پنٹو روجو / انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ
امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE/’’آئس‘‘) کی گاڑیاں بھاگ رہی ہیں۔ جبکہ بڑی تعداد میں لوگ ان پر پتھر، اینٹیں اور دیگر دستیاب اشیا پھینک رہے ہیں۔ کیونکہ یہ نفرت زدہ ’’میگرہ‘‘ ایجنٹ ان کی کمیونٹیوں میں خوف اور اذیت پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ آئس کی ایک جلتی ہوئی گاڑی چوراہے کے بیچ کھڑی ہے۔ جہاں لوگ آتش بازی کر رہے ہیں، سیلفیاں لے رہے ہیں اور یہاں تک کہ جلی ہوئی گاڑی پر رقص بھی کر رہے ہیں۔ ایک ہائی وے پل پر ہجوم جمع ہے۔ جو نیچے پولیس کی گاڑیوں پر اشیا پھینک رہا ہے، ان کے شیشے توڑ رہا ہے اور پولیس کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ فوراً اپنی ڈھالوں کے ساتھ پیچھے ہٹ جائیں۔ بھاری اسلحے سے لیس پولیس اہلکاروں کی قطاریں ہیں۔ جو بے رحمی سے آئس مخالف مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل چلا رہی ہیں۔ مقصد صرف لوگوں کو نقصان پہنچانا اور اشتعال دینا ہے۔ جبکہ لوگ کوڑے دان کے ڈھکنوں، دھاتی کرسیوں اور دیگر مضبوط اشیا سے اپنی حفاظت کے لیے ڈھالیں بنا رہے ہیں۔ ہزاروں لوگ بغاوت میں شامل ہونے کے لیے باہر نکل آئے ہیں اور میکسیکن، وسط امریکی اور فلسطینی جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ حکومت نے شہر بھر میں نیشنل گارڈ تعینات کر رکھے ہیں۔
یہ مناظر جون 2025ء میں لاس اینجلس میں ہونے والی آئس مخالف بغاوت کے ہیں۔ سڑکوں پر ابھرتی ہوئی لڑائیاں اور جھڑپیں ہیں۔ جو محنت کش طبقے کے سب سے زیادہ مظلوم اور استحصال زدہ حصوں اور بھاری اسلحہ بردار آئس ایجنٹوں کے درمیان جاری ہیں۔ وہ آئس جس کا موازنہ باآسانی نازی جرمنی کی بدنام زمانہ خفیہ پولیس ’گسٹاپو‘ سے کیا جا سکتا ہے۔
2003ء میں آئس کا قیام ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا جب 9/11 کے حملوں کے بعد امریکی ریاست نے بڑے پیمانے پر فوجی اور جابرانہ ریاستی اداروں میں سرمایہ کاری اور توسیع شروع کی۔ اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ڈیموکریٹک پارٹی کی وسیع حمایت کے ساتھ اکتوبر 2001ء میں افغانستان پر حملے (اور 20 سالہ قبضے) کا آغاز کیا۔ جسے ’’آپریشن انڈیورنگ فریڈم‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد 2002ء کے اوائل میں بش نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کیا کہ امریکی ریاست ایک پوری نسل پر محیط اور عالمی سطح پر پھیلی ہوئی ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا آغاز کر رہی ہے۔ جس کی ابتدا ’’بدی کے محور‘‘ یعنی عراق، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک پر حملے کے ارادے سے کی گئی۔ 20 مارچ 2003ء کو امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اور وہاں قبضہ کر لیا۔ جسے ’’آپریشن عراقی فریڈم‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد سے امریکہ نے اب تک 78 ممالک میں فوجی کاروائیاں کی ہیں۔ جن میں حملے، قبضے، فضائی بمباری، ڈرون حملے، خفیہ آپریشن، ٹارگٹ کلنگ وغیرہ شامل ہیں۔ جن کے نتیجے میں تقریباً 50 لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں۔
