قمر الزماں خاں

ناقابل ترقی نظام میں پاکستان کی 70 سالہ مقروض معیشت‘ قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لئے اپنے قدرتی وسائل، سونے، چاندی، تانبے، قیمتی پتھروں کی کانوں سے لے کر زمینوں، صحراؤں، پہاڑوں، سمندروں اور میٹھے پانیوں تک کا سودا کر چکی ہے۔ دوسری طرف نااہل حکمران طبقہ اپنی ذاتی آسائشوں اور بدکاریوں کے بدلے اپنے ضمیر، وطن پرستی اور قومی مفادات سمیت ملک کے 24 کروڑ لوگوں کے مقدر اور زندگیوں کو عا لمی اور ریجنل سامراجی قوتوں کے ہاتھوں رہن رکھ چکا ہے۔ یہ سب کچھ مکمل تباہی کا نسخہ ہے۔

امریکہ کے ترقی پسند دانشور مائیکل پیرینٹی کا کہنا ہے کہ ’’سرمایہ داری زندہ فطرت کو لے کر اسے اجناس (کموڈیٹیز) میں بدل دیتی ہے اور پھر ان اشیا کو مردہ سرمائے میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ زمین، معدنیات، ہوا اور پانی‘ یعنی ماں دھرتی کی ہر نعمت کو زندگی سے موت میں بدل دیتی ہے۔ یہ زومبی اِزم کی معیشت ہے اور زندہ مردوں کی دنیا۔ جس کا کوئی مقصد نہیں سوائے کھانے اور پینے کے۔ یہاں تک کہ وہ دنیا جو کبھی متحرک تھی‘ اپنی زندگی کی رمق کھو بیٹھی ہے۔ اگر آپ ایک سرمایہ دار زومبی کی آنکھوں میں جھانکیں تو آپ کو وہاں کچھ نہیں ملے گا۔ جہاں کبھی روح ہوا کرتی تھی اب بس ایک ایسی بھوک ہے جو کبھی نہیں بجھتی۔‘‘

اس زومبی سرمایہ داری نے نہ صرف تمام قدرتی وسائل کو انسان او ر انسانی سماج سے ماورا کر کے محض منافع کی نگاہ سے دیکھا ہے بلکہ ماحولیات کو تباہ کرتے ہوئے بھی اس نے انسانی زندگی کے مستقبل کے سوال کو یکسر نظر اندا ز کر دیا ہے۔ آج زمین پر درجہ حرارت خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے اور معمول کی زندگی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ یہ خطرہ موجود ہے کہ اگر ماحول دشمن سرگرمیوں میں کمی نہ کی گئی تو اس سیارے سے زندگی نابود ہو سکتی ہے۔ موسمی تغیرات سے دنیا بھر میں بہت سی اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور زیادہ تر تبدیلیاں انتہائی منفی نتائج پیدا کر رہی ہیں۔

دیگر مسائل، بحرانوں اور معاملات کے پہلو میں بڑا مسئلہ پانی کی کمی یا قلت کا بن کر آ رہا ہے۔ زندگی کے انحصار ـاور بقا کی وجوہات کی بنا پر پانی کے ذخائر اور وسائل پر تنازعات بڑھ رہے ہیں اور عالمی ایشو بنتے جا رہے ہیں۔ دنیا کے کئی پڑوسی ممالک میں عرصہ دراز سے کشیدگی کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ پانی کی تقسیم اور اس کے زیادہ یا کم استعمال کی کشمکش پر مبنی ہے۔ یہ تنازعات اکثر دریاؤں کے پانی کے بٹوارے، استعمال اور انتظام کے حوالے سے ہوتے ہیں۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ غیر منقسم ہندوستان میں نظام آبپاشی کے بندوبست میں یہ تصور موجود نہیں تھا کہ اِس نئے اور دنیا کے بڑے نہری نظام کو بٹوارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یوں بٹوارے کے بعد بڑا تنازعہ پانی کا بنا۔ اگر چہ اس تنازعے کو سندھ طاس معاہدے سے طے کرنے کی کوشش کی گئی۔ جس میں پاکستان کو تین دریاؤں کے پانی سے دستبردار ہونا پڑا۔ تاہم کشن گنگا سمیت دیگر دریاؤں کے پانی کے معاملات پر دونوں ممالک کے مابین تنازعات اٹھتے رہتے ہیں۔ اسی طرح بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان دریائے گنگا کے پانی کے بٹوارے پر تنازعات ہیں۔ دونوں ممالک نے گنگا کے پانی کے استعمال پر معاہدے کیے ہیں۔ لیکن پانی کی کمی کے باعث تنازعات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے درمیان دریائے نیل کے پانی کے استعمال پر تنازعات ہیں۔ ایتھوپیا نے نیل پر بڑے ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جس سے مصر اور سوڈان کو خدشہ ہے کہ ان کے حصے کا پانی کم ہو جائے گا۔ ترکی نے دریائے فرات اور دجلہ پر بڑے ڈیم بنائے ہیں۔ جس سے شام اور عراق کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ اس مسئلے پر تینوں ممالک کے درمیان تنازعات ہیں۔ اسی طرح چین کے اپنے ہمسایہ یا نواحی ممالک ویتنام، کمبوڈیا، لاؤس اور تھائی لینڈ وغیرہ کے ساتھ پانی کے مسئلے پر پیچیدہ تنازعات موجود ہیں۔

