انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ

(عالمی صورتحال و تناظر کی تعمیم پر مبنی زیر نظر دستاویز انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ (ISL) کی تیسری کانگریس میں منظور ہوئی۔)

﴾ 2008ء کے بعد سے سرمایہ داری کا بحران اور انسانیت و فطرت پر اس کے تباہ کن اثرات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ محنت کشوں کے معیارِ زندگی میں مسلسل گراوٹ اور عوام کے سماجی و جمہوری حقوق پر حملے‘ ماحولیاتی تباہی میں بے نظیر اضافے کے ساتھ جڑ گئے ہیں۔ نسل پرستی، جنسی تعصب، ہوموفوبیا اور مہاجرین پر حملے بڑھ رہے ہیں۔ جنگیں، وبائیں، نسل کشیاں اور فرقہ وارانہ تنازعات دوبارہ لوٹ آئے ہیں۔ کئی ممالک میں اقتدار کے ایوانوں سے انتہائی دائیں بازو، جبر اور عسکریت پسندی کے رجحانات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ وہی ’’حل‘‘ ہیں جو ہمارے سامنے بورژوازی اور سامراج پیش کرتے ہیں۔ اگر جلد از جلد اس سلسلے کو نہ روکا گیا تو یہ ہمیں بربریت اور فنا کی طرف لے جائے گا۔ سوشلزم کی منزل تک لے جانے والے پروگرام سے لیس محنت کش طبقہ ہی اس گلے سڑے نظام کے خلاف قومی، علاقائی اور عالمی انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے اس ہولناک انجام سے انسانیت کو بچا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ’سوشلزم یا بربریت‘ اور انقلابی قوتوں کا نیا اتحاد ہماری جدوجہد اور تنظیم کے بنیادی نعرے ہیں۔

﴾ عالمی سطح پر ہم ایک نئے مرحلے یا دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ 2008ء کے بحران نے ہر چیز کو تہہ و بالا کر دیا ہے۔ اس نے سامراجی ریاستوں کو قرضوں میں ڈوبنے، بڑی کارپوریشنوں کو بچانے (بیل آؤٹ دینے) اور عوام کے خلاف ایک معاشی ردِ انقلاب شروع کرنے پر مجبور کیا تاکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نقصانات کی تلافی کی جا سکے۔ وبا، جو مسلسل بڑھتی ہوئی لوٹ کھسوٹ پر مبنی طفیلی پیداواری ماڈل اور عوامی خدمات (پبلک سروسز) میں سرمایہ کاری کی کمی کا نتیجہ تھی، نے سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کو مزید گہرا کر دیا۔

لیکن مزاحمت کے ابھرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ نئی صدی کے پہلے عشرے کے اختتام سے ہی دنیا کے مختلف حصوں میں بغاوتیں، بڑی جدوجہدیں اور عوامی تحریکیں ابھر رہی ہیں۔ سرمایہ داری مخالف وسیع ا لبنیاد تشکیلات (Broad Formations) بھی سامنے آئیں۔ لیکن ان کا مقصد سرمایہ داری کو گرانے کے بجائے اس میں اصلاح کرنا تھا۔ اسی وجہ سے وہ ناکام ہوئیں اور آج جاری دائیں بازو کی جوابی یلغار کا راستہ ہموار ہوا۔

روس اور چین میں سرمایہ داری کی بحالی مغربی سامراج کے سامنے ان ممالک کی نیم نوآبادیاتی حیثیت پر منتج نہیں ہوئی۔ بلکہ خود مغربی سامراج کا بحران گہرا ہو گیا۔ ان ریاستوں کا سامراجی طاقتوں میں تبدیل ہونا‘ زوال پذیر امریکی سامراج اور ابھرتے ہوئے چین کے درمیان بالادستی کی کشمکش کا آغاز بنا۔ گزشتہ پندرہ یا بیس برسوں میں رونما ہونے والی ان گہری تبدیلیوں کو سمجھے بغیر آج کی دنیا اور اس میں ابھرنے والے مظاہر کو نہیں سمجھا جا سکتا۔

