ولادیمیر لینن
تلخیص و ترجمہ: عمران کامیانہ
حالیہ پاک بھارت تصادم کے دوران دونوں ممالک میں بائیں بازو کے بیشتر حلقوں نے ’سوشل حب الوطنی‘ پر مبنی دوسری انٹرنیشنل کا جو موقع پرستانہ موقف دہرایا ہے اسے بجا طور پر نہ صرف جنوب ایشیا بلکہ عالمی تاریخ کے بدترین نظریاتی جرائم میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ جنگی جنون کے ان حالات نے سوشلزم کے لبادے میں چھپے ان قومی شاونسٹوں کے ریاستی گماشتگی پر مبنی کردار اور سیاسی دیوالیہ پن کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ دونوں ریاستوں کے بالکل واضح سامراجی کردار کو تسلیم اور آشکار کرنے کی بجائے ان نام نہاد ترقی پسند حلقوں کی جانب سے بھونڈے قسم کے جوازوں کے ذریعے انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے ”اپنی“ ریاست کی عسکری حمایت کی گئی۔ بھارتی کمیونسٹ پارٹیوں نے اس جنگ کو اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف دفاع کی جدوجہد جبکہ پاکستان کے سرکاری بائیں بازو نے ہندوتوا کے خلاف مزاحمت کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح یہ تاویل بھی پیش کی گئی کہ ”دوسری“ ریاست چونکہ پہلے حملہ آور ہوئی ہے لہٰذا ”ہمیں“ دفاع کا حق حاصل ہے۔ ہر دو صورتوں میں یہ بالکل واضح ہے کہ یا تو یہ لوگ تجزئیے و تناظر کے مارکسی طریقہ کار کی ابجد سے بھی ناواقف ہیں یا دانستہ طور پر مارکسزم اور سوشلزم کی آڑ میں مفاد پرستی اور کاسہ لیسی کا کھلواڑ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انتہائی صورتوں میں غلطی اور غفلت بھی ناقابل معافی جرم بن جاتی ہے۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یوکرائن جنگ کے معاملے میں ان میں سے بیشتر نے اپنے اسی نظریاتی دیوالیہ پن کے تحت ایک بالکل متضاد موقف اختیار کیا۔ جو بنیادی طور پر روسی جارحیت کی (کھلی یا غیر اعلانیہ) حمایت کے زمرے میں آتا ہے۔
جنگ کیا ہوتی ہے اور کن مادی حالات سے جنم لیتی ہے؟ طبقاتی بنیادوں پر اس کا جائزہ کس طرح سے لیا جا سکتا ہے؟ کون سے عوامل اس کے کردار کا تعین کرتے ہیں؟ سوشلزم کی آڑ میں چھپا قومی شاونزم (سوشل شاونزم) کیا ہے؟ انقلابی سوشلزم کس تجزئیے اور لائحہ عمل کی بنیاد پر بین السامراجی جنگوں کی مخالفت کرتا ہے؟ کن صورتوں میں متحارب اطراف میں سے کسی ایک کو حمایت دی جا سکتی ہے؟ جنگوں کا خاتمہ کیونکر ممکن ہے؟ ان بنیادی سوالات کا جواب پیش کرنے کی سعی میں ہم انقلابِ روس کے قائد ولادیمیر لینن کے ایک لیکچر کا تلخیص و ترجمہ شائع کر رہے ہیں۔ جو انہوں نے زارشاہی کو اکھاڑ پھینکنے والے فروری انقلاب کے کچھ عرصہ بعد جبکہ اکتوبر میں بالشویکوں کے اقتدار پر قبضے سے تقریباً پانچ ماہ پہلے مئی 1917ء میں دیا۔ اس لیکچر یا تقریر میں انتہائی آسان لیکن زوردار اور ٹھوس انداز سے مذکورہ بالا نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مزید برآں کوئی بھی دیانتدار قاری انتہائی تلخ حالات میں لینن کی بے مثال ثابت قدمی اور دور اندیشی کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
جنگ اور انقلاب کے سوال پر حالیہ عرصے میں اتنی بار اخبارات اور عوامی اجتماعات میں بات ہو چکی ہے کہ غالباً آپ میں سے بہت سے لوگ نہ صرف اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں سے واقف ہوں گے بلکہ کسی حد تک بوریت بھی محسوس کر رہے ہوں گے۔ مجھے ابھی تک اس علاقے میں کسی پارٹی اجلاس یا پبلک اجتماع سے خطاب کرنے‘ بلکہ شرکت کرنے کا بھی کوئی موقع نہیں ملا۔ اس لیے ممکن ہے کہ میں کچھ باتیں دہرا بیٹھوں یا مسئلے کے ان پہلوؤں پر مناسب تفصیل سے بات نہ کر سکوں جو آپ کے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث ہیں۔
میرے نزدیک جنگ کے معاملے میں سب سے اہم بات جسے عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے وہ جنگ کے طبقاتی کردار کا سوال ہے: کہ اس جنگ کا سبب کیا ہے، کون سے طبقات یہ جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ کون سے تاریخی اور تاریخی معاشی حالات ہیں جنہوں نے اس جنگ کو جنم دیا۔
