حارث قدیر
بھارت و پاکستان کے مابین 6 مئی سے شروع ہونے والا جنگی تصادم چار روز ہی جاری رہ سکا۔ اس مختصر دورانئے میں ہونے والی تباہی سے ایک طرف یہ بات عیاں ہو گئی ہے کہ ایک مکمل جنگ کی صورت میں کس قدر تباہی اور بربادی اس خطے کے پونے دو ارب انسانوں کا مقدر بن سکتی ہے۔ دوسری طرف ایک بار پھر یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ دونوں ملکوں کے حکمران طبقات نہ تو ایک مکمل جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں‘ نہ ہی پائیدار امن قائم رکھنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔
حالیہ تصادم بظاہر تو 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقے پہلگام کے ایک معروف سیاحتی مقام بائی سرن میں سیاحوں پر ہونے والے ایک عسکری حملے کے بعد شروع ہوا۔ اس حملے کا حسب سابق بھارتی حکومت نے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا اور بغیر کسی تحقیقاتی عمل کی پیچیدگی میں جائے‘ اپنی داخلی ضروریات کے پیش نظر پاکستان سے بدلہ لینے کے دھمکی آمیز بیانات نے غلبہ حاصل کر لیا۔ پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی اشرافیہ نے اس وحشت ناک حملے کو ایسے ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دینا شروع کر دیا جیسے انہیں پہلے سے نہ صرف معلوم تھا بلکہ جوابی میڈیا وار کی بھی پہلے سے تیاری کر کے رکھی گئی تھی۔
درحقیقت اس تصادم کی واحد وجہ 22 اپریل کو ہونے والا عسکری حملہ نہیں تھی۔ جنگ و امن کے اس کھیل اور مصنوعی دشمنی کے پیچھے 1947ء میں برصغیر کے ہونے والے خونی بٹوارے کے زخموں کا گہرا عمل دخل ہے۔ سامراجی بٹوارے کے نتیجے میں قائم ہونے والی دونوں ریاستوں کے پاس سماجی اور معاشی ترقی اور صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لیے نہ تو وسائل موجود تھے‘ نہ ہی اہلیت اور صلاحیت۔ نفرت، تعصب، قومی شاونزم اور جنگی جنون ہی وہ ہتھیار تھے جن کے ذریعے ان داخلی تضادات سے توجہ ہٹائی جاتی رہی‘ جن کو حل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل اور جدید تکنیک کی ضرورت تھی۔
اس بٹوارے کے دوران سامراجی منصوبہ سازوں نے جموں کشمیر کو ایک رِستے ہوئے پھوڑے کے طور پر چھوڑ دیا۔ تاکہ براہ راست نو آبادیاتی قبضے کے خاتمے کے بعد اس خطے پر بالواسطہ سامراجی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے اس مصنوعی دشمنی اور تقسیم کو برقرار رکھا جا سکے۔ جب بھی یہ دشمنی کمزور پڑنا شروع ہوتی ہے یا پھر داخلی تضادات و مسائل شدید ہو جاتے ہیں تو ناگزیر طورپر اس کا اظہار بیرونی محاذ پر تصادم آرائی اور جنگی جنون کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ صورتحال اس خطے کے محنت کشوں پر گزشتہ 78 سالوں سے مسلط ہے۔
22 اپریل کے بعد اٹھائے گئے اقدامات
پہلگام حملے کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کرنے اور سفارتی عملے اور شہریوں کو بے دخل کرنے سمیت بین الاقوامی سرحد مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ ’سندھ طاس معاہدہ‘ بھی ختم کرتے ہوئے پاکستان کا پانی روکنے کا اعلان کیا گیا۔ جوابی طور پر پاکستانی حکومت نے بھی ایسے ہی اعلانات کیے اور ’شملہ معاہدہ‘ ختم کرنے کی دھمکی بھی دی گئی (حالیہ دنوں پھر سے شملہ معاہدہ منسوخ کرنے کے بیانات دئیے جا رہے ہیں)۔
سندھ طاس معاہدہ بھارتی حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کی متعدد پروپیگنڈہ مہموں میں سے ایک مہم کا حصہ ہے۔ جس کا اگست 2019ء میں جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تحفظ دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی مہم کے بعد مختلف مواقعوں پر الیکشنوں کے دوران بھرپور طریقے سے پرچار کیا گیا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ
