قمرالزماں خاں
11 اکتوبر 2026ء کو ایک صدارتی حکم سے خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے اختیارات معزول کر کے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ اس طرح 2024ء کے انتخابات کے نتیجے میں تیسری بار قائم ہونے والی (اور 2013ء سے چلی آ رہی) تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گزشتہ کئی سال سے امن و امان کی صورتِ حال خراب ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ وفاق کے مطابق صوبائی حکومت نے سرحد پار سے دراندازی اور اندرونی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے نہ تو وفاقی پالیسیوں پر موثر انداز سے عمل کیا‘ نہ ہی خود کوئی ٹھوس اقدامات کیے۔
اسی دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں ایک لانگ مارچ بھی اسلام آباد کے لیے رواں دواں تھا۔ اس کا (بظاہر) مقصد وفاقی حکومت پر دباؤ ڈال کر عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت حاصل کرنا اور ان کے مطالبے کے مطابق علاج معالجے کی سہولیات فراہم کروانا تھا۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے تحریک انصاف مسلسل ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ عدالتوں سے سزاؤں کے بعد ان سے ملاقاتوں پر کئی بار پابندیاں لگائی گئیں اور کئی بار اجازت بھی دی گئی۔ حکومت کا موقف ہے کہ ان ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہر نرمی کے پیچھے بات چیت اور ڈیل کا تاثر بھی دیا جاتا رہا۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد جو حکومتی سیٹ اپ سامنے آیا وہ کافی عرصے کی محنت کا نتیجہ لگتا ہے۔ گویا تیاری پہلے سے جاری تھی۔
خیبر پختونخوا میں 2013ء سے مسلسل تین انتخابی ادوار میں تحریک انصاف کی حکومت قائم رہی ہے۔ اس دوران پارٹی کے کئی رہنما اور وزرا یہ کہتے رہے کہ انہیں ملنے والا مینڈیٹ ترقیاتی کاموں کے لیے نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی اور ’عشق‘ کے لیے ہے۔ ایسی ترجیحات کے باعث صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور انتظامی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں کے مسائل بھی زیر بحث رہے۔ دوسری طرف وفاقی وزرا تحریک انصاف پر طالبان اور افغان حکومت کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ وفاق کا موقف ہے کہ اگر کوئی صوبائی حکومت ریاست کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرے یا ملکی سالمیت کے لیے خطرہ بننے والی قوتوں کے خلاف موثر کارروائی نہ کرے تو اس کا اقتدار میں رہنا قومی سلامتی کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔
یہ وہ بیانیہ ہے جو اخبارات، ٹیلی وژن اور وی لاگز وغیرہ میں سنائی دیتا ہے۔ لیکن اس معاملے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ جو کہیں زیادہ بنیادی اور گہرے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا گورنر راج یا ایمرجنسی کے بغیر عام شہریوں کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں؟ کیا ریاستی جبر اور شہری آزادیوں کی پامالی کے لیے پہلے سے زیادہ غیر معمولی اختیارات درکار تھے؟ اور کیا کسی صوبے کی منتخب حکومت کو برطرف کرنے سے دہشت گردی کے وہ بنیادی اسباب بھی ختم ہو جائیں گے جن کی جڑیں خود ریاست کی گزشتہ پالیسیوں میں موجود ہیں؟
ملک بھر میں بغیر وارنٹ گھروں میں داخل ہونے، لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کرنے اور پولیس مقابلوں میں ہلاک کرنے کے واقعات مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر حکومت یا ریاستی اداروں کے موقف سے اختلاف کرنے پر بھی لوگوں کو مقدمات اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض افراد طویل عرصے سے اپنے خیالات، نظموں یا سوشل میڈیا پوسٹس کے باعث لاپتہ ہیں۔ ان کے اہل خانہ کو یہ تک معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔
بلوچستان میں بھی حالات طویل عرصے سے کشیدہ ہیں۔ ایک طرف ریاستی جبر سے انکار ممکن نہیں۔ دوسری طرف علیحدگی پسند (اور بعض صورتوں میں مذہبی بنیاد پرست) مسلح گروہوں کی جانب سے بسوں سے مسافروں کو اتار کر قتل کرنے، معدنی کانوں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں، اغوا اور بھتہ خوری کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ سکیورٹی اداروں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ قوم پرست حلقے جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات پر ریاستی اداروں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جبکہ ریاستی موقف یہ رہا ہے کہ لاپتہ افراد کی فہرستوں میں ایسے بہت سے لوگ بھی شامل ہیں جو پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، سرحد پار ہیں، بیرونِ ملک جا چکے ہیں یا مسلح تصادموں میں مارے گئے ہیں۔
ان متضاد دعووں کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا شہریوں کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ریاستی طاقت کے استعمال کو موثر قانونی نگرانی اور جواب دہی کا پابند بنایا گیا ہے؟ مسلح گروہوں کی جانب سے عام شہریوں کا قتل اور اغوا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ لیکن جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے مسئلے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے الفاظ میں ریاستی اور غیر ریاستی تشدد کے درمیان فرق یا امتیاز بیشتر صورتوں میں مٹتا چلا گیا ہے۔
پنجاب، جسے آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا اور نسبتاً ترقی یافتہ صوبہ سمجھا جاتا ہے، وہاں بھی شہری حقوق کی پامالی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ نقاب پوش افراد کی جانب سے لوگوں کو گھروں سے اٹھائے جانے کی اطلاعات ملتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں لاہور سے اینکر پرسن اقرار الحسن اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے کالم نگار و یوٹیوبر بلال غوری کو گھروں سے اٹھائے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ بلال غوری کو قانونی چارہ جوئی کے بعد بازیاب کروائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ لیکن یہ اپنی نوعیت کے پہلے یا آخری واقعات یقینا نہیں ہیں۔ ایسے واقعات اس بنیادی سوال کو مزید اہم بناتے ہیں کہ شہریوں کو ریاستی اداروں کے اقدامات کے خلاف موثر قانونی تحفظ کس حد تک حاصل ہے۔ اور اگر یہ آئینی و قانونی تحفظ مسلسل مٹتا جا رہا ہے تو اس کی وجوہات پھر پاکستانی سرمایہ داری اور ریاست کے بحران میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ریاستی طاقت کا استعمال عام، پرامن شہریوں کو متاثر کرتا رہا ہے۔ یہاں جمہوریت کے نام پر ہر چند سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔ انتخابی عمل، حکومت سازی اور حکومتوں کا خاتمہ بھی ہمیشہ مشکوک اور غیر جمہوری طریقوں پر مبنی ہوتا ہے۔ لیکن حکومتیں بننے کے بعد بھی اہم داخلی اور خارجی پالیسیوں پر ’’منتخب‘‘ حکومتوں کے اختیار کے بارے میں مسلسل سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ خود موجودہ اور سابقہ سیاسی حکمرانوں کی جانب سے بھی ہائبرڈ نظام کا ذکر کیا جاتا رہا ہے اور اسے جواز دینے کی کوشش بھی ہوتی رہی ہے۔ 2018ء کے انتخابات، تحریک عدم اعتماد اور مختلف ادوار میں حکومتی تبدیلیوں کے تناظر میں عسکری اور خفیہ اداروں کے سیاسی کردار پر بحث ہوتی رہی ہے۔ اس صورتِ حال نے وقت کیساتھ نام نہاد منتخب حکومتوں کی خودمختاری اور جمہوری اداروں کے ناقص، کھوکھلے اور ڈھونگ ہونے کی حقیقت کو اجتماعی عوامی شعور کا حصہ بنا دیا ہے۔
تاہم اس ساری سیاسی کشمکش، ریاستی وارداتوں اور اقتدار کی جنگوں میں سب سے زیادہ نقصان محنت کش طبقات اور عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بم دھماکوں، پکڑ دھکڑ، بے روزگاری، مہنگائی اور بھوک و افلاس کا شکار یہی عام لوگ ہوتے ہیں۔ اگر کوئی معروف یا بااثر شخص نشانہ بنے تو اس واقعے کو طویل عرصے تک یاد رکھا جاتا ہے۔ لیکن روزمرہ زندگی کی معاشی و سماجی مشکلات، محرومی اور دہشت گردی کے واقعات میں جانیں گنوانے والے عام لوگ اکثر اجتماعی حافظے سے محو ہو جاتے ہیں۔ جس کی اہم وجہ ایسے واقعات یا صورتحال کا ایک معمول میں بدل جانا ہے۔ جس سے ایک سماجی بے حسی نے جنم لیا ہے۔