ان تمام اور دیگر ایسے تنازعات میں اہم بات پانی کی قلت ہے۔ ایران اور افغانستان کے مابین بھی ہلمند ڈیم بنانے پر آبی جھگڑا موجود ہے۔ مگر جہاں پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کی تقسیم اور پانی کی چوری جیسے مسائل پر بحث و تکرار ہوتی رہتی ہے وہاں خو د پاکستان کے مختلف صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم پر عدم اطمینان اور بے چینی موجود ہے۔ خاص طور پر دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم پر ہمیشہ سے تنازعات سر اٹھاتے رہے ہیں۔ دریائے سندھ میں پانی کی کمی کا آغاز بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں بیراجوں کی تعمیر کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ جب زرعی آباد کاری کے لئے نہری نظام کا آغاز سکھر و کوٹری بیراج کی تعمیر اور علاقے میں نہریں نکالنے سے کیا گیا تھا۔

اس مسئلے پر تفصیلی بات کرنے سے قبل ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی اندرونی طور پر صوبوں اور ریاستوں کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور قلت پر اختلافات اور جھگڑے موجود ہیں۔ بھارت کے کاویری دریا کا پانی تمل ناڈو اور کرناٹک کے درمیان تنازعے کا باعث رہا ہے۔ بھارت میں ہی کرشنا دریا کا پانی مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے درمیان جھگڑے کا باعث بنا ہوا ہے۔ مہاندی دریا کا پانی اڈیشا، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کے درمیان تضادات کا باعث بنا ہوا ہے۔ اڈیشا کا دعویٰ ہے کہ چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ دریائے مہاندی کا پانی ضرورت سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے اڈیشا کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ اسی طرح دریائے راوی کا پانی پنجاب اور ہریانہ کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ دریائے کولوراڈو کا پانی امریکہ کی سات ریاستوں کے درمیان تقسیم ہوتا ہے۔ کیلیفورنیا، ایریزونا اور نیواڈا جیسی ریاستیں پانی کے زیادہ استعمال کے لئے مشہور ہیں۔ جس سے دیگر ریاستوں کو پانی کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ خشک سالی اور آبادی میں اضافے کے باعث یہ تنازعہ مزید بڑھ گیا ہے۔ مرے اور ڈارلنگ دریا آسٹریلیا کے سب سے بڑے دریائی نظام ہیں۔ ان دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر بھی ریاستوں کے درمیان تنازعات پائے جاتے ہیں۔ بالخصوص جنوبی آسٹریلیا کا دعویٰ ہے کہ اوپر والی ریاستیں (جیسے نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ) پانی کا زیادہ استعمال کر رہی ہیں۔ جس سے انہیں پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ وسط ایشیا میں دریائے آمو اور دریا ئے وسیر پر ازبکستان، تاجکستان اور کرغزستان کے مابین ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے استعمال کے اختلافات ہیں۔ چین کے اندر دریائے یانگتسی اور زرد دریا کے پانی کی تقسیم پر صوبوں کے درمیان تنازعات ہیں۔ چین کے شمالی صوبے، جو زرد دریا پر انحصار کرتے ہیں، اکثر پانی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ جبکہ جنوبی صوبے زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں۔ کینیڈا میں دریائے ساسکاچوان کا پانی البرٹا، ساسکاچوان اور مینی ٹوبا کے درمیان تقسیم ہوتا ہے۔ البرٹا میں پانی کے زیادہ استعمال کے باعث ساس کاچوان اور مینی ٹوبا کو پانی کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ دریائے ساؤ فرانسسکو برازیل کے شمال مشرقی علاقے میں پانی کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے۔ وہاں بھی مختلف ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر مسائل رہتے ہیں۔ خاص طور پر جب پانی کی کمی ہوتی ہے۔

ان تمام تنازعات میں کئی ایک جیسی وجوہات بھی موجود ہیں۔ سامراجیت اور قبضہ گیری کی سرمایہ دارانہ صفت پہلے نمبر پر ہے۔ جبکہ دوسری طرف آبادی میں بے پناہ اضافہ ہے۔ اسی طرح کم پانی کے باوجود جدید طریقہ ہائے آبپاشی کا فقدان بھی شامل ہے۔ آبپاشی کے پرانے یا ناقص طریقوں کی وجہ سے دریاؤں سے کھیتوں تک پانی پہنچنے سے قبل ہی کم از کم نصف ضائع ہو جاتا ہے۔ میٹھے پانی کو ضائع کرنے میں کم ترقی یافتہ ممالک سرفہرست ہیں۔ سہولیات اور وسائل کی کمی یا ترجیحات طے نہ ہونے کے باعث میٹھے پانی کے ذخیرہ کرنے کے جدید طریقوں کو بروئے کار نہیں لایا جاتا۔ خاص طور پر موسم گرما اور سیلاب کے دنوں میں پانی کو سنبھالنے یا زیر زمین ذخیرہ کرنے کا طریقہ استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس کے باعث پانی آبادیوں، زمینوں اور املاک کو نقصان پہنچاتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے۔ دوسری طرف عام حالات میں خشک سالی اور پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ بھی فصلوں، انسانوں اور مختلف قسم کی نباتات اور حیاتیات کے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ سمندر میں مطلوبہ مقدار میں میٹھا پانی نہ پہنچنا زرخیز زمینوں کے کٹاؤ کا باعث بنتا ہے۔ جس سے ماحولیاتی توازن میں بگاڑ کے ساتھ مالیاتی نقصان ہوتا ہے اور معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

