بابر پطرس

نقل مکانی کوئی نیا مظہر نہیں ہے۔ انسان سیاحت اور تجارت کے لیے دشت و صحرا کی خاک چھانتا رہا ہے۔ اسی طرح قبائل کی آپسی خونریزیوں اور نقل مقانیوں سمیت وسائل کی تلاش انفرادی اور اجتماعی ہجرتوں کا سبب ہوا کرتی تھی۔ لیکن نقل مکانی نے انسانی علم و ہنر کو وسعت بھی دی۔ نئی دنیائیں‘ نئے راستے دریافت ہوئے۔ نجی ملکیت اور طبقاتی جبر و استحصال سے جڑے حملوں اور انسانیت سوز جرائم کے باوجود آخر کار اقوام کے درمیان تجربات، ایجادات، مشاہدات اور خیالات کے تبادلے نے سماجی زندگی کو جلا بخشی۔ یوں مقامی اور علاقائی ثقافتوں کے باہمی ملاپ نے رفتہ رفتہ عالمگیر تہذیب کی بنیاد رکھی۔ فلسفے، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی ہوئی۔ تاہم سرمایہ داری کے ظہور کے ساتھ جدید قومی ریاست کے وجود سے (بالخصوص دوسری عالمی جنگ کے بعد) قانونی و ”غیر قانونی“ ہجرت ایک مختلف قسم کا معاملہ بن گئی ہے۔ حالیہ دہائیوں میں تو ”گلوبلائزیشن“ کے علمبردار اس نظام کی سفر و ہجرت پر قدغنیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔

سرمایہ داری کی تاریخی زوال پذیری نے سماج کے ہر شعبے کو تاراج کر کے رکھ دیا ہے۔ خاندان بھی اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ گو اس نے انسان سے رشتوں کی حرمت اور جذبات کے اخلاص کو چھین کر انہیں روپے پیسے کے نقد لین دین کے تعلقات میں بدل دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انسانیت پر مبنی بے لوث رشتوں، تعلقات، قربت کے احساس، دکھ درد میں شراکت کی تڑپ اور محبت و تعاون کی چنگاریاں آج بھی نظام زر کی راکھ میں دبی ہوئی ہیں۔ لیکن پھر پیٹ کی بھوک کا کیا کیجئے کہ اس کا کوئی چارہ نہیں۔ اس کی تسکین کے لیے دیگر اذیتوں کے ساتھ ساتھ نقل مکانی کی اذیت کو بھی برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔

سرمایہ داری کے بطن میں پوشیدہ تضادات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب یہ پیداواری قوتوں کی ترقی (دوسرے الفاظ میں انسان کی ترقی و خوشحالی) کے راستے میں حائل ہو گئے ہیں۔ مارکیٹ سکڑاؤ، جبکہ صنعت منافعوں کی گراوٹ اور بے حد پیداواری صلاحیت کے بحران سے دوچار ہے۔ اس کیفیت میں خاطر خواہ نیا روز گار پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ پہلے سے موجود روزگار کے چھن جانے کا بھی خوف رہتا ہے۔ بہتر مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ اس بحران سے نکلنے کا کسی روایتی سیاسی پارٹی یا رجحان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ کیونکہ سرمایہ داری میں پیداوار براہِ راست منافع کے ساتھ منسلک ہے اور منافعوں کو انسانی محنت کی قوت کا استحصال ہی جنم دیتا ہے۔ شرح منافع کو بڑھانے یا منڈی کی شدید مقابلہ بازی میں برقرار رکھنے کے لیے کئی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں: مزدور کی اجرت کو کم کر دینا، مشینوں کی رفتار اور کام کی شدت (پیداواریت) بڑھا دینا، ڈاؤن سائزنگ کے ذریعے کم مزدوروں سے زیادہ کام لینا وغیرہ۔ لیکن ان طریقوں کی افادیت کی بھی حدود و قیود ہوتی ہیں۔ سرمایہ داری آخر کار ایک بند گلی میں پھنس جاتی ہے۔ جس سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈنا ناممکن نہیں تو انتہائی محال اور تباہ کن ضرور ہوتا ہے۔

