چنگیز ملک
کوئی عوامی فورم ہو، کسی محلے یا ضلع کی عوامی ایکشن کمیٹی ہو یا کسی ٹریڈ یونین فیڈریشن کی میٹنگ، ان تمام اجتماعات میں ایک فقرہ ہماری سماعتوں میں بار بار گونجتا رہتا ہے: ’’یہ فورم مکمل طور پر غیر سیاسی ہے… لہٰذا اس فورم پر کوئی بھی سیاسی بات نہیں ہوگی۔‘‘
آخر اس فقرے کو تواتر کے ساتھ ایسے فورمز پر کیوں دہرایا جاتا ہے؟ اس کے پس پردہ کون سی سوچ کارفرما ہے؟ اور کیا واقعی کسی زندہ سماج میں کوئی اجتماعی سرگرمی مکمل طور پر غیر سیاسی ہو سکتی ہے؟ کیا ایسے فورمز میں شریک افراد کا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا؟ بظاہر وہ کسی سیاسی جماعت کے عہدیدار نہ ہوں لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ہر شخص کسی نہ کسی جماعت کا ووٹر یا سپورٹر بھی نہ ہو؟ پھر سوال یہ ہے کہ جب افراد اپنی انفرادی زندگی میں سیاسی وابستگی، پسند یا ناپسند رکھتے ہیں تو کسی اجتماعی فورم کو سیاست سے دور رکھنے پر اتنا اصرار کیوں کیا جاتا ہے؟
یہ فقرہ اپنی ہیئت اور ماہیت میں بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔آئیے اسی فکر کو قدرے تحقیقی اور تنقیدی انداز میں جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنی گفتگو کا آغاز پھر اسی بنیادی سوال سے کرتے ہیں: کیا ایک زندہ سماج میں کوئی چیز غیر سیاسی ہو سکتی ہے؟
لغوی اور اصطلاحی معنی
لغوی اعتبار سے ’’سیاست‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی دیکھ بھال کرنا، اصلاح کرنا اور کسی چیز کو اچھے طریقے سے چلانا ہیں۔ اصطلاحی معنوں میں سیاست سے مراد وہ پالیسیاں، طریقے اور اجتماعی فیصلے ہیں جن کے ذریعے ریاست کے امور چلائے جاتے ہیں، قوانین تشکیل پاتے ہیں اور عوامی مفاد سے متعلق فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اپنے لغوی اور اصطلاحی معنی کے اعتبار سے بھی ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ کسی بھی سماج میں زندگی کا اجتماعی عمل سیاست سے الگ نہیں ہو سکتا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ٹریڈ یونینیں، فیڈریشنیں اور عوامی فورمز اپنے ’’غیر سیاسی‘‘ ہونے کا پرچار کرتے ہیں؟ لغوی اور اصطلاحی معنی بھی اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ سماج میں انفرادی یا اجتماعی کوئی بھی عمل سیاست سے مکمل طور پر ماورا ہو کر رونما نہیں ہو سکتا۔
کسی انفرادی یا اجتماعی مسئلے کے حل کے لیے میٹنگ کا بندوبست کرنا، اس میٹنگ میں فیصلے کرنا، اپنے مطالبات کی تشہیر کے لیے پمفلٹ چھاپ کر تقسیم کرنا، سوشل میڈیا کے ذریعے مہم چلانا، کسی پریس کلب کے باہر اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنا، تحریر و تقریر کے ذریعے اربابِ اختیار تک اپنی بات پہنچانا، اپنے مطالبات اربابِ اختیار کو بھجوانا، ان کے ساتھ مذاکرات کرنا، مذاکرات کی کامیابی پر جشن منانا اور ناکامی کی صورت میں آئندہ کا لائحہ عمل بنانا، نئی حکمتِ عملی ترتیب دینا… یہ سب کیا ہے؟ حکومت کی عوام دشمن اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف منظم ہو کر جدوجہد کرنا، ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا، اپنے حقوق کے لیے لوگوں کو متحرک کرنا…یہ تمام اقدامات اگر سیاست نہیں تو پھر کیا ہیں؟
ان تمام اقدامات کا اگر کھوج لگایا جائے تو ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے:’’آپ کو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، لیکن سیاست کو آپ سے دلچسپی ضرور ہے۔‘‘ یہ محض ایک خوبصورت یا گہرا فقرہ نہیں بلکہ ہمارے روزمرہ اجتماعی تجربے کا نچوڑ ہے۔
