان نہیں کرتی۔
اور عوام، جو اس پمفلٹ کے قاری ہیں، عمومی اور ناگزیر طور پر ”محبت کی آزادی“ سے نمبر 8 تا 10 جیسی باتیں سمجھیں گے۔ چاہے تمہارا یہ ارادہ یا نیت نہ بھی ہو۔
کیونکہ جدید معاشرے میں سب سے زیادہ بڑبولے، شور و غل کرنے والے اور ”سب سے نمایاں“ طبقات کے نزدیک ”محبت کی آزادی“ سے مراد نمبر 8 تا 10 جیسی چیزیں ہی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ ایک پرولتاری نہیں بلکہ بورژوا مطالبہ بن جاتا ہے۔
پرولتاریہ کے لیے نمبر 1 اور 2 سب سے زیادہ اہم ہیں۔ اور پھر نمبر 1 تا 7۔ اور یہ چیزیں دراصل ”محبت کی آزادی“ نہیں ہیں۔
اصل بات یہ نہیں کہ تم اس سے ذاتی طور پر کیا ”مراد“ لیتی ہو۔ اصل بات محبت کے معاملات میں طبقاتی تعلقات کی معروضی منطق ہے۔
دوستانہ مصافحہ!
و۔ ا۔
