انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ

انقلابی کیوبا اور اس کی سماجی کامیابیاں (جنہوں نے کبھی دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا اور ان کی ہمدردی حاصل کی تھی) اب بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ کئی دہائیوں سے جاری سامراجی ناکہ بندی اور ایک جابرانہ، افسر شاہانہ، یک جماعتی نظام نے معاشی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے، ماضی کی حاصلات کو تباہ کر دیا ہے اور کیوبا کے عوام کو درپیش مشکلات کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا دیا ہے۔

منڈی کی معیشت کی جانب سفر ایک طویل عرصے سے جاری تھا۔ لیکن رواں سال جون میں اقدامات کے ایک پیکیج کے نفاذ نے اس عمل میں ایک معیاری جست پیدا کی ہے۔ ہم اب سرمایہ داری کی بحالی کی جانب ایک تیز رفتار منتقلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ افسر شاہانہ شکل اختیار کر چکی مزدور ریاست اب تقریباً ناقابلِ شناخت ہو چکی ہے۔ ہم آج ایک ایسی مزدور ریاست کے سامنے کھڑے ہیں جو تحلیل کے عمل سے گزر رہی ہے۔

امریکی سامراجی ناکہ بندی بلاشبہ کیوبا کی معیشت پر دباؤ کا ایک مستقل ذریعہ رہی ہے۔ تاہم موجودہ صورتِ حال کی وضاحت محض اس ناکہ بندی سے نہیں کی جا سکتی (ان لوگوں کے دعووں کے برعکس جو کیوبا کی رجیم کا اندھا دھند دفاع کرتے ہیں، یعنی ’’کیمپسٹ‘‘)۔ کیوبا آج اس ناکامی کے نتائج بھگت رہا ہے کہ سوشلسٹ انقلاب کو قومی سرحدوں سے آگے بڑھانے کا کوئی تصور پیش نہیں کیا گیا۔ جب یہ چیز ایجنڈے پر تھی تو نکاراگوا اور ایل سلواڈور میں پیش قدمی نہیں کی گئی۔ اور حالیہ عرصے میں وینزویلا میں بھی ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ معاملات کو افسر شاہانہ انداز میں چلانے کا نتیجہ ہے۔ جس میں مزدوروں اور وسیع تر عوام کی حقیقی شرکت نہیں تھی۔ اس کے بجائے عدم اطمینان کے ہر اظہار کو دبایا گیا۔ آخری تجزئیے میں یہ سب کچھ حکمران پرت کی مراعات کو محنت کش آبادی کی قیمت پر محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا نتیجہ ہے۔

اسی پس منظر میں میگوئل دیاز کانیل کی حکومت نے جون 2026ء میں منڈی نواز 176 اقدامات پر مشتمل ایک پیکیج کا اعلان کیا۔ جو حالیہ برسوں میں نافذ کی جانے والی تمام معاشی اصلاحات سے کہیں بڑھ کر ہے۔

گہرا ہوتا ہوا بحران

نئے اقدامات کی وسعت اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے کیوبا کی موجودہ صورتِ حال کا تجزیہ کرنا ہو گا۔

کیوبا ایک گہرے معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قلت، مہنگائی، ایندھن کی کمی اور توانائی کے مسائل روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ بجلی کی بندش (لوڈ شیڈنگ) میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور آبادی کے مختلف حصوں کو کئی مرتبہ طویل عرصے تک بجلی کے بغیر رہنا پڑا ہے۔

اس صورتِ حال کے ساتھ آمدنی میں بھی مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ قیمتوں میں اضافے اور ایسی منڈی کے پھیلاؤ کے باعث جس پر غیر ملکی کرنسی میں ہونے والے لین دین اور نجی شعبے کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے، سرکاری اجرتوں کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس بحران کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ ریاستی افسر شاہی، جمہوری آزادیوں پر پابندیاں اور حزبِ اختلاف و احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں نے بڑھتی ہوئی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ بالخصوص نوجوانوں میں۔

نوجوان نسل کا ایک حصہ حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہا ہے اور اس تصور کو مسترد کر رہا ہے کہ موجودہ صورتِ حال ہی سوشلزم کا واحد ممکنہ نمونہ ہے۔