اگرچہ 9/11 کے حملوں نے امریکی سامراج کو ایک بہانہ یا جواز فراہم کیا لیکن امریکی ریاست پہلے ہی سامراجی یلغار کے ایک نئے مرحلے کی تیاری میں مصروف تھی۔ تاکہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں میں امریکی فوجی بالادستی کو دوبارہ قائم کیا جا سکے۔ اس حکمت عملی کا سب سے واضح اظہار دائیں بازو کے تھنک ٹینک ’’پروجیکٹ فار اے نیو امریکن سنچری‘‘ (PNAC) کے ذریعے ہوا۔ جو 1997ء سے امریکہ کے بین الاقوامی سطح پر جارحانہ اور مداخلت پسندانہ کردار کی وکالت کرتا آ رہا تھا۔ ’’PNAC‘‘ نے پیشگی جنگ، حکومتوں کی تبدیلی اور نوآبادیاتی طرز کے قبضے کو فروغ دیا ہے۔ تاکہ ابھرتے ہوئے سامراجی حریفوں اور دشمنوں کے خلاف امریکی بالادستی کو برقرار رکھا جا سکے۔
2001ء کے بعد سے امریکی فوجی اخراجات میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور پینٹاگون اب تک 14 ٹریلین ڈالر سے زائد رقم جنگوں اور قبضوں پر خرچ کر چکا ہے۔ اسی پس منظر میں امریکی ریاست نے اس طویل المدتی جنگ کا اندرونی محاذ بھی کھولا۔ جس کے تحت ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) اور ’’آئس‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
2003ء میں امریکی ریاست نے دونوں بڑی پارٹیوں کی حمایت کے ساتھ 22 وفاقی مسلح نفاذِ قانون کے اداروں کو یکجا کر کے اور ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کے تحت لا کر داخلی ریاستی جبر کا ایک جامع نظام ترتیب دیا۔ آئس کو اس مقصد سے قائم کیا گیا کہ وہ امریکی سرزمین کے اندر ’’قومی سلامتی کو لاحق مبینہ خطرات‘‘ کو کچلے اور اس کے ایجنٹوں کو وسیع اختیارات دیے گئے کہ وہ ’’قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے‘‘ افراد کے خلاف نگرانی، تعاقب، گرفتاری اور ملک بدری جیسے اقدامات انجام دیں۔ آغاز سے ہی آئس کو ایک منفرد اور غیر معمولی نوعیت کی پولیسنگ ایجنسی بنایا گیا۔ جسے نگرانی یا جوابدہی کے بغیر کام کرنے اور سزا یا احتساب کے خوف کے بغیر کاروائی کرنے کے مکمل اختیارات حاصل رہے ہیں۔ آئس کی اس حیثیت نے ریاست کو اس ادارے کو مکمل طور پر سیاسی رنگ میں رنگنے کا موقع دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ دائیں بازو کے نسل پرست اور پرتشدد ذہنیت کے افراد کو اپنی طرف راغب کرنے اور بھرتی کرنے کا مرکز بن چکا ہے۔ جسے ایک رجعتی اور سفید فام بالادستی پر یقین رکھنے والی حکومت نے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر خوب استعمال کیا ہے۔
ابتدائی طور پر ’’آئس‘‘ کو ’’نیشنل فیوجیٹو آپریشنز پروگرام‘‘ کے تحت تعینات کیا گیا۔ جس کا مقصد امریکہ میں مقیم 20 سے زائد مخصوص ممالک سے تعلق رکھنے والے قانونی دستاویز ات سے محروم افراد کی نگرانی، نشاندہی، گرفتاری اور ملک بدری تھا (زیادہ تر مسلمان اور خطہ عرب یا مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے لوگ)۔ بعد ازاں توجہ کا مرکز میکسیکو، وسطی امریکہ اور کیریبین سے تعلق رکھنے والے غیر دستاویزی مزدوروں پر منتقل ہو گیا۔ خصوصاً 2006ء میں تارکینِ وطن مزدوروں کی اس بڑی تحریک کے بعد جس میں 30 لاکھ سے زائد افراد نے قانونی حیثیت کے مطالبے کے لیے ہڑتالوں، مارچوں، بائیکاٹ اور واک آؤٹ وغیرہ میں حصہ لیا تھا۔ 2006ء سے 2007ء کے دوران آئس کے ایجنٹوں نے ملک بھر کے 100 سے زائد شہروں اور قصبوں میں سینکڑوں چھاپے مارے۔ جن کا نشانہ فیکٹریاں، کھیت، مکانات اور کمیونٹی مقامات بنے۔
