لیون ٹراٹسکی
ترجمہ: عمران کامیانہ
زیر نظر مضمون لیون ٹراٹسکی نے اکتوبر 1939ء میں تحریر کیا۔ جلاوطنی میں تقریباً گیارہ سال گزارنے کے بعد یہ ٹراٹسکی کی زندگی کے آخری ایام بنتے ہیں۔ تقریباً اسی عرصے میں سٹالن اور ہٹلر‘ پولینڈ پر حملہ کر کے اسے آپس میں تقسیم کر چکے تھے۔ یوں دوسری عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی لیکن باقی ماندہ یورپ اور دنیا کے دوسرے خطوں میں ابھی پوری طرح نہیں پھیلی تھی۔ اس پیچیدہ صورتحال میں ٹراٹسکی کا یہ مضمون صرف سوویت یونین کی نوعیت کے سوال پر روشنی نہیں ڈالتا بلکہ دوسرے حوالوں سے بھی حسِ تناسب کیساتھ تجزئیے و تناظر کی وسعت، انقلابی حکمت عملی کی گہرائی اور استدلال کے جدلیاتی طریقہ کار کا شاہکار ہے۔ بریکٹوں میں دیا گیا تمام متن مترجم کی جانب سے وضاحت کی غرض سے شامل کیا گیا ہے۔
تحلیلِ نفسی اور مارکسزم
کچھ ساتھی یا سابقہ ساتھی، جیسے کہ برونو آر، چوتھی انٹرنیشنل کی پچھلی بحثوں اور فیصلوں کو فراموش کر چکے ہیں اور اب میری سوویت ریاست کے بارے میں ذاتی رائے کو تحلیل نفسی (Psychoanalysis) کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’’چونکہ ٹراٹسکی نے انقلابِ روس میں حصہ لیا تھا‘ اس لیے اس کے لیے مزدور ریاست کے تصور کو ترک کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب اپنی پوری زندگی کے مقصد سے انکار کرنا ہو گا!‘‘، وغیرہ وغیرہ۔ میرا خیال ہے کہ بوڑھا فرائیڈ بہت باریک بین قسم کا انسان تھا اور اسے موقع ملتا تو اس قسم کے نفسیاتی تجزیہ کاروں کے کان ضرور کھینچتا۔ ظاہر ہے کہ میں خود ایسی حرکت کرنے کا خطرہ مول نہیں لوں گا۔ لیکن میں اپنے ناقدین کو پورے اعتماد سے یقین دلاتا ہوں کہ معاملے کو جذباتیت اور یا ذاتی خواہشات کی نظر سے میں نہیں بلکہ وہ دیکھ رہے ہیں۔
ماسکو کا طرزِ عمل، جو پستی اور بے شرمی کی تمام حدوں کو عبور کر چکا ہے، ہر پرولتاری انقلابی کے دل میں ایک فوری بغاوت کو جنم دیتا ہے۔ بغاوت‘ رد اور انکار کی چاہت پیدا کرتی ہے۔ جب فوری عملی اقدام کی قوتیں موجود نہ ہوں تو بے تاب انقلابی اکثر مصنوعی طریقوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اسی سے انفرادی دہشت گردی وغیرہ کی حکمت عملی جنم لیتی ہے۔ لیکن زیادہ تر صورتوں میں لوگ سخت زبان، گالی گلوچ اور لعنت ملامت کا سہارا لیتے ہیں۔ ہمارے زیرِ بحث معاملے میں بھی کچھ ساتھی واضح طور پر ’’اصطلاحاتی دہشت‘‘ کے ذریعے تلافی تلاش کرنے کے رجحان میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم اگر اس زاویے سے بھی دیکھا جائے تو (سوویت) بیوروکریسی کو ایک طبقہ قرار دینا بے معنی اور فضول بات ہے۔ اگر بوناپارٹ طرز کے یہ اوباش واقعی ایک طبقہ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ تاریخ کا اسقاطِ حمل نہیں بلکہ قابلِ بقا اولاد ہیں۔ اگر ان کی لوٹ مار پر مبنی پرطفیلیت کو ’’استحصال‘‘ کے سائنسی مفہوم میں لیا جائے تو اس کا مطلب ہو گا کہ یہ بیوروکریسی ایک حکمران طبقے کے طور پر (منصوبہ بند معیشت کے) مخصوص معاشی نظام کے لیے ناگزیر تاریخی مستقبل کی حامل ہے۔ بے صبر بغاوت مارکسی ڈسپلن سے آزاد ہو کے اسی نتیجے کی طرف لے جا سکتی ہے!