مارکسزم‘ یعنی جدید سائنسی سوشلزم کے نقطہ نظر سے سوشلسٹوں کی جانب سے جنگ کو سمجھنے اور اس کے بارے میں مؤقف اختیار کرنے کے سلسلے میں سب سے بنیادی سوال یہ ہوتا ہے: یہ جنگ کس مقصد کے لیے لڑی جا رہی ہے اور کون سے طبقات اس کی قیادت کر رہے ہیں۔ ہم مارکس وادی ان لوگوں میں شامل نہیں ہیں جو ہر قسم کی جنگ کے غیر مشروط مخالف ہوتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد ایک سوشلسٹ معاشرہ قائم کرنا ہے۔ ایک ایسا نظام جو انسانیت کو طبقات میں تقسیم کرنے والی بنیادوں کا خاتمہ کرے، انسان کے ہاتھوں انسان اور قوم کے ہاتھوں قوم کے استحصال کا خاتمہ کرے اور یوں خود جنگ کے امکان کو ہی جڑ سے ختم کر دے۔ لیکن اس جدوجہد میں ہم انقلابی جنگوں کے امکان کو رد نہیں کر سکتے۔ یعنی وہ جنگیں جو طبقاتی جدوجہد سے جنم لیں، جو انقلابی طبقات کی جانب سے لڑی جائیں اور جو براہِ راست اور فوری انقلابی اہمیت کی حامل ہوں۔ بالخصوص جب ہم یہ یاد رکھیں کہ پچھلی صدی کے دوران یورپ کے انقلابات کی تاریخ میں ہمیں زیادہ تر رجعتی جنگیں تو ملتی ہیں لیکن کچھ انقلابی جنگیں بھی نظر آتی ہیں۔ جیسا کہ فرانسیسی انقلابی عوام کی ایک متحد، شاہی، پسماندہ، جاگیردارانہ اور نیم جاگیردارانہ یورپ کے خلاف جنگ تھی۔ آج مغربی یورپ میں اور اب حالیہ دنوں میں روس میں بھی عوام کو سب سے زیادہ دھوکہ ان انقلابی جنگوں کی مثالیں پیش کر کے ہی دیا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگیں بھی مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ہمیں یہ بات واضح طور پر سمجھنا ہو گی کہ کون سے تاریخی حالات نے جنگ کو جنم دیا، کون سے طبقات اسے لڑ رہے ہیں اور کس مقصد کے لیے لڑ رہے ہیں۔ جب تک ہم یہ بات پوری طرح نہیں سمجھتے‘ جنگ پر ہماری تمام گفتگو بے معنی ہو گی اور روشنی سے زیادہ گرمی پیدا کرے گی۔ چونکہ آپ نے آج کے موضوع کے لیے ’’جنگ اور انقلاب‘‘ کا انتخاب کیا ہے تو میں اس پہلو پر کچھ زیادہ تفصیل سے بات کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
ہم سب کو کلازوِٹز (Clausewitz)، جو جنگ کے فلسفے اور تاریخ پر لکھنے والے نمایاں ترین لوگوں میں سے ایک ہے، کا یہ مشہور قول یاد ہے کہ ’’جنگ دوسرے طریقوں سے پالیسی کا ہی تسلسل ہوتی ہے۔‘‘ یہ اس مصنف کا قول ہے جس نے نپولین کی جنگوں کے زمانے کے فوراً بعد جنگوں کی تاریخ کا جائزہ لیا اور اس سے فلسفیانہ نتائج اخذ کیے۔ یہ انسان، جس کے بنیادی خیالات سے آج ہر سنجیدہ فکر رکھنے والا انسان واقف ہے، تقریباً 80 سال پہلے اس جاہلانہ تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ جنگ گویا حکومتوں اور طبقات کی پالیسیوں سے الگ کوئی چیز ہوتی ہے۔ کہ یہ محض ایک حملہ ہوتا ہے جو امن کو بگاڑ دیتا ہے اور پھر امن بحال ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا خیال ہے جو درجنوں سال پہلے مسترد کیا جا چکا ہے اور جو جنگ کے کسی بھی تاریخی دور کا ذرا سا بھی سنجیدہ تجزیہ کرنے سے خود بخود رد ہو جاتا ہے۔
جنگ پالیسی کا ہی تسلسل ہوتی ہے‘لیکن دوسرے طریقوں سے۔ جنگیں ان سیاسی نظاموں سے الگ نہیں کی جا سکتیں جنہوں نے انہیں جنم دیا ہوتا ہے۔ وہ پالیسی جو کسی مخصوص ریاست یا اس ریاست کے کسی مخصوص طبقے نے جنگ سے پہلے طویل عرصے تک اختیار کی ہوتی ہے‘ ناگزیر طور پر جنگ کے دوران بھی اس طبقے کی جانب سے جاری رکھی جاتی ہے۔ صرف عمل درآمد کی شکل بدل جاتی ہے۔
جنگ پالیسی کا ہی تسلسل ہے‘ لیکن دوسرے طریقوں سے۔ جب اٹھارہویں صدی کے اختتام پر فرانسیسی انقلابی شہریوں اور کسانوں نے انقلابی ذرائع سے بادشاہت کا تختہ الٹا اور ایک جمہوریہ قائم کی‘ جب انہوں نے نہ صرف بادشاہ بلکہ جاگیرداروں سے بھی انقلابی انداز میں نمٹ لیا تو انقلابی طبقے کی اس پالیسی کا سارے مطلق العنان، زار شاہی اور نیم جاگیردارانہ یورپ کو بنیادوں سے ہلا ڈالنا لازم تھا۔ چنانچہ فرانس میں فتح مند انقلابی طبقے کی اس پالیسی کا لازمی تسلسل وہ جنگیں تھیں جن میں یورپ کی تمام شاہ پرست ریاستیں اتحاد بنا کر انقلابی فرانس کے خلاف ایک ردِ انقلابی جنگ میں صف آرا ہو گئیں۔ جس طرح فرانس کے اندر انقلابی عوام نے کئی صدیوں کے بعد پہلی بار ایک زبردست انقلابی توانائی کا مظاہرہ کیا تھا‘ اسی طرح اٹھارہویں صدی کے آخر کی جنگ میں بھی انہوں نے ایک عظیم انقلابی تخلیقی قوت کا اظہار کیا۔ انہوں نے جنگی حکمت عملی کا پورا نظام نئے سرے سے تشکیل دیا، پرانے تمام اصولوں اور جنگی روایات کو رد کیا، پرانی افواج کو ختم کر کے ایک نئی انقلابی عوامی فوج تشکیل دی اور جنگ کے نئے طریقے ایجاد کیے۔ میرے نزدیک یہ مثال خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ کیونکہ یہ ہمیں وہ تمام باتیں واضح طور پر دکھاتی ہے جنہیں آج کے بورژوا صحافی‘ پسماندہ عوام کے دقیانوسی تعصبات اور جہالت کی خوشامد کرتے وقت فراموش کر دیتے ہیں۔ ایسے عوام جو اس قریبی معاشی اور تاریخی ربط کو نہیں سمجھتے جو ہر قسم کی جنگ اور اس سے پہلے ریاست و حکمران طبقے کی پالیسی کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ وہ پالیسی جو جنگ سے پہلے حکمران طبقے نے نام نہاد ’’پر امن طریقوں‘‘ سے اپنے مفادات کے تحت اختیار کر رکھی ہوتی ہے۔ یہ ’’پر امن طریقے‘‘ بھی صرف کہنے کی حد تک پر امن ہوتے ہیں۔ مثلاً نوآبادیات میں ’’پر امن حکمرانی‘‘ قائم رکھنے کے لیے جو وحشیانہ طاقت استعمال کی جاتی ہے اسے بمشکل ہی پر امن کہا جا سکتا ہے۔
یورپ میں ’’امن‘‘ قائم رہا۔ لیکن یہ اس لیے تھا کہ یورپی اقوام نے کروڑوں لوگوں پر مشتمل نوآبادیات پر اپنی حکمرانی مسلسل اور نہ ختم ہونے والی جنگوں کے ذریعے قائم رکھی۔ ایسی جنگیں جنہیں ہم یورپی لوگ عموماً جنگیں ہی نہیں سمجھتے۔ کیونکہ زیادہ تر صورتوں میں وہ جنگوں سے زیادہ نہتے عوام کا وسیع پیمانے پر قتل عام اور نسل کشی تھی۔ بات یہ ہے کہ اگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ موجودہ جنگ کس لیے ہے تو سب سے پہلے ہمیں یورپی طاقتوں کی پالیسیوں کا جائزہ مجموعی طور پر لینا ہو گا۔ ہم کسی ایک واقعے یا کسی ایک خاص مثال کو نہیں لے سکتے۔ کیونکہ واقعے یا مثال کو اس کے سماجی حقائق کے وسیع سیاق و سباق سے باآسانی کاٹا جا سکتا ہے۔ یوں ایسی مثال بے وقعت ہوتی ہے کیونکہ اس کے برعکس مثال بھی اتنی ہی آسانی سے پیش کی جا سکتی ہے۔ ہمیں یورپی ریاستوں کے پورے نظام کی مجموعی پالیسی کو ان ریاستوں کے باہمی معاشی اور سیاسی روابط کے ساتھ دیکھنا ہو گا۔ تب ہی ہم یہ سمجھ پائیں گے کہ موجودہ جنگ کیسے اس نظام سے مسلسل اور ناگزیر طور پر جنم لیتی ہے۔
ہم مسلسل یہ دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ جنگ کو ایک ایسا تاریخی مفہوم دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو درحقیقت اس میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ کام خاص طور پر سرمایہ دارانہ صحافت کر رہی ہے۔خواہ وہ شاہ پرست ہو یا جمہوری۔ مثال کے طور پر فرانسیسی جمہوریہ میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا حربہ یہ ہے کہ اس جنگ کو 1792ء کے عظیم فرانسیسی انقلاب کی جنگوں کا تسلسل اور ہم پلہ قرار دیا جائے۔ فرانسیسی عوام، فرانسیسی مزدوروں اور دنیا بھر کے مزدوروں کو بیوقوف بنانے کا اس سے زیادہ عام اور مؤثر طریقہ کوئی نہیں کہ اس دور کی اصطلاحات اور نعروں کو موجودہ عہد پر چسپاں کر دیا جائے۔ یا یہ تاثر دیا جائے کہ آج بھی ریپبلکن فرانس کسی شاہی طاقت کے خلاف اپنی آزادی کا دفاع کر رہا ہے۔ ایک ’’چھوٹی سی‘‘ حقیقت جسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ 1792ء کی جنگ فرانس میں ایک انقلابی طبقے کی جانب سے لڑی گئی تھی۔ ایک ایسا طبقہ جس نے ایک بے مثال انقلاب برپا کیا تھا، غیرمعمولی جرات و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانسیسی بادشاہت کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا تھا اور متحد شاہی یورپ کے خلاف محض ایک ہی مقصد کے تحت اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اپنی انقلابی جدوجہد کو آگے بڑھائے۔
فرانس میں جنگ ایک انقلابی طبقے کی پالیسی کا تسلسل تھی۔ جس نے انقلاب برپا کیا، جمہوریت قائم کی، فرانسیسی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ساتھ بے مثال شدت کے ساتھ حساب چکتا کیا اور اسی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے سارے شاہی یورپ کے خلاف ایک انقلابی جنگ لڑی۔
لیکن آج ہمارے سامنے سرمایہ دارانہ طاقتوں کے دو گروہ ہیں۔ جو آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہمارے سامنے دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ دارانہ طاقتیں ہیں: برطانیہ، فرانس، امریکہ اور جرمنی۔ جو دہائیوں سے مسلسل اقتصادی تصادم اور مقابلہ بازی کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ جس کا مقصد دنیا میں غلبہ حاصل کرنا، چھوٹی اقوام کو غلام بنانا اور بینکنگ کے سرمائے سے کئی گنا منافع کمانا ہے۔ وہ سرمایہ جس نے پوری دنیا کو اپنے تسلط کے جال میں جکڑ رکھا ہے۔ یہی برطانیہ اور جرمنی کی پالیسیوں کا حقیقی مقصد ہے۔ میں اس حقیقت کو زور دے کر بیان کر رہا ہوں کیونکہ اس حقیقت پر جتنا زور دیا جائے اتنا کم ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم کبھی بھی یہ نہیں سمجھ پائیں گے کہ یہ جنگ کس لیے ہے۔ ایسے میں ہم کسی بھی بورژوا تجزیہ نگار کا آسان شکار بن جائیں گے جو ہم پر جھوٹے نعرے تھوپنے کی کوشش کرے گا۔