پاکستان کا انڈس ڈیلٹا، جو کبھی ایک مثالی قدرتی ماحولیاتی نظام تھا، اب یکسر بدل چکا ہے۔ یہ دنیا کے 40 سب سے زیادہ حیاتیاتی طور پر دولت مند اِیکو ریجنوں میں شامل ہے اور یہ ایک رامسر سائٹ (یعنی ایران کے شہر رامسر میں ہونے والے کنونشن کے تحت گیلی زمینوں کے تحفظ والا علاقہ) بھی ہے۔ بدقسمتی سے اس کے منگروو جنگلات اور اس کے دریاؤں میں مچھلیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اورمچھیرے اور مقامی بستیاں اپنے رہائشی مقامات چھوڑ رہی ہیں۔ کیونکہ روزگار کے وسائل کم ہو گئے ہیں۔ شدید غربت، غذائی عدم تحفظ اور بیماریاں عام ہیں۔ اس علاقے کا خوشحال ماضی دہائیوں کے دوران محرومی میں بدل چکا ہے۔ انڈس ڈیلٹا کا رقبہ 600,000 ہیکٹر تھا۔ جو مشرق میں سر کریک اور مغرب میں پھٹی کریک کے درمیان واقع تھا۔ اس میں 17 فعال کریکس تھیں جو اب صرف دو (کھو بر اور کھار) رہ گئی ہیں۔ ڈیلٹائی اضلاع ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کی آٹھ تحصیلوں کی بیس لاکھ آبادی ماحولیاتی تبدیلیوں اور پانی کی کمی سے ڈیلٹا کی تباہی سے متاثر ہو رہی ہے۔ مچھلی کے شکار میں کمی، سمندر کے زمین کی طرف بڑھنے کے عمل اور لیفٹ بینک آؤ ٹ فال سٹریم کے نہ ہونے سے غربت، بیروزگاری اور مفلسی بڑھ رہی ہے۔ یہاں سے آبادیوں کا انخلا ہو رہا ہے۔

پچھلے 25 سالوں کے بہاؤ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 12 سالوں میں کوٹری بیراج کے نیچے بہاؤ 10 ملین ایکڑ فٹ (MAF) سے کم تھے۔ یہ حد 1991ء کے بین الصوبائی پانی کی تقسیم کے معاہدے میں عارضی طور پر طے کی گئی تھی۔ نتیجتاً ڈیلٹا میں مٹی کی نقل و حمل میں کمی آئی ہے۔ انڈس ڈیلٹا کو تربیلا کے سالوں سے پہلے 400 ملین ٹن مٹی ملتی تھی۔ جو اب تقریباً 125 ملین ٹن سالانہ رہ گئی ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کے پینل کی ایک رپورٹ کے مطابق کوٹری بیراج کے نیچے ڈیلٹائی ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے کم از کم 5,000 کیوسک بہاؤ کی ضرورت ہے۔ تاہم پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دو مون سون کے مہینوں (جولائی تا ستمبر) کے علاوہ مطلوبہ مقدار کا پانی کوٹری بیراج کے دروازوں سے نہیں گزرتا۔ دوسرے الفاظ میں زیادہ تر مہینوں میں کوئی مٹی سمندر کے کنارے تک نہیں پہنچتی۔ جس سے سمندری در اندازی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔یعنی سمندر آگے بڑھنا شروع کر دیتا ہے۔

