مائیکل رابرٹس
تلخیص و ترجمہ: عمران کامیانہ
امریکی سٹاک مارکیٹ مسلسل نئی بلندیاں چھو رہی ہے، بٹ کوائن کی قیمت بھی اپنی بلند ترین سطح کے قریب ہے اور سونے کی قیمت تو تاریخی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔ مالیاتی اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے والے ادارے (بینک، انشورنس کمپنیاں، پنشن فنڈز، ہیج فنڈز وغیرہ) غیر معمولی طور پر پرامید اور مالیاتی منڈیوں کے حوالے سے پراعتماد ہیں۔ صرف 2025ء میں اب تک امریکی سٹاکس میں ہونے والے 80 فیصد اضافوں کا سبب اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں ہیں۔ اس سے نہ صرف امریکی معاشی نمو کو سہارا مل رہا ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ کیونکہ اے آئی کی بدولت بڑھتی ہوئی امریکی سٹاک مارکیٹ دنیا بھر سے سرمایہ کھینچ رہی ہے۔ صرف 2025ء کی دوسری سہ ماہی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے امریکی سٹاکس میں 290 ارب ڈالر کی ریکارڈ سرمایہ کاری کی۔ اور اب وہ امریکی سٹاک مارکیٹ کے تقریباً 30 فیصد حصے کے مالک ہیں۔ جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
اے آئی میں سرمایہ کاری کا بلبلہ (جسے کسی کمپنی کی سٹاک مارکیٹ میں قیمت اور اس کی ’بک ویلیو‘ یعنی کھاتوں میں موجود قیمت کے تناسب سے ناپا جاتا ہے) سن 2000ء کی ’ڈاٹ کام دیوانگی‘ سے 17 گنا اور 2007ء کے ’سب پرائم مارگیج ببل‘ سے چار گنا بڑا ہے۔ امریکی سٹاک مارکیٹ کی مالیت اور جی ڈی پی کے تناسب کا اشاریہ (جسے’’Buffett Indicator‘‘ کہا جاتا ہے) 217 فیصد کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے۔
اور صرف کارپوریٹ شیئرز ہی نہیں جو تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی کارپوریشنوں بالخصوص بڑی ٹیک اور اے آئی کمپنیوں کے قرضے ہولڈ کرنے (یعنی انہیں قرض دینے یا پہلے سے دئیے ہوئے قرضے خریدنے) کی بھی بے پناہ مانگ ہے۔ کارپوریٹ بانڈز پر دئیے جانے والے سود اور محفوظ حکومتی بانڈز کے سود درمیان ’سپریڈ‘ (فرق) گھٹ کر ایک فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔
یوں کہہ لیں کہ تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیے گئے ہیں: اے آئی۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ بالآخر اے آئی محنت کی پیداواریت (Productivity) میں ڈرامائی اضافے کے ذریعے کمپنیوں کے منافعوں میں زبردست اضافہ کرے گی اور یوں سٹاک اور قرضوں پر بے پناہ منافع دے گی۔
اب تک اس بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں کہ اے آئی میں سرمایہ کاری پیداواریت میں تیزی لا رہی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور انفراسٹرکچر میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری نے فی الحال امریکی معیشت کو سہارا دے رکھا ہے۔ گزشتہ سہ ماہی میں امریکی حقیقی جی ڈی پی کی تقریباً 40 فیصد نمو ٹیکنالوجی کی سرمایہ کاری سے آئی اور اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ اے آئی سے منسلک تھا۔
