بابر پطرس
اس دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ محنت کشوں کی زندگی تلخ ہوتی جا رہی ہے۔ ان حالات میں دو ہی راہیں بچتی ہیں۔ یا تو انفرادی سطح پر کسی کیفے میں چھپ کر فکر معاش کو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا کر جی لیا جائے۔ یہ بنیادی طور پر راہِ فرار ہے۔ اِس زمانے کی نام نہاد محبتوں سے لے کر قنوطیت اور منشیات تک‘ اس کی کئی شکلیں اور طریقے ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک دوسرا راستہ بھی ہے کہ اس فرسودہ سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کی استحصالی خصلت کا ادراک کر کے اسے بدلنے کی جدوجہد کی جائے۔
پہلی طرز کی زندگی کے لیے انسان کا بے حس ہونا بہت ضروری ہے۔ جب کہ دوسری راہ‘ مشقت طلب اور صبر آزما ہے۔ جس کے لیے استقامت، عاجزی، مستقل مزاجی، درست نظریہ، ٹھوس معروضی تجزیہ اور معقول لائحہ عمل لازمی شرائط ہیں۔ ورنہ انسان کچھ رد و بدل کے ساتھ اسی جگہ واپس آن کھڑا ہوتا ہے جہاں سے اس نے سفر کا آغاز کیا تھا۔ بلکہ افراد اور معاشرے اس سے بھی پیچھے چلے جاتے ہیں۔
بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کی مثالیں اس کے زندہ ثبوت ہیں۔ ان تحریکوں میں نوجوانوں کی براہِ راست شمولیت، ان کی جدوجہد اور ان کی قربانیاں لائق تحسین ہیں۔ ان پر ’’بیرونی‘‘ سازش کا الزام لگانے والے سمجھنے سے قاصر ہیں کہ محض سازشوں کے ذریعے تحریکوں کو نہ ابھارا جا سکتا ہے‘ نہ منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ بالعموم گرتا ہوا معیارِ زندگی، جبر، استحصال، مہنگائی، بے روزگاری اور تاریک مستقبل کا خوف وہ عوامل ہوتے ہیں جو تحریکوں کے پھٹنے کا سبب بنتے ہیں۔
لیکن ایسے واقعات صرف پسماندہ معیشتوں سے مخصوص نہیں ہیں۔ بلکہ سرمایہ داری کے نامیاتی معاشی بحران کے پیش نظر یہ نظام ترقی یافتہ ملکوں میں بھی لوگوں کو بہتر زندگی فراہم کرنے میں ناکام ہوتا جا رہا ہے۔ مثلاً حالیہ دنوں میں پیرس کے ایک ہائی سکول کی خستہ حال عمارت اور اساتذہ کی کمی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج فرانس کی ایک بڑی طلبہ تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
7 اور 8 اکتوبر 2026ء کو بیلجیم کے مشرقی شہر لیج میں سینکڑوں سکولوں کالجوں کے طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس نے درجنوں طلبہ کو گرفتار کیا، توڑ پھوڑ ہوئی اور کئی جگہوں کو آگ لگائی گئی۔ وجہ یہ تھی کہ حکومت نے یونیورسٹی فیس 835 یورو سے بڑھا کر 1194 یورو کر دی تھی۔ یوں غریب خاندانوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو گیا۔
7 اکتوبر ہی کو امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی کے طلبہ نے ’’Justice for Jane Doe‘‘ کے نعرے کے تحت مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی طالبہ کے حق میں احتجاج کیا۔ اس میں اہم بات کسی ایک یونیورسٹی کے چند طلبہ کا انتظامیہ کے خلاف دھرنا نہیں بلکہ ایک ترقی یافتہ سپر پاور ملک کے نظام میں اس معاملے کو دو سال تک دبائے جانے کے الزامات ہیں۔ متاثرہ طالبہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس کے 120 صفحات کے بیان کو 6 صفحات میں بدل دیا اور بیان سے ’ریپ‘ کا لفظ ہی حذف کر دیا۔