پھر یہ سوال دوبارہ ذہن میں گردش کرتا ہے کہ آخر سیاست ہے کیا؟ یہ سوال ہماری انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی کے روزمرہ اعمال سے جڑا ہوا ہے۔ ایک طبقاتی سماج میں حکمران طبقات کی سیاست ان کے ذاتی اور طبقاتی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ جبکہ محنت کش طبقے کے لیے سیاست محض کسی انتخابی نشان، جماعت یا پارلیمانی بحث کا نام نہیں۔ یہ اس کی زندگی اور موت کا معاملہ ہوتی ہے۔ حکمران طبقات چونکہ ذرائع پیداوار کی ملکیت رکھتے ہیں لہٰذا اس ملکیت کے تحفظ کے لیے ریاست کا ادارہ تشکیل دیا گیا۔ ریاست کو بظاہر ایسا ادارہ بتایا جاتا ہے جو حاکم و محکوم، ظالم و مظلوم، جابر و مجبور افراد کے درمیان صلح، امن اور توازن قائم کرنے کے لیے وجود میں آتا ہے۔ لیکن طبقاتی سماج کی حقیقت اس تصور سے یکسر مختلف ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ محنت کش طبقات کے استحصال اور ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کے تحفظ کے لیے مسلح افراد کے جتھے ہی ریاست ہوتی ہے۔ جو محنت کش طبقات کو جبر کے ذریعے کچلتی ہے۔ لہٰذا ایک طبقاتی سماج‘ بالخصوص موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں محنت کش طبقات کو صرف اتنی اجرت دی جاتی ہے کہ وہ زندہ رہ سکیں اور ہر روز کسی ادارے، کسی فیکٹری یا کسی دوسرے ملک میں اپنی قوتِ محنت فروخت کر سکیں۔ اور روزگار دینے والے بھی محنت کشوں کو روزگار دیتے وقت احسان جتلاتے ہیں۔ گویا محنت کش اپنی محنت نہیں بلکہ کسی خیرات کے بدلے اپنی زندگی گزار رہا ہو۔
سرمایہ داری میں معاشی پالیسیاں اس انداز میں ترتیب دی جاتی ہیں کہ بے روزگاروں کی ایک ایسی ’’ریزرو فوج‘‘ موجود رہے جسے معاشی دائرہ کار کے پھیلنے کے وقت استعمال کیا جا سکے۔ اور جو مزدور روزگار پر موجود ہیں ان کے ذہن میں بھی غیر محسوس انداز سے یہ بات سرایت کرائی جاتی ہے کہ اگر اجرت میں اضافے یا دیگر مراعات کی بات کرو گے تو ہم تمہاری جگہ کم اجرت پر دوسرے مزدور رکھ کر معاشی پہیہ رواں دواں رکھ سکتے ہیں۔ یعنی ایک طرف بے روزگاری کی اذیت اور دوسری طرف روزگار چھن جانے کا خوف۔ یہی خوف سرمایہ دارانہ نظام کے پہیے کو مسلسل حرکت میں رکھنے کے لیے ایک خاموش ہتھیار کا کردار ادا کرتا ہے۔
روزگار، اجرت میں اضافہ، اوقاتِ کار میں کمی اور دیگر مراعات سرمایہ داری نے محنت کش طبقے کو پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیں۔ محنت کشوں نے یونین سازی کی، اپنی سیاسی پارٹیاں بنائیں، جدوجہد کی، اوقاتِ کار میں کمی کے لیے آواز بلند کی، اجرتوں میں اضافے کے لیے لڑائیاں لڑیں اور کٹوتیوں و دیگر نوعیت کے استحصال کے خلاف صف بندی کی۔ اس جدوجہد میں انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور یوں تھوڑی بہت مراعات حاصل کیں۔ ان مراعات کے حصول کے لیے جو عملی جدوجہد کی گئی، وہ سارا عمل سیاسی ہی تھا۔ اور اگر یہ سیاست نہیں تو پھر سیاست آخر ہے کیا؟
بنیادی سوال یہ ہے کہ رائج الوقت سیاست وردی والوں کی ہو، کسی جماعت کی ہو، یا مختلف جماعتوں اور حاوی طاقتوں کے مشترکہ گٹھ جوڑ سے بننے والی حکومت ہو… ان تمام حکومتوں اور ان کی مرتب کردہ پالیسیوں کے نتیجے میں ہر گزرتا دن آبادی کی 90 سے 95 فیصد اکثریت کے لیے بہتری تو دور کی بات، عذابِ مسلسل سے کم نہیں۔ حکمران طبقات کی انہی معاشی اور اقتصادی پالیسیوں کے باعث ہر گزرتا دن عوام کے لیے ایک نئے بوجھ، ایک نئے بحران اور ایک نئی محرومی کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ حکمران طبقات کی اسی بے حسی کو دیکھتے ہوئے رائج الوقت سیاست سے دوری اور بیگانگی سماج میں سرایت کر چکی ہے۔