اگر کوئی جذباتی مکینک کسی ایسی گاڑی کا معائنہ کرے جسے کچھ بدمعاش‘ پولیس سے بھاگتے ہوئے خراب راستے پر دوڑاتے رہے ہوں اور اس کا فریم ٹیڑھا ہو چکا ہو، پہیے بگڑ چکے ہوں اور انجن جزوی طور پر ناکارہ ہو چکا ہو تو وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہو گا: ’’یہ گاڑی تو نہیں ہے۔ خدا جانے تم لوگ یہ کیا چیز اٹھا لائے ہو۔‘‘ اس طرح کی تشخیص میں کوئی فنی یا سائنسی قدر نہیں ہو گی۔ لیکن یہ مکینک کا ان بدمعاشوں کی کارستانی پر ایک جائز اور فطری ردِعمل ضرور ہو گا۔ لیکن فرض کریں کہ مکینک کو اب اسی کار کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا ہے جسے اس نے ’’خدا جانے کیا چیز‘‘ کہا تھا۔ اس صورت میں وہ سب سے پہلے تسلیم کرے گا کہ اس کے سامنے خراب یا ناکارہ حالت میں سہی لیکن ایک گاڑی ہی کھڑی ہے۔ وہ تعین کرے گا کہ کون سے پرزے ابھی قابلِ استعمال ہیں اور کون سے ناقابلِ مرمت۔ تاکہ کام کا آغاز کیا جا سکے۔ ایک طبقاتی شعور رکھنے والا مزدور بھی سوویت یونین کی طرف ایسا ہی رویہ اپنائے گا۔ اسے یہ کہنے کا پورا حق ہے کہ بیوروکریسی کے بدمعاشوں نے مزدور ریاست کو ’’خدا جانے کیا چیز‘‘ بنا ڈالا ہے۔ لیکن جب وہ اس زوردار جذباتی ردِعمل سے آگے بڑھ کے سیاسی مسئلے کا حل تلاش کرے گا تو اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کے سامنے ایک بگڑی ہوئی شکل میں سہی لیکن مزدور ریاست ہی موجود ہے۔ جس کا معاشی انجن خراب ہو چکا ہے۔ لیکن وہ اب بھی چل رہی ہے اور کچھ پرزوں کی تبدیلی سے اسے مکمل طور پر بحال کیا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے یہ صرف ایک تمثیل ہے۔ لیکن غور کرنے کے لائق ضرور ہے۔
’’ایک ردِانقلابی مزدور ریاست‘‘
کچھ آوازیں بلند ہو رہی ہیں: ’’اگر ہم سوویت یونین کو ایک مزدور ریاست تسلیم کرتے رہے تو ہمیں ایک نیا زمرہ یا کیٹیگری قائم کرنی پڑے گی: ’’ردِانقلابی مزدور ریاست۔‘‘ یہ دلیل ایک عمدہ پروگراماتی اصول کو فضول اور عامیانہ‘ بلکہ نفرت انگیز حقیقت کے مقابل لا کر ہمارے تخیل کو چونکانے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن کیا ہم نے 1923ء کے بعد سے ہر روز نہیں دیکھا کہ سوویت ریاست عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ ردِ انقلابی کردار ادا کر رہی ہے؟ کیا ہم چینی انقلاب، 1926ء میں برطانیہ کی عام ہڑتال اور اب ہسپانوی انقلاب کے تازہ ترین تجربے کو بھول چکے ہیں؟
لیکن یہ ناقدین غالباً یہ ’’کیٹیگری‘‘ بھول گئے ہیں کہ دو مکمل طور پر ردِانقلابی مزدور انٹرنیشنلیں بھی موجود ہیں۔ فرانس، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک کی مزدور یونینیں اپنی اپنی بورژوازی کی ردِ انقلابی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم انہیں ’’ٹریڈ یونین‘‘ کہنا ترک نہیں کر دیتے۔ نہ ہی ان کے ترقی پسند اقدامات کی حمایت سے گریز کرتے ہیں۔ نہ ہی ہم بورژوا حملوں کے خلاف ان کے دفاع سے انکار کرتے ہیں۔ تو پھر یہ طریقہ کار ایک ردِانقلابی مزدور ریاست کے معاملے میں اپنانا کیوں ناممکن ہے؟ آخری تجزئیے میں مزدور ریاست ایک ایسی ٹریڈ یونین ہی ہوتی ہے جس نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہو۔ ان دونوں صورتوں میں ہمارے رویے کے فرق کو اس سادہ حقیقت سے سمجھا جا سکتا ہے: چونکہ ٹریڈ یونینوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے اس لیے ہم انہیں محض اپنے پروگرام کے ’’زمروں‘‘ کی بجائے ایک عملی حقیقت کے طور پر دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ لیکن مزدور ریاست کو ایک تاریخی حقیقت‘ ایک ایسی حقیقت جو ہمارے پروگرام کے تابع ہونے سے انکاری ہے، کے طور پر تسلیم کرنے کی صلاحیت ناپید نظر آتی ہے۔