1947ء سے قائم ریاستی بندوبست کی خارجہ پالیسی کئی مرتبہ علاقائی اور بین الاقوامی جنگوں میں مداخلت کا ذریعہ بنی۔ افغانستان میں نام نہاد جہاد کے دوران اور بعد کے ادوار میں بھی مذہبی مسلح قوتوں کی سرپرستی اور علاقائی تنازعات میں پراکسیوں کے استعمال نے خود پاکستان کے اندر تباہ کن اثرات مرتب کیے۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں پروان چڑھنے والے بعض گروہ وقت کے ساتھ اسی ریاست کیخلاف مسلح کارروائیوں میں ملوث ہو گئے۔ اس کے باوجود ان پالیسیوں کے معماروں کا مؤثر احتساب نہیں ہوا۔ نہ ہی ان کے اسباق اور نتائج کو عوامی احتساب کے لیے کبھی پیش کیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیاں اور بڑے آپریشن بھی مسلسل جاری رہے ہیں۔ سوات میں آپریشن راہِ راست، جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ نجات، شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں آپریشن ردالفساد اور ان گنت چھوٹی کارروائیوں اور آپریشنوں کے ذریعے مسلح گروہوں کو وقتی طور پر نقصان پہنچایا یا کچلا گیا اور بعض علاقوں میں ریاستی کنٹرول بھی بحال ہوا۔ تاہم بڑے پیمانے پر نقل مکانی، شہری نقصانات اور بحالی کے مسائل کے ساتھ یہ سوال بھی برقرار رہا کہ ان عسکری کامیابیوں کو مستقل امن میں کیوں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ اتنے بڑے اور دیوہیکل اقدامات کے باوجود آج بھی خیبر پختونخوا کے بعض حصوں میں ریاستی عمل داری کی ناپیدگی یا کمزوری اور مذکورہ مسلح گروہوں کا تسلط ایک حقیقت ہے۔
اس صورتِ حال میں نئے فوجی آپریشنوں کے بارے میں کوئی معقول فیصلہ ماضی کے تجربات کے عوامی تنقیدی جائزے کے بغیر نہیں لیا جا سکتا۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سابقہ کارروائیوں نے اپنے مطلوبہ مقاصد کس حد تک حاصل کیے، ان کے انسانی اور معاشی نقصانات کیا تھے اور بعد از آپریشن انتظامی و سماجی بحالی میں کہاں کوتاہیاں رہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر ریاست کی دوغلی پالیسیوں، پالیسی سازوں کے داخلی تضادات اور مذہبی شدت پسندی کی معاشی، سماجی و نظریاتی بنیادوں کا سوال ہے۔ تعلیمی نصاب، سرکاری بیانئے اور ذرائع ابلاغ میں مذہبی و سیاسی اختلاف کو کس انداز میں پیش کیا جاتا ہے‘ یہ مسئلہ بھی تنقیدی بحث کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر حکمران مسلح شدت پسندی کے خاتمے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں ایسے تمام سوالات کا جواب دینا ہو گا اور ان سماجی حالات، پالیسیوں اور سرکاری نظریات کا بھی ازسر نو جائزہ لینا ہو گا جو عدم برداشت، تشدد اور مذہبی انتہا پسندی کو تقویت دیتے ہیں۔ یہ بات بہرحال واضح ہے کہ بنیادی سماجی و معاشی اسباب اور مادی وجوہات کو ختم کیے بغیر محض مسلح کارروائیاں کسی طور دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔
ریاستی جبر اور سیاسی انتقام کا مسئلہ بھی اسی بنیادی تصور سے جڑا ہوا ہے کہ سرکاری طاقت کا استعمال جمہوری یا شہری آزادیوں کو کیونکر متاثر کرتا ہے۔ تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں بھی سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں، انتقامی کارروائیوں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ آج اگر اس جماعت کے لوگ انسانی حقوق اور جمہوری و سیاسی آزادیوں وغیرہ کی بات کرتے ہیں تو انہیں اپنے ماضی کے اقدامات پر بھی نظر ڈالنی ہو گی اور اپنے ماضی کے غیر جمہوری رویوں اور مخالفین سے کی جانے والی زیادتیوں کو تسلیم کرنا ہو گا۔ کیونکہ جمہوری سیاست کا تو یہی تقاضا ہے کہ جمہوری حقوق اور آزادیوں کا احترام اقتدار میں ہونے یا نہ ہونے سے مشروط نہ ہو۔