دوسری طرف سرمایہ دارانہ بے احتیاطی اور منافعوں کے لالچ سے دنیا کے قدرتی ماحول کو تہہ تیغ کر دینے کے عمل سے پاکستان ماحولیاتی آلودگی کاشکار ہونے والے ممالک میں سر فہرست ہو چکا ہے۔ اس کے دو مناظر 2010ء اور 2022ء کے سیلابوں کی شکل میں ہم دیکھ چکے ہیں۔ صنعتی گیسوں کے بے پناہ اخراج کے نتیجے میں گرمی میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کے گلیشیرز کا غیر معمولی طور پر پگھلنا ہولناک مستقبل کی نشاندہی کر رہا ہے۔ عطا آباد جھیل کے بعد ایسی درجنوں جھیلیں غیر معمولی موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے معرض وجود میں آ چکی ہیں۔ جہاں کبھی منجمد گلیشیرز ہوا کرتے تھے۔ دریاؤں کے پانی کے خاتمے یا کمی کے سبب شدید ماحولیاتی تباہی پچھلے ساٹھ سالوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پاکستان بنتے ہی پہلے بھارت کے ساتھ اور بعد ازاں خود ملکی صوبوں کے مابین پانی کے وسائل کی چھینا جھپٹی کے مناظر عام ہیں۔ چھوٹی قوموں کے استحصال کی بنا پر ’قومی اکائیوں‘ کے مابین کسی قسم کا اعتماد ہے نہ اعتبار۔ پاکستان کے صوبوں کے درمیان دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیاں (جہلم، چناب، راوی، ستلج، بیاس اور دیگر) کے پانی کی تقسیم پر تنازعات موجود ہیں۔ سندھ کا دعویٰ ہے کہ پنجاب دریائے سندھ کا پانی ضرورت سے زیادہ استعمال کر رہا ہے۔ جس سے سندھ کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ تنازعہ خاص طور پر سندھ طاس معاہدے (1960ء) کے بعد سے شدت اختیار کر گیا ہے۔ کالا باغ ڈیم بناؤ اور کالا باغ ڈیم نامنظور کی سیاست سے پانی کی قلت کا مسئلہ تکنیکی بنیادوں پر کسی سطح پر زیر بحث ہی نہیں لایا جا سکا۔ تاہم دونوں اطراف کے فریقین نے اسے سیاسی طور پرخوب استعمال کیا۔ ایک طرف قوم پرست رجحانات کی زندگی کا انحصار ہی اس قسم کے تنازعات پر ہے۔ یعنی وہ تنازعات کے حل کی بجائے تنازعات کے برقرار رہنے میں ہی اپنی سیاسی بقا کا جواز پاتے ہیں۔ دو سری طرف عالمی استعمار کی بغل بچہ ریاست اور اس پر حاوی حکمران دھڑا جو بڑے صوبے یعنی پنجاب سے تعلق رکھتا ہے، کا استحصالی طرز عمل خالصتاً سامراجی طرز پر استوار ہے۔ دھونس اور غنڈہ گردی سے معاملات کو دبانے یا دھمکیوں اور ریاستی جبر سے اختلافی امور کو ’’طے‘‘ کرنے کی روش کے تحت پانی جیسے اہم ایشو پر کبھی سنجیدہ غور و خوض یا ڈائیلاگ نہیں کیا گیا۔ البتہ ضیا الحق اور پرویز مشرف جیسوں نے کالا باغ ڈیم کے نعروں سے دونوں اطراف خوب کھیلا۔

بہرحال پانی کی قلت اور غیر منصفانہ تقسیم بارے ایک معاہدہ 1991ء میں کیا گیا جس کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

پاکستان میں پانی کی کل دستیاب مقدار کو 114.35 ملین ایکڑ فٹ (MAF) تصور کیا گیا۔ پانی کی صوبوں میں تقسیم کچھ یوں معین کی گئی۔ پنجاب: 55.94 MAF، سندھ: 48.76 MAF، خیبر پختونخوا: 8.78 MAF بلوچستان: 3.87 MAF۔ طے یہ کیا گیا کہ اگر مستقبل میں مزید پانی دستیاب ہوا تو اسے تمام صوبوں میں مساوی تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔ کسی بھی نئے منصوبے (ڈیم یا نہری نظام) میں تمام صوبوں کی مشاورت شامل ہو گی۔ دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو مانیٹر کرنے کے لئے ٹیلی میٹری سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ معاہدہ صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے اور مستقبل میں پانی کے ممکنہ بحرانوں سے بچنے کے لئے کیا گیا تھا۔ مگر اس پر عملدرآمد کے حوالے سے اختلافات بھی موجود رہے ہیں اور گاہے گاہے الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی جاری رہاہے۔ 2024ء میں پیپلز پارٹی کی مدد سے ن لیگ کی ہائبرڈ حکومت کو اقتدار میں لایا گیا۔ مگر گزشتہ حکومتوں کی طرح طاقت کا حقیقی مرکز اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی ہی رہا۔ عمران خان حکومت کی طرح فیصلہ سازی اور عمل درآمد کے لئے نام نہاد سویلین حکومت کی بجائے اہم کردار ڈیپ سٹیٹ ہی ادا کرتی رہی۔ ایک مسلسل معاشی تنزلی کے درمیان ایک شدید نوعیت کے بھنور نما معاشی بحران نے سال 2022ء میں ہی ریاست کے معاشی دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس صورتحال میں معیشت کو کنٹرول کرنے اور نئے فیصلے کرنے کے لئے جون 2023ء میں ایک نیا ادارہ ’سپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل‘ (SIFC) کے نام سے قائم کیا گیا۔ اس کونسل کے تین مختلف ادارے ہیں اور ان میں بظاہر سول ملٹری نمائندگی برابر ہے۔ مگر ظاہر ہے فیصلہ سازی میں پلڑا فوجی نمائندگان کا بھاری ہے۔