سامراج؟
کیا کریملن (یعنی سٹالن کے تحت سوویت یونین) کی موجودہ توسیع پسندی کو سامراجیت کہا جا سکتا ہے؟ سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ اس اصطلاح میں کون سا سماجی مواد شامل ہے۔ تاریخ نے کئی قسم کے ’’سامراج‘‘ دیکھے ہیں: غلامی پر مبنی رومن ریاست کی سامراجیت، جاگیردارانہ زمین داری کی سامراجیت، تجارتی و صنعتی سرمایہ داری کی سامراجیت، زار شاہی کی سامراجیت، وغیرہ۔
ماسکو کی بیوروکریسی کی قوتِ محرکہ بلا شبہ اپنی طاقت، وقار اور آمدن کو بڑھانے کی خواہش ہی ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جسے ’’سامراجیت‘‘ کے وسیع ترین مفہوم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ماضی کی تمام بادشاہتوں، حکمران پرتوں، قرونِ وسطیٰ کی جاگیروں اور طبقات وغیرہ میں پایا جاتا تھا۔
تاہم موجودہ علمی لٹریچر‘ بالخصوص مارکسی لٹریچر میں ’’سامراجیت‘‘ سے مراد مالیاتی سرمایہ داری کی توسیع پسندانہ پالیسی ہے۔ جو ایک نہایت واضح اور مخصوص معاشی نوعیت کی حامل ہوتی ہے۔ اگر ہم ’’سامراجیت‘‘ کی اصطلاح کو کریملن کی خارجہ پالیسی پر لاگو کریں اور یہ واضح نہ کریں کہ اس سے مراد کیا ہے تو اس کا مطلب صرف یہ ہو گا کہ ہم بوناپارٹسٹ بیوروکریسی کی پالیسی اور اجارہ دارانہ سرمایہ داری کی پالیسی کو بالکل ایک جیسا سمجھ رہے ہیں۔ وہ بھی صرف اس بنیاد پر کہ دونوں اپنی فوجی طاقت کو توسیع کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسی تشخیص، جو مزید الجھن ہی پیدا کر سکتی ہے، پیٹی بورژوا جمہوریت پسندوں کے لیے تو موزوں ہو سکتی ہے‘ مارکس وادیوں کے لیے ہرگز نہیں۔
زار شاہی کی استعماری پالیسی کا تسلسل
کریملن (ہٹلر کے جرمنی کیساتھ مل کے) پولینڈ کی تقسیم نو (بندر بانٹ) کا حصہ بنتا ہے، کریملن بالٹک ریاستوں پر قبضہ کرتا ہے، کریملن بلقان، ایران اور افغانستان کا رخ کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کریملن زار شاہی کی سامراجی پالیسی کو جاری رکھتا ہے۔ تو کیا اس صورت میں ہمیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہم خود کریملن کی پالیسی کو ’’سامراجی‘‘ قرار دیں؟
لیکن یہ تاریخی جغرافیائی دلیل بھی دیگر تمام دلائل کی طرح غیر معقول ہے۔
پرولتاری انقلاب، جو زارشاہی سلطنت کے خطے میں رونما ہوا، نے ابتدا ہی سے بالٹک ریاستوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اور ایک عرصے کے لیے قبضہ کیے بھی رکھا۔ اس نے رومانیہ اور ایران میں سرایت کی کوشش کی اور 1920ء میں اپنی افواج کو وارسا (پولینڈ) تک لے گیا۔ انقلابی توسیع کی لکیریں یا سمتیں زار شاہی والی ہی تھیں۔ ظاہر ہے انقلاب جغرافیائی حقائق کو تو تبدیل نہیں کر سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ منشویک اس وقت بھی بالشویکوں پر ’’زارشاہی کی سفارتی روایات سے مستعار لی گئی سامراجیت‘‘ کا الزام لگاتے تھے۔ پیٹی بورژوا جمہوریت پسند آج بھی خوشی خوشی اسی دلیل کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن میں دوبارہ کہتا ہوں کہ ہمیں ان کی نقالی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
سامراج کا آلہ کار؟
