مارکس وادی سمجھتے ہیں کہ محنت کش عوام کی نجات کسی ایک فرد یا سماجی پرت پر نہیں ٹکی ہو سکتی۔ چاہے وہ کتنے ہی انقلابی یا خلوص نیت رکھنے والے ہوں۔
تجزیہ
روس یوکرائن جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل
آخری تجزئیے میں ان جنگی حالات یا جنگوں اور ایٹمی ٹکراؤ کے خطرات کو محنت کش طبقے کی آزادانہ مداخلت سے ہی روکا جا سکتا ہے۔
بجٹ 2025-26ء: امیروں کی عیاشی، غریبوں کی بربادی
یہ بنیادی طور پر ایک ہی بجٹ ہے جو ہر سال نئی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ جس میں محنت کشوں کیلئے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
لرزتی حکومتوں کی گرجتی توپیں
اس خطے کے حکمران سرمائے کی حاکمیت کو قائم رکھنے کے لیے انسانیت کو برباد اور ماحول کو تباہ کرنے میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ نسل انسان کو تباہ و برباد کرنے والے آلات پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے اور تعمیر و ترقی میں ناکامی کی ہزیمت سے بچنے کے لیے جنگ کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
امریکہ میں ریاستی جبر کے خلاف بغاوت: عوام بمقابلہ ’’آئس‘‘
اگر آئس کے خلاف جدوجہد کو وسعت دینی ہے اور آگے بڑھانا ہے تو زیادہ شہروں میں لاس اینجلس جیسی شدت کے ساتھ ہم آہنگ اور منظم مزاحمتی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ اس کے لیے بلند سطح کی تنظیم سازی، منصوبہ بندی اور شرکت درکار ہو گی۔
غزہ: کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل
آخری تجزئیے میں اسرائیلی یلغار کے خلاف مزاحمت اور آزادی فلسطین کی راہ خطہ عرب، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے محکوم و محنت کش انسانوں کی جڑت اور اتحاد میں پنہاں ہے۔ جس میں اسرائیل کے صیہونیت مخالف محنت کشوں کو بھی شامل کرنا ہو گا۔
غزہ میں خون کی ہولی، ٹرمپ کے لئے ارغوانی قالین
فلسطینی عوام کا قتل عام جاری ہے اور دیگر عرب اقوام پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں ہم سامراجی رہنماؤں کے ”شراکت داروں“ اور ”دوستوں“ کے طور پر استقبال کی مذمت کرتے ہیں۔
یوم مئی 2025ء کا پیغام
انقلاب روس کے معمار لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ زندگی کمزور کو نشانہ بناتی ہے۔ محنت کش طبقے کو اپنی یکجہتی اور جدوجہد سے ثابت کرنا ہو گا کہ نہ وہ کمزور ہیں‘ نہ ہی کسی حملے پر وہ چپ بیٹھیں گے۔
یوکرائن جنگ پر مارکسی موقف (کچھ بنیادی نکات)
ضروری ہے کہ لینن اور ٹراٹسکی کا قومی مسئلے پر تاریخی موقف دہرایا اور مضبوط کیا جائے اور مشرقی یورپ، قفقاز (Caucasus) اور وسط ایشیا کی اقوام کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کو بنیادی حل کے طور پر پیش کیا جائے۔
پاک بنگلہ دیش تعلقات: سامراجی مفادات کی سفارتکاری
محنت کشوں کو حکمرانوں کی سفارتکاری کے متوازی اپنے طبقاتی اتحاد کو مستحکم بنانے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔
نئی نہریں اور پانی کے تنازعات: حل کیا ہے؟
اس زومبی سرمایہ داری نے نہ صرف تمام قدرتی وسائل کو انسان او ر انسانی سماج سے ماورا کر کے محض منافع کی نگاہ سے دیکھا ہے بلکہ ماحولیات کو تباہ کرتے ہوئے بھی اس نے انسانی زندگی کے مستقبل کے سوال کو یکسر نظر اندا ز کر دیا ہے۔
پاکستانی معیشت: بحران کا استحکام!
پاکستانی سرمایہ داری ایک ایسی تاریخی تاخیرزدگی اور متروکیت کا شکار ہے کہ اس میں جزوی بہتری و بحالی ایک نئے بحران کا پیش خیمہ ہی بنتی ہے۔
’ڈیپ سیک‘ کی طرف بڑھتی مصنوعی ذہانت
ڈیپ سیک کے ظہور نے یہ دکھایا ہے کہ اے آئی کو اس سطح تک ترقی دی جا سکتی ہے کہ یہ انسانیت اور اس کی سماجی ضروریات کے لیے مددگار ثابت ہو۔
موت کے مسافر
ایسی جان لیوا ہجرتیں کسی ایک ملک کا مسئلہ بھی نہیں ہیں۔ بلکہ جنوب ایشیا (بشمول پاکستان و بھارت)، افریقہ، لاطینی امریکہ سمیت سامراج کے خونی پنجوں میں جکڑی کمزور معیشتوں کے حامل تمام خطوں کے محنت کش‘ بالخصوص نوجوان خود کو حالات کے ہاتھوں بے بس اور مجبور پاتے ہیں۔
غزہ میں جنگ بندی: کچھ بنیادی نکات اور مستقبل کے امکانات
امریکی سامراج اگرچہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور کھلی، واضح اور بڑے پیمانے کی ’’جنگ‘‘ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے کالونیل منصوبے کو جاری رکھنے سے روکے گا۔