1960ء میں ہونے والا یہ معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا (جسے دونوں میں سے ایک فریق یکطرفہ طور پر ختم یا تبدیل نہیں کر سکتا)۔ اس معاہدے کے تحت بھارت اور جموں کشمیر سے پاکستان میں داخل ہونے والے 6 دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا فارمولہ طے کیا گیا تھا۔ مشرقی دریاؤں (راوی، بیاس، ستلج) کا کنٹرول بھارت کو دیا گیا تھا۔ جبکہ مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب) پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ بھارت کو ان دریاؤں سے محدود پانی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ مغربی دریا جموں کشمیر سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ اسی معاہدے کے تحت ہی پاکستان نے تربیلا اور منگلا ڈیم بھی تعمیر کیے اوراہم بات یہ ہے کہ بھارت نے ان ڈیموں کی تعمیر میں فنڈنگ بھی کی۔
مودی حکومت کا موقف یہ رہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت جموں کشمیر کے پانیوں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا ہے اور بھارتی حکومت صرف ڈیموں کی صفائی کے لیے بھی پاکستان کی اجازت پر مجبور ہو گئی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان تمام دریاؤں کا قدرتی بہاؤ ہی پاکستان کی طرف تھا۔ یہ تمام دریا آخر میں دریائے سندھ میں داخل ہوتے ہیں اور سندھ ڈیلٹا کا انحصار انہی پانیوں پر ہے۔ بھارت کی جانب سے تین دریاؤں کا پانی اس معاہدے کے تحت روکا گیا۔ جس کا خمیازہ سندھ ڈیلٹا میں زندگی کو متاثر کرنے اور بڑے پیمانے پر زمینوں کو بنجر کرنے کی صورت میں سندھ دھرتی کے مجبور و بے کس انسانوں کو بھگتنا پڑا۔ دوسری طرف ان دریاؤ ں کا رخ موڑ کر پنجاب اور ہریانہ کے لیے نہری نظام بنایا گیا۔ ڈیموں کی تعمیر کے ذریعے بجلی کی پیداوار حاصل کی گئی اور اس پانی کا ایک بڑا حصہ راجستھان کے صحراؤں کو سیراب کرنے کے لیے استعمال میں لایا گیا۔ راجستھان کو سیراب کرنے کا یہ منصوبہ کامیاب تو نہیں ہوا لیکن پانی روکنے کے باعث قدرتی بہاؤ متاثر ہوا۔ جس سے بظاہر نقصان تو ریاست پاکستان کو ہوا لیکن درحقیقت سارے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔
اس سب کے باوجود بھارت معاہدے کے مطابق اپنا پانی کا حصہ استعمال میں لانے کے قابل نہیں ہو سکا۔ اب پانی روکنے کی دھمکیاں سیاسی بیان بازی کی حد تک تو درست ہیں۔ لیکن بڑے پیمانے پر پانی روکنے کے لیے بھارتی حکومت کو بھاری سرمایہ کاری اور کئی سال کا وقت درکار ہے۔ یوں اس دھمکی کو مودی حکومت اپنے مذموم مقاصد کے طور پر تو استعمال کر سکتی ہے۔ لیکن بھارتی عوام کو اس دھمکی پر عملدرآمد سے بھی کوئی بڑے پیمانے پر فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔
سب سے اہم بات یہ کہ تینوں مغربی دریا جموں کشمیر سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ پانی کی اس تقسیم کے معاہدے کے تحت جموں کشمیر کے مسئلے پر دونوں ملکوں کے حکمران اپنی ضرورتوں کے مطابق اتفاق کر چکے ہیں۔ جموں کشمیر کی زمین پر دعوے کے ذریعے پھیلائے گئے جنگی جنون میں صرف عام انسانوں(جن میں کشمیر کے عوام سر فہرست ہیں) کے قتل عام کی راہ ہی ہموار کی جاتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی دیرپا اقدام نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔
شملہ معاہدہ