اس بات سے قطع نظر کہ سوویت یونین کی توسیع پسندانہ پالیسی کی تشخیص کیسے کی جائے‘ ایک اور سوال باقی رہتا ہے۔ یہ اس مدد کا سوال ہے جو (سٹالن کا) ماسکو (ہٹلر کے) برلن کی سامراجی پالیسی کو فراہم کرتا ہے۔
لیکن سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ بعض مخصوص حالات میں‘ جب دنیا کے سامراجی تعلقات کی زنجیروں سے یکسر آزادی ممکن نہ ہو تو ایک خاص حد تک اور ایک مخصوص شکل میں کسی سامراجی طاقت کی حمایت ایک بالکل صحت مند مزدور ریاست کے لیے بھی ناگزیر ہو سکتی ہے۔ مثلاً (بالشویک حکومت اور جرمنی کے درمیان) بریسٹ لیٹووسک کا امن معاہدہ بلاشبہ وقتی طور پر جرمن سامراج کو فرانس اور برطانیہ کے خلاف تقویت پہنچاتا تھا۔ ایک تنہا مزدور ریاست کو متحارب سامراجی کیمپوں کے درمیان چالبازی کرنی پڑتی ہے۔ یہ چالبازی بعض اوقات ایک کیمپ کو دوسرے کے خلاف وقتی طور پر سہارا دینے پر منتج ہوتی ہے۔ یہ جاننا کہ کسی مخصوص وقت پر دونوں میں سے کس کیمپ کی حمایت زیادہ مفید یا کم خطرناک ہے‘ اصول کا نہیں بلکہ عملی حساب کتاب اور دور اندیشی کا سوال ہے۔ مجبوری کے تحت ایک بورژوا ریاست کے خلاف دوسری بورژوا ریاست کی مدد سے نقصان تو ہوتا ہے۔ لیکن فائدہ زیادہ ہوتا ہے کہ ایک تنہا مزدور ریاست کو اپنا وجود برقرار رکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔
لیکن ساری چالبازیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ بریسٹ لیٹووسک میں سوویت حکومت نے مزدور ریاست کو بچانے کے لیے یوکرائن کی قومی آزادی کی قربانی دی تھی۔ اس وقت کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ یوکرائن سے غداری ہے۔ کیونکہ تمام طبقاتی شعور رکھنے والے محنت کش جانتے تھے کہ یہ قربانی مجبوری کے تحت دی جا رہی ہے۔ لیکن پولینڈ (کی سوویت یونین اورجرمنی کے درمیان بندر بانٹ) کے معاملے میں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ کریملن نے کبھی کسی مقام پر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ پولینڈ کی قربانی دینے پر مجبور تھا۔ اس کے برعکس وہ اپنی اس چال پر فخر کرتا ہے۔ ایک ایسی چال جو دنیا بھر کی محکوم اقوام اور طبقات کے بنیادی ترین جمہوری احساسات کو بجا طور پر ٹھیس پہنچاتی ہے اور اس طرح سوویت یونین کی بین الاقوامی ساکھ کو گہرا نقصان پہنچانے کا باعث ہے۔ اور جو اقتصادی تبدیلیاں مقبوضہ علاقوں میں کی جا رہی ہیں وہ اس نقصان کے عشرِ عشیر کا بھی ازالہ نہیں کرتیں!
دراصل کریملن کی مجموعی خارجہ پالیسی ’’دوستانہ‘‘ سامراجوں کو خوشنما بنا کر پیش کرنے کے جرم پر مبنی ہے اور یوں وہ عالمی مزدور تحریک کے بنیادی مفادات کو ثانوی اور ناپائیدار فوائد کے بدلے قربان کرتی ہے۔ پانچ سال تک مزدوروں کو ’’جمہوریتوں کے دفاع‘‘ کے نعروں سے دھوکہ دینے کے بعد اب ماسکو ہٹلر کی لوٹ مار کی پالیسی پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہے۔ فی الوقت یہ چیز خود سوویت یونین کو ایک سامراجی ریاست میں تبدیل نہیں کرتی۔ لیکن سٹالن اور اس کی کمیونسٹ انٹرنیشنل بلاشبہ سامراج کے سب سے قیمتی اوزار بن چکے ہیں۔
اگر ہم کریملن کی خارجہ پالیسی کی درست تعریف کرنا چاہیں تو ہمیں یہ کہنا پڑے گا: یہ ایک سامراجی محاصرے میں گھری ہوئی انحطاط پذیر مزدور ریاست کی بوناپارٹسٹ بیوروکریسی کی پالیسی ہے۔ یہ تعریف ’’سامراجی پالیسی‘‘ جتنی مختصر یا پرکشش تو نہیں‘ لیکن اس سے کہیں زیادہ درست ضرور ہے۔
’’کمتر برائی‘‘