﴾ ٹرمپ کی نئی صدارت کے ساتھ امریکی سامراج نے اپنے آپ کو دوبارہ دنیا کا مرکزی ’’پولیس مین‘‘ ثابت کرنے اور چین کے مقابلے میں اپنی طاقت کو بحال یا مضبوط کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد وجود میں آنے والے معاہدے اور ادارے اس کے زوال کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں‘ اس نے مروجہ عالمی نظام کو الٹ دیا ہے اور دوسری عالمی جنگ کے بعد کے دور اور پھر 1990ء کی دہائی کے لبرل عالمگیریت کے معاہدوں اور سمجھوتوں کو ختم کرنا شروع کر دیا ہے۔ (ٹرمپ کی قیادت میں) امریکہ ایک نیا عالمی نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو بڑی طاقتوں کے درمیان مخصوص معاہدوں پر مبنی ہو۔ جبکہ ساتھ ہی اپنے حریفوں کے خلاف تجارت اور ٹیرف کی جنگوں کو تیز کر رہا ہے، مختلف خطوں پر بالادستی کی کشمکش میں مصروف ہے، یورپ میں اپنے سابقہ اتحادیوں کی مالی امداد کم کر رہا ہے اور اپنے ملک سمیت دنیا بھر کے محنت کش عوام پر ایک یلغار مسلط کر رہا ہے تاکہ ان سے اپنی مسلسل مہم جوئیوں اور بحران کی قیمت وصول کر سکے۔

امریکی سامراج کی موجودہ حالت ایک ایسے درندے سے مشابہ ہے جو اپنے حواس کھو چکا ہو اور ایسے حالات میں پھنس گیا ہو جو تیزی سے اس کے قابو سے باہر ہو رہے ہوں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس پورے عمل کی مجسم صورت ہے۔ اپنی ٹھوس بالادستی کے حالات میں سامراجی طاقتیں عموماً ایسے لاابالی، بدعنوان، خود پسند اور ناقابلِ اعتماد افراد کو قیادت کے منصب پر نہیں بٹھایا کرتیں۔ امریکہ کے طفیلی سرمایہ داروں کی ذاتی دولت میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے منصوبوں کے لیے معدنی وسائل پر کنٹرول کو ٹرمپ کے منصوبوں اور سودوں میں واضح طور پر مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا خود ٹرمپ کا ابھار ہی اس نظام کے گہرے بحران کا ایک واضح سیاسی اظہار ہے۔ لیکن اس کی پالیسیاں کسی طویل مدتی یا مربوط منصوبے کے بجائے جگاڑ (Hit and Trial) سے زیادہ مشابہ ہیں اور واقعات کے دباؤ یا اس کی اپنی مخصوص عادات و خصائل کے تحت ہی تشکیل پاتی ہیں۔

﴾ اپنی پہلی مدتِ صدارت (2016ء تا 2020ء) کے دوران ٹرمپ کو بورژوازی کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ وہ روایتی پارٹیوں کے بحران اور سینڈرز اور ڈی ایس اے (ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ) کی پسپائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وائٹ ہاؤس تک پہنچا۔ اسے بڑے پیمانے کی عوامی موبلائزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے پروگرام کے بڑے حصے پر عمل درآمد میں ناکام رہا، دوبارہ انتخاب ہار گیا اور اس پر جرائم کے مقدمات چلے جن میں اسے مجرم قرار دیا گیا۔ تاہم اس دوران اس نے شدت پسند رجعتی رجحانات پر مبنی سماجی بنیادیں تعمیر کیں جسے اس نے صدارت سے محروم ہونے کے بعد بھی مضبوط کرنے کا عمل جاری رکھا۔ بائیڈن کے تباہ کن دورِ حکومت میں روایتی پارٹیوں کے مسلسل زوال اور ان چار برسوں کے دوران عالمی سطح پر انتہائی دائیں بازو کے ابھار کے ساتھ مل کر یہی سماجی بنیاد 2024ء کے انتخابات میں ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی اور بورژوازی کے اہم حصے کی حمایت دلوانے کا سبب بنی۔