2022ء سے اب تک اے آئی انفراسٹرکچر میں 400 ارب ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس خرچ کا ایک بڑا حصہ انفارمیشن پروسیسنگ کے آلات پر ہوا۔ ہارورڈ کے ماہرِ معاشیات جیسن فرمین کے مطابق انفارمیشن پروسیسنگ کے آلات اور سافٹ ویئر میں سرمایہ کاری امریکی جی ڈی پی کے صرف 4 فیصد کے برابر ہے۔ لیکن اس نے 2025ء کے پہلے نصف میں جی ڈی پی نمو میں 92 فیصد کا حصہ ڈالا۔ اگر اسے نکال دیا جائے تو امریکی معیشت نے اس عرصے میں صرف 0.1 فیصد سالانہ شرح سے ترقی کی۔ لہٰذا اس ٹیک سرمایہ کاری کے بغیر امریکہ اس سال یا تو کساد بازاری کے قریب ہوتا یا اس میں داخل ہو چکا ہوتا۔
یہ سب کچھ اس کہانی کا دوسرارخ دکھاتا ہے: یعنی امریکی معیشت کے باقی حصے جمود کا شکار ہیں۔ امریکی مینوفیکچرنگ گزشتہ دو سال سے کساد بازاری میں ہے۔ اور اب اس بات کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں کہ وسیع تر سروسز کا شعبہ بھی مشکلات میں ہے۔
امریکی لیبر مارکیٹ بھی کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مئی سے جولائی تک تین مہینوں میں روزگار کی سالانہ شرحِ نمو صرف 0.5 فیصد رہی۔ جو 2024ء کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) کے سربراہ جے پاول نے پچھلے مہینے کہا: ’’ہم اب کم بھرتی اور کم چھانٹیوں والی معیشت میں ہیں۔‘‘
امریکہ میں نوجوان محنت کش اس معاشی سست روی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اپریل 2023ء کے بعد سے امریکی نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 6.6 فیصد سے بڑھ کر 10.5 فیصد ہو گئی ہے۔ نوجوان محنت کشوں کی اجرت میں اضافے کی رفتار بھی تیزی سے گری ہے۔ کیرئیر شروع کرنے والوں کے لئے ملازمتوں کے مواقع میں 30 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ اے آئی سے متاثرہ پیشوں میں نوجوان محنت کشوں کے روزگار میں 13 فیصد کی نسبتی کمی واقع ہوئی ہے۔
صرف وہی امریکی بڑے پیمانے پر خرچ کر رہے ہیں جو سب سے زیادہ آمدن والے 20 فیصد گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ امیر ترین 3.3 فیصد لوگ تو اور بھی خوش ہے۔ جبکہ باقی ماندہ آبادی اپنی کمر کس رہی ہے اور زیادہ خریداری نہیں کر رہی۔ قیمتوں میں اضافے کو نکال کر دیکھا جائے تو ریٹیل فروخت کاری گزشتہ چار سالوں سے بالکل جمود کا شکار ہے۔
اوسط افراطِ زر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ 3 فیصد کے آس پاس پھنسا ہوا ہے۔ جو کہ فیڈرل ریزرو کے مقررہ 2 فیصد کے ہدف سے کافی زیادہ ہے۔ اور یہ اوسط شرح دراصل حقیقی زندگی کے معیار اور حقیقی اجرتوں کو لگنے والے بڑے دھچکے کو چھپا دیتی ہے۔ خوراک اور توانائی کی قیمتیں اس سے کہیں زیادہ تیزی بڑھ رہی ہیں۔ بجلی کی قیمت گزشتہ پانچ سال میں 40 فیصد بڑھ چکی ہے۔
درحقیقت بجلی کی قیمتیں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے مزید اوپر جا رہی ہیں۔ 2024ء کی شدید گرمی کی لہر کے دوران ’اوپن اے آئی‘ (چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی) نے اتنی بجلی استعمال کی جتنی نیویارک سٹی اور سان ڈیاگو ملا کر استعمال کرتے ہیں۔ یا پھر اتنی جتنی سوئٹزرلینڈ اور پرتگال کی مجموعی بجلی کی طلب ہے۔ یعنی تقریباً 2 کروڑ لوگوں کے استعمال کی بجلی! گوگل نے حال ہی میں انڈیانا میں ایک ارب ڈالر کا ڈیٹا سینٹر بنانے کا منصوبہ مقامی احتجاج کی وجہ سے منسوخ کر دیا ہے۔ کیونکہ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ڈیٹا سینٹر ’’بجلی کی قیمتوں میں دھماکہ خیز اضافہ کرے گا‘‘ اور ’’خشک سالی کے شکار علاقے سے بے شمار پانی چوسے گا۔‘‘