مشرقی پولینڈ پر سرخ فوج کے قبضہ کا موازنہ اسی علاقے پر نازی افواج کے قبضے سے کیا جائے تو بلاشبہ سرخ فوج کا قبضہ ایک ’’کمتر برائی‘‘ ہے۔ لیکن یہ کمتر برائی اس لیے ممکن ہوئی کہ ہٹلر کو یقین دلایا گیا تھا کہ وہ ایک ’’زیادہ بڑی برائی‘‘ میں کامیاب ہو سکے گا۔
اگر کوئی شخص کسی گھر کو آگ لگاتا ہے یا آگ لگانے میں مدد کرتا ہے اور بعد میں اس گھر کے دس میں سے پانچ افراد کو بچا لیتا ہے تاکہ انہیں نیم غلام بنا لے تو بلاشبہ یہ تمام دس افراد کی ہلاکت کے مقابلے میں ایک ’’کمتر برائی‘‘ ہے۔ لیکن کیا ایسے انسان کو انعامی تمغے کا مستحق سمجھا جا سکتا ہے؟ بالفرض اسے تمغہ دے بھی دیا جائے تو اس کے فوراً بعد گولی مار دینی چاہئے۔ جیسا کہ وکٹر ہیوگو کے ایک ناول کے ہیرو کے ساتھ ہوا تھا۔
’’مسلح مبلغین‘‘ (Armed Missionaries)
(انقلابِ فرانس کے کلیدی رہنما) روبسپئیر نے ایک بار کہا تھا کہ لوگ ان مبلغین کو پسند نہیں کرتے جو سنگینوں کے ساتھ آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انقلابی نظریات اور ادارے دوسروں پر فوجی جبر کے ذریعے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ تاہم یہ درست خیال بلاشبہ اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ انقلاب کی معاونت کے لیے دوسرے ممالک میں فوجی مداخلت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لیکن ایک انقلابی بین الاقوامی پالیسی کے تحت ایسی مداخلت بین الاقوامی پرولتاریہ کی سمجھ اور ادراک میں ہونی چاہئے اور متعلقہ ملک، جہاں انقلابی افواج داخل ہو رہی ہوں، کے محنت کش عوام کی خواہشات کے مطابق ہونی چاہیے۔ تاہم ’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘ کے نظرئیے کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہ ایسی فعال بین الاقوامی یکجہتی پیدا نہیں کر سکتا جو مسلح مداخلت کی تیاری اور جواز کی بنیاد بن سکے۔ پالیسی کے دیگر سوالات کی طرح فوجی مداخلت کے سوال کو بھی کریملن بین الاقوامی مزدور طبقے کے خیالات اور جذبات سے مکمل علیحدگی اور بے نیازی کیساتھ طے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تازہ ترین سفارتی ’’کامیابیاں‘‘ سوویت یونین کے لیے شدید نقصان اور بدنامی کا باعث بن رہی ہیں اور عالمی پرولتاریہ کی صفوں میں زبردست تذبذب اور بے چینی پیدا کر رہی ہیں۔
دو محاذوں پر بغاوت
کچھ ساتھی کہتے ہیں کہ اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر کیا سوویت یونین اور اس کے مقبوضہ علاقوں کے دفاع کی بات کرنا درست ہے؟ کیا یہ زیادہ درست نہ ہو گا کہ ہم سابقہ پولینڈ کے دونوں حصوں میں مزدوروں اور کسانوں سے ہٹلر اور سٹالن دونوں کے خلاف بغاوت کی اپیل کریں؟ یہ نقطہ نظر بلاشبہ بہت دلکش ہے۔ اگر مقبوضہ علاقوں سمیت جرمنی اور سوویت یونین دونوں میں ایک ساتھ انقلاب بھڑک اٹھے تو بہت سے مسائل ایک ہی وار میں حل ہو جائیں گے۔ لیکن ہماری پالیسی صرف خوشگوار اور مثالی ترین حالات پر منحصر نہیں ہو سکتی۔ سوال یوں بنتا ہے: اگر انقلاب کے ہاتھوں کچلے جانے قبل ہی ہٹلر نے یوکرائن پر حملہ کر دیا جبکہ (سوویت یونین میں) انقلاب ابھی تک سٹالن کا دھڑن تختہ بھی نہ کر سکا تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ کیا چوتھی انٹرنیشنل کے انقلابی‘ ہٹلر کی افواج کے خلاف اسی طرح لڑیں گے جیسے انہوں نے سپین میں ریپبلکن افواج کے ساتھ فرانکو کے خلاف جنگ لڑی تھی؟