بائیڈن کی دوسری انتخابی مہم کے انہدام اور کملا ہیرس کی عجلت میں مرتب کی گئی مہم نے بورژوازی کو کسی متبادل منصوبے سے محروم کر دیا۔ چنانچہ جب ٹرمپ انتخاب جیتا تو انہوں نے اسے متحرک یا مجہول طور پر اپنی حمایت فراہم کی۔ یہ حمایت اس نتیجے پر بھی مبنی ہے جس تک بحیثیت مجموعی بورژوازی پہنچ رہی ہے: 2008ء میں شروع ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لیے انہیں استحصال میں نمایاں اضافہ کرنا ہو گا اور عالمی قدر زائد (سرپلس ویلیو) کا بڑا حصہ اپنے قبضے میں لینا ہو گا۔ اور اس مقصد کے لیے درکار ساختی تبدیلیاں لانے میں پرانے سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کے کلیدی ادارے ان کے کسی کام کے نہیں۔ نہ رسمی جمہوریت موثر ہے‘ نہ ہی روایتی سیاسی ڈھانچے۔ اسی لیے وہ انتہائی دائیں بازو کی قوتوں کے فروغ کا جوا کھیل رہے ہیں۔ حتیٰ کہ نیو فاشسٹ تنظیموں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔

﴾ جنوری 2025ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ نے امریکہ میں محنت کشوں اور سماجی و جمہوری حقوق کے خلاف کھلی جنگ چھیڑ دی ہے۔ اس کے حملوں کا خاص نشانہ مہاجرین، متفرق صنفوں کے افراد اور خواتین ہیں۔ وہ تمام محنت کشوں کے استحصال میں اضافہ کرنا، مہاجرین کے پہلے سے شدید استحصال کو مزید بڑھانا، محنت کش طبقے کے اندر پھوٹ کو ہوا دینا اور سفید فام محنت کشوں کے ایک حصے پر مبنی اپنی رجعتی سماجی بنیادوں کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ سیاسی نظام کو آمرانہ اور جابرانہ انداز (بوناپارٹزم) میں ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ فرمانوں (Decrees) کے ذریعے حکومت کرتا ہے، کانگریس اور عدالتوں کے فیصلوں کو نظرانداز کرتا ہے اور داخلی جبر میں مسلح افواج کے استعمال کو معمول بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نے جرائم کے خلاف لڑنے کے بہانے لاس اینجلس اور پھر واشنگٹن ڈی سی میں بغاوتوں کو کچلنے کے لیے نیشنل گارڈ اور میرینز کو متحرک کیا ہے۔

لیکن لاس اینجلس میں آئس (ICE) کے خلاف بغاوت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کئی دنوں کی جھڑپوں کے بعد کام کی جگہوں پر مہاجرین کے اغوا کے عمل کو روکا ہے۔ جبکہ یکم مئی اور ’’نو کنگز‘‘ کے وسیع پیمانے کے تحرک نے لاکھوں افراد پر مشتمل ایک مزاحمتی تحریک کے ابھار کا اشارہ دیا ہے۔ نوجوانوں اور محنت کشوں کے بعض حصوں میں مزید ریڈکلائزیشن دیکھنے میں آئی ہے۔ ان میں سے بہت سے خود کو سوشلسٹ قرار دیتے ہیں اور یہی بات نیویارک میں زوہرن ممدانی جیسے مظاہر کی وضاحت کرتی ہے۔

