مزید پڑھیں...

لرزتی حکومتوں کی گرجتی توپیں

لرزتی حکومتوں کی گرجتی توپیں

اس خطے کے حکمران سرمائے کی حاکمیت کو قائم رکھنے کے لیے انسانیت کو برباد اور ماحول کو تباہ کرنے میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ نسل انسان کو تباہ و برباد کرنے والے آلات پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے اور تعمیر و ترقی میں ناکامی کی ہزیمت سے بچنے کے لیے جنگ کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ پھر سے سلگ اٹھا!

مشرقِ وسطیٰ پھر سے سلگ اٹھا!

اسرائیل جیسی بنیاد پرست، پیوند کردہ، ناجائز اور سامراجی غنڈہ ریاست نہ تو ایرانی عوام کی نجات دہندہ ہو سکتی ہے‘ نہ اسے خطے کے کسی بھی ملک میں مداخلت یا ’’پیشگی‘‘ چڑھائی کا کوئی حق حاصل ہے۔

امریکہ میں ریاستی جبر کے خلاف بغاوت: عوام بمقابلہ ’’آئس‘‘

امریکہ میں ریاستی جبر کے خلاف بغاوت: عوام بمقابلہ ’’آئس‘‘

اگر آئس کے خلاف جدوجہد کو وسعت دینی ہے اور آگے بڑھانا ہے تو زیادہ شہروں میں لاس اینجلس جیسی شدت کے ساتھ ہم آہنگ اور منظم مزاحمتی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ اس کے لیے بلند سطح کی تنظیم سازی، منصوبہ بندی اور شرکت درکار ہو گی۔

غزہ: کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل

غزہ: کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل

آخری تجزئیے میں اسرائیلی یلغار کے خلاف مزاحمت اور آزادی فلسطین کی راہ خطہ عرب، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے محکوم و محنت کش انسانوں کی جڑت اور اتحاد میں پنہاں ہے۔ جس میں اسرائیل کے صیہونیت مخالف محنت کشوں کو بھی شامل کرنا ہو گا۔

جنگ اور انقلاب

جنگ اور انقلاب

“میرے نزدیک جنگ کے معاملے میں سب سے اہم بات جسے عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے وہ جنگ کے طبقاتی کردار کا سوال ہے۔”

یوم مئی 2025ء کا پیغام

یوم مئی 2025ء کا پیغام

انقلاب روس کے معمار لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ زندگی کمزور کو نشانہ بناتی ہے۔ محنت کش طبقے کو اپنی یکجہتی اور جدوجہد سے ثابت کرنا ہو گا کہ نہ وہ کمزور ہیں‘ نہ ہی کسی حملے پر وہ چپ بیٹھیں گے۔

تاریخ کا نیا موڑ: ٹرمپ، بحران اور لبرل آرڈر کا زوال

تاریخ کا نیا موڑ: ٹرمپ، بحران اور لبرل آرڈر کا زوال

ہم اپنے قارئین کے لئے طبقاتی جدوجہد کی کانگریس 2025ء کی پہلی مجوزہ دستاویز ’’تاریخ کا نیا موڑ: ٹرمپ، بحران اور لبرل آرڈر کا زوال (عالمی صورتحال و پیش منظر 2025ء)‘‘ ٹیکسٹ اور پی ڈی ایف دونوں میں شائع کر رہے ہیں۔

عورت کی آزادی‘ جہد مسلسل کی متقاضی!

عورت کی آزادی‘ جہد مسلسل کی متقاضی!

مردانہ تسلط اور پدر شاہی پر مبنی سوچیں اور رجحانات‘ سرمایہ دارانہ نظام کی ناگزیر پیداوار ہیں۔ جو محروموں و محکوموں کا بلا صنفی، مذہبی و لسانی تفریق استحصال کرتا ہے اور پدر سری معاشرے کو وہ بنیادیں فراہم کرتا ہے جس سے خواتین کا دہرا تہرا استحصال ممکن ہو پاتا ہے۔

نئی نہریں اور پانی کے تنازعات: حل کیا ہے؟

نئی نہریں اور پانی کے تنازعات: حل کیا ہے؟

اس زومبی سرمایہ داری نے نہ صرف تمام قدرتی وسائل کو انسان او ر انسانی سماج سے ماورا کر کے محض منافع کی نگاہ سے دیکھا ہے بلکہ ماحولیات کو تباہ کرتے ہوئے بھی اس نے انسانی زندگی کے مستقبل کے سوال کو یکسر نظر اندا ز کر دیا ہے۔