حارث قدیر
24 ستمبر 2025ء کو لداخ کے شہر لیہہ میں جاری ریاستی حقوق کی جدوجہد اس وقت ایک خونریز مرحلے میں داخل ہوئی جب مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ جھڑپیں اسی حدود میں ہوئیں جہاں مشہور ماحولیاتی کارکن اور مقامی رہنما سونم وانگ چک کی طویل بھوک ہڑتال جاری تھی۔ وانگ چک کے ساتھ بھوک ہڑتال پر موجود 15 لوگوں میں 72 اور 60 سال کی عمر کے رہنما بھی شامل تھے۔ جن کی طبیعت بگڑنے کی اطلاع پر نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوں نے احتجاج کا آغاز کیا۔ اس احتجاج کو کچلنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کی شیلنگ، فائرنگ اور تشدد کا راستہ اپنایا۔ بعد ازاں 26 ستمبر کو سونم وانگ چک کو گرفتار کر کے بھارتی ریاست راجھستان کی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کے خلاف این ایس اے کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
لداخ میں یہ احتجاج اکتوبر 2020ء سے جاری ہے۔ لداخ کے عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ لداخ کو فوری طور پر ریاست کا درجہ دیا جائے۔ تاکہ مقامی نمائندگی اور قانون سازی ممکن ہو سکے۔ لداخ کو بھارتی آئین کے سکستھ شیڈول میں شامل کرنے یا مساوی آئینی تحفظ دینے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ تاکہ مقامی آبادی کی زمینوں، ثقافت اور وسائل کی حفاظت کے لیے آئینی گارنٹی مل سکے۔ لداخ پبلک سروس کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ تاکہ سرکاری ملازمتوں میں مقامی افراد کو روزگار کی ضمانت مل سکے۔ بیرونی سرمایہ کاری، کان کنی اور توانائی کے منصوبوں کے لیے ماحولیاتی معائنے اور مقامی رضامندی لازمی قرار دیے جانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی پارلیمان میں ایک کی بجائے دو نشستوں کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
پس منظر: آئینی محاذ اور نو آبادیاتی تسلسل
5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت نے جموں کشمیر ری آرگنائزیشن بل پارلیمان میں پیش کرتے ہوئے بھارتی آئین میں جموں کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس کے بعد بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں (یونین ٹیریٹریز) میں تقسیم کر دیا تھا۔ جموں کشمیر کو انتخابی اسمبلی کی حامل یونین ٹیریٹری قرار دیاگیا۔ جبکہ لداخ کو بغیر انتخابی اسمبلی کے یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا تھا۔
لداخ بنیادی طور پر دو حصوں لیہہ اور کارگل پر مشتمل ہے۔ لیہہ میں بدھ مت مذہب کے پیروکاروں کی اکثریت ہے۔ جبکہ کارگل میں شیعہ اسلام کے ماننے والے اکثریت میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کارگل میں جموں کشمیر کے ساتھ رہنے کی حمایت پائی جاتی رہی ہے۔ جبکہ لیہہ میں جموں کشمیر کے خلاف ایک مزاحمت ہمیشہ سے رہی ہے۔