برطانیہ اور جرمنی ایک دوسرے کے خلاف یہ پالیسیاں جنگ سے بھی کئی دہائیوں پہلے سے اپنائے ہوئے ہیں۔ انہیں پڑھنا اور گہرائی میں سمجھنا لازم ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو نہ صرف ہم سائنسی سوشلسٹ فکر اور تمام سوشل سائنس کی ایک ضروری شرط کو نظر انداز کر دیں گے بلکہ موجودہ جنگ کے بارے میں کچھ بھی سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ یوں اپنے آپ کو ملیوکوف جیسے دھوکہ باز کے ہاتھوں میں ڈال دیں گے جو قومی شاونزم اور ایک قوم کی دوسری قوم سے نفرت کو ہوا دے رہا ہے۔ یہ وہ طریقے ہیں جو ہر جگہ بغیر کسی استثنا کے اپنائے جا رہے ہیں۔ یہ وہ طریقے ہیں جن کے بارے میں کلازوِٹز نے تقریباً 80 سال پہلے لکھا تھا۔ جب اس نے اس نقطہ نظر کا مذاق اڑایا تھا جو کچھ لوگ آج بھی اختیار کیے ہوئے ہیں کہ قومیں امن میں رہ رہی تھیں اور پھر اچانک لڑائی شروع ہو گئی۔ کسی مخصوص ریاست، ریاستوں کے نظام یا طبقے کی پچھلی پالیسیوں سے الگ کر کے کسی بھی جنگ کو کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ میں پھر سے کہتا ہوں: یہ ایک بنیادی نکتہ ہے جسے مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس کو نہ سمجھنا جنگ پر تمام مباحثوں کے 90 فیصد کو بکواس بنا کے رکھ دیتا ہے۔ ہم کہتے ہیں: اگر آپ نے دونوں متحارب گروہوں (یا کیمپوں) کی پالیسیوں کا دہائیوں تک مطالعہ نہیں کیا تاکہ حادثاتی عوامل اور من مرضی سے نکالی گئی مثالوں سے بچا جا سکے، اگر آپ یہ واضح نہیں کرتے کہ یہ جنگ پچھلی پالیسیوں پر کیا اثر ڈال رہی ہے تو آپ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ جنگ ہو کیوں رہی ہے۔
یہ پالیسیاں ہمیں صرف ایک چیز دکھاتی ہیں: دنیا کی دو سب سے بڑی سرمایہ دارانہ معیشتوں کے درمیان مسلسل اقتصادی مقابلہ بازی۔ ایک طرف برطانیہ ہے، جو دنیا کے بیشتر حصے کا مالک ہے۔ ایک ایسا ملک جو دولت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے اور جس نے یہ دولت اپنے محنت کشوں کی مشقت سے زیادہ ان گنت نوآبادیات کے استحصال اور اپنے بینکوں کی زبردست طاقت کے ذریعے بنائی ہے۔ جو چند بڑے بینکوں کے چھوٹے سے گروپ میں ڈھل گئے ہیں۔ جو اربوں روبل کا کاروبار کرتا ہے۔ اس تناظر میں یہ بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ آج دنیا میں ایسا کوئی قطعہ زمین نہیں ہے جس پر برطانوی سرمائے نے اپنی بھاری دست درازی نہ کی ہو۔ ایسا کوئی زمین کا ٹکڑا نہیں ہے جسے برطانوی سرمائے نے ان گنت دھاگوں سے جکڑ نہ لیا ہو۔ یہ سرمایہ صدی کے آخر تک اتنی بھاری مقدار میں بڑھا کہ اس کی سرگرمیاں انفرادی ریاستوں کی سرحدوں سے بہت آگے بڑھ گئیں اور عالمی سطح پر دیوہیکل بینکوں کا ایک گروہ تشکیل پایا۔ جو بے شمار دولت کا مالک تھا اور جس نے دنیا بھر کو اپنے جال میں جکڑ لیا۔ یہ برطانیہ اور فرانس کی اقتصادی پالیسی کا خلاصہ ہے۔ جس کے بارے میں فرانس کے کچھ مصنفین نے جنگ سے کئی سال پہلے لکھا تھا: ’’فرانس ایک مالیاتی بادشاہت ہے۔ فرانس ایک مالیاتی اولیگارکی ہے۔ فرانس وہ ہے جو دنیا کو قرض دیتا ہے۔‘‘
اس اینگلو فرانسیسی گروہ کے مخالف سرمایہ داروں کا ایک اور گروہ ہے۔ جو اس سے بھی بڑے ڈکیت اور شکاری ہیں۔ ایک ایسا گروہ جو سرمایہ داری کے دسترخوان پر اس وقت آیا جب تمام نشستیں پر ہو چکی تھیں۔ لیکن جس نے سرمایہ دارانہ پیداوار کو ترقی دینے کے لیے نئے طریقے متعارف کرائے۔ بہتر تکنیک اور بہتر تنظیم لے کے آئے۔ جس نے پرانی آزاد مقابلے کی سرمایہ داری کو دیوہیکل ٹرسٹوں اور اجارہ دارانہ اتحادوں کی سرمایہ داری میں بدل دیا۔ اس گروہ نے ریاستی کنٹرول شدہ سرمایہ دارانہ پیداوار کی بنیاد رکھی۔ جس نے سرمایہ داری کی زبردست طاقت کو ریاست کی زبردست طاقت کے ساتھ جوڑ کر ایک واحد میکا نزم میں ضم کر دیا اور ریاستی سرمایہ داری کی یکجا تنظیم میں کروڑوں لوگوں کو شامل کیا۔ یہ ہے اقتصادی تاریخ۔ یہ ہے سفارتی تاریخ۔ جو کئی دہائیوں پر محیط ہے اور جس سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ یہ وہ واحد طریقہ کار ہے جو جنگ کے مسئلے کا درست حل پیش کرتا ہے۔ یہ آپ کو اس نتیجے پر لے جاتا ہے کہ موجودہ جنگ انہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جن پر ان طبقات نے عمل کیا ہے جو آج ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ دو بے نظیر اور دیوہیکل قوتیں‘ جو جنگ سے پہلے ہی ساری دنیا کو مالیاتی استحصال کے جال میں پھانس چکی تھیں اور اقتصادی طور پر آپس میں تقسیم کر چکی تھیں۔ انہوں نے ٹکرانا ہی تھا۔ کیونکہ سرمایہ داری کے نقطہ نظر سے اس غلبے کی ازسر نو تقسیم ناگزیر ہو چکی تھی۔
پرانی تقسیم اس حقیقت پر مبنی تھی کہ برطانیہ نے کئی صدیوں کے دوران اپنے سابق حریفوں کو تباہ کر دیا تھا۔ ایک سابق حریف ہالینڈ تھا۔ جس کا اثر و رسوخ پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا۔ دوسرا فرانس تھا۔ جس نے تقریباً سو سال تک غلبے کے لیے جنگ لڑی۔ طویل جنگوں کے سلسلے کے بعد برطانیہ اپنی اقتصادی طاقت اور اپنے تجارتی سرمائے کی بدولت دنیا پر کسی چیلنج کے بغیر تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
1871ء میں ایک نیا شکاری ظاہر ہوا۔ ایک نئی سرمایہ دارانہ طاقت ابھری۔ جو برطانیہ سے کہیں تیز رفتار ترقی کر رہی تھی۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہے۔ آپ کو اقتصادی تاریخ پر کوئی کتاب نہیں ملے گی جو اس ناقابل تردید حقیقت کو تسلیم نہ کرے۔ یعنی جرمنی کی تیز ترین ترقی۔ جرمنی میں سرمایہ داری کی یہ تیز رفتار ترقی ایک نوجوان اور توانا شکاری کی ترقی تھی۔ جو یورپی طاقتوں کے سنگیت میں آ کر یہ کہہ رہا تھا: ’’تم نے ہالینڈ کو تباہ کیا، تم نے فرانس کو شکست دی، تم نے دنیا کا آدھا حصہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ اب ذرا ہمیں بھی ہمارا جائز حصہ ہتھیانے دو۔‘‘ لیکن ’’جائز حصہ‘‘ کیا ہوتا ہے؟ سرمایہ دارانہ دنیا میں‘ بینکوں کی دنیا میں اس کا تعین کس طرح کیا جائے گا؟ اس دنیا میں طاقت کا تعین بینکوں کی تعداد سے کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے کیا جاتا ہے جیسے امریکی سرمایہ داروں کے ایک ترجمان نے مخصوص امریکی بے تکلفی اور مخصوص امریکی ڈھٹائی سے بیان کیا تھا: ’’یورپ میں جنگ دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے دو چیزیں درکار ہیں: ڈالر اور بینک۔ ہمارے پاس ڈالر ہیں، ہم بینک بنائیں گے اور دنیا پر غلبہ حاصل کریں گے۔‘‘
یہ بیان ایک مشہور امریکی اخبار میں شائع ہوا تھا۔ مجھے کہنا پڑے گا کہ ایک امریکی سیٹھ کا بے شرمی پر مبنی یہ بیان ان بورژوا فراڈیوں کے ہزاروں مضامین سے کہیں زیادہ سچ ہے جو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ قومی مفادات کے لیے قومی مسائل پر لڑی جا رہی ہے۔
توسیع پسندی اور دوسرے علاقوں کو ضم کرنے پر بحث کرتے ہوئے ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ جنگ کا بنیادی مقصد بالعموم قبضہ گیری ہی ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ جنگ فتح شدہ علاقوں کو بانٹنے یا سادہ الفاظ میں دو لٹیرے گروہوں کے درمیان مال غنیمت کی تقسیم کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ لیکن اس حوالے سے ہمیں ایسے (تجزئیے کے) طریقے دکھائی دیتے ہیں جو تنقید کا سامنا نہیں کر سکتے ہیں اور پبلک جرنلزم کے نقطہ نظر سے دانستہ جھوٹ اور فراڈ کے زمرے میں آتے ہیں۔
آپ کسی روسی شاونسٹ یا سوشل شاونسٹ سے پوچھیں کہ جرمنی کی قبضہ گیری اور توسیع پسندی کیا ہے تو وہ بڑے فخر سے ساری وضاحت کرے گا۔ لیکن اگر آپ اس سے قبضہ گیری کی ایک جامع تعریف مانگیں جو جرمنی، برطانیہ اور روس سب پر یکساں لاگو ہو تو وہ خاموش ہو جائے گا۔ ہمارا موقف ہے کہ نہ تو عام شاونسٹ اخبارات (جو محض ’’وطن کی حفاظت‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں) اور نہ ہی سوشل شاونسٹ اخبارات نے کبھی قبضہ گیری کی ایسی تعریف پیش کی ہے جو جرمنی اور روس دونوں پر صادق آئے۔ ایسا اس لیے ناممکن ہے کیونکہ یہ جنگ درحقیقت قبضہ گیری کی پالیسی ہی کا تسلسل ہے۔ یعنی دونوں گروہوں کی لوٹ مار اور سامراجی چالبازیوں کا ایک مرحلہ ہے۔ ظاہر ہے ہمارے لیے یہ بحث بے معنی ہے کہ ان دونوں لٹیروں میں سے چاقو پہلے کس نے نکالا!