اس کے علاوہ ٹرمپ کے درآمدات پر لگائے گئے ٹیرف کا اثر بھی ہے۔ ٹرمپ حکومت کے انکار کے باوجود درآمدی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور یہ اضافہ اب امریکہ کے اندر اشیا کی قیمتوں میں منتقل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اور یہ صرف خوراک اور توانائی تک بھی محدود نہیں ہے۔
2018ء کی تجارتی جنگ میں زیادہ تر غیر ملکی کمپنیاں درآمدی قیمتوں میں کمی کر کے بوجھ خود اٹھا رہی تھیں۔ اس بار ایسا نہیں ہو رہا۔ امریکی درآمد کنندہ کمپنیاں ٹیرف ادا کر رہی ہیں اور امکان ہے کہ یہ سارا بوجھ بالآخر صارفین کو منتقل ہو گا۔ جے پاول کے الفاظ میں: ’’ٹیرف بنیادی طور پر وہ کمپنیاں ادا کر رہی ہیں جو برآمد کنندہ اور صارف کے درمیان موجود ہیں- اور ان میں سے ہر کمپنی کا واضح ارادہ ہے کہ وہ وقت کے ساتھ یہ بوجھ صارف پر ڈالے گی۔‘‘
درآمد کنندگان، ہول سیلر اور ریٹیلر پہلے ہی زیادہ لاگت ادا کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ بعد میں قیمتیں بڑھا کر وہ یہ بوجھ آگے منتقل کر سکیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صارفین پہلے ہی کمزور ہیں۔ گھریلو بجٹ بڑھتے ہوئے قرضوں، عدم ادائیگی اور جمود کا شکار اجرتوں کے دباؤ میں ہے۔ ایسے ماحول میں ٹیرف کی لاگت منتقل کرنے سے طلب مزید کم ہو جائے گی۔
کاروبار اس حقیقت سے واقف ہیں۔ اسی لئے وہ خود ہی لاگت برداشت کر رہے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے سے ان کے منافعے کم ہو جاتے ہیں، کارکردگی برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور کہیں نہ کہیں کٹوتیاں کرنا پڑتی ہیں۔ جب منافعے دباؤ میں آتے ہیں تو کچھ ہی راستے بچتے ہیں: بھرتیاں کم کرنا، توسیعی منصوبے محدود کرنا، (اجرتیں گھٹانے کے لئے) اوور ٹائم اور اوقاتِ کار کم کرنا۔ اور اگر یہ صورتِ حال برقرار رہی تو ناگزیر طور پر لیبر مارکیٹ پر اثرات مرتب ہوں گے۔
پھر سرکاری اخراجات کا مسئلہ ہے۔ کانگریس کی طرف سے سرکاری محکمے بند کرنے کی موجودہ مہم نے ٹرمپ حکومت کو بجٹ خسارہ اور بڑھتا ہوا قرض کم کرنے کی بے کار کوشش میں وفاقی ملازمتوں میں کمی کا ایک نیا موقع دیا ہے۔ یہ کوشش اس لئے لاحاصل ہے کہ ٹرمپ کا دعویٰ کہ ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن خسارہ کم کرے گی‘ قابلِ اعتبار نہیں ہے۔ 2025ء کے مالی سال میں وفاقی حکومت کی آمدن کا تخمینہ 5.2 ٹریلین ڈالر ہے۔ جبکہ جنوری 2025ء سے اب تک ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن اس کے صرف 2.4 فیصد کے مساوی ہے۔
جہاں تک اس دعوے کا تعلق ہے کہ ٹیرف بالآخر امریکی تجارتی خسارہ کم کر دیں گے تو یہ بھی اب تک غلط ثابت ہوا ہے۔ 2024ء کے پہلے سات مہینوں میں امریکہ کا تجارتی خسارہ 500 ارب ڈالر تھا۔ جبکہ 2025ء کے پہلے سات مہینوں میں یہ بڑھ کر 654 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ یعنی 31 فیصد اضافے کے ساتھ ایک نیا تاریخی ریکارڈ!