پاکستان کی حکومت نے مودی حکومت کے اقدامات کے جواب میں تجارتی اور سفارتی تعلقات ختم کرنے کے ساتھ ساتھ شملہ معاہدہ منسوخ کرنے کی بھی دھمکی دی اور اب یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان نے یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ یہ واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسئلہ جموں کشمیر اب دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ تیسرا فریق‘ یعنی سامراجی حکمران ٹولہ بطور ثالث اب اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ معاہدہ جولائی 1972ء میں پاک بھارت جنگ اور بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد کی صورتحال میں بھارت کے سیاحتی مقام شملہ میں بھٹو اور اندرا کے مابین طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے بھارتی قید میں موجود 90 ہزار سے زائد فوجی قیدیوں کو رہا کرنے کے علاوہ جموں کشمیر کے مسئلے سمیت دیگر تمام تر مسائل کو دو طرفہ بات چیت سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول کا درجہ دے دیا گیا تھا۔
اب اس معاہدے کے خاتمے کے بعد لائن آف کنٹرول کو حکومت پاکستان سیز فائر لائن تو قرار دے سکتی ہے۔ لیکن جموں کشمیر کے سینے پر کھینچی گئی تقسیم کی اس خونی لکیر کے 740 کلو میٹر علاقے میں دونوں اطراف بسنے والے انسانوں پر آگ و خون کا خوف بدستور مسلط ہی رہے گا۔ نہ تو وہ لائن آف کنٹرول قرار دینے سے امن سے جی سکے‘ نہ ہی سیز فائر لائن قرار دینے کے بعد ان کی زندگیوں میں سکھ کی کوئی گھڑی آنے والی ہے۔
جموں کشمیر کا مسئلہ دو طرفہ بات چیت سے بھی حل نہیں ہو پایا۔ نہ ہی اقوام متحدہ جیسے سامراجی اداروں کی ثالثی کے ذریعے حل ہو پایا ہے۔ دو طرفہ بات چیت کے معاہدے کے باوجود امریکی اور دیگر سامراجی حکمرانوں کی ثالثی کی ضرورت ان دونوں ریاستوں کے حکمران طبقات کے طفیلی اور مطیع کردار کی عکاس رہی ہے۔ حالیہ جنگی تصادم کا اختتام بھی ایسی ہی کیفیت میں ہوا ہے۔ یوں ان معاہدوں کے ہونے یا نہ ہونے سے ریڈ کلف لائن اور سیز فائر لائن کے ارد گرد بسنے والے انسانوں کی زندگیوں میں کوئی بہتری آنے والی نہیں ہے۔
جنگ کی ضرورت
کسی بھی جنگ کی جہاں بظاہر وجوہات جغرافیائی تضادات و تنازعات وغیرہ ہوتے ہیں‘ وہیں درحقیقت جنگیں داخلی تضادات کا ہی ناگزیر خارجی اظہار ہوتی ہیں۔ جب بھی کسی حکومت کو داخلی سطح پر سنگین مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو حکمران اکثر ان مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی تنازعات کو بھڑکاتے ہیں۔ جو انتہائی صورت میں جنگی کیفیت یا باضابطہ جنگوں کی شکل بھی اختیار کر جاتے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت قومی شاونزم کو فروغ دیا جاتا ہے، بیرونی دشمن سے ڈرا کر داخلی مسائل پر محنت کشوں کو خاموش کیا جاتا ہے، دفاعی بجٹ کو بڑھانے (جس کے ساتھ کثیر منافع جات جڑے ہوتے ہیں) کے لیے ترقیاتی پروگراموں میں کٹوتی کی جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر سیاسی عدم استحکام کو کم کرنے اور آمرانہ طرز حکومت کو جائز قرار دینے کے لیے ہر طرح کی اختلاف رائے اور مزاحمتی تحریکوں کو کند کر دیا جاتا ہے۔ محب وطن اور وطن دشمنی کی ایک بحث کو میڈیا کے ذریعے بڑھایا جاتا ہے اور اس آڑ میں معاشی و سیاسی استحصال کو تیز تر کر دیا جاتا ہے۔
