بابر پطرس
ڈرامہ کی تاریخ کم و بیش دو ہزار سال پرانی ہے۔ یوں اسے ادب کی قدیم ترین اصناف میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن اردو ڈرامہ کی روایت کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ گو کہ بکرماجیت کے درباری شاعر کالی داس کا سنسکرت ناٹک ’شکنتلا‘ اردو ادب میں ایک معروف روایت کے طور پر مشہور ہے۔ لیکن وہ طبع زاد نہیں بلکہ ترجمہ ہے۔ سامی زبانوں کے مقابل اردو ایک نئی زبان ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں قنوج کے مہاراجہ ہرش سے منسوب ناٹک ’رتناوالی‘ بھی ہندی ڈرامہ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم اردو میں ڈرامہ کی باقاعدہ ابتدا امانت لکھنوی کے ’اندر سبھا‘ سے ہوتی ہے۔
اس عہد میں اودھ کا واجد شاہی سٹیج، پارسی تھیٹریکل کمپنیوں کے ڈرامے، حضرت مسیح کی حیات کو سٹیج کرنا، آغا حشر کشمیری کا شہرہ آفاق ڈرامہ ’رستم و سہراب‘ اور ہندوستان کے لوک ناٹک‘ سب کی اساس دیو مالائی اور مذہبی بنیادوں پر استوار تھی۔ یہاں اعتراف کرنا چاہئے کہ اردو ادب میں ڈرامہ کی روایت کچھ زیادہ مضبوط نہیں رہی۔
لیکن اردو میں امتیاز علی تاج کا ’انارکلی‘ ایسا ڈرامہ ہے جو تکنیک اور موضوع کے حوالے سے ایک شاہکار قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ڈرامہ اپنے متنوع مناظر کی بنیاد پر سٹیج نہ ہو سکا۔ تاہم ادبی حلقوں میں یہ ایک کلاسیک کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
ڈرامہ ایک مجسم عمل ہوتا ہے۔ جس کو سٹیج کرنے کے لیے تحریر کیا جاتا ہے۔ فلم ڈرامہ کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ لہٰذا کہانی ٹیلی وژن کے لیے تحریر کی جائے، فلم یا اسٹیج کے لیے‘ یہ ا س وقت تک معیاری اور بڑی نہیں ہو سکتی جب تک اس کے واقعات کی تمام درمیانی کڑیاں باہم مربوط نہ ہوں، ان میں باہمی منطقی ربط نہ ہو اور قصہ میں انفرادی واردات سے آگے بڑھ کر سماج کی وسیع پرتوں کا احاطہ کرنے کی سکت موجود نہ ہو۔ کیونکہ انفرادی واردات‘ حتیٰ کہ انفرادی المیہ بھی ذات کے تجریدی محور میں بڑا ادب تخلیق نہیں کر سکتا۔ ہجر یا کسی بھی قسم کی کوئی شخصی محرومی محض فرد کی داستان تک ہی محدود رہ جاتی ہے۔ اگرچہ فرد کی شخصی کہانی میں بڑے ادب کے تمام عناصر موجود ہو سکتے ہیں۔
’انارکلی‘ ایسے ہی انفرادی المیہ سے جنم لینے والی بڑی کہانی ہے جو محض دو محبت کرنے والوں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے ہجر اور موت کے المناک انجام سے دو چار ہی نہیں ہوتی بلکہ اس ہجر کے دکھ کو چیرتی ہوئی سماج کی طبقاتی تقسیم کو عریاں کر دیتی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جس سے پرے رومانوی داستان رومانوی پیرائے میں بھی دو افراد کی ناکام محبت کا قصہ نہیں بلکہ طبقات میں بٹے ہوئے سماج میں اکثریتی طبقے کے دِلوں کی روداد بن جاتی ہے اور طبقاتی سماج کی غلاظت اور انسان دشمنی کا پردہ چاک کر دیتی ہے۔ اسی مقام پر اور اسی تکنیک سے شہرہ آفاق فن پارہ تخلیق ہوتا ہے۔ غالبؔ نے لکھا تھا:
قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