ٹرمپ کے دعووں کے برعکس درآمدی ٹیرف امریکی مینوفیکچرنگ کو ’دوبارہ عظیم‘ بنانے میں تھوڑی مدد ہی دیں گے۔ ہارورڈ کے رابرٹ لارنس کے مطابق، ’’تجارتی خسارہ ختم کرنے سے بھی امریکی مینوفیکچرنگ میں روزگار بہت کم بڑھے گا۔‘‘ تجارتی خسارہ ختم ہونے کی صورت میں بھی مینوفیکچرنگ میں صرف 2.8 ملین نوکریوں کا اضافہ ہو گا۔ جس سے کل نوکریوں میں سے مینوفیکچرنگ کی نوکریوں کی شرح میں محض 1.7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہی ہو گا اور یہ شرح 9.7 فیصد تک چلی جائے گی۔ ان میں بھی پیداواری مزدور صرف 4.7 فیصد ہوں گے۔ باقی 5 فیصد مینیجر، اکاؤنٹینٹ، انجینئر، ڈرائیور، سیلز پرسن وغیرہ ہوں گے۔ یوں پیداواری مزدوروں میں کل اضافہ صرف 1.3 ملین ہوگا۔ جو کہ کل امریکی روزگار کا صرف 0.9 فیصد ہے۔
ابھی تک امریکی معیشت گھٹنوں پر نہیں آئی کیونکہ کاروباری سرمایہ کاری اب بھی بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ اس کی رفتار کم ہو رہی ہے۔
کارپوریٹ منافعے اب بھی بڑھ رہے ہیں۔ لیکن یہ صرف بڑی کمپنیوں کا معاملہ ہے۔ مجموعی طور پر امریکی غیر مالیاتی کارپوریٹ سیکٹر میں منافعوں کی نمو ختم ہوتی جا رہی ہے۔
اور مرکزی بینک اگلے چھ ماہ میں شرحِ سود مزید کم کرنے والا ہے۔ جس سے قرضے لے کر مالیاتی اثاثوں میں سٹہ بازی کرنا اور آسان ہو جائے گا۔ لہٰذا ابھی تک کساد بازاری ظاہر نہیں ہوئی۔ لیکن اب سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ اے آئی کا بوم پیداواریت اور منافع کمانے کی صلاحیت میں اضافہ کر پاتا ہے یا نہیں۔ اگر اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی اے آئی سرمایہ کاری کے منافعے کم نکلے تو سٹاک مارکیٹ میں شدید گراوٹ آ سکتی ہے۔
یہ درست ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں ابھی تک زیادہ تر اے آئی سرمایہ کاری فری کیش فلو (خالص دستیاب رقوم) سے کر رہی تھیں۔ لیکن ان کے مالیاتی ذخائر تیزی سے گھٹ رہے ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ شیئرز جاری کر رہی ہیں اور قرضے لے رہی ہیں۔
اے آئی کمپنیاں اب آپس میں ہی معاہدے کر رہی ہیں تاکہ آمدن زیادہ دکھائی جا سکے۔ یہ مالیاتی میوزیکل چیئر جیسا ہے۔ ’اوپن اے آئی‘ نے صرف اس سال کمپیوٹنگ پاور کے لئے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے معاہدے کیے ہیں۔ جو اس کی آمدن سے کئی گنا بڑے ہیں۔ یہ کمپنی انفراسٹرکچر، چِپس اور مہارت پر زبردست سرمایہ خرچ کر رہی ہے۔ جبکہ اس کے پاس ان منصوبوں کے لیے مطلوبہ سرمایہ موجود نہیں ہے۔ اس لئے اس نے گزشتہ سال بینکوں سے 4 ارب ڈالر کا قرض لیا اور گزشتہ 12 مہینوں میں 47 ارب ڈالر وینچر سرمایہ کاروں سے حاصل کیے۔ جن کا بڑا حصہ مائیکروسافٹ کے ساتھ جاری تعاون پر منحصر ہے۔ کریڈٹ ایجنسی ’Moody’s‘ نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ’Oracle‘ کا ڈیٹا سینٹروں کا کاروبار بڑی حد تک ’اوپن اے آئی‘ پر منحصر ہے۔ جس کی منافع کمانے کی صلاحیت ابھی تک ثابت نہیں۔
