سنگین باچا/عمران کامیانہ

خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026ء کو ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک پہلے سے جاری سیاسی، سماجی اور معاشی بحران کا ہی تسلسل اور دھماکہ خیز اظہار ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) لانگ مارچ کے اعلانات کر رہی تھی۔ لیکن کبھی تاریخ بدل جاتی، کبھی مذاکرات کی خبریں سامنے آتیں اور کبھی قیادت کی جانب سے متضاد بیانات جاری ہوتے۔ پی ٹی آئی کی قیادت لانگ مارچ کی تاریخ اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تذبذب کا شکار رہی۔ جس میں حالیہ سالوں میں ریاست کی ’’گڈ بکس‘‘ سے نکل کر عتاب کا شکار ہونے کے بعد پارٹی کی داخلی دھڑے بندی، اختلافات اور ٹوٹ پھوٹ (جو وقت کیساتھ بڑھتی گئی ہے) کا اہم کردار ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کو خدشہ تھا کہ یہ احتجاج بڑے تصادم اور خون خرابے میں بدل سکتا ہے۔ جو کہ حالیہ احتجاج کو لیڈ کرنے والے دھڑے کے رہنماؤں کی باڈی لینگویج اور بیانات سے بھی واضح ہو رہا تھا۔ کئی دنوں یا شاید کئی ہفتوں کے پس پردہ مذاکرات اور ثالثی کی کوششوں (جس میں تحریک انصاف کے ایک بڑے حصے کی بھی خواہش تھی کہ راست یا انتہائی اقدامات سے گریز کیا جائے) کے بعد بھی معاملہ حل نہ ہونے کی صورت میں بالآخر وفاقی حکومت نے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت معزول کر دی گئی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کا باضابطہ جواز دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کی مبینہ ناکامی کو بنایا۔ جب کہ پی ٹی آئی نے اسے اپنے انتخابی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا۔ لیکن اس پورے معاملے کو صرف پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان محاذ آرائی سمجھنا حقیقت کو محدود کرنے کے مترادف ہو گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ کن طبقات کی لڑائی ہے، اس کے پس پردہ محرکات کیا ہیں اور سب سے بڑھ کر اس تصادم میں خیبر پختونخوا کے محنت کش عوام کہاں کھڑے ہیں؟ ان کے روزگار، تعلیم، صحت اور امن کے مسائل کس کے ایجنڈے پر ہیں؟

لیکن المیہ یہ ہے کہ نہ صرف تحریک انصاف اسے ریاستی جبر کے خلاف جمہوری حقوق اور عوامی مینڈٹ کے احترام کی جدوجہد بنا کر پیش کر رہی ہے بلکہ نام نہاد ترقی پسندوں اور قوم پرستوں کے بہت سے حلقے بھی نظریاتی کمزوری، موقع پرستی یا محض ریاست کی دشمنی میں موجودہ صورتحال کو یہی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ (اپنی شروعات یا ابتدائی عرصے کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی سمیت) ملک کی تمام مروجہ یا حاوی پارٹیوں کی طرح تحریک انصاف نہ تو اپنے داخلی طریقہ کار کے حوالے سے کوئی جمہوری پارٹی ہے، نہ یہ کسی جمہوری انداز سے پروان چڑھی ہے، نہ ہی اس کی نام نہاد جدوجہد کا جمہوریت یا جمہوری حقوق سے کوئی تعلق ہے۔ حکمران سیاست کی کم و بیش تمام سیاسی قیادتوں یا رجحانات کی طرح یہ اسی ریاست کی گود میں پروان چڑھنے والی پارٹی ہے جس کا خمیر ہی جمہوریت دشمن، آمرانہ اور فسطائی نظریات سے اٹھا تھا اور جس کے ابھار میں ریاست کی بے انتہا سرمایہ کاری، پشت پناہی اور دوسری سیاسی جماعتوں پر جبر کا فیصلہ کن کردار تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ دوسرے بیشتر ریاستی پراجیکٹوں کی طرح اس پراجیکٹ نے بھی بیک فائر کیا اور پھر ریاستی آشیرباد سے محروم ہونے کے بعد تحریک انصاف نے جمہوریت کے گھسے پٹے بیانئے میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ جیسا کہ ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا وتیرہ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کے 13 سال اور وفاق میں حکومت کے تقریباً چار سال کے دوران پی ٹی آئی نے عوامی تحریکوں کو کچلنے اور وسیع تر عوام کے جمہوری حقوق سلب میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پھر چاہے وہ کشمیر کی عوامی حقوق تحریک ہو، پختونخوا کی پی ٹی ایم ہو یا ملک بھر میں محنت کشوں کے چھوٹے بڑے احتجاج ہوں۔ اس حوالے سے موجودہ صورتحال کو ’’جمہوریت‘‘ پر شب خون قرار دینا یا اسے جمہوریت اور آمریت کی کشمکش بنا کر پیش کرنا سیاسی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

2011ء کے بعد پی ٹی آئی کا ابھار ایک ایسے معاشرے میں ہوا جہاں غربت، بے روزگاری، بدعنوانی، سماجی ناہمواری اور روایتی سیاسی جماعتوں سے نفرت اور مایوسی پہلے ہی عروج پر تھی۔ علاوہ ازیں گزشتہ دہائیوں کی نیولبرل پالیسیوں نے ایک نسبتاً بڑے ہجم کی شہری مڈل کلاس کو جنم دیا تھا۔ ان مخصوص حالات میں (بالخصوص 2008ء میں برسراقتدار آنے والی پیپلز پارٹی حکومت کی بدترین ناکامی کے بعد) پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں پی ٹی آئی کو پنپنے کے وسیع مواقع میسر آئے۔ لیکن یہ عروج محض عوامی مقبولیت کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس وقت ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے حاوی دھڑے کی سرپرستی نے بطور مسیحا عمران کا امیج تخلیق کرنے (جس میں کارپوریٹ میڈیا کا بے دریغ استعمال کیا گیا)، اس کی جماعت کو سیاسی میدان میں آگے بڑھنے، اپنے حریفوں کے مقابلے میں جگہ بنانے اور اس وقت تک ملکی تاریخ کی بدترین دھاندلی کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لیکن پاکستان کی سیاست میں یہ کوئی نیا تجربہ نہیں تھا۔ یہاں ریاستی ادارے پہلے بھی اپنے مفادات کے تحت مختلف سیاسی قوتوں کو آگے لاتے رہے ہیں۔ بلکہ یہ انتہائی گہری اور بعض اوقات بے انتہا ڈھٹائی پر مبنی سیاسی انجینئرنگ اب اس ملک کی نام نہاد جمہوریت کا معمول بن چکی ہے۔

پی ٹی آئی کے معاملے میں بھی مزدور تحریک کے جمود یا پسپائی کے مخصوص حالات میں ایک ایسی جماعت کو ابھرنے کا موقع ملا جو بیک وقت مذہبی بنیاد پرست رجحانات، پاکستانی شاونزم، بدعنوانی کے خلاف نعروں، مبالغہ آرائی پر مبنی الزامات اور ترقی کے وعدوں کو نئی ابھرنے والی مڈل کلاس کی امنگوں کے مطابق ایک فیشن ایبل انداز میں اپنے سیاسی بیانئے میں سمو سکتی تھی۔ عمران خان کبھی مغربی طرزِ زندگی کی مثال دیتا، کبھی مذہبی جذبات کو اپیل کرتا اور کبھی ریاست مدینہ کے نام پر ایک فلاحی ریاست کا تصور پیش کرتا، کبھی چین کو ماڈل قرار دیتا۔ اور بعض اوقات وہ یہ باتیں ایک ہی تقریر میں کر دیتا تھا۔ اس متضاد سیاسی بیانئے نے درمیانے طبقے سے ہٹ کر بھی نہ صرف محنت کش طبقے کی کئی پرتوں بلکہ اپر مڈل کلاس اور بورژوازی تک کے لمپن یا نودولتی حصوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست ملک کے گہرے معاشی مسائل، بدانتظامی اور کرپشن کے حل کے کسی ’’مشترکہ‘‘ پروگرام سے لیس نہ ہو سکی۔ ملکی بحران، عوامی محرومیوں اور متبادل کے فقدان سے پیدا ہونے والی سیاسی حمایت ایک شخصیت کے گرد مجتمع ہوتی چلی گئی۔ حکومت میں آنے کے بعد ان دعووں، وعدوں اور نعروں کی ناکامی و نامرادی یقینی تھی۔ ان حالات میں اپنی ازلی و ابدی مقبولیت اور ناقابل خطا ہونے کے خبط میں مبتلا عمران خان کے ریاست سے تعلقات میں تضادات اور کشیدگی بڑھتی گئی۔ ریاست کا یہ پروردہ ایک مخصوص نہج پر نہ صرف اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے بلکہ اپنے ٹولے کیساتھ مل کر اسی ریاست پر حاوی ہونے اور اپنی لامتناہی آمریت قائم کرنے کی کوششوں میں (سابقہ) سرپرستوں کے ساتھ تصادم کی طرف بڑھتا گیا۔ یہ عوام کی کسی بہتری، ترقی یا محنت کش طبقے کی آزادی و نجات کی کشمکش نہیں تھی۔ الٹا پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کے دور میں عام لوگوں کی حالت آئی ایم ایف کی سٹرکچرل اصلاحات، مہنگائی، بیروزگاری، نجکاری اور ریاستی جبر نے بد سے بدتر ہی کی۔ حکمران طبقات اور ریاست کے مختلف دھڑوں کی یہ آپسی لڑائی اقتدار، ریاستی اختیار اور سیاسی غلبے کے سوالات سے جڑی ہوئی تھی۔ وقت کے ساتھ عمران خان کی ذات‘ جماعت کے سیاسی پروگرام (جیسا بھی تھا)، تنظیمی ڈھانچوں اور داخلی فیصلوں پر زیادہ سے زیادہ غالب آتی گئی۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں کے لیے قیادت کے فیصلوں پر سوال اٹھانے کی گنجائش سکڑتی گئی۔ جبکہ نہ صرف پی ٹی آئی کے اندر بلکہ باہر بھی سیاسی بحث کا محور عوام کے بنیادی مسائل کی بجائے عمران خان کی حمایت یا مخالفت تک محدود ہوتا گیا۔ یوں جن عوامی محرومیوں اور سماجی تضادات نے پی ٹی آئی کے عروج کی زمین ہموار کی تھی‘ وہ اس کی سیاست میں نہ صرف حل طلب رہے بلکہ مزید گھمبیر، گہرے اور شدید ہی ہوئے۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی 2013ء، 2018ء اور 2024ء کے انتخابات کے بعد مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار میں آئی۔ لیکن اس طویل حکمرانی کے باوجود صوبے کی صورتِ حال مزید سنگین ہی ہوئی۔ بدعنوانی کے خاتمے کے نعروں سے برسر اقتدار آنے والی اس جماعت کے دورِ حکومت میں جتنی بدانتظامی، لوٹ مار اور کرپشن پختونخوا نے دیکھی ہے‘ اس کی مثال ملکی تاریخ میں ڈھونڈنا محال ہے۔ بلکہ حالیہ عرصے میں تو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کھل کر کہنے لگی تھی کہ اس کا امن و امان اور عوام کی بہتری و خوشحالی سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ عمران خان کی پرستش ہی ان کا نصب العین ہے۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں بڑے دہشت گرد حملوں کی تعداد 2021ء میں 111 تھی جو 2022ء میں 169، 2023ء میں 174، 2024ء میں 295 اور 2025ء میں بڑھ کر 413 ہو گئی۔ یوں 2021ء سے 2025ء کے درمیان حملوں کی تعداد میں تقریباً 272 فیصد اضافہ ہوا۔ اس صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے پی ٹی آئی کی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کی پالیسی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ان حالات میں پاکستانی ریاست یا وفاقی حکومت کو کسی طور بری الذمہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں ہے پاکستانی سیاست و ریاست میں طالبان کے لیے سب سے ’’ہمدردی‘‘ اور نرم گوشہ رکھنے والی جماعت پھر تحریک انصاف ہی ہے۔ عمران خان نے یکم اکتوبر 2021ء کو تصدیق کی تھی کہ اس کی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بعض دھڑوں سے مذاکرات کر رہی ہے اور ہتھیار ڈالنے والوں کو واپس لانے اور بسانے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ جون اور جولائی 2022ء میں مذاکرات کا عمل آگے بڑھا۔ اس سے قبل بھی وہ پاکستان میں طالبان کے دفاتر تک کھلوانے کی باتیں کھلے عام کرتا رہا ہے۔ اسی سال اگست اور ستمبر میں سوات سمیت مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی دوبارہ موجودگی اور ممکنہ واپسی کی اطلاعات پر مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا ہوئی۔ سوات کے لوگوں نے، جو طالبان کے قبضے، دہشت گردی اور فوجی آپریشنوں کی بھاری قیمت ادا کر چکے تھے، احتجاج کے ذریعے واضح کیا کہ وہ اپنے علاقوں میں دوبارہ مسلح گروہوں کی بالادستی قبول نہیں کریں گے۔ اسی قسم کا عوامی ردِ عمل صوبے کے کئی دوسرے حصوں میں بھی سامنے آتا رہا ہے۔

افغانستان میں 1978ء کے ثور انقلاب کے بعد ضیاالحق کی آمریت نے امریکی سرپرستی میں مذہبی جنونی جنگجوؤں کی آبیاری کی تھی۔ جبکہ بعد کے عشروں میں بھی ریاستی اداروں نے اپنے تذویراتی مفادات کے تحت مختلف مسلح گروہوں سے روابط اور مفاہمت کی پالیسیاں جاری رکھیں۔ اس تاریخی پس منظر نے خطے میں انتہا پسندی کے فروغ کے لیے زمین ہموار کی۔ جس کے بھیانک اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بلکہ افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد صورتحال کہیں زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ جبکہ ریاست کی دہائیوں پر مبنی پالیسیوں نے یہاں کالے دھن پر مبنی ایسی معیشت اور سیاست پروان چڑھائی ہے جس کا بنیاد پرست مسلح گروہوں سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تحریک انصاف بھی اسی سیاست کا ایک شاخسانہ ہے۔

تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی خیبر پختونخوا کی صورتِ حال پی ٹی آئی کے طویل اقتدار کا جائزہ لینے کے لیے اہم ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹ پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹسٹکس 2023-24ء کے مطابق صوبے میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً 45 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی رپورٹ لیبر فورس سروے 2024-25ء کے مطابق صوبے میں بے روزگاری کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے اور چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ پرفارمنس آڈٹ آف ہیلتھ انیشی ایٹوز اِن خیبر پختونخوا (2017-18ء تا 2021-22ء) کے مطابق ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی بہتری کے لیے مختص 2.071 ارب روپے میں سے تقریباً 1.603 ارب روپے خرچ ہی نہیں کیے گئے۔ اسی طرح صوبے میں اربوں روپے کے کرپشن سکینڈل اور بے ضابطگیاں ایک معمول اور خبروں کی مستقل زینت بن چکی ہیں۔ ہسپتالوں اور سکولوں کی نجکاری کی دوڑ میں بھی پختونخوا دوسری حکومتوں سے سبقت لے جانے کی سرتوڑ کوشش کرتا رہا ہے۔ جبکہ ان عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے محنت کشوں کے احتجاجوں کو انتہائی بے رحمی سے کچلا گیا ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا کی بجٹ حکمت عملی 2026-27ء کے مطابق صوبے میں ایک ڈاکٹر کے مقابلے میں 4,468 افراد ہیں۔ جبکہ ملکی اوسط 723 افراد فی ڈاکٹر ہے۔ ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے برابر ہیں۔ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بھی سہولیات ناکافی ہیں۔ دوسری طرف صحت کارڈ کے ذریعے علاج کے لیے نجی ہسپتالوں پر انحصار بڑھایا گیا ہے۔ صحت کارڈ کے اخراجات اور ادائیگیوں میں بے ضابطگیاں بھی زیر بحث رہی ہے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ عوامی وسائل کا بڑا حصہ نجی ہسپتالوں میں علاج کی ادائیگی پر خرچ کرنے کی بجائے سرکاری ہسپتالوں کی عمارتوں، جدید آلات، وینٹی لیٹرز، ادویات اور طبی عملے کی فراہمی پر کیوں نہیں لگایا جاتا؟ جب سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں ناکافی ہوں اور مریض نجی اداروں کا رخ کرنے پر مجبور ہوں تو اس کا فائدہ نجی شعبے کو پہنچتا ہے۔ جبکہ مالی بوجھ اور لاعلاجی کا عذاب بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں کرپشن اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ روزنامہ دی نیوز کی 18 ستمبر 2026ء کی رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے صوبائی حکومت کے مالی سال 2023-24ء کے حسابات میں مجموعی طور پر 551 ارب روپے مالیت کے بے ضابطگیوں اور آڈٹ اعتراضات کی نشان دہی کی۔ ان میں غیر مجاز اخراجات، اضافی ادائیگیاں اور فنڈز کے غلط استعمال و انتظام سے متعلق معاملات شامل تھے۔ کرپشن اور ناقص تعمیرات کے باعث خیبر پختونخوا میں متعدد ترقیاتی منصوبے، سڑکیں اور سرکاری عمارتیں تعمیر کے کچھ ہی عرصے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان تمام مسائل کے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت نے عوامی مسائل کو اپنے ایجنڈے پر نہیں رکھا۔ حالیہ لانگ مارچ کے مطالبات بھی عوامی مسائل سے متعلق نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس احتجاج کو پختونخوا کے عوام میں کوئی خاص مقبولیت اور پذیرائی نہیں مل سکی۔ جبکہ تاوقت تحریر دیگر صوبوں میں بھی پی ٹی آئی کے حق میں موبلائزیشن کم و بیش صفر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما کہتے رہے ہیں کہ انہیں ووٹ عمران خان کی رہائی کے لیے ملا ہے‘ عوامی مسائل کے حل کے لیے نہیں!

ریاست و وفاقی حکومت کیساتھ اس پوری کشمکش میں عام لوگوں کے مسائل نہ صرف ایجنڈے سے باہر رہے ہیں بلکہ دونوں اطراف نے اس انتشار اور تصادم کو دانستہ طور پر بھی عوامی مسائل اور حقیقی ایشوز کو پس پشت ڈالنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ مزید برآں حالیہ صورتحال کی تشکیل اور سہیل آفریدی کی قیادت میں پارٹی کے ایک دھڑے کے انتہا پسندانہ موقف کے پیچھے خود ریاست میں موجود دراڑوں اور دھڑے بندیوں کے ممکنہ کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ظاہر ہے اس تمام بحث کا مقصد ایمرجنسی کی حمایت یا ریاست کو بری الذمہ ٹھہرانا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ آج مظلومیت کا ڈھونگ رچانے اور ’’جمہوریت‘‘ کی مکروہ واردات کے پیچھے اپنے رجعتی عزائم چھپانے والی تحریک انصاف اسی کرپٹ اور ریاستی پروردہ سیاست اور نیولبرل معیشت کی غلاظت میں لتھڑا ہوا مظہر ہے۔ جس کے آمرانہ عزائم فسطائیت تک جاتے ہیں۔ تاہم آخری تجزئیے میں ماضی کے بیشتر سیاسی منصوبوں کی طرح یہ بھی اسی ریاست کی سیاسی انجینئرنگ کی پیداوار ہے جو اب ان کے گلے پڑی ہوئی ہے۔ لیکن اسے کچلنے یا کانٹ چھانٹ کر محدود کرنے کے دیوہیکل آپریشن میں ایک بار پھر سیاسی و معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر محنت کش عوام ہی ہو رہے ہیں۔

مسئلہ کسی ایک جماعت یا حکومت تک محدود نہیں ہے۔ آج کی حکمران جماعتوں میں سے کوئی بھی اس سامراجی نظام کی معاشی بنیادوں کو چیلنج کرنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ نتیجتاً کسی کے پاس عوام کے سلگتے ہوئے مسائل کا کوئی قابل عمل اور پائیدار حل موجود نہیں ہے۔ (کالے دھن کی بھرمار سے قطع نظر) ملک کی دستاویزی معیشت گزشتہ طویل عرصے سے عملاً سکڑ رہی ہے۔ ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تقریباً نصف آبادی شدید غربت سے دوچار ہے اور غربت کی شرح میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ سماجی بے چینی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ ان حالات میں سرمایہ دارانہ بنیادوں پر کسی صحتمند جمہوری عمل کے پروان چڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ ترقی یافتہ ممالک سمیت دنیا بھر میں سرمایہ داری کا بحران ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ جبر، بے رحمی اور جمہوری حقوق کی سلبی پر مجبور کر رہا ہے۔ پاکستان جیسے پسماندہ اور بحران زدہ معاشروں میں تو سرمایہ دارانہ معیارات کے مطابق بھی جمہوریت ایک سراب ہی رہی ہے۔ ریاستی جبر اور من مانی یہاں کا معمول ہے‘ حکومت تحریک انصاف سمیت کسی کی بھی ہو۔ چنانچہ یہ پراپیگنڈا یا تاثر بھی ایک مکروہ فریب اور دھوکہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگا کر اس ’’جمہوریت‘‘ پر کوئی بہت بڑا شب خون مار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف یہ بیانیہ بھی اتنا ہی قابل مذمت ہے کہ اس طرح تحریک انصاف کی عوام دشمن صوبائی حکومت کے خاتمے سے صوبے کے مسائل حل ہو جائیں گے اور عام لوگوں کی زندگیوں میں کوئی خاطر خواہ بہتری آ پائے گی۔

مارکس وادیوں کے لیے جمہوریت کوئی مجرد تصور یا ’’اصول‘‘ نہیں ہے۔ ہم جمہوریت کی تشریح اپنے طبقے کے تاریخی مفادات کے مطابق کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کا بھی یہی معاملہ ہے۔ یہ وہ نعرے ہیں جنہیں حکمران طبقات نے محنت کشوں کو بھٹکانے اور محکوم و مجبور رکھنے کے لئے ہمیشہ استعمال کیا ہے۔ لہٰذا ہر نعرے اور ہر مطالبے کے پیچھے چھپے طبقاتی مفادات کو واضح کرنا انقلابیوں کا اہم ترین فریضہ ہوتا ہے۔ ’’یوتھ‘‘ کی پارٹی ہونے کی دعویدار تحریک انصاف اپنی پونے چار سالہ وفاقی حکومت اور 13 سالہ صوبائی حکومت میں طلبہ یونین پر دہائیوں سے عائد پابندی تک نہیں اٹھا سکی۔ نہ ہی ن لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی نام نہاد جمہوری یا ’’ترقی پسند‘‘ پارٹیوں میں اتنی جرات ہے۔ ٹریڈ یونین کی حالت یہ ہے کہ ملک میں یونین سازی کا حق ایک فیصد سے بھی کم مزدوروں کو حاصل ہے۔ اور پہلے سے موجود یونینوں کو بھی رفتہ رفتہ کچلا جا رہا ہے۔ پریس، مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر قدغنیں ہر روز بڑھتی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کی بات کریں تو ایک بار پھر تحریک انصاف جیسے رجحانات کے گالم گلوچ، جھوٹ، بیہودگی اور افواہوں پر مبنی دیوہیکل نیٹ ورکس اور مہمات نے ماضی کے ان نسبتاً آزاد عوامی پلیٹ فارموں کو آلودہ اور پراگندہ کر کے رکھ دیا ہے۔ جس سے ریاست کو بھی سنسرشپ کے جواز ملتے ہیں۔

اس نظام کی موجودہ کیفیت میں گورنر راج نافذ ہو یا وزیراعلیٰ کی حکومت قائم رہے، جب تک اقتدار اور وسائل پر قابض طبقوں کے استحصالی مفادات کو تحفظ حاصل ہے‘ بے روزگاری، غربت، دہشت گردی، نجکاری اور عوامی اداروں کی تباہی سے محنت کشوں کو نجات نہیں مل سکتی۔ نہ ہی یہاں پائیدار امن اور صحتمند جمہوریت کا قیام ممکن ہے۔ یہ لڑائی حکمران طبقے کے مختلف دھڑوں کے مفادات کی لڑائی ہے۔ اس کے ایجنڈے میں مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور وسیع تر استحصال زدہ عوام کے لئے مشکلات ہی لکھی ہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے اقدامات سے تحریر و تقریر کی آزادی اور جمہوری حقوق کی پہلے سے دگرگوں کیفیت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تحریک انصاف یا حکمران سیاست کی کوئی اور پارٹی اگر زیر عتاب ہے تو جمہوریت کے دفاع کی آڑ میں اس کی حمایت شروع کر دی جائے یا عوام کا مسیحا اور رہنما سمجھ کر اس کی پیروی کی جائے۔ مسائل معیشت کے ہوں یا سیاست کے‘ مسئلہ بیروزگاری کا ہو یا جمہوری آزادیوں کی سلبی کا‘ اپنے حقوق کی لڑائی محنت کش عوام کو خود ہی لڑنی ہے۔ مظلوموں اور محکوموں کے لئے جمہوریت کا مطلب سب سے پہلے یونین سازی، تنظیم سازی، پراپیگنڈا، تنقید، اجتماع اور کسی قدغن کے بغیر اپنے اجتماعی مسائل کے لیے اجتماعی جدوجہد کا حق ہے۔ اس کے بغیر جمہوریت کی ساری باتیں ایک دھوکہ اور فریب ہیں۔ اور پی ٹی آئی سمیت مروجہ سیاست کی تمام پارٹیاں فریب کے اس نظام کا کل پرزہ ہیں۔ محنت کش عوام کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ حکمرانی کا تاج کس کے سر سجایا جائے۔ بلکہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اس استحصالی نظام کو کیسے ختم کیا جائے۔ اس کا حل حکمرانی کے طریقوں کی تبدیلی یا اقتدار کی ایک جماعت سے دوسری جماعت کو منتقلی نہیں۔ بلکہ مزدور طبقات، طلبہ، کسانوں اور آبادی کے دوسرے استحصال زدہ اور کچلے ہوئے حصوں کی یکجا اور آزادانہ انقلابی جدوجہد میں پنہا ہے۔ جب تک تمام سماجی دولت پیدا کرنے والے طبقے کو ذرائع پیداوار، معیشت، سیاست اور ریاست پر اختیار حاصل نہیں ہوتا‘ استحصال کا پہیہ چلتا رہے گا، جمہوریت ایک سراب رہے گی اور جبر ایک معمول بنا رہے گا۔ آج کے عہد میں بنیادی جمہوری آزادیوں کی جدوجہد بھی انقلابی سوشلزم کے پروگرام پر عمل پیرا ہو کر ہی کی جا سکتی ہے۔