بھارتی ریاست نے اس اختلاف کو ایک موقع کے طور پر اپنایا اور لیہہ میں موجود اس بے چینی کو ہوا دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ لیہہ میں جموں کشمیر سے علیحدگی اور بھارتی یونین ٹیریٹری کا درجہ دینے کا مطالبہ نہ صرف زور پکڑ رہا تھا بلکہ 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدام کو بڑی خوش دلی سے خوش آمدید بھی کہا گیا۔ ایسی ہی کیفیت ایک وقت میں پاکستانی زیر انتظام اور لداخ سے متصل گلگت بلتستان میں بھی موجود تھی۔ مقامی رہنماؤں کی اکثریت پاکستان کا صوبہ بنائے جانے کے حق میں مہم چلانے میں مصروف تھی۔ تاہم جب صوبہ بنانے کا وقت آیا تو ماضی کے نو آبادیاتی کنٹرول کے ایک تسلسل کے طور پر ہی علامتی اور بے اختیار صوبائی سیٹ اپ نافذ کرنے کے بعد ایک بار پھر اب آئین ساز اسمبلی اور وسائل پر اختیار کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات کو خوش دلی سے قبول کرنے کے چند ماہ بعد جب لیفٹیننٹ گورنر اور بھارتی افسروں کی ایک فوج اقتدار سنبھالنے کے لیے پہنچ گئی تو لداخ میں بے چینی ایک بار پھر بڑھنے لگی۔ تاہم اب کی بار یہ بے چینی بھارتی ریاست کے نو آبادیاتی جبر کے خلاف تھی۔ اس مرکزیت کے عمل نے مقامی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا اور ترقیاتی فیصلوں کو مرکز کے کنٹرول میں دے دیا۔ یہی وہ بنیاد ہے جہاں سے مقامی قومیت، زمین کے حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے مطالبات جنم لیتے ہیں۔ یہ پس منظر ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ احتجاج محض سیاسی مطالبات کے گرد نہیں بلکہ زمین، وسائل، ثقافت اور زندگیاں بچانے کی جدوجہد ہے۔ یہ ایک ایسی جدوجہد ہے جو نو آبادیاتی تسلط کے جدید رجحان کے خلاف ہے۔ جہاں مرکز سرمایہ کاری کے ذریعے علاقائی کنٹرول کو پختہ کرتا ہے۔
لداخ اور کارگل کی یہ تقسیم لیہہ اپیکس کمیٹی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کی صورت میں اتحاد کے بعد بھی کسی نہ کسی حد تک موجود ہے۔ ریاستی حیثیت، سکستھ شیڈول اور دیگر مشترکہ مطالبات کے ساتھ ہی لیہہ اپیکس کمیٹی خود مختاری جبکہ کارگل ڈیموکریٹک الائنس جموں کشمیر کے ساتھ تعلقات پر بھی زور دے رہا ہے۔
بیرونی سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور سماجی و ماحولیاتی اثرات
بھارتی حکومت اور سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے لداخ کو ’سرمایہ کاری کے مواقع‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سرکاری سروے کے مطابق لداخ میں سرمایہ کاری کے 23 بڑے مواقع ہیں۔ جن کی مجموعی قدر تقریباً 9.25 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں سولر، ایوی ایشن، ونڈ انرجی، سڑکیں، سیاحت اور ٹرانسمیشن وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے منصوبوں پر کام شروع ہونے کے مراحل میں ہے۔
سائنسی مطالعات نے لداخ کے متعدد گلیشیرز میں اوسطاً 23.6 فیصد رقبے کی کمی ریکارڈ کی ہے۔ کچھ گلیشیرز کے پگھلنے کا بہت تیز عمل نوٹ کیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں جھیلوں کا پھیلاؤ تیز ہو رہا ہے۔ گلیشیرز سے بننے والی ان جھیلوں کے ٹوٹنے سے سیلابوں کا خطرہ پہلے سے کئی گنا بڑھ چکا ہے۔
یہ اعداد واضح کرتے ہیں کہ سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کے نام پر تیز رفتار ترقی وہاں کے ایکو سسٹم اور مقامی حیاتیاتی توازن کو کمزور کر رہی ہے۔ اگر ماحولیاتی سروے شفاف نہ ہوئے اور مقامی رضامندی اور رائے کو اہمیت نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں علاقے کی معیشت اور مقامی آبادی بری طرح سے متاثر ہو سکتی ہے۔
معیشت اور روزگار