موجودہ ایمرجنسی کے تحت اختیارات کے ارتکاز سے طلبہ، محنت کشوں، ٹریڈ یونینوں، صحافیوں اور عام شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس سے شہریوں کے لیے انصاف کا حصول مزید مشکل ہونے اور پہلے سے جاری ریاستی من مانیوں میں اضافے کا امکان بھی پیدا ہو گا۔ ایسے حالات میں آئینی و جمہوری حقوق کے حصول یا تحفظ اور ریاستی اداروں کی جوابدہی کی جدوجہد کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ماضی کے فوجی آپریشنوں کے دوران شہری ہلاکتوں اور آبادیوں کی تباہی سے متعلق متعدد سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور موثر احتساب کے شفاف نظام کا مطالبہ اہم ہے۔ ریاستی طاقت کے استعمال کو جب نگرانی اور جوابدہی سے بالا سمجھا جانے لگے تو یہ مروجہ نظام کے استحکام یا ترقی کی بجائے گہرے بحران کی علامت ہوتی ہے۔ لیکن اس کے انتہائی منفی سیاسی اور سماجی مضمرات بھی ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایسے وقتوں میں محنت کش عوام کی مزاحتمی سیاست زیادہ اہمیت اور ضرورت کی حامل ہو جاتی ہے۔
خود سرکاری نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ریاست کو اپنے بنائے ہوئے آئین اور قانون کا پابند ہونا چاہئے۔ کم از کم کتابی طور پر آئین شہری حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور ریاستی اختیارات کی حدود متعین کرتا ہے۔ لیکن نظام کے بحران سے جنم لینے والے ایمرجنسی، مارشل لا اور سنسرشپ جیسے انتہائی اقدامات چونکہ مسائل اور عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کا تدارک نہیں کرتے۔ لہٰذا دیرپا امن و استحکام کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ پاکستان کی ساری تاریخ اس حقیقت کا ثبوت ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس آڑ میں عام لوگوں کے حقوق کو چھین لینا کوئی حل نہیں۔ بلکہ یہ عمل نئے بحرانات کو جنم دیتا ہے۔
تحریک انصاف بھی پاکستانی ریاست کے اپنے سیاسی تجربات کی پیداوار ہے۔ ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی یہ سیاسی قوت وقت گزرنے کے ساتھ خود ریاست کے لیے ایک مشکل بن گئی۔ اس تجربے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مصنوعی سیاسی بندوبست تشکیل دینے کے نتائج بالآخر منصوبہ سازوں کی خواہشات کے مطابق نہیں نکلتے۔ ایسے تجربات اکثر اپنے ہی تخلیق کاروں کے خلاف پلٹ جاتے ہیں اور ان کی قیمت پورے معاشرے کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
عوامی منشا، شرکت اور نگرانی سے ماورا اقدامات اس ملک کا معمول بن چکے ہیں۔ ماضی میں ان کے نتائج خطرناک ثابت ہوئے اور موجودہ صورتِ حال بھی ایسے ہی خدشات پیدا کر رہی ہے۔ مزدور تحریک کے بحران یا پسپائی کے حالات میں ایسی کیفیات خود محنت کش طبقے کی جڑت کو مزید کمزور کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ جب سیاسی اور سماجی مسائل کے حل کے جمہوری راستے محدود کیے جاتے ہیں تو شدت پسندی کے رجحانات، تنگ نظر اور انتہا پسندانہ قوم پرستی اور تشدد کے لیے گنجائش بڑھ جاتی ہے۔
موجودہ حالات میں ملک بھر کے محنت کشوں، ٹریڈ یونینوں، طلبہ، کسانوں اور ترقی پسند سوچ رکھنے والے دانشوروں کو خیبر پختونخوا کے عوام کے بنیادی جمہوری حقوق کے تحفظ کی آواز بلند کرنا ہو گی۔ یہ جدوجہد کسی سیاسی جماعت یا رہنما کی حمایت یا پیروی کی بجائے آزادانہ طبقاتی و عوامی خطوط پر استوار ہونی چاہئے۔ جس کا مقصد دہشت گردی، بیروزگاری اور ریاستی جبر کے ستائے عوام کے سیاسی حقوق (بشمول مزدوروں اور طلبہ کی یونین سازی) کا حصول اور ریاستی اداروں کی جوابدہی کو یقینی بنانا ہو۔
ضرورت محنت کشوں، طلبہ، کسانوں اور دوسرے محکوم طبقات کے متحدہ محاذ کی ہے۔ جو جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، سنسرشپ اور ریاستی دھونس اور جبر کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو منظم کرے۔ دہشت گردی کے سدباب اور شہری آزادیوں کو ایک دوسرے کی زد نہیں ہونا چاہئے۔ عوامی تنظیم، شرکت اور نگرانی کے بغیر امن اور استحکام کا حصول ناممکن ہے۔
محنت کش عوام کی طبقاتی جڑت اسی بنیاد پر مضبوط ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے معاشی و سیاسی حقوق کے حصول کی جدوجہد کو حکمران طبقات کی کسی جماعت یا رہنما کے تابع یا ان کے ساتھ مشروط نہ کریں۔ طبقاتی یکجہتی کی بنیاد پر ایک وسیع عوامی جدوجہد ہی وہ راستہ فراہم کر سکتی ہے جس کے ذریعے نہ صرف ریاستی جبر، دہشت گردی اور معاشی استحصال کے خلاف مشترکہ مزاحمت کو منظم کیا جائے بلکہ ان مسائل کی جڑوں کا خاتمہ بھی کیا جا سکے۔