آئس کو ان مزدوروں کو گرفتار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جو یونین سازی، کام کی جگہ پر احتجاج یا طبقاتی جدوجہد سے متعلق سرگرمیوں میں شریک تھے۔ متعدد غیر دستاویزی کارکنوں کو ان کی سیاسی سرگرمیوں اور حقوق کی وکالت کے باعث نشانہ بنایا گیا۔ ان چھاپوں کے ذریعے صرف 2006-07ء کے عرصے میں ہی 80 ہزار سے زائد افراد کو نشانہ بنایا گیا، گرفتار کیا گیا اور ملک بدر کیا گیا۔ یوں ریاست نے آئس کو استعمال کرتے ہوئے تارکین وطن مزدوروں کی تحریک کے سب سے منظم، پرعزم اور مزاحمتی عناصر کو بڑے پیمانے پر گرفتار اور ملک بدر کیا۔
امریکی ریاست کی جانب سے تارکینِ وطن محنت کشوں اور غیر ملکی مزدوروں پر یہ حملہ دو طرفہ انداز میں آج تک جاری ہے۔جس میں آئس کی جانب سے گرفتاری، حراست اور ملک بدری کے خوف کو استعمال کرتے ہوئے لاکھوں تارکینِ وطن مزدوروں کو مزید منتشر، خوفزدہ اور غیر محفوظ بنایا جاتا ہے۔ ان حالات میں وہ نہ صرف تنظیم سازی اور مزاحمت کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ استحصال کا شکار بنتے ہیں اور ان کی محنت سرمایہ دار طبقے کے لیے بے شمار دولت کشید کرنے کا آسان ذریعہ بن جاتی ہے۔
مہاجرین اور غیر ملکی محنت کشوں کو قابو میں رکھنے اور ان میں مستقل خوف پیدا کرنے کی مجبوری کو اگر امریکی سرمایہ دارانہ نظام کے ایک بنیادی جزو کے طور پر دیکھا جائے تو یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ کیوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک‘ دونوں جماعتوں نے یکساں طور پر آئس جیسے اداروں پر مبنی حراستی نظام اور ملک بدری کی صلاحیتوں کو ہر نئی حکومت کے ساتھ مزید وسعت دی ہے۔ ان حالات میں ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) ایک بے پناہ پھیلتا ہوا ریاستی جبر کا ادارہ بن چکا ہے۔ جس کا ابتدائی بجٹ 2003ء میں 38 ارب ڈالر تھا اور یہ 2024ء تک بڑھ کر 103 ارب ڈالر کی حدوں کو چھو رہا ہے۔
ٹرمپ کا 2025ء کا مجوزہ بجٹ، جسے وہ مذاقاً ’’بِگ بیوٹیفل بل‘‘ کہتا ہے اور جو حال ہی میں ایوانِ نمائندگان سے منظور ہوا ہے، امیگریشن اور بارڈر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے 185 ارب ڈالر کی نئی فنڈنگ پر مشتمل ہے۔ اگر یہ منظور اور نافذالعمل ہو گیا تو یہ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کے موجودہ بجٹ کو د گنا کر دے گا۔ آئس کے لیے خاص طور پر یہ بل 45 ارب ڈالر تارکین وطن کی حراست اور 14 ارب ڈالر ملک بدری کی کاروائیوں کے لیے مختص کرے گا۔
آئس کے قیام کے بعد سے غیر رجسٹرڈ یا ’’غیر قانونی‘‘ محنت کشوں کے مخصوص حصوں کو نشانہ بنانا اور منظم انداز میں ملک بدر کرنا امریکی منظرنامے کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ یہ وہ ’’ریموولز‘‘ ہیں جو امریکہ کے اندرونی علاقوں سے کی جاتی ہیں۔ سرحدی علاقوں سے کی جانے والی ’’بے دخلیاں‘‘ (Expulsions) ان میں شامل نہیں ہیں۔ جارج ڈبلیو بش کے دور میں (2000-2008ء) بیس لاکھ سے زائد تارکین وطن مزدور گرفتار اور ملک بدر کیے گئے۔ باراک اوباما کے دور میں (2009-2016ء) تیس لاکھ سے زائد افراد کو ملک بدر کیا گیا۔ حالانکہ اس نے اپنی انتخابی مہم میں یہ وعدہ کیا تھا کہ ایسے تمام افراد کو قانونی حیثیت دی جائے گی اور اس وقت کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی واضح اکثریت بھی موجود تھی۔ پہلے ٹرمپ دور (2017-2020ء) میں بارہ لاکھ لوگ ملک بدر کیے گئے۔ بائیڈن کے دور میں (2021-2025ء) چار لاکھ سے زائد افراد ملک سے نکالے گئے۔ سرحدی علاقوں سے لاکھوں مزید افراد کو نکالا گیا۔ حالانکہ بائیڈن نے بھی انتخابی مہم میں ملک بدریوں کو معطل کرنے اور غیر قانونی تارکین کو عمومی قانونی حیثیت دینے کا وعدہ کیا تھا۔