اسی طرح جنوبی کوریا میں 9 اکتوبر کو ملک کی تین سب سے بڑی اساتذہ یونینوں نے نیشنل اسمبلی کے سامنے بڑا جلسہ کیا۔ جس میں طلبہ بھی شریک تھے۔ وہ تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں کے نئے قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
7 اکتوبر کو ہزاروں طلبہ نے ریو ڈی جنیرو (برازیل) میں مارچ کیا جس کا نعرہ ’’Bolsonaro Never Again‘‘ تھا۔ برازیل میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں انتہائی دائیں بازو کے سابقہ صدر بولسونارو کو 47.03 فیصد ووٹوں کے ساتھ موجودہ صدر لولا ڈی سلوا پر برتری حاصل ہے۔ یوں 25 اکتوبر کے دوسرے مرحلے میں اس کی دوبارہ جیت بعید از قیاس نہیں ہے۔ برازیل کے محنت کشوں اور طلبہ کو ڈر ہے کہ اگر بولسونارو جیت گیا تو تعلیمی و فلاحی بجٹ میں بہت بڑی کٹوتیاں ہوں گی اور ریاستی جبر بڑھے گا۔ کیونکہ ٹرمپ کی خصلتوں والا بولسونارو اپنے انتخابی جلسوں میں قینچی سے کٹوتی کا نشان بنا کر یہ عندیہ پیشگی دے چکا ہے۔ یقیناً اس کی ممکنہ جیت نہ صرف بحیثیت مجموعی محنت کش طبقے بلکہ سیاہ فاموں، نسلی اقلیتوں، خواتین اور متفرق صنفوں کے حقوق کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔
اس سے قبل یکم اکتوبر 2026ء کو ہزاروں طلبہ نے چلی کے دارالحکومت سینٹیاگو میں صدر خوسے انتونیو کاست کے خلاف احتجاج کیا۔ کاست کا 2027ء کے بجٹ میں تعلیم کے اخراجات میں کٹوتیوں کا منصوبہ ہے۔
اسی طرح بھارت میں ترقی پسند طلبہ وزیر تعلیم سے استعفیٰ لینے کے چند ہفتوں بعد ہی اب چیف الیکشن کمیشنر کے استعفے کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
سپین بھی مکانوں کے بڑھتے ہوئے کرایوں کی وجہ سے احتجاج کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ جبکہ ہمارے خطے میں طبقاتی و قومی حقوق کے لیے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عوام کی انتہائی جرات مندانہ جدوجہد اپنے اسباق کے ساتھ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
چند دنوں یا ہفتوں میں احتجاجوں کا یہ سلسلہ تیزی سے پوری دنیا میں پھیلا ہے۔ لہٰذا یہ واقعات مشاہدے اور تجزیے کے متقاضی ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پوری دنیا میں نوجوان نسل سڑکوں پر اور اقتدار کے عالی شان ایوانوں کے سامنے صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے؟
غور کیا جائے تو کرہ ارض کے تمام خطوں میں ہونے والے یہ احتجاج تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ حیران کن حد تک آپس میں مماثل ہیں۔ ان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریاستیں سرمایہ داری کے نامیاتی بحران کا شکار ہیں۔ دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز، کم اجرتوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ شرح منافع کے حصول کا پاگل پن، ڈاؤن سائزنگ، نجکاری، بڑھتے ہوئے قرضے، بجٹ خساروں کا گہرا ہوتا بحران، پیداواری شعبوں میں گرتی ہوئی سرمایہ کاری، آف شور کمپنیوں میں دولت کے انبار اور فوری منافع کمانے کی نفسیات نے نسل انسان سمیت پوری دنیا کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ آج کی سرمایہ داری اپنے کلاسیکی عہد سے بالکل مختلف ہے۔ لہٰذا آج کے عہد میں سرمایہ کاری کی کلاسیکی طرزیں بھی ناممکن اور ناقابل عمل ہیں۔ آج کا زیادہ تر سرمایہ دار کارخانوں کی تعمیر اور پھر پیداوار کی شروعات اور ترسیل کے طویل اور غیری یقینی جھنجٹ میں پڑنا پسند نہیں کرتا۔ معیشت پہلے ہی پیداواری سرمایہ کاری کی شرح منافع میں گراوٹ اور زائد پیداوار کے بحران کا شکار ہے۔ پہلے سے دیوہیکل اجارہ داریاں موجود ہیں۔ منڈیوں پر شدید دباؤ ہے۔ اسی لئے زیادہ سرمایہ کاری غیر پیداواری شعبوں یعنی سٹاک ایکسچینج، پراپرٹی (رئیل اسٹیٹ) اور مالیاتی اداروں وغیرہ میں ہوتی ہے۔ جہاں سٹّے اور ہیر پھر کے ذریعے کم وقت میں زیادہ منافع کمانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ریاستوں کے پاس اپنے بجٹ خساروں سے نمٹنے کے دو ہی حل ہیں: ۱) امیروں پر براہِ راست ٹیکس لگانا ۲) بالواسطہ ٹیکس اور کٹوتیاں (یا افراطِ زر سمیت خساروں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے دوسرے طریقے)۔
پہلا طریقہ بڑی حد تک ناقابل عمل ہو چکا ہے۔ منافعوں کے مارجن پہلے ہی سکڑ رہے ہیں۔ مزید برآں اگر کوئی ’’ایمان دار‘‘ یا عوام دوست حکومت ایسا کرنا بھی چاہے تو سرمایہ دار اپنا سرمایہ دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے۔ اس صورت میں دوسرا طریقہ ہی کارگر ثابت ہوتا ہے۔ جس میں سارا بوجھ محنت کشوں کی جیب پر ڈال دیا جاتا ہے اور پبلک اداروں کا بجٹ کم کرتے کرتے بتدریج انہیں بیچ دیا جاتا ہے۔ پبلک سیکٹر کا بڑا حصہ بک جانے کے بعد موجودہ حالات میں ہسپتال اور تعلیمی شعبہ جات ہی باقی بچتے ہیں۔
یہی وجوہات ہیں کہ پوری دنیا اس وقت احتجاجوں کی لپیٹ میں ہے۔ اور اس میں نئی نسل ہراول کردار ادا کر رہی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ رائج قدروں سمیت ہر مروجہ ادارے پر سوالیہ نشان لگانے والے نوجوان گلیوں، محلوں، سڑکوں اور بازاروں میں اپنی نفرت کا اظہار تو کر رہے ہیں۔ لیکن متبادل اداروں کی تشکیل کی سائنس سے بڑی حد تک ناآشنا ہیں۔
مارکس نے واضح کیا تھا کہ بنی بنائی ریاستی مشینری کے اوپر مزدور ریاست کو استوار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے محض چہروں کی تبدیلی یا استعفے حاصل کر لینے بلکہ حکومتوں تک کو گرا دینے سے بھی محرومیوں کا مداوا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مراحل یا وقتی کامیابیاں یقیناً اہم ہوتی ہیں۔ لیکن محض ان پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ طبقاتی نظام باقی رہے تو استحصال اور جبر کی شکلیں ہی بدلتی ہیں۔ حالات تبدیل نہیں ہوتے۔
حکومتوں کے بجٹ خسارے، قرضے، اشیا کی بڑھتی قیمتیں، مستقل بے روزگاری اور دولت کا چند ہاتھوں میں سمٹ آنا سماج کے تمام محروم طبقات میں عدم اطمینان کو جنم دے رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کا تمام مروجہ اداروں سے اعتماد اٹھ جانا اور بغاوتوں میں براہِ راست شرکت بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ وہ سرمایہ داری کے بحران کو عوامی فلاح و بہبود کی قیمت پر حل کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن ان حالات میں انقلابی سوشلزم کے سائنسی نظریات کی علمبردار بین الاقوامی انقلابی پارٹی، جو مزدوروں، کسانوں، بے روز گار نوجوانوں، طلبہ اور دوسرے محروم طبقات کے تاریخی مفادات کا تحفظ کر سکے، کا سوال بے نظیر اہمیت کا حامل ہو چکا ہے اور اس کے جواب کی جدوجہد ہی راہ نجات ہے۔