’گرین پاکستان انیشی ایٹو‘ پالیسی بھی ایس آئی ایف سی کا ایک منصوبہ ہے۔ اس پالیسی کا پس منظر وہ غیر ملکی سرمایہ کاری ہے جو خلیجی ممالک کی طرف سے متوقع ہے۔ اس میں کارپوریٹ فارمنگ کا ایک معاہدہ جو آرمی چیف اور محمد بن سلمان کے مابین طے ہوا، کی مالیت 25 ارب ڈالر ہے۔ اسی منصوبے کے تناظر میں فوج نے حکومت سے 10 لاکھ ایکٹر زمین طلب کی۔ جس میں چولستان کے صحرائی علاقے کا بڑا حصہ شامل ہے۔ چولستان یا روہی میں پہلے بھی افواج کے ریٹائرڈ افسران اور شہدا، مسوریاں نامی ٹینکوں کی بڑی چھاؤنی اور دیگر دفاعی مقاصد کے لئے ایک بڑا رقبہ موجود ہے۔ ابوظہبی کے حکمرانوں نے بھی مہمان پرندوں اور مقامی جنگلی حیات کے شکار کے لئے یہاں بہت بڑا رقبہ بہت ہی قلیل رقم کی لیز پر حاصل کیا ہوا ہے۔ اس علاقے میں نئے فوجی رقبوں کی آباد کاری کے لئے پانی عباسیہ کینال اور قاسم بنگلہ ہیڈ ورکس سے حاصل کیا جاتا ہے۔ آب حیات نہر کا بیشتر پانی فوجیوں کو الاٹ رقبوں کی آباد کاری اور آبپاشی کے لئے استعمال میں آتا ہے جس سے مقامی کاشتکار متاثر ہوتے ہیں اور وہ اکثر اس پر احتجاج بھی کرتے ہیں۔ مگر نہ تو محکمہ آبپاشی اس پانی کے بہاؤ کو روک سکتا ہے ‘ نہ ہی آرمی چیف کے سامنے اس مسئلے کو رکھنے کی صورت میں اس پر کان دھرے گئے۔ یہاں کبھی دریائے ہاکڑا بہتا تھا۔ مگر وہ ہزاروں سال پہلے اپنے فیڈر دریاؤں کے رخ بدلنے اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے سوکھ چکا ہے۔

یاد رہے کہ دریائے ستلج اور ہاکڑا نہر سے منسلک نظام آبپاشی‘ سندھ طاس معاہدے سے پہلے ہی متاثر ہو چکا ہے۔ نئی کارپوریٹ فارمنگ (جس میں ہزاروں ایکٹر نئی اراضی اور اتنی ہی شاید پرانی اراضی کو پانی مہیا کیا جانا مطلوب ہے) کے لئے ایک نئی نہر اور اس کی معاون نہروں کی کھدائی کا منصوبہ ہی وہ مسئلہ ہے جس پر اس وقت صوبہ سندھ میں احتجاج ہو رہا ہے۔ ایک طرف سندھ کے قوم پرست اس منصوبے (جس کی تفصیلات آگے دی جائیں گی) پر اعتراض اور احتجاج کر رہے ہیں تو دوسری طرف نئی نہروں کے اس منصوبے پر پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف سب سے زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ بالکل پیکا ایکٹ کی طرح۔ پارٹی پیکا ایکٹ کو سیاہ قانون قرار دے رہی ہے جبکہ پارٹی کے سینئر ترین قائد اور صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اس غیر منصفانہ اور آمرانہ قانون کی توثیق کر دی ہے۔ اسی طرح گرین پاکستان انیشی ایٹو (جس میں مذکورہ نہروں کا قیام بھی شامل ہے) کی توثیق آصف علی زرداری کر چکے ہیں اور بلاول سمیت دیگر قائدین اس منصوبے کو صوبہ سندھ کی حق تلفی اور پانی کے وسائل پر ڈاکہ زنی قرار دے کر احتجاج کر رہے ہیں! خود ن لیگ سمیت دیگر پارٹیوں کے پاس بھی اس منصوبے اور اس سے پیدا ہونے والی بے چینی اور بحران سے نمٹنے کے لئے نہ کوئی رائے ہے نہ منصوبہ اور دراصل نہ ہی طاقت اور سکت ہے کہ وہ اس منصوبے پر مقتدرہ کے فیصلے سے ہٹ کر کچھ اور بات کر سکیں۔ البتہ سندھ حکومت اپنے پارٹی قائد کی توثیق پر بات کرنے کی بجائے کچھ تکنیکی سوال اٹھا رہی ہے۔ سندھ حکومت نے مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) کو ایک سمری پیش کی تھی۔ جس میں منصوبے کو تکنیکی بنیادوں پر چیلنج کیا گیا تھا۔ سندھ حکومت کے مطابق سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) اور قومی معاشی کونسل وغیرہ کو منصوبے پر غور نہیں کرنا چاہیے جب تک کہ سی سی آئی سندھ کی پوزیشن پر فیصلہ نہ کرے۔

