نہ صرف لاہور کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ باسیوں کی وسیع اکثریت بلکہ دوسرے شہروں اور صوبوں سے خصوصی طور پر بسنت منانے کے لئے آنے والے لاکھوں لوگوں نے بنیاد پرستی، رجعت، ملائیت اور تحریک انصاف جیسے نیم فسطائی سیاسی رجحانات کا ’بو کاٹا‘ کیا ہے۔
پاکستان
نو آبادیاتی استحصال سے گھائل گلگت بلتستان کی پکار
حق خود ارادیت کے تحت گلگت بلتستان سمیت جموں کشمیر کے تمام ریجنوں کی رضاکارانہ فیڈریشن پر مشتمل ایک آزاد، خود مختار، سیکولر اور سوشلسٹ جموں کشمیر کا قیام ہی اس خطے کے باسیوں کو قلت، محرومی اور محکومی سے نجات دلا سکتا ہے اور پورے جنوب ایشیا کے سوشلسٹ مستقبل کی نوید ثابت ہو سکتا ہے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کی تحریک اور حکومت کی بے حسی
بلوچستان میں حکومتی انتقامی کاروائیوں، جھوٹے مقدمات،چھاپوں،گرفتاریوں اور معطلی کے احکامات کے باوجود سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک جاری ہے۔اس احتجاجی تحریک کا آغاز گزشتہ سال کے پہلے مہینے سے ہوا۔
سانحہ گُل پلازہ: جسے کہتے ہو تم جہنم مجھ پہ گزری ہے…
پاکستان کا سرمایہ دارانہ نظام اس قدر دیوالیہ اور ریاست اس قدر کھوکھلی و نااہل ہو چکی ہے کہ ایسی آفات و حادثات معمول بن چکے ہیں اور حکمران طبقات نے ان کے سدباب کے لیے سنجیدگی سے سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
پی آئی اے کی ’کامیاب‘ نجکاری!
پی آئی اے کی نجکاری میں کامیابی جہاں مزدور دشمن پالیسیوں کی وقتی جیت ہے وہاں پاکستان میں مزدور تحریک کی کمزوری اور ٹریڈ یونین کے دگرگوں حالات کی غماز بھی ہے۔
جموں کشمیر: عوامی حقوق تحریک کا نیا مرحلہ اور قیادت کا امتحان
اب ایک بار پھر وقت یہ تقاضا کر رہا ہے کہ معاشی مسائل کو سیاسی پروگرام سے منسلک کیا جائے۔ کم از کم نو آبادیاتی ڈھانچے کو چیلنج کرنے والا پروگرام عوام کے سامنے رکھا جائے۔
پاکستان: بحرانوں کی آماجگاہ
اس ملک کے معاشی مسائل لمبے عرصے کی ٹھوس منصوبہ بندی پر مبنی معیشت کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ جس میں معیشت کے کلیدی شعبوں کو قومی تحویل میں لے کر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے اور پیداوار سے ترسیل اور کھپت تک منصوبہ بندی کے ذریعے معیشت کو چند سرمایہ داروں کی بجائے وسیع تر عوام کے مفادات کے مطابق چلایا جائے۔
جموں کشمیر کی تحریک: عوامی ابھار، قیادت کا بحران اور جدوجہد کا نیا موڑ
یہ وہ موقع ہے جب ہمیں یہ سوال اٹھانا ہو گا کہ اس تحریک نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اگر سارے مطالبات بھی تسلیم کر لیے جاتے تو کیا کشمیری عوام کے مسائل ختم ہو جاتے؟
درد کی انجمن‘ جو میرا دیس ہے!
انگریز نوآباد کاروں سے ’آزادی‘ کی تقریباً آٹھ دہائیوں بعد اس خطے کی حالت یہ ہے کہ حادثے، سانحے اور المیے ایک معمول بن کے رہ گئے ہیں۔
سوات سانحہ: حادثہ ایک دم نہیں ہوتا!
مسئلہ یہ نہیں کہ پانی میں پھنسے سیاحوں کو بچانے کے لئے وقت کم تھا یا پانی کا ریلہ اچانک آ گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے ان حکومتوں کی تیاریاں کیا ہیں؟
بجٹ 2025-26ء: امیروں کی عیاشی، غریبوں کی بربادی
یہ بنیادی طور پر ایک ہی بجٹ ہے جو ہر سال نئی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ جس میں محنت کشوں کیلئے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
یوم مئی 2025ء کا پیغام
انقلاب روس کے معمار لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ زندگی کمزور کو نشانہ بناتی ہے۔ محنت کش طبقے کو اپنی یکجہتی اور جدوجہد سے ثابت کرنا ہو گا کہ نہ وہ کمزور ہیں‘ نہ ہی کسی حملے پر وہ چپ بیٹھیں گے۔
نئی نہریں اور پانی کے تنازعات: حل کیا ہے؟
اس زومبی سرمایہ داری نے نہ صرف تمام قدرتی وسائل کو انسان او ر انسانی سماج سے ماورا کر کے محض منافع کی نگاہ سے دیکھا ہے بلکہ ماحولیات کو تباہ کرتے ہوئے بھی اس نے انسانی زندگی کے مستقبل کے سوال کو یکسر نظر اندا ز کر دیا ہے۔
پاکستانی معیشت: بحران کا استحکام!
پاکستانی سرمایہ داری ایک ایسی تاریخی تاخیرزدگی اور متروکیت کا شکار ہے کہ اس میں جزوی بہتری و بحالی ایک نئے بحران کا پیش خیمہ ہی بنتی ہے۔
سموگ: سرمایہ داری کا ایک اور ’’تحفہ‘‘
ایک طرف سموگ کا عفریت ہے تو دوسری جانب روزی روٹی کے لالے۔ اور تیسری جانب زہریلی ہوا کے نتیجے میں ہسپتالوں کے اضافی اخراجات۔ گویا یہ چہار سو کا حملہ ہے جس کی بھینٹ پھر غریب آدمی ہی چڑھتا ہے۔















