پارٹی کے اندر نظام کی حدود میں اقتدار پر براجمانی کی نفسیات اور ذاتی مفادات و مالی منفعت کے حصول کی دوڑ نے 1968-69ء کے سوشلسٹ انقلاب کی لہروں میں ایسی دراڑیں پیدا کیں کہ پاکستانی اشرافیہ نے جنرل ضیا الحق کی سربراہی میں 5 جولائی 1977ء کی سیاہ رات برپا کر دی۔
تجزیہ
مشرق وسطیٰ: امریکی سامراج کی ناکامی
سعودی اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کا سہرا جو بائیڈن انتظامیہ ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت کے لیے ایک سنگ میل کے طور پر حاصل کرنے کی امید کر رہی تھی۔ جو سعودی ایران امن معاہدے سے منتشر ہو گیا ہے۔
ترکی: صدارتی انتخابات میں اردگان کی بحران زدہ جیت
اردگان کا یہ لہجہ ظاہر کرتا ہے کہ صدارتی انتخابات میں اس کی کامیابی گزشتہ بیس سالوں سے مسلسل جاری بدترین جبر، معاشی ناہمواری اور کرپشن کو مزید پانچ سالوں کے لیے ترک معاشرے پر مسلط کرنے کا باعث بنے گی۔
استحکامِ پاکستان پارٹی: سیاسی لوٹوں کا کباڑ خانہ
نئی پارٹی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ تادم تحریر پارٹی بنانے کے مقاصد یا عزائم کو کہیں ضبط تحریر میں نہیں لایا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی سیاسی پارٹی ہے جس کا نہ کوئی دستور ہے اور نہ ہی باقاعدہ لکھا پڑا نظریہ یا سیاسی پروگرام۔
تحریک انصاف: کیا سے کیا ہو گئے دیکھتے دیکھتے!
عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد شدت پکڑ لینے والا عدم استحکام اور انتشار بنیادی طور پر ریاست میں موجود دھڑے بندی اور داخلی تصادم کا ہی نتیجہ تھا جو 9 مئی کو نئی انتہاؤں پہ پہنچ گیا۔
فرانس میں طبقاتی بغاوت کی بہار!
صدر میکرون کی نام نہاد پنشن اصلاحات کے خلاف فرانس میں عوامی احتجاجوں کی ایک نئی لہر کا آغاز ہو چکا ہے۔
اسرائیل: صیہونی ریاست کا بحران
اسرائیل میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہرے عالمی سرمایہ داری کے معاشی و سیاسی بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا ہی تسلسل ہیں۔
پاکستان: منقسم ریاست، بدحال عوام
آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کے باوجود بھی پاکستان کا معاشی اور مالیاتی مسئلہ دور رس بنیادوں پر حل ہونے والا نہیں ہے۔
اسرائیل میں بلوے اور احتجاجی مظاہرے
حکومت نے حساب لگایا ہے کہ عدالتی قانون سازی کو ملتوی کرنا اسے دوبارہ حمایت حاصل کرنے کا وقت دے گا۔ ایک جنگ یا کم از کم بڑھتے ہوئے فوجی تنازعات اسے ایسا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس لیے مزید اشتعال انگیزی کا امکان موجود ہے۔
عالمی سرمایہ داری: بحران سے بحران تک
انسانیت آج جس کیفیت کی شکار ہے اسے ”کثیرالجہتی بحران“ کا نام دیا جا رہا ہے جس میں کئی طرح کے بحرانات اکٹھے ہو کر امڈ آئے ہیں۔ لیکن جن کا بنیادی ماخذ پھر یہی نظامِ سرمایہ ہے۔
تعلیمی اداروں میں تشدد: وجوہات و مضمرات
رجعتی نفرتیں سمیٹتے اور طبقاتی محبتیں بکھیر کے آگے بڑھتے ہوئے اس نظام کو پاش پاش کر کے ہی نوجوانوں کے لیے بکاؤ تعلیم، بیروزگاری، بیگانگی و تشدد سے پاک مستقبل کا حامل سوشلسٹ سماج تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
سرداری و جاگیر داری نظام کی تعفن زدہ باقیات!
جس طرح فریڈ رک اینگلز نے کتاب میں خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کا ذکر کیا ہے اسی طرح ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ خاندان میں جائیداد اور ملکیت پر مرنے مارنے کی حد تک جھگڑے عام ہوتے ہیں۔
گلگت بلتستان: مزاحمتی تحریکوں کا تسلسل
حالیہ احتجاج 28 دسمبر کو گلگت کے علاقے مناور میں زمینوں پر تعمیراتی منصوبہ شروع کیے جانے اور مقامی آبادیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کے بعد شروع ہوا۔
متبادل کا ناٹک: خود ہی قاتل، خود ہی منصف
پاکستان کی پوری تاریخ مختلف اقسام کے بحرانوں اور پھر ان کے عارضی تدارک کی تلاش پر مبنی ہے۔
پاکستان: پگھلتی معیشت، کھوکھلی حاکمیت
صدیوں کی ذلت عوام کا مقدر نہیں۔ اس کا انت کرنا ہو گا۔















