بابر پطرس

عورت پر تشدد کوئی نیا مظہر نہیں ہے۔ نہ کسی ایک معاشرے کی مخصوص روایت ہے۔ بلکہ طبقاتی سماج کی ایک دلسوز طویل داستان کا عالم گیر المیہ ہے۔ تاہم تلخ سچائی ہے کہ وقت کیساتھ برصغیر اور مشرق وسطیٰ جیسے خطوں میں ’غیرت‘ کے نام پر عورت کو قتل کر دینا معمول کی بات بن چکی ہے۔ لیکن عورت پر جبر یا زور زبردستی صرف مذکورہ بالا علاقوں تک بھی محدود نہیں ہے۔ اگرچہ یورپ، امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ معاشروں میں عورت کو قانونی حقوق کی بڑی حد تک ضمانت دی گئی ہے۔ لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ وہاں عورت جبر کا شکار نہیں ہوتی یا وہاں مکمل صنفی مساوات موجود ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اس نوعیت کے جبر اور استحصال کی صورتیں بدلی ہیں۔

پانچویں صدی سے پندرھویں صدی تک کے یورپ میں عورت کی عمومی سماجی حیثیت انتہائی پست تھی۔ وہ مرد کی ملکیت تصور کی جاتی تھی۔ پندرھویں سے سترھویں صدی کے درمیان دسیوں ہزار عورتوں کو ’چڑیلیں‘ اور ’جادوگرنیاں‘ ہونے کا الزام لگا کر زندہ جلا دیا گیا۔ ان میں سے بیشتر کا قصور اس وقت کے مردانہ بالادستی والے سماج کے مذہبی، سماجی اور سیاسی قاعدے قوانین کو رد کرنا تھا۔ یہ بنیادی طور پر کلیسا کی دہشت کو برقرار رکھنے اور خواتین کے اپنے روایتی طور پر مطیع کردار سے انحراف کی سزائیں تھیں۔ اس عہد میں بطور دایہ کے بچوں کی پیدائش میں دیگر عورتوں کی مدد کرنا یا جڑی بوٹیوں سے ان کا علاج کرنا‘ مردانہ حکمت کے پیشے کی اجارہ داری پر ایک ضرب تھی۔ اسی طرح اس وقت کی عورت کا تنہا یا غیر شادی شدہ ہونا بھی مکروہ جرم سمجھا جاتا تھا۔ علم رکھنے والی یا پڑھنے لکھنے والی اور سب سے اہم کہ سوال اٹھانے والی عورتیں‘ پدرسری سماج کے کنٹرول سے باہر ہو رہی تھیں۔ پھر کسی خوبصورت عورت کا مردوں کو رد کر دینا بھی بدلے کے جذبات کو ابھارتا تھا۔ یہ سب وہ ’جرائم‘ تھے جن کی وجہ سے وہ ’چڑیلیں‘ اور ’جادوگرنیاں‘ قرار پا کر عبرت ناک سزاؤں کی حق دار ٹھہریں۔ ایسے الزامات اکثر چرچ یا مقامی طاقتور مردوں کی طرف سے لگائے جاتے تھے اور پھر ’فیصلہ جات‘ بھی انہی کی طرف سے صادر ہوتے تھے تاکہ عورتوں کو دبا کر رکھا جا سکے۔ یہ دراصل عورت کے آزاد اور باشعور وجود کے خلاف طبقاتی، پدر شاہی سماج کا انتقامی رد عمل تھا۔

لیکن آج بھی یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ خطوں میں لاکھوں خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ صرف امریکہ میں ہر 9 سیکنڈ میں ایک خاتون تشدد کا نشانہ بنتی ہے اور اپنی زندگی میں ہر تین خواتین میں سے ایک اپنے پارٹنر کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ ایف بی آئی کی 2023ء کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر روز 600 خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔

پسماندہ ملکوں کا تو خیر ذکر ہی کیا کہ یہاں ’علم و حکمت‘ کی صدی میں بھی خواتین پر ننگے تشدد کی ایسی بھیانک شکلیں سامنے آئی ہیں کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔ کوئٹہ کے نواح میں فرسودہ قبائلی روایات کے ہاتھوں ایک خاتون اور مرد کا قتل ایک انتہائی دلسوز واقعہ ہے۔ لیکن اس پر محض ماتم کرنا یا لڑکی کے بے خوفی سے مقتل میں جانے، معافی نہ مانگنے، نہ چیخنے اور نہ قدموں کے ڈگمگانے جیسے تبصروں سے اس کی موت کو رومانوی انداز میں گلوریفائی کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔

خاموشی سے انسان دشمن روایات کی نذر ہو جانا کوئی جرات مندانہ اقدام نہیں ہوتا۔ لیکن ان مظاہر کو جدلیاتی زاویہ نظر سے پرکھا جانا ہے۔ ضروری نہیں کہ خاموشی ہمیشہ کمزوری یا شکست کی علامت ہو۔ یکسر بے بسی کی صورتوں میں بعض اوقات فرد کی خاموشی بھی مزاحمت کی علامت اور خاموش لیکن زوردار احتجاج بن جاتی ہے۔ کبھی خاموشی کے اندر بھی چیخ پنہاں ہوتی ہے۔ ایسی چیخ اور للکار جو لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی اور جس کی بازگشت سماج کے شور میں دبنے سے انکار کر دیتی ہے۔ ایسے احتجاج بھی کئی بار معاشرتی ضمیر کو جھنجوڑ دیتے ہیں۔ جیسا کہ اس واقعے نے کیا ہے۔

اس خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کا پس منظر جو بھی ہو‘ اس واقعے نے موجودہ انسان دشمن سماج کی بربریت کو نہ صرف عیاں کیا ہے بلکہ اس احساس کو بھی جلا بخشی ہے کہ اس جڑ کو بھی تلاش کیا جائے جس پر یہ زہریلا درخت تناور ہوا ہے۔ اس حقیقت سے بھی آشنا ہونا از حد ضروری ہے کہ فلم، اشتہارات اور سوشل میڈیا وغیرہ کی صورت عورت کی خوبصورتی کو عریاں کرنا یا اسے جنسی شے کے طور پر پیش کر دینا بھی خواتین کی آزادی کی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ اس عمل میں عورت انسان کی بجائے منڈی کی ایک جنس کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ اس سے مردانہ بالادستی اور عورت کے شے ہونے کے احمقانہ تصور کی جڑیں مزید مستحکم ہوتی ہیں۔

عورت اور مرد کا رشتہ اعلیٰ اور ادنیٰ، عقل مند اور بے عقل، طاقتور اور کمزور کے روایتی زینوں میں تقسیم ضرور ہے۔ لیکن یہ حقیقی تقسیم نہیں ہے۔ بلکہ طبقاتی نظام کی پیداوار ہے۔ جو غیر حقیقی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر انسانی بھی ہے۔ پدر شاہی یا مردانہ بالادستی نجی ملکیت پر مبنی طبقاتی معاشرے کی ناگزیر پیداوار اور طبقاتی نظام کا لازمی جزو ہے۔

مرد کے مقابلے میں عورت کو کمتر خیال کرنے والے عورتوں کے ’کار ہائے نمایاں‘ کی دلیلیں مانگتے ہیں۔ وہ بھی ایک ایسے سماج میں جس نے عورت کو گھر کی چار دیواروں کے زندان میں قید کر دیا ہے۔ ان کے بھوسا بھرے دماغوں میں یہ بات نہیں سما سکتی کہ علم و حکمت دماغ کے اندر سے جنم لینے والی کوئی کھمبی نہیں ہے اور قید خانوں سے فلسفی جنم نہیں لے سکتے۔ شعور اپنے معروض سے جڑی ہوئی حقیقت ہے۔ گہرا مشاہدہ اور سوچنے سمجھنے، آنے جانے، انتخاب اور سوال کرنے کی آزادی وغیرہ وہ معاون حالات ہوتے ہیں جن میں بڑی سوچ تشکیل پاتی ہے۔ جو عورت صبح برتن دھو کر کھانا بنانے، گھر کی صفائی ستھرائی اور کپڑوں کی دھلائی کے بعد دوپہر کا کھانا بنانے، پھر رات کا کھانا بنانے، پھر سے برتن دھونے اور رات میں شوہر کو خوش کرنے اور بچے پیدا کرنے اور ان کو سنبھالنے کی ذمہ داریوں سے فراغت حاصل نہ کر پائے وہ واقعی مکالات افلاطون نہیں لکھ سکتی۔ بلکہ برتن مانجھتا افلاطون بھی مرد ہونے کے باوجود تاریخ کا کوئی گمنام کردار ہی ہوتا۔ ایسے حالات میں عورتوں سے کار ہائے نمایاں کے ثبوت مانگ کر انہیں کمتر خیال کرنا‘ سوائے جہالت کے کچھ نہیں ہے اور اسی بات کو دلیل بنا کر ان کے آزاد وجود پر قدغن لگا دینا سراسر رجعت ہے۔ مرد کچھ زیادہ انسان نہیں ہے۔ عورت بھی مکمل انسان ہے۔ جس کے جذبات و احساسات مردوں جیسے ہی ہیں۔ اس لیے اپنے احساس کے مطابق بہتر زندگی گزارنے کا فیصلہ اس کا پیدائشی حق ہے۔ لیکن مروجہ سماجی نظام کی جکڑ بندیاں اس حق کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ تمام مرد کسی پیدائشی سوچ کے تحت بالادستی کے زعم میں گرفتار ہیں اور کاروکاری، ونی، ستی یا غیرت کے نام پر قتل جیسی عورت دشمن رسمیں اور ان کے پیچھے کارفرما سوچ کسی مردانہ جبلت کا نتیجہ ہے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ سماج کی مخصوص ساخت اور تنظیم ہے جس نے ایسی تقسیموں اور تعصبات کو پروان چڑھایا ہے۔ جو بیشتر صورتوں میں خود خواتین کے شعور پر بھی حاوی ہوتے ہیں۔