ہم پورے دل و جان سے ایک آزاد سوویت یوکرائن کے حق میں ہیں۔ ایسا یوکرائن جو نہ ہٹلر کے ماتحت ہو نہ سٹالن کے۔ لیکن اگر ایسی آزادی حاصل ہونے سے پہلے ہی ہٹلر‘ سٹالنسٹ بیوروکریسی کے زیر قبضہ یوکرائن پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے تو کیا کیا جائے؟
چوتھی انٹرنیشنل کا جواب ہے: ہٹلر کے خلاف ہم اس یوکرائن کا دفاع کریں گے جو فی الوقت سٹالن کی غلامی میں ہے۔
’’سوویت یونین کا غیرمشروط دفاع‘‘
سوویت یونین کے ’’غیرمشروط‘‘ دفاع کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم (سوویت) بیوروکریسی پر کوئی شرط عائد نہیں کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کی وجوہات یا مقاصد کچھ بھی ہوں‘ اگر سوویت یونین کی سماجی بنیاد (زار شاہی اور ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کا خاتمہ، منصوبہ بند معیشت، محنت کش طبقے کی حاصلات وغیرہ) کو سامراج کے ہاتھوں خطرہ لاحق ہو تو ہم اس کا دفاع کریں گے۔
کچھ ساتھی کہتے ہیں: ’’اگر کل کو سرخ فوج ہندوستان پر چڑھائی کر دے اور وہاں کسی انقلابی تحریک کو کچلنے لگے تو کیا ہم اس صورت میں بھی اس کی حمایت کریں گے؟‘‘
لیکن سوال کو اس انداز سے پیش کرنا سراسر غلط ہے۔ سب سے پہلے تو یہ واضح نہیں کہ ہندوستان کا تذکرہ ہی کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا یہ زیادہ آسان نہیں کہ ہم یوں پوچھیں: اگر سرخ فوج خود سوویت یونین کے اندر بیوروکریسی کے خلاف مزدوروں کی ہڑتالوں یا کسانوں کے احتجاجوں کو کچلنے لگے تو ہم اس کی حمایت کریں گے یا نہیں؟ خارجہ پالیسی‘ داخلی پالیسی کا ہی تسلسل ہوتی ہے۔ ہم نے کبھی بھی سرخ فوج، جو بوناپارٹسٹ بیوروکریسی کی آلہ کار ہے، کے ہر اقدام کی حمایت کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔ ہم نے صرف بطور مزدور ریاست سوویت یونین کا دفاع کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اور سوویت یونین میں بھی صرف ان (باقی ماندہ) عناصر کا جو ایک مزدور ریاست سے تعلق رکھتے ہیں۔
لیکن ایک عیار سوفطائی کہہ سکتا ہے: سرخ فوج، چاہے وہ ہندوستان میں جو بھی ’’کام‘‘ انجام دے رہی ہو، اگر وہاں کی انقلابی عوام کے ہاتھوں شکست کھا جائے تو اس سے سوویت یونین کمزور ہو گا۔ ہم اس کے جواب میں کہیں گے: اگر سرخ فوج کی مدد سے ہندوستان میں کسی انقلابی تحریک کو کچلا جاتا ہے تو یہ سوویت یونین کی سماجی بنیادوں کے لیے سرخ فوج کی وقتی شکست سے کہیں بڑا خطرہ ہو گا۔ چوتھی انٹرنیشنل ہر صورت میں یہ تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے کہ کہاں اور کب سرخ فوج محض بوناپارٹسٹ ردِ انقلاب کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے اور کہاں وہ واقعی سوویت یونین کی سماجی بنیاد کا دفاع کر رہی ہے۔
فرض کریں کہ کسی ٹریڈ یونین پر نوسرباز اور رجعتی قسم کے رہنما قابض ہیں اور وہ اس مطالبے پر ہڑتال کرواتے ہیں کہ کسی صنعت میں سیاہ فام مزدوروں کو نوکری نہ دی جائے۔ تو کیا ہم ایسی شرمناک ہڑتال کی حمایت کریں گے؟ یقینا نہیں۔ لیکن اگر مالکان اسی ہڑتال کو جواز بنا کر ٹریڈ یونین کو کچلنے اور مزدوروں کی منظم مزاحمت کو مفلوج کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ہم رجعتی رہنماؤں کے باوجود اس ٹریڈ یونین کا دفاع کریں گے۔ تو پھر یہی اصول سوویت یونین پر کیوں لاگو نہیں ہو سکتا؟
بنیادی اصول