لیکن یہاں ایک عجیب تضاد ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ عوامی مسائل پر بننے والی کمیٹیاں ہوں یا کسی سرکاری یا نجی ادارے کے محنت کشوں کو درپیش مسائل کے خلاف منظم ہونا، کارنر میٹنگ کرنا، مطالبات کے لیے پمفلٹ لکھنا، مختلف مقامات پر احتجاج کرنا، اپنے مطالبات اربابِ اختیار تک پہنچانا اور ان کے حصول کے لیے جدوجہد کرناہو۔ یہ سب سیاسی کام ہی ہے۔ اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ سیاست کہاں موجود ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاست کو کس طبقے کے مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں کس طبقے کی سیاست کی بات ہو رہی ہے۔ اور شاید ’’ہم غیر سیاسی ہیں‘‘ کا نعرہ بھی اسی مقام پر اپنا حقیقی مفہوم ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ جب محنت کش اپنی اجرت، روزگار، پنشن، اوقاتِ کار، یونین کے حق، تعلیم، صحت اور زندگی کے دوسرے بنیادی مطالبات کے لیے منظم ہوتا ہے تو وہ اپنے مسائل کے ذریعے براہِ راست سماج کے اقتدار، معیشت اور پالیسیوں سے ٹکراتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہی حقیقی سیاست ہے۔
نکتہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا بحران اس بند گلی میں داخل ہو چکا ہے کہ اس نظام میں بربریت اور وحشت معمول بنتی جا رہی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو سرمایہ داری کے چنگل سے سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے آزادی دلائی جائے اور محنت کش طبقے کو درپیش بنیادی مسائل سے نجات دلانے کے لیے ایک نئے سماجی نظام کی بنیاد رکھی جائے۔ ذرائع پیداوار کی بے مثال بڑھوتری، آلاتِ پیداوار کی جدت اور دنیا میں موجود ہزاروں ارب ڈالر کی دولت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ان وسائل کی ملکیت اور تقسیم کے سماجی رشتوں کا ہے۔ اگر ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کے رشتوں کو ختم کر کے ایک منصوبہ بند معیشت کی بنیاد رکھی جائے اور اجتماعی مفاد کو سماج کی معاشی و سیاسی زندگی کا مرکز بنایا جائے تو ایک ایسی دنیا کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے جہاں انسان انسان کا استحصال کرنے کے بجائے انسانیت کی آزادی، خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنے۔
ایک ایسی اجتماعی قیادت جو محنت کش طبقے کی جدوجہد سے جنم لے اور ایک ایسی مارکسی پارٹی جو اس جدوجہد کو شعوری انقلابی سمت فراہم کرے، اس نئے سماج کی تعمیر میں تاریخی کردار ادا کر سکتی ہے۔ کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ ہم ’’غیر سیاسی‘‘ ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری سیاست کس کے مفاد کے لیے ہے؟ حکمران طبقے کے مفاد کے لیے یا محنت کش انسان کے لیے؟ استحصال کے تحفظ کے لیے یا استحصال کے خاتمے کے لیے؟ نجی ملکیت کی بالادستی کے لیے یا اجتماعی خوشحالی کے لیے؟ یہیں سے ’’ہم غیر سیاسی ہیں‘‘ کا پردہ اٹھتا ہے اور سیاست اپنی حقیقی شکل میں ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ اور شاید اسی مقام پر ہمیں یہ فیصلہ نہیں بلکہ یہ تاریخی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی خود سیاسی ہے، کیونکہ انسان جس سماج میں زندہ رہتا ہے اس سماج کے معاشی‘ سیاسی رشتے اس کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتے ہیں۔ لہٰذا محنت کش طبقے کے لیے سیاست سے فرار کوئی حل نہیں۔ اسے اپنی سیاست خود تشکیل دینا ہوگی۔ ایک ایسی سیاست جو روٹی، روزگار، تعلیم، صحت، عزت، آزادی اور انسانی وقار سے جڑی ہو۔ ایک ایسی سیاست جس کے ذریعے وہ صرف اپنے آج کو نہیں بلکہ اپنے آنے والے کل کو بھی بدلنے کی جدوجہد کرے۔ اور ایک ایسے سماج کی تعمیر کے لیے جدوجہد کرے جس کے لیے جیا بھی جا سکے اور مرا بھی جا سکے۔