انسانوں کا ہر گروہ اپنے تاریخی پس منظر، مذہبی رویوں اور سماجی بندھنوں کے تحت عورت اور مرد کو ایک خاص کردار دیتا آیا ہے۔ جس کے پیچھے معیشت فیصلہ کن کردار کی حامل ہوتی ہے۔ ذرائع پیداوار کی تبدیلی کے ساتھ سماجی رشتے بھی تبدیل ہوتے آئے ہیں۔ لیکن سماج کے طبقات میں بٹ جانے سے طبقاتی، قومی اور صنفی جبر و استحصال کی انتہاؤں نے جنم لیا ہے۔ اپنے مروجہ یا موجودہ معنوں میں ”غیرت“ اسی نظام کا سماجی تصور ہے۔ جو پدر سری کے پیچھے کارفرما طبقاتی نظام معیشت سے منسلک ہے۔ لیکن حالیہ کچھ دہائیوں میں معاشی و سماجی بحران کیساتھ یہ سوچ یا تصور زیادہ زہریلا اور پرتشدد ہو گیا ہے۔ یہی نظام مرد کو خاندان کا محافظ اور عورت کو غیرت کی علامت بناتا ہے۔ یہی نظام اس سوچ اور روایات کی آبیاری کرتا ہے جو عورت کے لباس، رویے، پسند نا پسند یہاں تک کہ شادی تک کے فیصلے کو غیرت کے نام پر کنٹرول کرتی ہیں۔ عورت جب بھی ان معیارات سے ہٹتی ہے تو اسے سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مرد کو ایسے معاملات میں اچھی خاصی چھوٹ مل جاتی ہے۔

اگر عورت کو خاندان کی نام نہاد غیرت یا عزت مان بھی لیا جائے تو یہ عزت انسانی جان سے بڑی نہیں ہو سکتی۔ اس معاشرے میں غیرت کا مطلب احساس، جدوجہد، شرم، لحاظ، حرمت یا انصاف نہیں بلکہ اپنی ملکیت پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس لیے یہ نام نہاد غیرت عورت کو خاموش کرانے کا ہتھیار ہے۔ وہ بابلی تہذیب ہو، حمورابی کا قانون، یونانی رسوم و قوانین، رومی سلطنت میں ’Paterfailias‘ کا تصور، قدیم سماجوں میں عورت کو سنگسار یا ستی کرنے کی رسم یا آج کل کے غیرت کے نام پر قتل… عورت کو اس نام نہاد غیرت یا عزت کی مجسم علامت بنانا طبقاتی سماج کا تاریخی جرم تھا۔ عورت اور مرد تو سماج کو بہتر بنانے میں ایک دوسرے کے معاون کردار تھے۔ ایک دوسرے کے مدد گار تھے۔ لیکن طبقاتی نظام میں پدر سری کے عفریت نے عورت کو مرد کے پاؤں کی جوتی بنا چھوڑا۔ لہٰذا اس خونخوار عفریت سے نجات کی راہ عورت اور مرد کی مشترکہ جدوجہد میں پنہاں ہے۔ کیونکہ عورت کی آزادی کا سوال صرف عورت کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ سماجی انصاف اور تمدنی ترقی کا سوال ہے۔ یہ ترقی جبر کی تمام اشکال سے نجات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ آج کے عہد میں جس کا واحد راستہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