ایسے میں معیارِ زندگی میں گراوٹ، اجرتوں میں کمی، بیروزگاری کا مسلسل دباؤ یا خوف محنت کش طبقات کی زندگیوں کو گہری اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ انہی حالات میں سرمایہ داری کی سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کا ایک حصہ اپنے نظام کی ناکامی اور نااہلی کو ایک زہریلی اور سامراجی قوم پرستی کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ انہیں اپنے ممالک کے محنت کشوں کو باور کرانا پڑتا ہے کہ ان کی نوکریاں ”تارکین وطن“ چھین رہے ہیں۔ وہی ان کے شہری و ملکی وسائل پر بوجھ ہیں۔ لہٰذا سرحدوں کو ”محفوظ“ بنانے کے لیے نوکیلی تاروں کی باڑ کھینچنا بہت ضروری ہے۔ دیواروں کا بنایا جانا ناگزیر ہے۔ غرضیکہ داخلی انتشار اور مقامی محنت کشوں کے غم و غصے کا رخ موڑنے کے لیے بیرونی دشمن کا خوف‘ قومی ریاست کے وجود کا ناگزیر پہلو ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بیشتر ترقی یافتہ معیشتوں میں روایتی اصلاح پسند جماعتوں کی نامرادی کے بعد انتہائی دایاں بازو مقبول ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال برطانیہ میں لیبر پارٹی برسر اقتدار آئی ہے۔ لیکن امیگریشن مخالف اور نسل پرست ریفارم یو کے پارٹی کا 14 فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے ملک کی تیسری بڑی جماعت بن جانا یا جرمن نوجوانوں میں اے ایف ڈی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت تشویش ناک ہے۔ پولینڈ، آسٹریا، بیلجیم، اٹلی، ہنگری، ہالینڈ وغیرہ میں دائیں بازو کی حکومتوں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت میں بھی معاشی ابتری اور امیگریشن مخالفت ایسے عوامل کا ہاتھ ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام‘ ترقی یافتہ ممالک میں بھی بہتر معیار زندگی فراہم کرنے میں ناکام ہوتا جا رہا ہے۔

جب ترقی یافتہ معیشتوں کا یہ حال ہے تو ازل سے بحران زدہ اور ڈوبتی پاکستان جیسی معیشتوں کے نوجوانوں کا کیا حال ہو سکتا ہے۔ وہ یا تو اپنی مرزبوم میں ذلت و رسوائی کی زندگی گزارتے ہوئے کسی قابل علاج بیماری سے مر جائیں، کسی فتوے کا شکار ہو جائیں، خود مجرم ہو جائیں یا کسی جرم کا نشانہ بن جائیں، منشیات کا استعمال شروع کر دیں یا خود کشی کر کے اس نظام کے نہ ختم ہونے والے جبر اور ذلت سے رہائی حاصل کرنی کی کوشش کریں۔ لیکن موخرالذکر سوچ کی ایک اور شکل بھی ہوتی ہے۔ جس میں بہت سے نوجوان پھر ’رسک‘ لے کر تمام تر مضمرات اور خطرات کو نظر انداز کر کے بہتر زندگی کی تلاش میں نئی منزل کی طرف چل نکلتے ہیں۔ حسین خوابوں کے ایسے کئی متلاشی کنٹینروں کے نیچے چپک کر سرحدوں کو عبور کرنے کی کوشش میں کچلے جاتے ہیں۔ برف میں لگی مچھلیوں والے بند ڈبوں اور سامان ٹھنڈا رکھنے والی گاڑیوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یا پھر زبوں حال کشتیوں میں سمندر پار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پانیوں میں غرق ہو جاتے ہیں۔ 2015ء میں آسٹریا میں ایک کنٹینر سے 71 اور برطانیہ میں 39 لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ اب تو لکڑی کے کریٹوں اور کیسوں وغیرہ سے لاشیں ملنا اور کھلے سمندروں میں پناہ گزینوں کی کشتیوں کا الٹ جانا معمول کی خبریں بن گئی ہیں۔ لیکن اس ”معمول“ میں بھی کبھی کبھار کچھ خبریں ایسی رپورٹ ہو جاتی ہیں جو دل دہلا دیتی ہیں۔ جیسے ایک شامی بچے کی سمندر کنارے پڑی لاش کی تصویر نے دنیا بھر میں انسانوں کے کلیجے چیر دئیے تھے۔ گزشتہ سال بھی ایک ایسی ہی خبر رپورٹ ہوئی تھی جس میں ایک باپ اپنی دو سال کی شیرخوار بچی کو پیٹھ پر لادے میکسکو سے امریکہ داخل ہوتے ہوئے ریو گرانڈی دریا کے کنارے مردہ حالت میں ملا تھا۔ اسی طرح کینیڈا سے امریکہ کی سرحد عبور کرتے ہوئے برف میں جمی ہوئی ایک ہی خاندان کے چار افراد کی لاشیں ملی تھیں۔ ان میں میاں بیوی کے علاوہ دس سال کا بیٹا اور تین سال کی بیٹی شامل تھی۔