موجودہ جنگ دراصل قبضہ گیری اور پوری پوری قوموں کے قتل عام کی سامراجی پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے۔ خواہ وہ جرمنوں اور انگریزوں کے افریقہ میں ڈھائے گئے مظالم ہوں یا پھر انگریزوں اور روسیوں کی ایران میں کی گئی بربریت۔ ان میں سے کس نے زیادہ خون بہایا‘ یہ کہنا مشکل ہے۔ جرمن سرمایہ داروں نے اپنے حریفوں سے کہا: ’’تم صرف اس لیے طاقتور ہو کہ تم مالدار ہو؟ لیکن ہم تم سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی لوٹ مار کا ’مقدس‘ حق حاصل ہے!‘‘
جنگ سے پہلے کے کئی دہائیوں کے دوران برطانوی اور جرمن مالیاتی سرمائے کی یہی کہانی رہی ہے۔ روس-جرمنی، روس-برطانیہ اور جرمن-برطانیہ تعلقات کی اصل حقیقت یہی ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو جنگ کی وجوہات کو سمجھنے کی کنجی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے جنگ کی جو سرکاری کہانی سنائی جاتی ہے وہ محض دھوکہ اور فریب ہے۔ معاملہ یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے دو قومیں امن سے رہ رہی تھیں کہ ایک نے دوسرے پر حملہ کر دیا اور دوسرے نے جوابی کاروائی کی۔ ساری سائنس، سارے بینک بھلا دئیے جاتے ہیں۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ بس ہتھیار اٹھا لو! یا پھر سیاست سے نابلد لوگوں کو دفاع کے نام پر لڑوایا جاتا ہے۔
یہ لوگ قبضہ گیری کے بارے میں سچ نہیں بول سکتے۔ کیونکہ روس، برطانیہ اور جرمنی کی پوری تاریخ قبضوں کی خون آشام جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ لبرلوں نے ایران اور افریقہ میں بے رحم جنگیں لڑیں۔ ہندوستان میں سیاسی قیدیوں کو کوڑے مارے۔ صرف اس جرم میں کہ انہوں نے وہی مطالبات پیش کیے جن کی لڑائی یہاں روس میں بھی لڑی جا رہی تھی۔ فرانسیسی نوآبادیاتی فوجوں نے بھی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ یہ ہے اصل تاریخ۔ بے مثال لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کی داستان! موجودہ جنگ اسی طبقے کی پالیسی کا تسلسل ہے۔
لہٰذا وہ قبضہ گیری کے سوال کا وہ جواب نہیں دے سکتے جو ہم دیتے ہیں۔ ہمارا موقف واضح ہے: اگر کسی قوم کو اس کی اکثریت کی رضامندی کے بغیر‘ کسی بادشاہ یا حکومت کے فیصلے سے زبردستی کسی ریاست میں جوڑا گیا ہے تو وہ مقبوضہ قوم ہے۔ قبضہ گیری کی مخالفت کا مطلب ہے کہ ہر قوم کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی الگ ریاست قائم کرے یا جس کے ساتھ چاہے اتحاد کرے۔ یہ جواب ہر طبقاتی شعور رکھنے والے مزدور کی سمجھ میں آ سکتا ہے۔ اگر یہ جنگ محنت کش عوام کے مفاد میں ہوتی اور استحصالی طبقے کے خلاف ہوتی تو محنت کش ایسی جنگ کی حمایت کرتے۔ ہم بھی کرتے۔ اور دنیا میں کوئی انقلابی پارٹی ایسی نہیں جو اس کے خلاف ہوتی۔
میں ایک سوال کبھی نہیں بھول پاؤں گا جو کسی جلسے کے بعد ایک سپاہی نے پوچھا تھا: ’’آپ ہمیشہ سرمایہ داروں کے خلاف کیوں بات کرتے ہیں؟ میں تو سرمایہ دار نہیں ہوں نا؟ ہم مزدور ہیں۔ ہم اپنی آزادی کی حفاظت کر رہے ہیں۔‘‘ لیکن ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم اپنی سرمایہ دار حکومت کا حکم مان رہے ہو۔ اس کے کہنے پر لڑ رہے ہو۔ یہ جنگ حکومتیں لڑ رہی ہیں‘ عوام نہیں۔
(جنگ کی حمایت میں) حال ہی میں عبوری حکومت (Provisional Government) کا ایک ’’انقلابی‘‘ اعلامیہ بھی آیا۔ لیکن یہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔ دوسری قومیں، جو عوام کو ’’انقلابی‘‘ منشوروں کے ذریعے بے وقوف بنانے کے سرمایہ دارانہ فن میں ہم سے زیادہ ماہر ہیں، اس میدان میں تمام ریکارڈ توڑ چکی ہیں۔ فرانس کی پارلیمانی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ایسے بیانات کی بھرمار ہوئی پڑی ہے جو خوبصورت الفاظ میں نوآبادیاتی لوٹ اور مالیاتی استحصال کی پالیسی کو چھپاتے ہیں۔