چوتھی انٹرنیشنل نے یہ اصول ٹھوس انداز سے مرتب کیا ہے کہ تمام سامراجی ممالک میں، چاہے وہ سوویت یونین کے اتحادی ہوں یا اس کے مخالف کیمپ میں ہوں، مزدور جماعتوں کو جنگ کے دوران طبقاتی جدوجہد کو اس مقصد کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کریں۔ ساتھ ہی سامراجی ممالک کے محنت کشوں کو سوویت یونین یا نوآبادیاتی انقلابات کے دفاع کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں۔ مثلاً ہڑتالیں، سبوتاژ کی کاروائیاں وغیرہ۔ چوتھی انٹرنیشنل کی جانب سے یہ اصول مرتب کیے جانے کے بعد طاقتوں کی صف بندی میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اس کے باوجود یہ اصول آج بھی مکمل طور پر درست ہے۔ اگر کل کو برطانیہ اور فرانس‘ لینن گراڈ یا ماسکو کے لیے خطرے کا باعث بنیں تو برطانوی اور فرانسیسی محنت کشوں کو فوجی سامان اور سپاہیوں کی ترسیل کو روکنے کے لیے سخت سے سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ لیکن اگر ہٹلر حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کے سٹالن کو فوجی سامان بھیجے تو اس مخصوص صورت میں جرمن محنت کشوں کے پاس ہڑتال یا سبوتاژ کی کوئی وجہ نہیں ہو گی۔ میرا خیال ہے اس کے علاوہ کسی کے پاس کوئی اور حل نہیں ہو گا۔
’’مارکسزم پر نظرثانی و ترمیم؟‘‘
کچھ ساتھی حیران ہوئے تھے کہ میں نے اپنے مضمون ’’سوویت یونین جنگ میں‘‘ میں ’’بیوروکریٹک اجتماعیت‘‘ (Bureaucratic Collectivism) کا ذکر ایک نظریاتی امکان کے طور پر کیا۔ انہوں نے اسے مارکسزم میں مکمل ترمیم قرار دے دیا۔ یہ ایک ظاہری غلط فہمی ہے۔ مارکسزم کے نزدیک کسی چیز کے تاریخی طور پر ناگزیر ہونے کی مطلب تقدیر پرستی (Fatalism) ہرگز نہیں ہے۔ سوشلزم از خود عملی حقیقت نہیں بن سکتا۔ بلکہ ایسا زندہ قوتوں، طبقوں اور ان کی جماعتوں کی جدوجہد کے نتیجے میں ہی ممکن ہے۔ اس جدوجہد میں پرولتاریہ کی فیصلہ کن فوقیت یہ ہے کہ وہ تاریخی ترقی کی نمائندگی کرتا ہے۔ جبکہ بورژوازی رجعت اور زوال کی علامت ہے۔ اسی وجہ سے ہمیں اپنی فتح کا یقین ہے۔ لیکن ہمیں پورا حق حاصل ہے کہ خود سے سوال کریں: اگر رجعتی قوتیں غالب آ گئیں تو سماج کا کردار کیا بنے گا؟
مارکسیوں نے بے شمار بار یہ متبادل پیش کیا ہے: یا تو سوشلزم یا بربریت کی واپسی۔ اٹلی کے تجربے کے بعد ہم نے ہزاروں بار کہا: یا کمیونزم یا فاشزم۔ لیکن حقیقی معنوں میں سوشلزم کی جانب پیش رفت‘ عمومی تاریخی خاکے سے کہیں زیادہ پیچیدہ، متنوع اور تضادات سے بھرپور ہو گی۔ مارکس نے پرولتاری آمریت اور اس کے بتدریج تحلیل یا غائب ہو جانے کی بات تو کی تھی لیکن آمریت کے بیوروکریٹک انحطاط (Degeneration) کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ہم نے پہلی بار اس قسم کے انحطاط کو عملی طور پر دیکھا ہے اور اس کا تجزیہ کیا ہے۔ کیا یہ مارکسزم میں ترمیم ہے؟
واقعات کی روش یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ سوشلسٹ انقلاب میں تاخیر ناگزیر طور پر بربریت کے آثار پیدا کرتی ہے۔ مثلاً مستقل بیروزگاری، درمیانے طبقے کی غربت، فاشزم اور پھر ایسی ہولناک اور تباہ کن جنگیں جو کوئی نئی راہ نہیں کھولتیں۔ اگر ہم نظری طور پر یہ فرض کریں کہ انسانیت سوشلسٹ بلندی تک بلند نہ ہو سکی تو نئی ’’بربریت‘‘ کی سماجی و سیاسی شکلیں کیا ہو سکتی ہیں؟ اس معاملے پر ہم مارکس سے کہیں زیادہ ٹھوس انداز میں بات کر سکتے ہیں۔ ایک طرف فاشزم ہے، دوسری طرف سوویت ریاست کا انحطاط ہے۔ دونوں صورتیں نئی قسم کی بربریت کے سیاسی و سماجی خدوخال پیش کرتی ہیں۔ سوشلزم یا مطلق العنان غلامی: یہ متبادل نہ صرف نظریاتی طور پر دلچسپ ہے بلکہ ایجی ٹیشن کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس کی روشنی میں سوشلسٹ انقلاب کی ضرورت بالکل نمایاں ہو کے سامنے آ جاتی ہے۔