نہروں کے قیام کے متعلق پنجاب (اور وفاق بھی) اور سندھ کے ماہرین دو متضاد موقف پیش کرتے ہیں۔ چولستان نہر کا مقصد 4,120 کیوسک پانی کو سلیمانکی بیراج سے جو کہ ستلج دریا پر واقع ہے، 176 کلو میٹر دور فورٹ عباس تک منتقل کرنا ہے۔ یہ 120 کلو میٹر لمبی امروٹ نہر کو پانی فراہم کرے گی۔ جو پانی کو مشرق کی طرف لے جائے گی۔ یہ نہر 452 کلو میٹر کی تقسیم کار نہروں اور چھوٹی ندیوں کے ذریعے چولستان کے 452,000 ایکڑ صحرا کی زمین کو سیراب کرے گی۔ 211 ارب روپے کی لاگت والا یہ کثیر جہتی منصوبہ تین اوپر کی لنک نہروں (رسول-قادر آباد، قادر آباد-بلوکی اور بلوکی-سلیمانکی) کی صلاحیت میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ یہ وسیع نیٹ ورک چھوٹے چولستان منصوبے کے پہلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ جو کہ بڑے گریٹر چولستان منصوبے کا پیش خیمہ ہے۔ چولستان نہر منصوبے کے زیر التوا دوسرے مرحلے کا مقصد اسی علاقے میں مزید 744,000 ایکڑ زمین کو سیراب کرنا ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے اس منصوبے کے لئے جنوری 2024ء میں پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا۔ سندھ کی نمائندگی کرنے والے رکن نے اس اقدام کی مخالفت کی لیکن انہیں 4:1 کی اکثریت کاسامنا کرنا پڑا۔ تاہم صوبہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ’ارسا ‘کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے۔ لہٰذا پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ غیر قانونی ہے۔ غیر معتبر سیلابی بہاؤ کی بنیاد پر نہر کے کمانڈ علاقے (زرعی زبان میں کمانڈ علاقے سے مراد وہ زمینی علاقہ ہے جو کسی خاص نہر، ڈیم یا آبپاشی کے نظام سے سیراب ہوتا ہے) میں مسلسل کاشت اور زرعی پیداواری عمل سوالیہ نشان ہے۔ یہ منصوبہ اصل میں ایک سیلابی نہر کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے ایک مستقل نہر میں تبدیل کر دیا گیا۔

سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس سے پہلے وفاقی منصوبہ بندی کمیشن نے غیر سیلابی مہینوں کے دوران پانی کی دستیابی کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔ چونکہ چولستان نہر کے لئے بین الصوبائی پانی کی تقسیم کے معاہدے میں کوئی پانی مختص نہیں کیا گیا تو کیا پنجاب اپنے مختص کردہ پانی میں سے کچھ اس نہر کو غیر سیلابی مہینوں کے دوران فراہم کرنے کے لئے موڑ دے گا؟ ایسا لگتا نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں پنجاب کے اندر نچلے دریائی علاقے کو بھی پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غیر یقینی سیلابی بہاؤکی بنیاد پر نہر کے کمانڈ علاقے کی ترقی ایک سوالیہ نشان ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر سیلابی بہاؤکی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ ظاہر ہے کہ اتنے بڑے کمانڈ علاقے کو خشک سالی کے سالوں میں بے آب و گیاہ نہیں چھوڑا جا سکتا۔ سندھ نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ خشکی کے سالوں کے دوران چولستان نہر کا کمانڈ علاقہ منگلا ڈیم کے ذریعے اپ گریڈ شدہ لنک نہروں سے سیراب کیا جائے گا اور نچلے علاقے میں کمی کو انڈس سے چشمہ-جہلم اور تونسہ-پنجند نہروں کے ذریعے پانی موڑ کر پورا کیا جائے گا۔ یہی اصل تنازعہ ہے۔ آگے بڑھنے اور دریائے سندھ کے پانی اور ڈیلٹا کے علاقے پرپانی کی ممکنہ مزید کمی سے کیا اثرات مرتب ہوں گے، پر نظر ڈالنے سے پہلے چند اہم امور کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