ادب بچوں کا کھیل نہیں اور ڈرامہ نگار امتیاز علی تاج‘ غالبؔ کے اس نکتے سے واقف تھے۔ وہ تو بھلا ہو کہ غالب پر مارکس وادی ہونے کا الزام نہیں‘ ورنہ اس کو بھی ترقی پسند اور نعرہ باز کہہ کر رد کر دیا جاتا۔
انارکلی موضوع کے اعتبار سے محض ہندوستان کے ولی عہد اور شاہی دربار سے وابستہ ایک کنیز کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کا بیان نہیں۔ نہ ہی انارکلی کا المیہ دل آرام کی رقابت کی بدولت وجود میں آتا ہے۔ اس المیہ کی پیچھے کسی ایک کردار کے حسد کا ہاتھ نہیں۔ دل آرام سازش کے ذریعے شہزادہ سلیم اور انارکلی کی محبت کا راز شہنشاہ اکبر پر افشاں نہ بھی کرتی تو بھی انجام زیادہ مختلف نہ ہوتا۔ کیونکہ اس المیہ کی جڑیں سماج کی طبقاتی بنتر یا ساخت میں موجود تھیں۔ جہاں بادشاہ اور رعایا کی ذات پات، رنگ نسل اور مذہب کی تقسیم کے باقاعدہ زینے ہوتے ہیں۔ ہزاروں بندشیں اور قدغنیں ہیں۔ جن کے ہاتھوں میں نام و نسب، دولت اور سرمائے کا پیمانہ ہے۔ ایسے سماج میں محبت جیسی اعلیٰ قدر کو شاہی دربار کے جاہ و جلال کے سامنے قربان ہونا ہی تھا۔ لہٰذا یہ ڈرامہ اکبر بادشاہ کی رعونت یا انار کلی کے المیے کا نہیں بلکہ اس سماج کا ماتم ہے جہاں محبت دربار کے قاعدوں کی پابند ہے۔ جہاں وہی رشتے قابل اعتنا ہوتے ہیں جو اقتدار کو دوام اور توسیع عطا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انار کلی کا جرم محبت نہیں تھا جس کی وجہ سے اسے زندہ دیوار میں چنوا دیا گیا۔ بلکہ اس کا سماجی رتبہ اس کے گلے کا پھندہ ثابت ہوا۔ اگر وہ رقاصہ نہ ہوتی اور شاہی یا مروجہ معیارات کے حوالے سے کسی بڑے اور ’باعزت‘ خاندان کا حصہ ہوتی تو ہندوستان کا تاج و تحت اس کے قدموں تلے ہوتا۔ بادشاہ کو قبول نہیں تھا کہ ہندوستان کے حکمران کی ملکہ ایک کنیز ہو۔
فن پارہ جب محض کرداروں کی بجائے علامات اور استعاروں میں بدل جائے تو وہ اپنے مفہوم میں بڑی شے بن جاتا ہے۔ شہزادہ سلیم کا کردار ایک علامت ہے۔ جو انفرادی سطح پر بادشاہی کے قوانین سے ٹکر لینے کو تیار ہے۔ لیکن انفرادی مخالفت کا نتیجہ مہم جوئی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اس طرح عاشق کی تمام تر کوشش دربار کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ یہ دلیل ہے کہ موضوعی جذبات خواہ کتنے ہی خالص اور صادق کیوں نہ ہوں‘ اس وقت تک بڑی تبدیلی کا سبب نہیں بنتے جب تک ان کو وسیع عوامی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ اور عوامی حمایت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب زیر بحث مسائل میں عوام کو اپنے جذبات اور روزمرہ کے حالات کی جھلک نظر آتی ہے۔ شریک جرم شہزادہ سلیم اپنی سماجی حیثیت کے پیش نظر بچ نکلتا ہے۔ کیونکہ وہ ہندوستان کے تخت کا وارث ہے۔ لیکن رقاصہ بادشاہ کے عتاب کا شکار بن جاتی ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ کہانی کے لیے اکبر اعظم کے دربار کو بہت مشقت اور عرق ریزی کے بعد چنا گیا۔ بالائی طبقہ کے نمائندہ کے طور سے کسی بھی عہد کے بادشاہ کو منتخب کیا جا سکتا تھا۔ لیکن تصادم میں وہ کشش کبھی پیدا نہ ہو پاتی جو اکبر اعظم کے کردار کے سبب ہوئی۔ اس تصادم نے طبقاتی سماج کی تقسیم کو بہت فنکارانہ طور سے عیاں کر دیا۔