اس وقت نہ صرف محض مودی حکومت سنگین داخلی تضادات کا شکار تھی بلکہ پاکستان کی ہائبرڈ رجیم کو بھی تحریکوں، بغاوتوں اور سیاسی و معاشی عدم استحکام کا سامنا تھا۔ مودی حکومت کی مقبولیت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی تھی جبکہ پاکستان میں ہائبرڈ رجیم گہرے بحران اور عوامی غم و غصے کا شکار تھی۔ مودی حکومت نے جو اعلانات اور دعوے کیے تھے ان پر پورا اترنے کی بجائے محض فرقہ وارانہ نفرت اور تقسیم کو بڑھاوا دینے کی پالیسی اور نام نہاد پاکستان اور مسلم دشمنی کو ہی وطیرہ بنا کر خطے میں نہ صرف تمام تر تحریکوں کو کچلنے کی پالیسی اپنائی بلکہ ہر طرح کے اختلاف کو بھی کچلنے کی روش اختیار کی گئی۔
مودی حکومت کی پالیسیوں کے نتائج
مودی حکومت پر اعداد و شمار میں ہیر پھیر کر کے معاشی ترقی اور غربت میں کمی ظاہر کرنے کے سنگین الزامات موجود ہیں۔ یہی طریقہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو امن سے مشروط کرنے کے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے بھی اپنایا گیا۔ جموں کشمیر کو عملی طور پر جیل میں تبدیل کر کے ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کے لیے 84 ہزار غیر ریاستی شہریوں کو ڈومیسائل جاری کیے گئے۔ حلقہ بندیوں کے دوران ’جیری مینڈرنگ (انتخابی حلقوں کی دانستہ بندر بانٹ)‘ کرتے ہوئے ہندو اکثریتی حلقے تخلیق کرنے کے لیے بھرپور ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا گیا۔ 53 لاکھ سے زائد آبادی والے ہندو اکثریتی جموں ڈویژن میں 6 انتخابی نشستوں کا اضافہ کیا گیا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ مسلم اکثریتی حلقوں میں سے مسلم آبادی کو مختلف حلقوں میں تقسیم کیا جائے اور ہندو اکثریتی حلقے تخلیق کیے جائیں۔ دوسری جانب وادی کشمیر میں محض ایک نشست کا اضافہ کیا گیا۔
سیاحوں کی آمد کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ جموں کشمیر میں مودی حکومت کی پالیسیوں کے تحت ’نارملائزیشن‘ ہو گئی ہے اور ’دہشت گردی‘ ختم ہو گئی ہے۔ حال ہی میں آر ٹی آئی کے تحت دی گئی ایک درخواست نے مودی حکومت کے یہ دعوے بھی بے نقاب کر دئیے۔ مودی حکومت نے دعویٰ کیا کہ 1 کروڑ 18 لاکھ سیاحوں نے جموں کشمیر کا دورہ کیا۔ تاہم حقیقی اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی کہ مجموعی طور پر 92 لاکھ شہری مختلف مواصلاتی ذرائع کا استعمال کر کے جموں کشمیر میں داخل ہوئے۔ ان افراد میں محض سیاح شامل نہیں تھے بلکہ جموں کشمیر کے شہری، تجارتی سامان لانے والی گاڑیاں، فوجی نقل و حرکت اور سرکاری عہدیداروں کی جموں کشمیر اور بھارت کے درمیان سفر سمیت ہر اس فرد کو ان اعداد و شمار میں شامل کیا گیا جو اس عرصے میں بھارت سے جموں کشمیر میں داخل ہوا۔
عسکری سرگرمیوں میں اس عرصے کے دوران کمی ضرور آئی لیکن جموں کشمیر کی آزادی کی خواہش اور جذبہ کم نہیں ہو سکا۔ نہ ہی بھارتی ریاستی جبر اور سامراجی قبضے کے خلاف نفرت میں کوئی کمی واقع ہوئی۔ تمام تر جیری مینڈرنگ اور ریاستی جبر کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں نے گھروں سے نکل کر مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ووٹ دیا۔ جموں کشمیر کے شہریوں نے بیلٹ کے ذریعے سے بھارتی سامراجی قبضے کو ایک بار پھر مسترد کر دیا۔
اسی طرح بھارت کے اندر معاشی ترقی کے دعوؤں کے برعکس جی ڈی پی کی شرح نمو میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 2023-24ء میں ظاہر کی گئی 9.2 شرح نمو، 2024-25ء میں تمام تر اعداد و شمار کے ہیر پھیر کے باوجود 6.5 فیصد تک گر گئی ہے۔ مینوفیکچرنگ اور سروسز سیکٹر کی شرح ترقی میں 45 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح 2023ء میں گریجویٹس میں بیروزگاری کی شرح 42.3 فیصد تھی۔