صحرائے چولستان جو کبھی انڈس تہذیب کا اہم حصہ ہوتا تھا‘ ہزاروں سال پہلے ہرا بھرا اور آباد تھا۔ امریکہ میں مقیم ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹررفیق مغل کے مطابق پاک ہند بارڈر کے آر پار اور یزمان سے سنجر پور تک چار سو کے قریب چھوٹی بڑی مدفن آبادیوں کو جی پی ایس سے مارک کیا جا چکا ہے جہاں کبھی زندگی موجود تھی۔ تب یہاں آبپاشی اور زندگی برقرار رکھنے کے لئے پانی کا ذریعہ دریائے گھاگھرا (ہاکڑا) تھا جو کہ دریائے سرسوتی اور ستلج کے سیلابی پانی سے بہتا تھا۔ اس ندی کے سوکھنے پر یہاں سے آبادی ہجر ت کر گئی۔ ہزاروں سال یہاں سوائے ریتلے ٹیلوں کے کچھ نہیں تھا۔ اب وہی ٹیلے دوبارہ کاشتکاری کے لئے سیدھے کیے جا رہے ہیں جو فوجیوں کو الاٹ کیے گئے تھے۔ اس مشق کے دوران دیکھا گیا ہے کہ ہزاروں سالوں سے سوکھی مٹی اور بے آباد ریتلے علاقے کو سیراب کرنے کے لئے عام اور آباد زمین سے کئی گنا زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے بالمقابل پاکستان میں دنیا کا بڑا آبپاشی کا نظام ہے۔ چونسٹھ ہزار انہار پر مشتمل یہ نہری نظام دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں جہلم، چناب، راوی، ستلج اور بیاس پر مشتمل ہے۔ صوبہ سندھ میں پانچ ملین ہیکٹر اور پنجاب کی آٹھ ملین ہیکٹر اراضی اس پانی سے سیراب ہوتی ہے۔ بلوچستان اور پختونخوا کی ایک ملین ہیکٹر اراضی بھی اسی سسٹم سے منسلک ہے۔ یوں 14 ملین ہیکٹر اراضی کی کاشت کاری جو کہ پاکستان کی زراعت کا 90 فیصد حصہ ہے‘ نہری نظام کی مرہون منت ہے۔ یہاں پر دو اہم نکات قابل غور ہیں۔ اول، مذکورہ بالا نہری نظام کا آدھے سے زیادہ پانی کھیت تک پہنچنے سے قبل ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ضائع ہونے والا پانی کل پانی کے 63 فیصد تک ہے۔ گویا اگر اس ضائع ہونے والے پانی کو بچا لیا جائے تو کم سے کم مزید 14 ملین ہیکٹر اراضی کو پانی مہیا کیا جا سکتا ہے اور میٹھے پانی کا مطلوبہ حصہ سمندر میں ڈالنے کے لئے بھی دستیاب ہو گا۔ اسی طرح جدید طریقوں سے کھیتوں کو بھی پانی کی موجودہ مقدار سے کہیں کم کیساتھ سیراب کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب کرنے کے لئے آبپاشی کے پرانے اور متروک طریقوں کو ختم کر کے جدید طریقے اپنانے ہوں گے۔ ان میں ڈرپ اور سپرنکل اری گیشن وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح بڑی مقدار میں بخارات بن کے اڑ جانے والے دریائی و نہری پانی کا کچھ کرنا ہو گا۔ بڑی چھوٹی انہار اور کھالوں کو پختہ اور جدید طرز سے تعمیر کرنا ہو گا۔ سیلابی اور بارش کے فاضل پانی کو زیر زمین محفوظ کرنے کے جدید طریقہ ہائے کار اختیار کرنا ہوں گے۔ اسی طرح شہروں اور قصبوں میں استعمال شدہ پانی کو ری سائیکل کر کے کاشتکاری کے لئے استعمال کرنے کا بندوبست بھی کرنا ہو گا۔ صرف کراچی سے روزانہ 475 ملین گیلن سیوریج کا پانی سمندر میں گرتا ہے۔ جو سمندری ماحول کو خطرناک حد تک آلودہ کر کے سمندری حیات اور نباتات کے خاتمے کا باعث بن رہا ہے۔ یہ پانی ری سائیکل کر کے زرعی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں سمندر کے کھارے پانی کو آبپاشی کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیل اور سعودی عرب اس تجربے سے بڑی اراضی کو قابل کاشت بنا کر پیداوار لے رہے ہیں۔

دوسرا نکتہ فی ایکٹر پیداواری صلاحیت کا ہے۔ پاکستان جس جگہ پر واقع ہے یہاں پچھلے نو ہزار سال سے کاشتکاری ہو رہی ہے۔ مگر بدقسمتی سے زرعی پیداواریت کم ترین ہے۔ مثال کے طور پر گنے کی فی ایکٹر اوسط پیداوار پاکستان میں 500 من ہے جبکہ دوسرے ممالک میں یہ پیداوار دو ہزار من فی ایکٹر تک ہے۔ فرانس میں گندم کی پیدا وار فی ہیکٹر 8.1 ٹن ہے جبکہ پاکستان کی 3.1 ٹن فی ہیکٹر ہے۔ اسی قسم کا موازنہ دوسری فصلوں کا ہے۔ اس کی وجوہات میں جدید ٹیکنالوجی اور کھاد وغیرہ کا محدود استعمال، معیاری بیجوں کی عدم دستیابی، آبپاشی کے نظام کی خامیاں، پانی کی قلت اور زرعی تحقیق و ترقی کے لئے درکار وسائل کی کمی ہے۔

اگر مندرجہ بالا خامیوں کا تدارک کر کے جدید طرز سے آبپاشی اور کاشتکاری کی جائے تو پانی کے موجودہ وسائل ہی وافر ثابت ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں موجودہ زیر کاشت زمین سے ہی کئی گنا زیادہ پیداوار لی جا سکتی ہے۔ کسی صوبے یا خطے کی حق تلفی کی ضرورت نہیں ہو گی۔

لیکن ہر قسم کی ہم آہنگی اور منصوبہ بندی سے محروم اس سامراجی سرمایہ دارانہ نظام میں سندھ دریا، جو کروڑوں سالوں سے اس دھرتی پر بہہ رہا ہے، جس نے اپنی کوکھ سے عظیم ترین تہذیبوں کو جنم دیا اور زندگی کی روانی کو برقرار رکھا، اب آبپاشی کے متروک طریقوں، نت نئے بیراجوں اور نہروں کے سبب دم توڑ رہا ہے۔