اس پس منظر میں دو عمل بیک وقت جاری ہیں۔ ایک طرف امریکہ کیوبا کے خلاف اپنی ناکہ بندی اور پابندیوں کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں مزید سخت کر رہا ہے۔ جبکہ حکومت پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا رہا ہے۔ وینزویلا کی مثال کے پیشِ نظر اس دباؤ کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب کیوبا کا معاشی ماڈل تیزی سے بڑھتے زوال اور فرسودگی کے آثار ظاہر کر رہا ہے۔ اس بحران کی وضاحت محض سامراجی ناکہ بندی سے نہیں کی جا سکتی۔ یہ کئی دہائیوں سے جاری افسر شاہانہ انتظام، کم پیداواری صلاحیت، بیرونی انحصار (پہلے سوویت یونین اور حالیہ سالوں میں وینزویلا پر)، انقلاب کو آگے بڑھانے سے انکار اور مزدور جمہوریت کے طریقہ کار کی عدم موجودگی سے پیدا ہونے والی حدود کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

نتیجتاً صورتِ حال انتہائی پیچیدہ ہے: کیوبا کے عوام کو مسلسل گہرے ہوتے ہوئے بحران کا سامنا ہے۔ جبکہ حکومت اس کا جواب منڈی کے طریقہ کار اور نجی سرمائے کو مواقع کی وسعت سے دے رہی ہے۔ اسی دوران سامراج کے ساتھ باہمی رضامندی پر مبنی حل کے لیے مذاکرات بھی کر رہی ہے۔

176 اقدامات: سرمایہ دارانہ بحالی کی جانب ایک بڑی جست

یہ پیکیج ان اصلاحات کو مزید گہرا کرتا ہے جو ایک طویل عرصے سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ 2011ء کی معاشی رہنما ہدایات اور2021ء کا نام نہاد ’’آرڈرنگ ٹاسک‘‘ بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔ اب نجی شعبے کی توسیع، کاروباری اداروں کو زیادہ خودمختاری، معیشت کو غیر ملکی سرمائے کے لیے کھولنے اور معاشی فیصلہ سازی کو مزید غیر مرکزیت دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی تجارت پر ریاستی اجارہ داری کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ جبکہ معیشت کو نجی بینکاری کے لیے کھولا جا رہا ہے۔

معاشی سرگرمیوں اور ذرائع پیداوار (جو باضابطہ طور پر اب بھی ریاستی ملکیت میں ہیں) کے غیر ریاستی انتظام کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں معیشت کا ایک بڑھتا ہوا حصہ نجی طریقہ کار کے ذریعے چلایا جا سکے گا۔

ریاستی ملکیت کے اداروں اور ’OSDEs‘ (کاروباری انتظام کی اعلیٰ تنظیمیں، جو ریاستی اداروں کو باہم مربوط اور منظم کرتی ہیں) کی خودمختاری کو بھی مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔ اب انہیں اجرتوں، تنظیمِ نو، انضمام، تحلیل اور دیگر معاملات کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ یہ معاملات اس سے قبل زیادہ تر مرکزی ریاستی منصوبہ بندی کے تابع تھے۔ لیکن اس نظام کو اب ختم کیا جا رہا ہے۔

ایک اور اہم تبدیلی ریاستی ملکیت میں موجود اداروں کو حصص یا ایکویٹی میں شراکت کی بنیاد پر تجارتی کمپنیوں میں تبدیل کرنے کا امکان ہے۔ اس سے ریاستی معیشت کے مختلف شعبوں کی بتدریج تبدیلی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

نجی سرمائے کے لیے مزید گنجائش

یہ اقدامات نجی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے ترقی کے مواقع میں بھی نمایاں توسیع کرتے ہیں۔

ایک فرد کو بیک وقت متعدد کاروباروں میں حصہ لینے کی اجازت دینے والی شرائط کو مزید نرم کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ملازمین کی خدمات حاصل کرنے اور کاروباری سرگرمیوں میں تنوع پیدا کرنے کے مواقع بھی بڑھائے جا رہے ہیں۔ نجی کاروباری اداروں کے لیے 100 ملازمین کی حد ختم کر دی گئی ہے۔ جس سے بڑے پیمانے پر نجی کاروبار قائم کرنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