اکبر کے کردار کو اس لیے منتخب کیا گیا کہ وہ اپنی فکر و عمل میں غیر روایتی حکمران تھا۔ جس کے دربار میں تمام مذاہب کے علما و مشائخ موجود تھے۔ اس کے یہاں دیگر مذاہب کے مشیر اور وزرا بھی تھے۔ سب سے بڑھ کر دیگر مذاہب کی عورتیں اس کے نکاح میں تھیں۔ اس ماحول میں اکبر کا ایک ایسا تاثر ابھرتا ہے کہ وہ کوئی تنگ نظر اور مذہبی رجعت کا شکار بادشاہ نہیں بلکہ ایک وسیع القلب انسان ہے۔ اس لیے اس کے ہر عمل اور فیصلے کے پیچھے آزاد مرضی اور منشا شامل ہے۔ اس طرح کا باریک کام بہت مشقت طلب ہوتا ہے۔ جس کے بغیر مربوط پلاٹ تعمیر نہیں ہو سکتا۔
لیکن اکبر اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ اس کے لیے بادشاہت اور اس کے آداب ہی اہم ہیں۔ اس کے رتبے کے سامنے باقی سب ہیچ ہے۔ اگرچہ وہ ایک شفیق باپ بھی ہے لیکن ’سٹیٹس کو‘ پدرانہ شفقت پر غالب آ جاتا ہے اور اکبر جیسا بظاہر آزاد منش حاکم بھی اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک کٹھ پتلی بن جاتا ہے۔ یوں اپنے ہی بیٹے کی تمناؤں کا قاتل ٹھہرتا ہے۔ حالانکہ ظاہری طور پر ایک مطلق العنان بادشاہ کے قلم کی جنبش یا زبانی فرمان کے سامنے قانون یا روایات کوئی خاص معنی نہیں رکھتیں۔ تاہم مروجہ نظام کو بچانے اورسہارا دینے کے لیے کئی بار اپنوں کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ اسی سے اکبر کی نفسیات اور اس کی ذہنی کشمکش کا سراغ ملتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ مطلق العنانیت کی بھینٹ ایک معصوم رقاصہ چڑھ جاتی ہے۔ جس کی قربانی کے بغیر یہ المیہ وجود میں نہیں آ سکتا تھا اور دو مخالف طبقات کا تصادم واضح نہیں ہو سکتا تھا۔
یہ داستان کتنی حقیقی ہے اور کتنی من گھڑت… یہ سوال اہم نہیں ہے۔ اہمیت پلاٹ اور کرداروں کے انتخاب اور اس تکنیک اور انداز کی ہے جس کی بدولت امتیاز علی تاج انفرادی المیے کو زندہ سماج کی داستان بنا پائے۔
اس کا ادراک کوئی جوئے شیر لانا نہیں ہے۔ بس اتنا سمجھنا ہے کہ فن اور ادب کو اپنے عہد کی صداقتوں کے اظہار کا وسیلہ بننا پڑے گا۔ جبکہ فن کار، ادیب اور شاعر کو پہلے انسان۔ فیض نے کہا تھا:
”شاعر کا کام مشاہدہ ہی نہیں۔ مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔ گرد و پیش کے مضطرب قطروں میں زندگی کے دجلہ کا مشاہدہ اس کی بینائی پر ہے۔ اسے دوسروں کو دکھانا‘ اس کی فنی دسترس پر۔ اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا‘ اس کے شوق کی صلابت اور لہو کی حرارت پر۔ اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش اور جدوجہد چاہتے ہیں۔“
یہ وقت طلب ہے اور اس میں محنت قدرے زیادہ ہے۔ ورنہ تن آسانی کوئی نیا مظہر نہیں ہے۔ بات وہیں ختم ہوتی ہے جہاں سے غالب نے شروع کی تھی کہ جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی‘ وہ لڑکوں کا کھیل ہے۔ وقت اور حالات کی ستم ظریفی ہے کہ فن اور ادب کا میدان آج ’لڑکوں‘ کے ہاتھ میں ہے۔
حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریبان ہونا