لداخ کی معیشت روایتی طور پر زراعت، گلہ بانی اور موسمی سیاحت پر منحصر رہی ہے۔ شماریاتی ریکارڈ کے مطابق معیشت میں زراعت کا حصہ کم ہو کر سروس اور سیاحت کی طرف زیادہ منتقل ہوا ہے۔ عدم استحکام، کم تنخواہوں اور بیرونی مزدوروں کی آمد سے مقامی روزگار پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انتہائی سنگلاخ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے معیار زندگی پہلے ہی بہت پست ہے۔ بنیادی سروسز، تعلیم، صحت اور آمدنی کے اعشارئیے قومی اوسط سے بہت کم ہیں۔
بیرونی سرمایہ کاری کے بڑے منصوبوں میں جہاں مقامی ماحول کی تباہی ایک بڑا عنصر ہے وہیں روزگار کے پیدا ہونے والے مواقع بھی بڑے پیمانے پر غیر ریاستی افراد کی آمد کی راہ ہموار کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔ اسی طرح یونین ٹیریٹری بننے کے بعد مقامی سطح پر کنٹرول کو مضبوط کرنے کے لیے سرکاری ملازمتوں پر بھی بھارت کی دیگر ریاستوں سے بھرتیاں کیے جانے کا سلسلہ عروج پر ہے۔ یہ تمام حالات مقامی لوگوں میں عدم تحفظ کے خدشات پیدا کر رہے ہیں۔
تین لاکھ سے کم آبادی پر مشتمل وسائل سے مالا مال اس وسیع و عریض پہاڑی خطے میں سب سے بڑا عدم تحفظ آبادیاتی تناسب کے بگڑنے اور زمینوں سے محروم ہونے کا ہے۔ جس کے خلاف شدید ردعمل موجود ہے۔ اگر سرمایہ کاری مقامی روزگار، ٹریننگ اور زمین کے حقوق کے ساتھ جڑی نہ ہو تو وقتی و عارضی روزگار کے بعد مستقل بہتری کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ بیروزگاری، سماجی بے چینی اور سیاسی غم و غصہ بنتا ہے۔ جیسا کہ حالیہ احتجاجوں نے واضح کیا ہے۔
مذاکرات، عدالتی چیلنجز اور آئندہ منظر نامہ
بھارتی حکومت اور مقامی نمائندوں کے درمیان گفت و شنید، اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کا قیام اور مذاکرات جاری رہے۔ مگر حکومتی وعدہ خلافیوں اور آئینی پیچیدگیوں میں الجھانے کے مختلف بہانوں کی وجہ سے مذاکرات اکثر بے نتیجہ رہے۔ اب وانگ چک کی گرفتاری کے بعد احتجاجی اتحاد نے ہلاکتوں کی شفاف جوڈیشل انکوائری اور گرفتار افراد کی رہائی تک مذاکرات سے انکار کر رکھا ہے۔
دوسری جانب ہلاکتوں کے بعد لداخ میں کرفیو کے سلسلے میں 12 گھنٹوں کی نرمی کی جا رہی ہے۔ تاہم ابھی بھی چار سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد ہے۔
اگر حکومت نے بنیادی مطالبات پر ٹھوس اقدامات نہ کیے تو احتجاج مزید پھیل سکتا ہے۔ مقامی مزدور، کسان، ماحولیات کے کارکن اور نوجوان ایک متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دے سکتے ہیں۔ دوسری طرف سخت پولیس ایکشن اور قانونی شکنجہ بھی تحریک کو دبانے کی کوشش کرے گا۔ تاہم تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ جب مطالبات معاشی‘ آئینی حقوق سے جڑے ہوں تو اس احتجاج کو آسانی سے دبایا یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔
لداخ کا سوال
لداخ میں جاری یہ جدوجہد آئینی، مالیاتی اور سیاسی اختیارات سے جڑے مطالبات کے گرد ہو رہی ہے۔ تاہم ماضی کی نسبت لداخ میں بھارتی ریاست اور حکمران طبقات کی جانب رویے میں کافی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ جدوجہد ہمالیائی خطے کے دیگر منقسم حصوں میں جاری جدوجہد سے بھی جہاں مماثلت رکھتی ہے وہیں ریاست جبر اور حکمت عملی کے ذریعے اس کے مزید وسیع ہونے کے امکانات بھی ہیں۔
