تجزیہ

لرزتی حکومتوں کی گرجتی توپیں

لرزتی حکومتوں کی گرجتی توپیں

اس خطے کے حکمران سرمائے کی حاکمیت کو قائم رکھنے کے لیے انسانیت کو برباد اور ماحول کو تباہ کرنے میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ نسل انسان کو تباہ و برباد کرنے والے آلات پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے اور تعمیر و ترقی میں ناکامی کی ہزیمت سے بچنے کے لیے جنگ کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکہ میں ریاستی جبر کے خلاف بغاوت: عوام بمقابلہ ’’آئس‘‘

امریکہ میں ریاستی جبر کے خلاف بغاوت: عوام بمقابلہ ’’آئس‘‘

اگر آئس کے خلاف جدوجہد کو وسعت دینی ہے اور آگے بڑھانا ہے تو زیادہ شہروں میں لاس اینجلس جیسی شدت کے ساتھ ہم آہنگ اور منظم مزاحمتی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ اس کے لیے بلند سطح کی تنظیم سازی، منصوبہ بندی اور شرکت درکار ہو گی۔

غزہ: کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل

غزہ: کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل

آخری تجزئیے میں اسرائیلی یلغار کے خلاف مزاحمت اور آزادی فلسطین کی راہ خطہ عرب، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے محکوم و محنت کش انسانوں کی جڑت اور اتحاد میں پنہاں ہے۔ جس میں اسرائیل کے صیہونیت مخالف محنت کشوں کو بھی شامل کرنا ہو گا۔

یوم مئی 2025ء کا پیغام

یوم مئی 2025ء کا پیغام

انقلاب روس کے معمار لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ زندگی کمزور کو نشانہ بناتی ہے۔ محنت کش طبقے کو اپنی یکجہتی اور جدوجہد سے ثابت کرنا ہو گا کہ نہ وہ کمزور ہیں‘ نہ ہی کسی حملے پر وہ چپ بیٹھیں گے۔

نئی نہریں اور پانی کے تنازعات: حل کیا ہے؟

نئی نہریں اور پانی کے تنازعات: حل کیا ہے؟

اس زومبی سرمایہ داری نے نہ صرف تمام قدرتی وسائل کو انسان او ر انسانی سماج سے ماورا کر کے محض منافع کی نگاہ سے دیکھا ہے بلکہ ماحولیات کو تباہ کرتے ہوئے بھی اس نے انسانی زندگی کے مستقبل کے سوال کو یکسر نظر اندا ز کر دیا ہے۔

موت کے مسافر

موت کے مسافر

ایسی جان لیوا ہجرتیں کسی ایک ملک کا مسئلہ بھی نہیں ہیں۔ بلکہ جنوب ایشیا (بشمول پاکستان و بھارت)، افریقہ، لاطینی امریکہ سمیت سامراج کے خونی پنجوں میں جکڑی کمزور معیشتوں کے حامل تمام خطوں کے محنت کش‘ بالخصوص نوجوان خود کو حالات کے ہاتھوں بے بس اور مجبور پاتے ہیں۔

غزہ میں جنگ بندی: کچھ بنیادی نکات اور مستقبل کے امکانات

غزہ میں جنگ بندی: کچھ بنیادی نکات اور مستقبل کے امکانات

امریکی سامراج اگرچہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور کھلی، واضح اور بڑے پیمانے کی ’’جنگ‘‘ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے کالونیل منصوبے کو جاری رکھنے سے روکے گا۔