﴾ عالمی سطح پر ٹرمپ کی قیادت میں چلنے والا منصوبہ امریکی سامراجی طاقت کے زوال کو پلٹنے کی کوششوں پر مبنی ہے۔ جس کے لیے وہ اس فوجی اور معاشی برتری کا بھرپور استعمال کرنا چاہتا ہے جو امریکہ اب بھی کسی حد تک برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسی مقصد کے تحت اس نے یورپی یونین، کینیڈا، میکسیکو، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ امریکہ کے تاریخی اتحاد توڑ دئیے ہیں تاکہ باقی دنیا کی قیمت پر چین اور روس کے ساتھ زیادہ براہِ راست مذاکرات کیے جا سکیں۔ اس نے وہ کثیر جہتی حکمت عملی ترک کر دی ہے جس کی قیادت امریکہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا تھا اور (پرانے) عالمی نظام کے اداروں اور اتحادوں (نیٹو، عالمی تجارتی تنظیم (WTO)، عالمی ادارہ صحت (WHO)، اقوامِ متحدہ وغیرہ) سے فاصلہ اختیار کیاہے۔ ان کی جگہ وہ یکطرفہ اور جارحانہ پالیسی اپنا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ تحفظ پسندانہ (پروٹیکشنسٹ) قوم پرستی کو فروغ دے رہا ہے۔ جو اس کی سماجی بنیاد کو حب الوطنی، نسل پرستی اور مہاجر دشمن نظریات کے ذریعے تقویت دیتی ہے۔

اس نے تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسی شروع کی ہے۔ جس کے تحت تقریباً 70 ممالک پر درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کیے گئے ہیں۔ چاہے وہ اتحادی ہوں یا حریف۔ وہ اتحادی، تابع اور حریف ممالک پر امریکی برتری مسلط کرنا چاہتا ہے تاکہ امریکی بورژوازی عالمی قدرِ زائد کا بڑا حصہ اپنے قبضے میں لے سکے۔ وہ خود (امریکی) بورژوازی پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ صنعتی پیداوار اور قدر زائد کی تخلیق کو واپس امریکہ منتقل کیا جائے۔

لیکن اب تک ان پالیسیوں کے نتائج متضاد رہے ہیں۔ وہ اپنی مدت کا آغاز طاقت کے مظاہرے سے کرنا چاہتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ یوکرائن اور غزہ کے تنازعات چند دنوں میں حل کر دے گا۔ لیکن ایک سال بعد بھی دونوں تنازعات حل نہیں ہو سکے۔ اس نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے۔ لیکن اسرائیل نے اپنے حملے کے ذریعے اس کوشش کو سبوتاژ کر دیا۔ ٹیرف کی پالیسی کے نتائج بھی اسی طرح متضاد ہیں۔ کچھ ممالک نے امریکہ کے حق میں زیادہ سازگار تجارتی معاہدے قبول کیے۔ لیکن برازیل، میکسیکو اور یورپی یونین سے لے کر چین تک‘ اہم ممالک نے ٹرمپ کو دوبارہ مذاکرات پر مجبور کیا یا جوابی محصولات عائد کر دئیے۔ جس کے نتیجے میں بار بار ٹیرف کے اعلان اور پھر معطلی کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس کا نتیجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مختلف شعبوں میں معاشی نقصانات کی صورت میں نکلا ہے۔

﴾ ایک منقسم (پولرائزڈ) دنیا میں جہاں ایک طرف عوام پر سرمایہ دارانہ یلغار شدت اختیار کر رہی ہے وہیں دوسری طرف ہڑتالوں، بڑے پیمانے کی تحریکوں اور بغاوتوں کی صورت میں محنت کش عوام کی مزاحمت بھی بڑھ رہی ہے۔ کئی برسوں سے یہی پولرائزیشن عالمی صورتحال کی بنیادی خاصیت بنی ہوئی ہے۔ تاہم سیاسی نمائندگی کے حوالے سے یہ پولرائزیشن غیر متوازن ہے۔ جہاں رجعتی قطب کو انتہائی دائیں بازو کے ابھار کی صورت میں ایک واضح سیاسی اظہار ملا ہے جسے ٹرمپ نے مزید تقویت دی ہے‘ وہیں جن بغاوتوں اور جدوجہدوں کو ہم دیکھ رہے ہیں وہ زیادہ تر خود رو انداز میں ابھر رہی ہیں جن میں مزدور تحریک کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر پا رہی۔ نہ ہی ان کی کوئی منظم شکل ہے‘ نہ کوئی انقلابی قیادت جو ان کی نمائندگی کرے۔