عدم مساوات بھی بھارت میں انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ 2022ء کے آخر میں بھارت میں دولت کی غیر مساوی تقسیم کی شرح 82.5 فیصد رہی۔ 1 فیصد امیر ترین افراد ملک کی کل دولت کا 40 فیصد رکھتے ہیں۔ جبکہ غریب ترین 50 فیصد کے پاس محض 3 فیصد دولت ہے۔ صحت کے اخراجات میں اضافے کے باعث ہر سال 6.3 کروڑ بھارتی شہری غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں۔ غربت کی شرح کے اعداد و شمار سرکاری سطح پر تو 7.2 فیصد بتائے جاتے ہیں لیکن دوسری طرف 81 کروڑ سے زائد افراد کو مفت راشن سرکاری سطح پر فراہم کیا جاتا ہے جو کل آبادی کا 57 فیصد ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ’چمکتے بھارت‘ میں انسان کس قدر اذیت سے دوچار ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، بیت الخلا جیسی سہولیات سے آبادی کے ایک بڑے حصے کی محرومی سمیت دیگر مسائل سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔ مودی حکومت نفرت اور تعصب کو ہوا دیتے ہوئے نیو لبرل پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ صحت اور تعلیم پر ریاستی اخراجات کی حالت بھی پاکستان سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ کرپشن بے انتہا ہے۔ یہ حقائق مودی حکومت کی ترجیحات اور کردار کو خوب واضح کرتے ہیں۔
نیو لبرل پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے فرقہ وارانہ تقسیم، نفرت اور تعصب کو سرکاری سطح پر بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ حالیہ جنگی صورتحال کے دوران بھی ان واقعات میں کمی کی بجائے مزید تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ سال فرقہ وارانہ فسادات میں مزید 84 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جنونی ہجوم کے ہاتھوں انسانوں کے قتل کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس جیسے انتہا پسند گروہ اس نفرت کو ابھارنے میں پیش پیش ہیں۔
حکومت نے گائے کے تحفظ کے قوانین کو سخت کرنے، شہریت کے ترمیمی قانون کی منظوری جیسے اقدامات کر کے اس نفرت اور تعصب کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ اب ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کا اعلان کرتے ہوئے سماج کو مزید تقسیم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ لیکن ظاہر ہے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ مودی حکومت کی بڑھتی عدم مقبولیت کو پاکستان دشمنی کے پیچھے چھپانے، ہر تنقیدی اور اختلافی آواز کو پاکستانی ایجنٹ قرار دینے جیسے اقدامات اور پروپیگنڈہ مہم پاک بھارت جنگی صورتحال کے بھڑکنے پر منتج ہوئی ہے۔
پاکستان کی ہائبرڈ رجیم کے تضادات
پاکستان میں سیاسی، معاشی اور ریاستی بحران اپنی انتہاؤں پر ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر سامراجی اداروں کی پالیسیوں پر عمل پیرا ریاست کی ننگی جارحیت کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی سول ملٹری حکومت (ہائبرڈ رجیم) نے معاشی اور سیاسی تضادات کو حل کرنے کے لیے ہر طرح کے اختلاف کو جبر کے ذریعے دبانے کی پالیسی اپنائی ہے۔ معاشی بحران کا تمام تر بوجھ محنت کش طبقے پر ڈالنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ میڈیا اور عدلیہ پر سخت گیر کنٹرول قائم کیا ہے اور آمرانہ طرز کی پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے ہر طرح کے اختلاف کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔
قومی اور طبقاتی تحریکوں کو کچلنے کے لیے آمرانہ قوانین اور فوجی جبر کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ہر ایک اختلافی آواز کو یہاں بھی بھارتی سازش قرار دے کر کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تمام تر اقدامات معیشت کو درست کرنے کے دعووں کے تحت کیے گئے۔ اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد تحریک انصاف کی مہم جوئیوں نے انہیں مزید جواز فراہم کیا ہے۔ تاہم معاشی ترقی کا کوئی ہدف بھی حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ الٹا مزید 1 کروڑ 30 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ 61 فیصد آبادی غیر محفوظ پانی پینے پر مجبور ہے۔ صوبوں کے وسائل پر مرکزی کنٹرول کے لیے قانون سازیاں کی جا رہی ہیں۔ لیکن مرکز کی سطح پر تعلیم کے لیے وفاقی بجٹ کا محض 0.41 فیصد اور صحت کے لیے صرف 27 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات پر خرچ کرنے کی ذمہ داری صوبوں کی لیکن معدنی وسائل، سیاحت کے پوٹینشل سمیت کارپوریٹ طرز پر زرعی پیدوار کے لیے وسائل کا استعمال مرکز کی سطح پر کرنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔
حکومتی پالیسیوں کے خلاف نہ صرف ملک کی آئینی حدود میں شامل نواحی علاقوں اور پسماندہ صوبوں میں عدم اطمینان موجود ہے بلکہ قومی اور طبقاتی نجات کی جاندار تحریکیں اور مسلح بغاوتیں بھی موجود ہیں۔ مذہبی عسکریت پسندی کو بطور تذویراتی ہتھیار استعمال کرنے کی امریکی اشتراک سے بنائی گئی پالیسی بھی اب عفریت کی صورت میں حکمرانوں اور فوجی اشرافیہ کا پیچھا کر رہی ہے۔ سامراج کی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ پالیسی کے تحت تشکیل پانے والے ’دو قومی نظریے‘ کی اساس پر قائم اس مصنوعی ریاست میں قومی جمہوری انقلاب کے فرائض کی تکمیل کی حکمران طبقات کے اندر روز اول سے صلاحیت ہی موجود نہیں تھی۔ سامراج کی اطاعت گزاری اور طفیلی کردار کی حامل کمپراڈور بورژوازی کو جب بھی بقا کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو قومی دفاع اور سالمیت وغیرہ کی جعل سازی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہائبرڈ رجیم کی پالیسیوں کی سماج میں عدم قبولیت اور فوجی اشرافیہ کے خلاف نفرت کا اثر پہلی بار نواحی علاقوں سے مرکز تک پھیل جانے کے باعث ایک بار پھر ’دو قومی نظریے‘ کی ترویج ناگزیر ہو چکی تھی۔
ماضی قریب میں سرکاری سطح پر جموں کشمیر میں مذہبی عسکریت پسندی کی پشت پناہی کا سلسلہ ترک کرنے کی پالیسی اپنائی گئی تھی۔ جسے اب محدود سطح پر دوبارہ شروع کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ اس ایک کوشش سے جہاں داخلی تضادات کو بھارت دشمنی کی طرف موڑنے کے لیے مدد حاصل کرنا مقصد تھا وہیں یہ جموں کشمیر میں جاری ’عوامی حقوق تحریک‘ کی شدت کا رخ بھی ریاست پاکستان کے نو آبادیاتی کردار کی مخالفت سے بھارتی فوجی قبضے کی طرف موڑنے کی سعی تھی۔
جموں کشمیر میں ریاست کی ہی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عسکری تنظیموں کے مشترکہ جلسے منعقد کروانا، ترقی پسند کارکنوں کے خلاف کفر کے فتوے جاری کروانا، وزیر اعظم انوار الحق کی جانب سے ’جہادی کلچر‘ کو سرکاری سطح فروغ دینے کے دعوے اور سب سے بڑھ کر جموں کشمیر کے بھارتی زیر انتظام حصے میں مارے گئے عسکریت پسند نوجوانوں کی غائبانہ آخری رسومات کی ادائیگی کے نام پر جلسوں کے اہتمام جیسے اقدامات اس پالیسی کے اپنائے جانے کی تصدیق کرتے ہیں۔