اب سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ ’اوپن اے آئی‘ جیسی کمپنیوں کی آمدن اس قابل ہو جائے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی لاگتوں کو پورا کر سکے۔ گولڈمین سیکس کے مطابق اے آئی نے 2022ء سے اب تک امریکی معیشت کو 160 ارب ڈالر یعنی جی ڈی پی کے 0.7 فیصد کا فائدہ دیا ہے۔ جو سالانہ شرح نمو میں 0.3 فیصد پوائنٹس بنتا ہے۔ لیکن یہ زیادہ تر حسابی کھیل ہے‘ حقیقی پیداواری بہتری نہیں۔
’چیٹ جی پی ٹی-3‘ بنانے پر 50 ملین ڈالر خرچ ہوئے‘ جی پی ٹی-4 پر 500 ملین اور جی پی ٹی-5 پر 5 ارب ڈالر۔ لیکن صارفین کے مطابق نیا ورژن پہلے والے سے نمایاں طور پر بہتر نہیں تھا۔ دوسری طرف چین کی ’ڈیپ سیک‘ جیسی انتہائی سستی مقابل کمپنیوں کی وجہ سے مستقبل کے منافعے مزید دباؤ میں ہیں۔
لہٰذا ایک مالیاتی دھماکہ عین ممکن ہے۔ مگر جب مالیاتی بلبلہ پھٹتا ہے تو نئی ٹیکنالوجی غائب نہیں ہو جاتی۔ بلکہ نئی کمپنیاں اسے سستے داموں خرید کر استعمال کرتی ہیں۔ جسے آسٹرین ماہر معاشیات شومپیٹر ’’تخلیقی تباہی‘‘ کہتا ہے۔ یہی بات اِس سال کے معاشیات کے ’نوبل انعام‘ کے فاتحین فلپ ایگیون اور پیٹر ہاوٹ نے بھی کہی ہے۔ کہ ’بوم‘ اور ’بسٹ‘ جہاں ناگزیر ہیں وہاں تخلیق و جدت (Innovation) کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری بھی ہیں۔
تو اے آئی ٹیکنالوجی بالآخر پیداواریت میں اضافہ ممکن بنا سکتی ہے۔ اگر یہ انسانی محنت کو بڑی مقدار میں بے دخل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ لیکن شاید یہ سب کچھ ایک مالیاتی کریش اور اس کے بعد آنے والی معاشی گراوٹ کے بعد ہی ممکن ہو۔ اور اگر اے آئی سے چلنے والی امریکی معیشت گرتی ہے تو دنیا کی بڑی معیشتیں بھی اس کے ساتھ گریں گی۔ وقت ’Magnificent Seven‘ (جدید ترین ٹیکنالوجی کی سات بڑی امریکی کمپنیاں) کے ساتھ نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اداروں میں اے آئی کے استعمال کی شرح اب بھی کم ہے۔ حتیٰ کہ بڑی کمپنیوں میں بھی یہ کم ہو رہی ہے۔
دریں اثنا اے آئی انفراسٹرکچر پر اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور سرمایہ کار اے آئی کمپنیوں کے شیئرز اور قرضوں کی خریداری میں پیسہ ڈالے جا رہے ہیں۔ امریکی معیشت کے لئے یہ اے آئی پر ایک بہت بڑا جوا ہے!