بھارتی ریاست کی جانب سے مسائل کو حل کرنے اور اس خطے کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے حیلے اور بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ لداخ کے لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سکستھ شیڈول آئین میں مخصوص ریاستوں کے لیے ہی شامل کیا گیا تھا۔ دیگر کسی خطے کو یہ درجہ نہیں دیا جا سکتا۔
ابھی تک بظاہر سول سوسائٹی گروہوں کے طور پر ایک سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم نوجوانوں کی اس جدوجہد میں بھرپور شمولیت اور ریاستی جبر نے مستقبل کے امکانات کو واضح کر دیا ہے۔ بھارتی پرچم ہاتھ میں اٹھائے حقوق مانگنے کا یہ سلسلہ جلد بھارتی پرچم کو لداخ کی سرزمین سے دھتکارے جانے کی طرف جا سکتا ہے۔
لداخ میں یہ جدوجہد سامراجی سرمایہ داری کے تحت ترقی کے نام پر وسائل کی اندھی لوٹ، فطرت کے استحصال اور سب سے بڑھ کر نو آبادیاتی جبر کو مزید گہرا کرنے کے خلاف ابھر رہی ہے۔ یہ ابھی تک لاشعوری طور پر محض عدم تحفظ کا شکار ہونے کی وجہ سے اٹھایا جانے والا قدم معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اس کے شعوری طور پر نو آبادیاتی جبر کے خلاف جدوجہد کی صورت میں ظاہر ہونے میں زیادہ وقت لگنے والا نہیں ہے۔
اگر بیرونی سرمایہ کاری مقامی حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور روزگار کے پائیدار مواقع کے بغیر شروع کرائی گئی تو وہ علاقے کو ایک نئی سامراجی تجربہ گاہ میں تبدیل کر دے گی۔ اس کا نتیجہ سماجی انتشار، ماحولیاتی تباہی اور مقامی طبقاتی محرومی ہو گا۔
یہ بھی درست ہے کہ لداخ کا تاریخ طور پر جموں کشمیر سے تعلق جبر کے بندھن کا ہی رہا ہے۔ تاہم یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ لداخ کا مستقبل مسئلہ جموں کشمیر کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ مسئلہ جموں کشمیر سے جڑے ان خطوں کی نجات کا راستہ تنہا تنہا پرواز کرنے میں نہیں بلکہ ظلم، جبر اور نو آبادیاتی قبضے کے خلاف ایک مشترکہ جدوجہد میں مضمر ہے۔ تاہم اس تاریخ کے بہاؤ کے عمل کو ایک لڑی میں پرونے کا کوئی منتر موجود نہیں ہے۔ جدوجہدکا آگے بڑھنا اور اس دوران حاصل ہونے والے تجربات ہی اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو مشترکہ جدوجہد پر مائل کر سکتے ہیں۔
ماضی میں لیہہ اور کارگل کا اتحاد بھی ناممکن نظر آ رہا تھا۔ جو وقت کے تھپیڑوں نے ممکن بنا دیا ہے۔ اب آگے بڑھتا یہ سفر جموں کشمیر کے مسئلے کے ساتھ جڑی دیگر قوموں کے ساتھ جڑت بنانے کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔ تاہم نوجوانوں کے لیے جہاں اس جدوجہد کو مشترکہ بنیادوں پر استوار کرنے کی راہیں تلاش کرنا ضروری ہے وہیں جدید سائنسی نظریات پر مشتمل انقلابی نجات کے پروگرام اور لائحہ عمل سے لیس قیادتوں کی تعمیر اور تیاری کا عمل بھی ناگزیر ہے۔ یہی ایک راستہ ہے کہ لداخ سے اٹھنے والے بغاوت کے یہ شعلے نہ صرف جموں کشمیر، گلگت بلتستان کے ساتھ اشتراک بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ بلکہ یہ جدوجہد جنوب ایشیا میں سامراجی و نو آبادیاتی طاقتوں کے خلاف ایک وسیع مزاحمتی تحریک کی ابتدا بن سکتی ہے۔