اسی دوران معیشت کے مختلف شعبوں میں غیر ملکی سرمائے کی شمولیت کے امکانات اور ملکی نجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے مواقع کو بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔ مالیاتی نظام بھی اس تبدیلی سے متاثر ہو رہا ہے، جہاں نجی طریقوں، غیر ملکی کرنسی میں لین دین اور لین دین کے نئے طریقوں کے لیے زیادہ گنجائش پیدا کی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر یہ محض کسی مخصوص معاشی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے الگ تھلگ اقدامات نہیں ہیں۔ یہ ایک طویل عرصے سے جاری رجحان کو مزید گہرا کرتے ہیں: کیوبا کی معیشت میں منڈی اور نجی شعبے کی توسیع اور اس کے ساتھ ساتھ مرکزی نوعیت کے معاشی ماڈل کو ختم کرنے کا عمل۔

ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ حکومت نے 2026ء کے فرمان نمبر 160 کے ذریعے آزاد ٹریڈ یونین سازی پر عائد قانونی پابندی کی دوبارہ توثیق کی ہے۔ جس سے ریاست نواز کیوبا ورکرز سینٹرل (CTC) کی اجارہ داری مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ اس کا مقصد سرمایہ کاروں کو سستی اور قابو میں رکھی گئی لیبر کی یقینی فراہمی کی ضمانت دینا ہے۔

قیمت عوام کو چکانی پڑ رہی ہے!

منڈی اور نجی سرمائے کے لیے معیشت کو کھولنے کا دوسرا پہلو محنت کشوں اور عوامی طبقات پر عائد کیا جانے والا آسٹیریٹی کا بوجھ ہے۔

تمام شہریوں کو حاصل سبسڈیوں کو بتدریج ہدف بنانا، اشیا پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ، نئے ٹیکسوں کا نفاذ، صحت و تعلیم کے شعبوں میں اخراجات میں کٹوتی اور اس کے ساتھ دیگر معاشی تنظیمِ نو کے اقدامات بحران کی لاگت کا ایک نمایاں حصہ ان لوگوں پر منتقل کر رہے ہیں جو اپنی اجرتوں پر زندگی گزارتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں ایسے معاشرے میں ہو رہی ہیں جہاں آمدن پہلے ہی روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اصلاحات بحران سے نمٹنے اور پابندیوں کے مقابلے میں سوشلسٹ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم نجی شعبے کی توسیع، غیر ملکی سرمائے کے لیے معیشت کا کھولا جانا اور ریاستی منصوبہ بندی و ملکیت کے نظام کو بتدریج ختم کیا جانا اس کے برعکس سمت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

کیوبا کدھر؟

جب تک کوئی انقلابی عمل نہیں ابھرتا‘ ایک ایسا عمل جو افسر شاہانہ پرت کا مقابلہ کرے، انقلاب کی حاصلات اور کامیابیوں کو بحال اور مزید گہرا کرے اور باقی لاطینی امریکہ سے سامراج کا مقابلہ کرنے اور انقلاب کو پھیلانے کی اپیل کرے‘ تب تک زیادہ امکان کم و بیش تیزی سے سرمایہ داری کی بحالی کا ہی ہے۔

سامراج اور افسر شاہی‘ دونوں اس جانب بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ فی الوقت ایسی کوئی سماجی یا سیاسی قوت موجود نہیں جس کا زور اس عمل کو روکنے کے لیے کافی ہو۔

کیا یہ حکومت کیوبا کو ایک ریاستی سرمایہ دارانہ نظام میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی جس میں خود افسر شاہی ایک نئی بورژوازی میں تبدیل ہو جائے اور ساتھ ہی چین کی طرح ایک جابرانہ، یک جماعتی نظام کے ذریعے اپنا کنٹرول بھی برقرار رکھ پائے؟ یا اسے بزورِ قوت اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا؟ اس امکان کے پیشِ نظر کیا وہ معیشت کا کنٹرول سامراج کے حوالے کر دے گی‘ جیسا کہ وینزویلا نے کیا ہے؟