یہ واقعات سرمایہ داری کی سفاکی کا پردہ چاک کر دیتے ہیں کہ یہ غیر انسانی نظام انسانوں کو آسان موت بھی دینے سے قاصر ہو چکا ہے۔ یہ وہ کیس تھے جنہوں نے پوری دنیا کو جھنجوڑ دیا۔ ورنہ ایسی ہلاکتوں کی تعداد کا شمار بھی مشکل ہے۔ عوام اس نظام کے ہاتھوں کس قدر عاجز آ چکے ہیں اس کا اندازہ ”واکنگ بارڈرز“ کی رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ایک سال (2024ء) کے دوران مغربی افریقہ کے ممالک موریطانیہ اور سینیگال سے بحر اوقیانوس کو عبور کر کے کنیری جزائر کے راستے سپین میں داخل ہونے کی کوشش میں دس ہزار سے زیادہ لوگوں نے اپنی جان گنوا دی۔ یہ کسی ایک سال کے دوران راستے میں ہلاک ہونے والے تارکین وطن کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ یوں قریباً ایک دن میں تیس لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں اپنی زندگی گنوا رہے ہیں۔ جبکہ یونیسف کے مطابق 2024ء میں بحیرہ روم کو عبور کرنے والے 2200 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ اس طرح اپنی جان سے گزر جانے والوں کی اموات کا کوئی قابل بھروسہ ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔

ایسی جان لیوا ہجرتیں کسی ایک ملک کا مسئلہ بھی نہیں ہیں۔ بلکہ جنوب ایشیا (بشمول پاکستان و بھارت)، افریقہ، لاطینی امریکہ سمیت سامراج کے خونی پنجوں میں جکڑی کمزور معیشتوں کے حامل تمام خطوں کے محنت کش‘ بالخصوص نوجوان خود کو حالات کے ہاتھوں بے بس اور مجبور پاتے ہیں۔ مزید برآں سرمایہ داری کے معاشی بحرانات کیساتھ یہ رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ کہیں جنگ کی تباہ کاریاں ہیں تو کہیں خانہ جنگی کی خونریزیاں۔ کہیں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بڑھتے ہوئے سیلاب اور طوفان ہیں تو کہیں خشک سالی کا آسیب۔ بدترین استحصال ہے، مقامی کرنسیوں کی بے قدری ہے، سامراجی قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ یہ تمام اذیتیں اسی نظام کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ پسماندہ خطوں کے لوگ انہی سامراجی ریاستوں کے جبر، استحصال اور بھڑکائی ہوئی جنگوں سے تنگ آ کر موت کے یہ راستے چنتے ہیں۔ اور یہی ریاستیں پھر اپنے ممالک میں انہیں ”غیر قانونی“ اور تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔

تارکین وطن کھلے سمندروں میں کشتیوں کے الٹ جانے سے ہلاک ہوں یا اسمگلروں کے تشدد سے مارے جائیں۔ سرحدیں عبور کرتے ہوئے برف میں جم جائیں یا پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن جائیں۔ چاہے بھوک اور پیاس کی اذیت ان کے جسم اور روح کے رشتے کو منقطع کر دے۔ تمام صورتوں میں یہ قتل عام کی ہی ایک صورت ہے۔ ان کا قاتل وہ نظام ہے جو محنت کشوں کو عزت سے دو وقت کی روٹی، امن اور بنیادی ترین ضروریات زندگی کی فراہمی سے بھی قاصر ہو چکا ہے۔ وگرنہ کوئی بھی انسان اپنے دیس، اپنے پیاروں کو چھوڑ کر موت کا مسافر نہیں بنتا۔ یہ سرمایہ داری کی تاریخی متروکیت ہے جسے اصلاح پسندی کے پیوند لگا کر مرمت نہیں کیا جا سکتا۔ محنت کشوں کی شعوری مداخلت سے اس نظام کا عالمگیر پیمانے پر خاتمہ ہی نسل انسان کو ایسی محرومیوں سے نجات دلا سکتا ہے۔ ایک ایسی دنیا تعمیر ہو سکتی ہے جہاں سرحدوں کی کوئی قید نہ ہو۔ لیکن جہاں کوئی بھوک اور افلاس کی ذلت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے پیاروں سے جدا بھی نہ ہو۔ جہاں محبت، امن اور اخلاص کے رشتے استوار ہوں۔ یہ کسی دیوانے کا خواب نہیں۔ یہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ آج کے وقت اور حالات کی ناگزیرضرورت بھی ہے۔