موجودہ جنگ کی بنیادیں یہی ہیں۔ یہ سرمایہ داروں کی بدنیتی یا کسی بادشاہ کی غلط پالیسی کا نتیجہ نہیں۔ ایسا سوچنا غلط ہوگا۔ نہیں۔ یہ جنگ سپر سرمایہ داری (بالخصوص بینکنگ کے سرمائے) کے ارتقا کا لازمی نتیجہ ہے۔ جس کے تحت برلن کے چار اور لندن کے پانچ چھ بینک پوری دنیا پر چھا گئے ہیں۔ عالمی دولت ہڑپ کر لی ہے، اپنی مالیاتی پالیسی کو فوجی طاقت سے مضبوط کیا ہے اور آخرکار ایک خونریز تصادم میں الجھ پڑے ہیں۔ کیونکہ تقسیم نو کا یہی طریقہ بچا تھا۔ ظاہر ہے ان میں سے کسی ایک کو اپنی نوآبادیات چھوڑنا پڑتیں۔ اور سرمایہ داری کی دنیا میں ایسے معاملات رضامندی سے طے نہیں ہوتے۔ یہ فیصلہ صرف جنگ سے ہو سکتا تھا۔ اسی لیے کسی ایک ڈکیت کو موردِ الزام ٹھہرانا بے وقوفی ہے۔ یہ سب ایک جیسے ہیں۔
ان بینکوں کا دوش کس کو دیں جو کروڑوں روبل کے لین دین پر تصرف رکھتے ہیں، جو پوری دنیا پر اپنی لوٹ کے جال پھیلاتے ہیں اور جو اب ایک مہلک جنگ میں الجھ گئے ہیں … کس کا قصور ہے؟ قصور نصف صدی کی سرمایہ دارانہ ترقی کا ہے اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ سرمایہ داروں کی حکومت کا تختہ الٹنا اور مزدور انقلاب برپا کرنا ہے۔
اس تقریر کے مختصر خاکے کے مطابق اب ’’انقلابی دفاع پسندی‘‘ (Revolutionary Defencism) کے سوال پر کچھ بات کرنا باقی رہ گیا ہے۔ ’’انقلابی دفاع پسندی‘‘ سے مراد جنگ کا اس بنیاد پر جواز پیش کرنا ہے کہ آخر ہم نے انقلاب برپا کیا ہے، آخر ہم ایک انقلابی قوم ہیں، آخر ہم ایک انقلابی جمہوریت ہیں (لہٰذا سامراجی جنگ میں اپنے ملک کا دفاع کیا جائے)۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے کون سا انقلاب برپا کیا ہے؟ ہم نے زار نکولس کا تختہ الٹا ہے۔ یہ انقلاب کچھ زیادہ مشکل نہ تھا‘ اگر اس کا موازنہ اس انقلاب سے کیا جائے جو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے پورے طبقے کو اکھاڑ پھینکتا۔ انقلاب کے نتیجے میں اقتدار کس کے ہاتھ آیا؟ انہی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے۔ وہی طبقے جو یورپ میں طویل عرصے سے اقتدار میں ہیں۔ اس قسم کے انقلاب وہاں سو سال پہلے ہو چکے ہیں۔ بینک اب بھی بینک ہی ہے۔ منافع‘ منافع ہی ہوتا ہے۔ چاہے جمہوریت ہو یا بادشاہت۔ (خفیہ سامراجی) معاہدے اپنی جگہ آج بھی برقرار ہیں۔ بینک بھی موجود ہیں۔ روس میں اب حکمران طبقے کے بہترین لوگ اقتدار میں آ چکے ہیں۔ لیکن اس سے جنگ کی نوعیت میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئی۔ نئی ’’انقلابی دفاع پسندی‘‘ انقلاب کے عظیم تصور کو محض ایک پردے‘ ایک آڑ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔تاکہ اس غلیظ اور خونریز جنگ کو چھپایا جا سکے جو گندے اور ظالمانہ معاہدوں کی خاطر لڑی جا رہی ہے۔
روسی انقلاب نے جنگ کی نوعیت کو تبدیل نہیں کیا۔ لیکن اس نے ایسی تنظیمیں ضرور پیدا کی ہیں جو دنیا کے کسی اور ملک میں موجود نہیں ہیں اور جو مغربی ممالک کے انقلابات میں شاید ہی نظر آئی ہوں۔ انقلابِ روس‘ ماضی کے مغربی انقلابات سے آگے بڑھ چکا ہے۔ یہی وہ امید کی کرن ہے کہ شاید یہ انقلاب جنگ پر قابو پا سکے۔
’’نیم سوشلسٹ‘‘ وزیروں کی حکومت، سامراجی جنگ کی حکومت، جارحانہ عزائم کی حکومت اور انگریز و فرانسیسی سرمایہ داروں سے بندھی ہوئی حکومت کے علاوہ اور اس سے آزادانہ طور پر پورے روس میں مزدوروں، سپاہیوں اور کسانوں کے نمائندوں کی سوویتوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جو ابھی مکمل نہیں ہوا۔ یہ وہ انقلاب ہے جو اس سے مماثل حالات میں مغربی یورپ نے کبھی نہیں دیکھا۔