آئس کی بطور ریاستی جبر کے آلہ کے وہ بنیادی خاصیت جس کا ہدف محنت کشوں کی تنظیم اور سیاسی مزاحمت ہے‘ حالیہ واقعات سے بھی ظاہر ہوئی ہے۔ جب آئس کے ایجنٹوں نے فلسطینیوں کے حامی سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا اور گرفتار کیا۔ محمود خلیل اور محسن مہدوی جیسے نمایاں افراد (جو قانونی طور پر امریکہ میں مستقل رہائشی ہیں اور شہریت حاصل کرنے کے عمل میں تھے) کی گرفتاری اور اغوا یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اب امریکی ریاست کی جابرانہ کاروائیاں صرف غیر قانونی تارکین وطن تک محدود نہیں رہیں۔ بلکہ قانونی حیثیت رکھنے والوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مزید برآں ایک ہزار سے زائد افراد کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں یا ان کی قانونی حیثیت ختم کی گئی ہے۔ جس کہ وجہ محض یہ تھی کہ وہ لوگ فلسطینیوں کی حمایت کر رہے تھے۔
محنت کش طبقے کے خلاف ریاستی ہتھیار اور امریکی سامراج، صیہونیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے بھی آئس کا استعمال امریکی ریاست کے سیاسی جواز کے شدید بحران کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس ریاستی تشدد کی انتہا کو بھی آشکار کرتا ہے جسے امریکی سرمایہ دار طبقے کے معاشی اور سامراجی مقاصد کے تحفظ اور ہر قسم کی مخالفت کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ دہائی کے دوران تارکین وطن مزدوروں اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے والی آئس کی سرگرمیاں مسلسل بڑھتی گئی ہیں۔ اوباما انتظامیہ کے دور سے آئس کو قومی پولیسنگ کے نظام میں بتدریج ضم کر دیا گیا ہے تاکہ وہ سیاسی مظاہروں اور سماجی بے چینی کو دبانے جیسے وسیع تر ریاستی اقدامات میں شریک ہو سکے۔ مثال کے طور پر ’’DHS‘‘ اور آئس کے ایجنٹوں کو 2014ء سے 2021ء تک ملک بھر میں ’’Black Lives Matter‘‘ کے مظاہروں کی نگرانی، انہیں روکنے اور ان پر جبر کے لیے تعینات کیا گیا۔ بعض صورتوں میں’’DHS‘‘ کے اہلکاروں نے بغیر نشان یا نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے ذریعے مظاہرین کا پیچھا کیا، انہیں اغوا کیا اور حراست میں لیا۔
آئس کے خلاف بڑھتے ہوئے غصے اور مزاحمت نے حالیہ برسوں میں ایک منظم شکل اختیار کی ہے۔ 2017-18ء میں ایک ملک گیر تحریک ’’آکوپائی آئس‘‘ کے نام سے منظم ہوئی۔ جس کا مقصد ملک بھر میں آئس کی کاروائیوں میں رکاوٹ ڈالنا اور انہیں بند کرنا تھا۔ اس تحریک نے ’’آئس کو ختم کرو‘‘ کے نعرے کو عملی شکل میں پیش کیا۔ یعنی اس کی سرگرمیوں کو معطل کیا جائے۔ اس تحریک کی مقبولیت نے ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ اس مطالبے کی زبانی حمایت کریں۔ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، الزبتھ وارن، کرسٹن گلیبرینڈ، برنی سینڈرز اور دیگر نے دکھاوے کی حمایت بھی کی۔ لیکن الیکشن کے بعد فوراً ہی اس سے پیچھے ہٹ گئے۔