ایک مرتبہ ڈیم ٹیکنالوجی کے ماہر اور ترقی پسند دانشور ڈاکٹر مبشر حسن نے راقم سے گفتگو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ میدانی علاقوں میں دریائے سندھ کے میل ہا میل پھیلاؤ کو یکساں رکھ کر اس کے پانی کو بیسویں صدی کے اوائل کے لیول پر لایا جا سکتا ہے۔ ایک مخصوص طرز بہاؤ اور دریا اور سمندر کے ملاپ سے قبل تکنیکی اقدامات سے پانی کی سطح بلند اور مستقل کی جا سکتی ہے۔ اس کو نقل و حمل اور سفری ضروریات کے تحت جہاز رانی کے لئے استعمال میں لا کر انسانوں کو سڑکوں اور ریلوے لائن کے آس پاس غیر ضروری آباد کاری سے روک کر دریا کے اطرف متوازن انداز میں بسایا جا سکتا ہے۔ سیلابوں اور خشک سالی پر کنٹرول کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی توازن میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ جب ان سے اس دیوہیکل منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے درکار وسائل کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں ایسا منصوبہ سرمایہ داری نظام میں ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ایک منصوبہ بند معیشت اور اشتراکی سماج کی جڑت میں ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔

بہرحال موجودہ حالات میں نئی زرعی آباد کاری، جس کی وجہ سے پانی کے پہلے سے موجود قلیل ذرائع مزید سکڑنے اور پہلے سے آباد زمینوں کے برباد ہونے کے امکانا ت ہیں، ایک تباہ کن منصوبے کے زمرے میں آتی ہے۔ سندھ کے بہت سے علاقوں سمیت بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یارخاں کے اضلاع کی وہ زمینیں جو پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہیں اور ٹیل پر ہیں‘ بالکل ہی بنجر ہو جائیں گی۔ جب تک پانی کے متبادل ذرائع یقینی نہ بنائے جائیں‘ تب تک ایسے منصوبے شروع نہیں کرنے چاہئیں۔ دوسری طرف کارپوریٹ فارمنگ جہاں جدید مشینری، جدید زراعت اور زیادہ پیداواریت کی حامل ہوتی ہے وہاں وہ ماحولیاتی آلودگی اور فطری زندگی کی بربادی کاباعث بھی بنتی ہے۔ علاوہ ازیں بڑی زمینداری کے ساتھ زرعی اجارہ داری بھی بڑھتی جائے گی۔ بڑے پیمانے کی جدید زراعت یقینا ایک ترقی پسندانہ قدم ہے لیکن سرمایہ داری نظام میں یہ بھی سماجی و ماحولیاتی طور پر بہت سے مضر اثرات اور مضمرات کی حامل ہوتی ہے۔

1991ء کے معاہدے سے انحراف ناقابل قبول ہے۔ دوسری طرف صوبہ پنجاب اور سندھ میں وہ زرعی زمینیں جو کپاس کی نقد آور فصل کے لئے موزوں تھیں وہاں پر منافعوں کی حرص کی وجہ سے شوگر ملیں لگانے کی بھرمار ہے۔ نتیجتاً اس علاقے میں کپاس کی بجائے گنے کی کاشت کی جاتی ہے جس کو پانی کی کئی گنا زیادہ ضروررت ہوتی ہے۔ یہ شوگر مل مافیا پاکستان کا حکمران طبقہ ہے جس کی ہوس اور حرص نے نہ صرف زمینوں کو برباد کر دیا ہے بلکہ پانی کی کھپت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس کو روکنے کی ضرورت ہے۔ مگر سرمایہ داری نظام میں لٹیروں کو کھلی لوٹ کے لئے کھلی منڈی دی جاتی ہے۔ کمرشل چینی صحت کے لئے قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔ ایک سوشلسٹ سماج میں اس قسم کی ہلاکت خیز خوراکوں سے نجات کی سعی کی جائے گی۔ پانی سمیت تمام قدرتی وسائل کو کموڈیٹی کی بجائے انسانی زندگی اور تہذیب کی بقا کا ذریعہ سمجھ کر اور مشترکہ اثاثہ بنا کر ان کی حفاظت کی جائے گی۔ قدرتی وسائل پر اجارہ داری اور ان کی خرید و فروخت سرمایہ دارانہ نظام کی صفت ہے۔ جس نظام کی ابجد ہی قبضہ گیری، استحصال، منافع خوری اور لوٹ مار پر مبنی ہو وہاں نہ تو پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن ہے‘ نہ ہی قوموں کے استحصال کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ چھوٹے صوبوں اور مظلوم قوموں کے وسائل کے تحفظ اور ہر طرح کے جبر و استحصال کے خاتمے کی جدوجہد کو نجی ملکیت، منڈی اور منافع خوری کے نظام کے خاتمے کی جدوجہد کے ساتھ منسلک کر کے ہی ہر طرح کی سامراجی ناانصافی اور دھونس کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ منڈی اور مقابلے کی بجائے تعاون اور اشتراک ہی دنیا کو ماحولیاتی عدم توازن، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور کارپوریٹ فارمنگ کی ہلاکت خیزی سے بچا سکتا ہے۔ آج سوشلزم کی جدوجہد انسانیت کے تحفظ اور بقا کی جدوجہد بن چکی ہے۔