یہ سوویتیں ان طبقات کی تنظیمیں ہیں جنہیں قبضوں کی ضرورت نہیں ہے، جن کے پاس بینکوں میں کروڑوں اربوں کی دولت نہیں پڑی اور جو شاید اس بات میں دلچسپی بھی نہیں رکھتے کہ آیا روسی کرنل لیاخوف اور برطانوی لبرل سفیر نے ایران کو ’’ٹھیک سے‘‘ آپس میں بانٹا یا نہیں۔ یہی وہ ضمانت ہے کہ یہ انقلاب مزید آگے بڑھے گا۔ یعنی وہ طبقات جن کا جنگی قبضوں سے کوئی مفاد وابستہ نہیں اور جنہوں نے سرمایہ داروں کی حکومت پر حد سے زیادہ بھروسا کرنے اور ’’انقلابی دفاع پسندی‘‘ جیسے تصور میں الجھنے کے باوجود ایسی تنظیمیں قائم کی ہیں جن میں محکوم طبقات کی وسیع اکثریت کی نمائندگی موجود ہے۔ یہ مزدوروں، سپاہیوں اور کسانوں کی نمائندہ سوویتیں ہیں۔ جو روس کے کئی علاقوں میں پیٹرو گراڈ کی سوویت سے بھی کہیں زیادہ انقلابی اقدامات کر چکی ہیں۔ یہ فطری بات ہے۔ کیونکہ پیٹرو گراڈ میں تو سرمایہ داروں کا مرکزی اقتدار قائم ہے۔
جرمن لٹیرے سرمایہ دار صلح کی پیشکشیں کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ’’ہم تمہیں ترکی اور آرمینیا کا ایک حصہ دے دیں گے۔ اگر تم ہمیں معدنیات سے بھرے علاقے دے دو۔‘‘ یہی بات ہر جگہ سفارت کاروں کے درمیان ہو رہی ہے۔ سب کو معلوم ہے۔ صرف اسے روایتی سفارتی زبان میں لپیٹ دیا گیا ہے۔ یہی تو سفارت کاروں کا کام ہوتا ہے۔ بات کو سفارتی انداز میں کرنا!
یہ جنگ جو تمام ملکوں کے سرمایہ دار لڑ رہے ہیں‘ ان سرمایہ داروں کے خلاف محنت کشوں کے انقلاب کے بغیر ختم نہیں ہو سکتی۔ آج ’’آزاد‘‘ برطانیہ میں سوشلسٹوں کو وہ بات کہنے پر جیل میں ڈالا جا رہا ہے جو میں یہاں کہہ رہا ہوں۔ جرمنی میں کارل لائبنخت کو اسی بات پر قید کر دیا گیا ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔ آسٹریا میں فریڈرک ایڈلر کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا ہے جس نے یہی بات بندوق کے ذریعے کہی۔ شاید اب تک اسے پھانسی دی جا چکی ہو یا گولی مار دی گئی ہو۔
تمام ملکوں میں محنت کشوں کی ہمدردی ان سوشلسٹوں کے ساتھ ہے۔ نہ کہ ان لوگوں کے جو اپنے سرمایہ داروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دنیا بھر میں محنت کشوں کا انقلاب پنپ رہا ہے۔دوسرے ملکوں میں یہ معاملہ کچھ زیادہ پیچیدہ ہے۔ کیونکہ وہاں زار نکولس اور راسپوٹن جیسے فاتر العقل اور جاہل نہیں ہیں۔ وہاں حکمران طبقے کے بہترین لوگ اقتدار میں ہیں۔ وہاں آمرانہ حکومت کے خلاف انقلاب کی صورتحال موجود نہیں ہے۔ وہاں سرمایہ دار طبقے کی حکومت ہے اور اس طبقے کے سب سے باصلاحیت نمائندے طویل عرصے سے حکومت کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں انقلاب ابھی تک برپا نہیں ہوا۔ لیکن وہ برپا ہو کے رہے گا۔ چاہے اس راہ میں فریڈرک ایڈلر اور کارل لائبنخت جیسے کتنے ہی انقلابی مارے جائیں۔ مستقبل انہی کا ہے اور تمام ملکوں کے محنت کش ان کی پیروی کر رہے ہیں۔ جیت دنیا بھر کے محنت کشوں کی ہی ہو گی۔
جنگ حکمران طبقات نے شروع کی ہے اور صرف مزدور طبقے کا انقلاب ہی اس کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ امن جلد قائم ہو پائے گا یا نہیں‘ یہ انقلاب کی پیش رفت پر منحصر ہے۔ لیکن جب اقتدار سوویتوں کے پاس چلا جائے گا تو سرمایہ دار ہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ جاپان، فرانس، برطانیہ… تمام ممالک کی حکومتیں ہمارے خلاف ہوں گی۔ سرمایہ دار ہمارے خلاف ہوں گے۔ لیکن محنت کش ہمارے ساتھ ہوں گے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب سرمایہ داروں کی شروع کی ہوئی جنگ ختم ہو گی۔ جنگ کیسے ختم ہو گی؟ آپ کے اس سوال کا یہی جواب ہے۔