یہ صورتِ حال محنت کش طبقے کے شعور کی پسپائی کی عکاسی کرتی ہے اور کئی دہائیوں تک سٹالنزم، سوشل ڈیموکریسی اور بورژوا قوم پرست قیادتوں کے زیر اثر رہنے کا نتیجہ ہے۔ ان رجحانات نے مزدور تحریک میں طبقاتی مفاہمت کی آتشک (Syphilis) کی سرایت کر وائی ہے۔ اس صدی کے آغاز اور معاشی بحران کے ابتدائی برسوں میں بالخصوص امریکہ اور یورپ میں بائیں بازو کی طرف ایک جھکاؤ پیدا ہواتھا۔ جس نے شاویز، سائریزا، پوڈیموس، کرشنر ازم وغیرہ جیسی نئی قوم پرست اور ریڈیکل اصلاح پسند تحریکوں کو ابھارا۔ ان تحریکوں کی پسپائیاں، جو ان کی پروگراماتی اور طبقاتی حدود کا نتیجہ تھیں، بعد میں انتہائی دائیں بازو کے ابھار کی جزوی وضاحت فراہم کرتی ہیں۔

آج جدوجہد میں شدت اور انقلابی قوتوں کی کمزوری کے امتزاج نے ایک بار پھر بعض ممالک میں اسی نوعیت کی تشکیلات کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسے ہر معاملے پر الگ الگ بحث ضروری ہے تاکہ مداخلت کی درست شکل طے کی جا سکے۔ صرف ارجنٹینا میں جہاں انقلابی بائیں بازو کی ایک طویل روایت موجود ہے، یہ قوتیں ایف آئی ٹی یو (ورکرز لیفٹ فرنٹ) کے ذریعے خود کو ایک قطب (Pole) یا عوامی حوالے میں ڈھالنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ تاہم طبقاتی جدوجہد اور خواتین، نوجوانوں اور سیاسی کارکنان کی کئی پرتوں کی ریڈکلائزیشن ہمیں اپنی پارٹیوں کی تعمیر میں آگے بڑھنے کے وسیع مواقع فراہم کر رہی ہے۔ بشرطیکہ ہم اپنی بنیادی حکمت عملی اور اصولوں کو قربان کیے اور بے کار قسم کی عقیدہ پرستی میں گرے بغیر اپنے طریقوں اور تدبیروں کو جرات مندی سے لاگو کریں۔ اسی کے ساتھ ہمیں اپنی نوجوان تحریک کی تعمیر کو ترجیح دینی چاہیے جو عالمی سطح پر ابھار میں ہے۔ کیونکہ یہی وہ شعبہ ہے جہاں سب سے تیزی سے کیڈرز کی تربیت ممکن ہے جو ہماری پارٹیوں کو متحرک کریں گے اور ہمیں مزدور تحریک کے ساتھ زیادہ موثر طور پر جڑنے کے قابل بنائیں گے۔