یوں پہلگام حملے کو محض ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دے کر جان چھڑوانا بھی اتنا آسان نہیں اور اگر یہ حملہ پاکستان کی جانب سے پلان نہیں بھی کیا گیا تو مندرجہ بالا اقدامات سے ایسے شواہد یا اشارے ضرور مہیا کیے گئے تھے جن کو بنیاد بنا کر مودی حکومت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے جنگی جنون مسلط کرنے میں آسانی محسوس کرتی۔ مودی حکومت کے ان اقدامات نے پھر داخلی سطح پر پاکستان کی ہائبرڈ رجیم کو بھی اس قابل بنا دیا کہ ہر اختلافی آوازکو بزور طاقت کچل دیا جائے، قومی شاونزم کو ابھار کر بیرونی دشمن کے خطرے کو محنت کشوں کے اعصاب پر مسلط کر کے ان کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹائی جائے۔ من پسند بنیادوں پر دفاعی بجٹ میں اضافہ کر کے اور آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے عین مطابق بجٹ منظور کر کے بحران کا تمام تر بوجھ محنت کشوں پر منتقل کر دیا جائے۔
انسانی ہڈیوں پر اسلحہ کا کاروبار
دونوں اطراف حکمران طبقات اس جنگی جنون میں اسلحہ اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں اربوں ڈالر جھونکنے میں مصروف ہیں۔ یہ رقوم اگر اس خطے میں صحت، تعلیم، روزگار اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر خرچ کی جاتیں تو کسی حد تک غربت اور محرومیوں کا ازالہ ممکن تھا۔ جہاں حکمران طبقات اس نظام کی بقا کے لیے اسلحے کی اس دوڑ میں شامل ہیں وہیں سامراجی اسلحہ ساز کمپنیاں اس دشمنی سے بھاری منافع حاصل کرنے میں بھی مصروف ہیں۔
بھارت 83.6 ارب ڈالر کیساتھ جنگی اخراجات کے حوالے سے دنیا کے پہلے پانچ ممالک میں آتا ہے۔ پاکستان سالانہ 8.5 ارب ڈالر کیساتھ 30 واں بڑا عسکری اخراجات کرنے والا ملک ہے۔ جو جی ڈی پی تناسب کے حساب سے دنیا کے سب سے زیادہ دفاعی ا خراجات والے ملکوں میں شامل ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کی رپورٹوں کے مطابق بھارت عالمی درجہ بندی میں اسلحہ درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے جو روس، فرانس، اسرائیل اور امریکہ سے اسلحہ درآمد کرتا ہے۔ جبکہ پاکستان عالمی درجہ بندی میں اسلحہ درآمد کرنے والا 5 واں بڑا ملک ہے جو چین، ہالینڈ، ترکی اور امریکہ سے اسلحہ خریدتا ہے۔
تاہم دوسری طرف فی کس آمدن کے حساب سے دونوں ممالک دنیا کے غریب ترین خطوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ آباد ہے۔ دنیا کی 21 فیصد سے زائد آبادی میں دنیا کی آدھی غربت پلتی ہے۔ یو این ڈی پی اور ورلڈ بینک کے مطابق دونوں ملکوں میں 20 فیصد آبادی ’’انتہائی غربت‘‘ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ورلڈ بینک کے نئے معیارات کے مطابق پاکستان میں 45 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
اس خطے کے حکمران سرمائے کی حاکمیت کو قائم رکھنے کے لیے انسانیت کو برباد اور ماحول کو تباہ کرنے میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ نسل انسان کو تباہ و برباد کرنے والے آلات پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے اور تعمیر و ترقی میں ناکامی کی ہزیمت سے بچنے کے لیے جنگ کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
جنگ سے جڑے سامراجی مفادات
اس جنگی کیفیت کو سامراجی حکمرانوں نے بھی اپنے تذویراتی مقاصد، تجارتی جنگ، خطے میں جیو اسٹریٹیجک مقاصد اور ہتھیاروں کی نمائش کے لیے استعمال کیا۔ انسانیت کو برباد کرنے والے ان اقدامات میں سامراجیوں کی دلچسپی کس حد تک تھی اس کا اندازہ ایک چینی دانشور کے عالمی خبر رساں ادارے کے ساتھ گفتگو میں استعمال کیے گئے ان الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’ایک حقیقی جنگی صورتحال سے زیادہ بہتر (ہتھیاروں کی) تشہیر کا کوئی موقع نہیں ہو سکتا۔‘