2024ء کے انتخابی عمل کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں نے امیگریشن پر سختی اور آئس کو بالکل کھلی چھوٹ دینے کی بات کی۔ سرمایہ داری کے جاری بحران اور سامراجی زوال کے تناظر میں جب پیش کرنے کو کوئی متبادل نہ تھا تو دونوں سرمایہ دار جماعتیں مہاجرین، پناہ گزینوں اور غیر ملکی محنت کشوں پر بھرپور حملوں پر متفق نظر آئیں۔ ڈیموکریٹس کی اس روش نے نسل پرست ٹرمپ کو موقع دیا کہ وہ اپنے فاشسٹ بیانئے کو مزید وسعت دے۔ یوں ڈیموکریٹک پارٹی یا تو خاموش رہی یا شریکِ جرم بنی۔
گزشتہ چند ہفتے اور دن اس بات کی جھلک دکھاتے ہیں کہ آئس، ٹرمپ حکومت اور پورے ریاستی جبر کے نظام کے خلاف ایک مزاحمتی عوامی تحریک کے امکانات موجود ہیں۔ ورسیسٹر (میساچوسٹس)، سان ڈیاگو (کیلیفورنیا)، منیاپولس (منیسوٹا) اور ملک کے دیگر کئی حصوں میں آئس کے چھاپوں کے خلاف مقامی سطح پر مزاحمت سامنے آئی ہے۔ لاس اینجلس میں جاری بغاوت ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے پاس تعداد، طاقت اور صلاحیت موجود ہے کہ آئس کی کاروائیوں کو درہم برہم کریں اور ان حملہ آوروں کو اپنی کمیونٹیوں سے نکال باہر کریں۔
اگر آئس کے خلاف جدوجہد کو وسعت دینی ہے اور آگے بڑھانا ہے تو زیادہ شہروں میں لاس اینجلس جیسی شدت کے ساتھ ہم آہنگ اور منظم مزاحمتی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ اس کے لیے بلند سطح کی تنظیم سازی، منصوبہ بندی اور شرکت درکار ہو گی۔ آئس کو شکست دینے کی اہل ایک بڑی عوامی تحریک کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنی حکمت عملی، منصوبہ بندی اور تنظیم سازی کو اس ادارے کے مکمل خاتمے کے لیے تشکیل دیں۔ بڑے پیمانے پر کی گئی خلل انگیزی کی کارروائیاں آئس کی سرگرمیوں کو مفلوج کر سکتی ہیں اور اگر تنظیم و حکمت عملی کو انقلابی جہت دی جائے تو محنت کش طبقے کے مزید حصوں کو مزاحمت میں شامل ہونے کی تحریک مل سکتی ہے۔ سب سے بڑھ کر آئس کے خلاف ایک عوامی تحریک اگر کام کی جگہوں تک پھیلتی ہے تو ہڑتالوں کے ذریعے سرمایہ دارانہ معیشت کو معطل کر سکتی ہے۔ 2019ء میں ہوائی جہازوں کی صنعت میں عمومی ہڑتال کی دھمکی نے ٹرمپ کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ سرکاری شٹ ڈاؤن کے دوران سرحدی دیوار میں توسیع کے لیے فنڈنگ کے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائے۔
بطور طبقاتی جنگ کے ایک ہتھیار کے آئس کا وجود اور اس کی دہشتگردانہ کاروائیاں براہ راست سرمایہ دار طبقے کی اس ضرورت سے جڑی ہیں کہ وہ محنت کش طبقے کے مزاحم ترین حصوں کو دبائے، غیر محفوظ بنائے اور انہیں شدید ترین استحصال کے لیے تیار کرے۔ تاکہ ان کی محنت سے زیادہ سے زیادہ دولت نکالی جا سکے۔ علاوہ ازیں آئس ایک ایسا ہتھیار بھی بن چکا ہے جسے سیاسی مخالفین اور ریاست کے ناقدین کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاکہ امریکہ اپنی سامراجی جنگیں جاری رکھ سکے اور غزہ میں نسل کشی کو آگے بڑھا سکے۔ اگر ہم متحد ہو کر آئس کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک تعمیر کریں تو نہ صرف اس کی کاروائیوں کو روکنے اور درہم برہم کرنے کی اپنی طاقت کو پہچان سکتے ہیں۔ بلکہ اس پورے سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنے کی صلاحیت کو بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اسی نظام نے آئس کی دہشت، ٹرمپ، امریکی سامراج، لامتناہی جنگوں اور نسل کشی جیسے عفریت پیدا کیے ہیں۔