ہماری کانگریس ایسے عالمی حالات میں منعقد ہو رہی ہے جہاں سرمایہ داری کی رجعتی یلغار کے مقابلے میں اہم عوامی جدوجہدیں جنم لے رہی ہیں۔ سب سے نمایاں پیش رفت فلسطینی عوام کی حمایت میں ابھرنے والی وسیع بین الاقوامی تحریک ہے۔ دہائیوں بعد پہلی مرتبہ ہم نے بین الاقوامیت پر مبنی اتنی مضبوط تحریک دیکھی ہے۔ امریکہ، متعدد یورپی ممالک، آسٹریلیا، مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے ہیں۔ اٹلی کی طرح عام ہڑتالیں ہوئیں اور صمود فلوٹیلا جیسے اقدامات کو آبادی کے وسیع حصوں نے قریب سے دیکھا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان مسلط کردہ معاہدے کا ایک مقصد اس عظیم عوامی تحرک کو توڑنا بھی تھا۔ کیونکہ اس نے عالمی رائے عامہ میں تبدیلی کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی سامراج کے ٹھکانے کو کمزور کر دیا ہے۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ اس میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ اگرچہ یہ واضح ہے کہ اس نے عوامی تحریک کے بعض حصوں کو کنفیوز ضرور کیا ہے۔

بدقسمتی سے کیمپزم (Campism) اور سٹالنزم اور روسی سامراج کے دباؤ کے سامنے جھک جانے والے بائیں بازو کے مختلف حلقوں کے کردار کے باعث یوکرائنی عوام کی حمایت اور روسی جارحیت و نیٹو کے سامراجی عزائم کے خلاف ایک وسیع پیمانے کی آزاد عوامی تحریک کھڑی نہ ہو سکی۔ صرف انقلابیوں کی ایک اقلیت نے ہی اصولی موقف برقرار رکھا اور اسی نے ہمیں دیگر انقلابی حلقوں کے ساتھ اتحاد اور آئی ایس ایل  کو مضبوط کرنے میں پیش رفت کا موقع فراہم کیا۔

گزشتہ مہینوں میں کئی ممالک میں نوجوان سڑکوں پر نکلے ہیں اور بڑی سماجی ہلچل پیدا کی ہے۔ یہ نئی نسل، جسے بعض لوگ جنریشن زی کہتے ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ لاکھوں کروڑوں نوجوان غربت، کچے روزگار، آمرانہ طرزِ حکمرانی اور زوال پذیر سرمایہ داری میں بہتری کے مواقع کی کمی کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔

ہم نے ایکواڈور، پاناما اور پیرو میں حکومتوں کے ساتھ بڑے تصادم دیکھے ہیں اور لاطینی امریکہ میں دیگر اہم جدوجہدیں بھی ابھری ہیں۔ مراکش، مڈغاسکر، تنزانیہ، کینیا، برکینا فاسو، نائیجر اور پورے ساحل (Sahel) کے خطے میں بغاوتیں ہوئی ہیں۔ ایشیا میں نیپال، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، کشمیر اور دیگر علاقوں میں شورشیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ امریکہ میں بھی ٹرمپ کی مزدور دشمن اور آمرانہ پالیسیوں کے خلاف تحریک پنپ رہی ہے۔

﴾ انتہائی دائیں بازو اور آسٹیریٹی کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کا ایک کلیدی حربہ ’یونائیٹڈ فرنٹ‘ ہے۔ محنت کش طبقے اور وسیع تر عوام کے خلاف سرمایہ دارانہ یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بائیں بازو کی تنظیموں کے درمیان متحدہ محاذ کی اپیل کو پوری قوت سے آگے بڑھائیں اور بیوروکریٹک و اصلاح پسند قیادتوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مختلف بورژوا حکومتوں کی جانب سے کیے گئے ہر اس اقدام کے خلاف متحرک ہوں جو جمہوری اور سماجی حقوق کو محدود کرتا ہے۔ اس حکمت عملی کے دو مقاصد ہیں: ۱) عوامی تحریک کو مضبوط کرنا ۲) بیوروکریٹک، پیٹی بورژوا اور اصلاح پسند قیادتوں کو محنت کشوں اور (ترقی پسند رجحان رکھنے والے) سیاسی کارکنان کے سامنے بے نقاب کرنا۔