دوسری طرف امریکہ اور مغربی طاقتوں نے بھی چین کے خلاف بھارت کو استعمال کرنے اور جنوب ایشیا میں اپنے تجارتی اور جیو اسٹریٹیجک مفادات کے اقدامات کی لائنیں سیدھی کرنے کے لیے اس جنگی صورتحال کو ایک تجربے کے طور پر استعمال کیا۔ اس جنگی صورتحال کے فوری بعد چین امریکہ تجارتی مذاکرات، ٹرمپ کی مسئلہ جموں کشمیر کے حل میں ثالثی کی پیشکش اور سفارتی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں ایک بار پھر اضافے نے سامراجی حکمرانوں کے کھیل میں ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ تاہم سامراجی ثالثی اور منصوبہ بندیوں کے نتیجے میں اس خطے کے محنت کشوں کے مقدر بدلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ الٹا نئی سامراجی چپقلشوں، جنگوں، خونریزیوں اور معاشی بربادیوں کی راہ ہموار ہو گی۔
فتح کے جشن اور سفارتی خوش فہمیاں
دونوں اطراف جنگ میں فتح کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ حقیقت میں ساڑھے تین روز پر مشتمل اس جنگی کیفیت نے دونوں اطراف کے حکمرانوں اور افواج کی جنگی صلاحیت کی قلعی بھی کھول دی ہے۔ ماضی میں بھی ان دونوں ملکوں کے درمیان کوئی جنگ چند ایام سے زیادہ پر محیط نہیں ہو سکی ہے۔ ماضی ہی کی طرح اس بار بھی دونوں اطراف سے امریکی سامراج اور دیگر سامراجی طاقتوں کی طرف التجائی نظروں سے جنگ بندی کے لیے دیکھنا یہ واضح کرتا ہے کہ نہ تو یہ بڑی جنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی مستقل بنیادوں پر امن قائم کر سکتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر فوجی اخراجات کے باوجود ایک لمبی جنگ کی صلاحیت دونوں ریاستوں میں ناپید ہے۔
دونوں اطراف فتح کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ ایک طرف طیارے مار گرانے اور دوسری جانب ’دہشت گرد ٹھکانے‘ تباہ کرنے اور دفاعی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے دعوے ہیں۔ ہزیمت کی خفت مٹانے کے لیے اب سفارتکاری کے نام پر خوش فہمیاں بانٹنے کا سلسلہ عروج پر ہے۔ ایک طرف ٹرمپ جیسے سامراجی حکمرانوں سے مسائل حل کرنے کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف دوبارہ جنگ کرنے کی بڑھک بازی جاری ہے۔
تاہم حقیقت میں اس جنگ کا خمیازہ اس خطے کے محنت کشوں نے آگ اور خون، خوف و وحشت کے ذریعے ان چند دنوں میں بھگتا ہے اور آنے والے دنوں میں ریاستی جبر اور معاشی حملوں کے ذریعے مزید بھگتیں گے۔ جموں کشمیر ہمیشہ کی طرح اس جنگ کا سب سے بھیانک شکار بنا ہے۔ سیز فائر لائن کے دونوں اطراف 50 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، سینکڑوں زخمی ہوئے، سینکڑوں مکانات اور املاک تباہ ہوئیں اورہزاروں افراد کو بے گھری کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے بڑھ کر وہ گھاؤ ہیں جو بچوں، عورتوں اور جوانوں کے ذہنوں پر گولہ باری کی وحشت نے لگائے ہیں۔ یہ زخم تاعمر آسیب کی طرح ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔
ان حالیہ واقعات نے یہ بات ایک بار پھر عیاں کر دی ہے کہ جب تک یہ نظام حکمرانی موجود ہے اور جب تک یہ ریاستی ڈھانچے اس طرز پر موجود ہیں‘ اس خطے میں انسانیت برباد ہوتی رہے گی۔ جنگ کے اس کھلواڑ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مزاحمت اور بغاوت اس خطے کے محنت کشوں کے لیے نجات کا واحد راستہ ہے۔ جنگ کی تباہ کاریوں، ماحولیاتی بربادیوں اور معاشی جبر و استحصال کا شکار دونوں اطراف محنت کش طبقات اور محکوم قوموں کو بنایا جا رہا ہے۔ یہی وہ قوتیں ہیں جن کے مسائل مشترک ہیں اور ان کی نجات کا راستہ بھی مشترکہ جدوجہد پر مبنی ہے۔ جنگی جنون کے درمیان طبقاتی یکجہتی و محبت کے پیغام اور سوشلسٹ انقلاب کے علم ہی اس خطے کو نفرت اور استحصال کے سیاہ راج سے نجات فراہم کریں گے۔