مارکسزم میں ترمیم دراصل وہ ساتھی کر رہے ہیں جو ایک نئی قسم کی ریاست کا تصور پیش کرتے ہیں۔ ایک ایسی ریاست جو نہ بورژواز ہے‘ نہ مزدور۔ چونکہ میرے پیش کردہ متبادل کے جواب میں ان ساتھیوں کو مجبوراً اپنے خیالات کو منطقی انجام تک پہنچانا پڑتا ہے اور ان میں سے کچھ اپنی ہی تھیوری کے نتائج سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں لہٰذا وہ مجھ پر مارکسزم میں ترمیم کا الزام لگا دیتے ہیں۔ بہرحال میری کوشش ہوتی ہے کہ اسے ایک دوستانہ مذاق کے طور پر ہی لوں۔
انقلابی رجائیت کا حق
میں نے اپنے مضمون ’’سوویت یونین جنگ میں‘‘ میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ایک غیر مزدور اور غیر بورژوا استحصالی معاشرے‘ یعنی بیوروکریٹک اجتماعیت کا تناظر درحقیقت بین الاقوامی پرولتاریہ کی مکمل شکست اور زوال کا تناظر ہے۔ یہ تاریخ کا سب سے گہرا مایوس کن منظرنامہ ہے (یعنی بدترین ممکنات میں سے ہے)۔
کیا ایسے منظرنامے کی کوئی حقیقی بنیاد موجود ہے؟ یہ سوال اپنے طبقاتی دشمنوں سے پوچھا جا سکتا ہے۔
ہفتہ وار اخبار ’’پیرس سوار‘‘ کے 31 اگست 1939ء کے شمارے میں فرانسیسی سفیر کولوندغ اور ہٹلر کے درمیان 25 اگست کو ہونے والی آخری ملاقات کی نہایت اہم گفتگو شائع ہوئی ہے۔ اس کا سورس یقیناً کولوندغ خود ہی ہو گا۔ اس گفتگو میں ہٹلر فخریہ انداز سے سٹالن کے ساتھ طے شدہ ’’حقیقت پسندانہ معاہدے‘‘ پر اتراتا ہے اور ’’افسوس‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ اب جرمن اور فرانسیسی خون بہے گا۔
لیکن کولوندغ معترض ہے: ’’سٹالن نے بڑی مکاری اور چالاکی دکھائی۔ (اگر جنگ ہوئی تو) حقیقی فاتح ٹراٹسکی ہو گا۔ کیا آپ نے اس پہلو پر غور کیا ہے؟‘‘
ہٹلر جواب دیتا ہے: ’’مجھے معلوم ہے… لیکن فرانس اور برطانیہ نے پولینڈ کو کھلا کیوں چھوڑا تھا؟‘‘ وغیرہ۔
یہ حضرات انقلاب کے بھوت کو شخصی نام دینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے اس ڈرامائی مکالمے کی اصل بات یہ نہیں۔ ’’جنگ لازماً انقلاب کو ابھارے گی۔‘‘ سامراجی جمہوریت کا نمائندہ یہ بات اپنے دشمن کو ڈرانے کے لیے کہہ رہا ہے۔ اور ساتھ خود بھی خوف سے کانپ رہا ہے۔
’’مجھے معلوم ہے۔‘‘ ہٹلر جواب دیتا ہے۔ جیسے یہ بات بہت پہلے سے طے شدہ ہے۔ ’’مجھے معلوم ہے!‘‘ کیا حیران کن ڈائیلاگ ہے!
کولوندغ اور ہٹلر‘ دونوں یورپ پر چھاتی ہوئی بربریت کے نمائندے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اس بات پر شک نہیں کرتا کہ ان کی بربریت کو سوشلسٹ انقلاب شکست دے گا۔ یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سرمایہ داری کے حکمران طبقات بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کی مکمل بد دلی اور شکست خوردگی‘ طبقاتی قوتوں کے توازن میں ایک نہایت اہم عنصر ہے۔ پرولتاریہ کی انقلابی قیادت ابھی نوخیز اور کمزور ہے۔ لیکن بورژوازی کی قیادت تو گل سڑ کے اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ (عالمی) جنگ، جسے وہ ٹال نہ پائے، کے آغاز میں ہی ان کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہی ہمارے لیے ناقابلِ شکست انقلابی رجائیت کا ماخذ ہونی چاہئے!