جدوجہد کے دوران یا جب کبھی سخت ردِعمل درکار ہو‘ ہمیں تحریک کی ہراول پرتوں کے اندر موجود ان فرقہ وارانہ رجحانات کے خلاف لڑنا چاہیے جو مشترکہ عملی اقدامات کے امکان کو رد کرتے یا ان کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ اسی طرح ان رجحانات کے خلاف بھی جو یونائیٹڈ فرنٹ کو سیاسی اتحاد کے ساتھ خلط ملط کر دیتے ہیں اور بیوروکریٹک یا سینٹرسٹ قیادتوں کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ ہماری تنظیموں اور پارٹیوں کو مشترکہ دشمن کے خلاف اتحاد کا علمبردار ہونا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی اپنے عارضی اتحادیوں پر تنقید بھی برقرار رکھنی چاہیے۔ نیز اپنی سیاسی اور تنظیمی پوزیشنوں کو اس انداز میں واضح کرنا چاہیے جو اکثریتی محنت کشوں کے لیے قابلِ فہم ہو اور انہیں تفرقہ انگیز بھی محسوس نہ ہو۔

یونائیٹڈ فرنٹ کی مثبت مثالوں میں امریکہ میں سوشلسٹ ہورائزن کی جانب سے دیگر رجحانات کے ساتھ کیا جانے والا اتحاد شامل ہے۔ جس نے (سوشلزم کا نام لینے پر امریکی ریاست کے عتاب کے شکار پروفیسر) ٹام کے دفاع کو مضبوط کیا اور طبقاتی جدوجہد کے بعض واقعات میں شرکت کی بحث کو آگے بڑھایا۔ ایک اور مثال ارجنٹینا میں ایم ایس ٹی (MST) کی وہ پالیسی ہے جس کے ذریعے گاراہان ہسپتال کی تاریخی ہڑتال کی کامیابی کو یقینی بنایا گیا۔ اور بین الاقوامی سطح پر فلسطین کی حمایت میں متحرک ہونے کی کوششیں بھی ایک اہم مثال ہیں۔ جہاں آئی ایل ایس کے تمام سیکشنوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

﴾ سیاسی میدان میں انقلابی قیادت کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے مقصد کے تحت ہماری بنیادی پالیسی یہ ہونی چاہیے کہ منتشر انقلابی قوتوں کے ازسرِنو اتحاد کے لیے مسلسل جستجو کی جائے۔ یہ قوتیں ایک کلیدی اثاثہ ہیں جنہیں ضائع کرنے کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔ مقصد مضبوط و ہراول انقلابی پارٹیاں اور ایک نئی انٹرنیشنل تعمیر کرنا ہے۔ آئی ایس ایل محض اس تعمیر کی ابتدائی شکل ہے جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں۔

ظاہر ہے یہ محض اتحاد برائے اتحاد کا سوال بھی نہیں ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ اتحاد اس بنیاد پر ہو کہ طبقاتی جدوجہد کے اہم واقعات میں اختیار کی جانے والی پالیسیوں پر اتفاق ہو اور عالمی صورتحال کا ایک مشترک تجزیہ موجود ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اختلافات اور باریکیوں سے نمٹنے کے لیے ایک درست اور صحت مند طریقہ کار اختیار کرنا بھی ناگزیر ہے۔ کیونکہ نئی بنیادوں پر اتحاد کا مطلب مختلف روایات سے آنے والے ساتھیوں اور تنظیموں کے ساتھ مشترکہ کام کرنا ہے۔ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہم اس تیسری کانگریس کے لیے کیے گئے تمام کام کو پیش کریں گے اور ان تمام قوتوں کو بحث کے لیے کھلا دعوت نامہ دیں گے جو بربریت کا مقابلہ کرنے اور سوشلزم تک کا راستہ ہموار کرنے والی دنیا کی تعمیر کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت کو سمجھتی ہیں۔