اس وقت سامراج حکومت کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ میں شدت پیدا کر رہا ہے اور اسے کامیابی بھی ملنا شروع ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ (سامراجی) مداخلت کا خطرہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ اگرچہ فی الحال یہ سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ نہیں ہے۔

کیوبا کے سماجی بحران کا حل سرمایہ داری کی بحالی سے نہیں نکلے گا۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہو گا کہ جزیرہ دوبارہ اس دور میں چلا جائے گا جب امریکی کارپوریشنوں نے وہاں جی بھر کے من مانیاں کیں اور مقامی آبادی کا بے رحمی سے استحصال کیا۔

تاہم موجودہ ماڈل کا دفاع بھی آگے بڑھنے کا کوئی راستہ فراہم نہیں کرتا۔ انقلاب کی سماجی حاصلات، جو اب یا تو ختم ہو چکی ہیں یا ختم ہونے کے قریب ہیں، صرف سامراج اور حکمران افسر شاہی‘ دونوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہی دوبارہ جیتی اور مزید مستحکم کی جا سکتی ہیں۔

انقلابی سوشلسٹ نقطہ نظر سے حل ایک گہری سیاسی تبدیلی میں مضمر ہے: حکمران افسر شاہی کو اقتدار سے ہٹایا جائے اور مزدور جمہوریت پر مبنی ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں سیاسی آزادیاں، تنظیم سازی اور احتجاج کا حق اور معاشی و سیاسی فیصلہ سازی میں مزدوروں کی مؤثر شرکت شامل ہو۔

ایک حقیقی مزدور ریاست کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ محنت کش طبقہ جمہوری طور پر منتخب اور کسی بھی وقت واپس بلائے جا سکنے والی مزدور کونسلوں، مزدور ملیشیا اور مزدوروں کے کنٹرول میں ایک جمہوری طور پر منصوبہ بند معیشت کے ذریعے براہِ راست حکمرانی کرے۔ ان اداروں کو محض اوپر سے اعلان کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں بیوروکریسی اور اس کی سرمایہ دارانہ بحالی کی جانب پیش قدمی کے خلاف مزدوروں اور مظلوم طبقات کی جدوجہد کے ذریعے تشکیل پانا ہو گا۔ اور یوں انہیں ایک نئے انقلابی اقتدار کے اداروں کی شکل اختیار کرنی ہو گی۔

لیکن اس مقصد کا حصول ایک نئے انقلاب کا تقاضا کرے گا۔ ایسا انقلاب جو ریاست کے طبقاتی کردار کو تبدیل کیے بغیر موجودہ رجیم کو تبدیل کرے۔ ساتھ ہی اس عمل کی قیادت کرنے کے لیے ایک انقلابی متبادل کی بھی ضرورت ہو گی۔

حالیہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام میں بے چینی اور متحرک ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ 2021ء کے احتجاج اس عمل کے ایک حصے کی عکاسی کرتے تھے۔ اس کے بعد سے سیاسی سرگرمی کی نئی شکلیں اور بائیں بازو کے مختلف حلقے ابھرے ہیں۔ جو کیوبا کے اندر اور باہر سے انقلاب کے (سرکاری) مفہوم کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بہت سے کیوبن باشندوں کے لیے ’’سوشلسٹ راستہ‘‘ اس حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے جس میں وہ اس وقت زندگی گزار رہے ہیں۔ اور وہ اس کی حدود و قیود کے باعث فطری طور پر اسے مسترد کرتے ہیں۔ لہٰذا ایک متبادل کی تعمیر کے لیے نہ صرف سامراجی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا ضروری ہے بلکہ انقلاب کی ازسرِنو تعریف بھی کرنا ہو گی اور اسے موجودہ رجیم سے ممتاز کرنا ہو گا۔ وہ رجیم جس کا اس انقلابی سوشلزم سے کوئی تعلق نہیں جسے تعمیر کیا جانا چاہیے۔

اس حوالے سے ایسی تنظیمیں ابھری ہیں جو خود کو مارکسسٹ، سرمایہ داری مخالف، بین الاقوامیت پسند اور آمریت مخالف قرار دیتی ہیں اور سماجی حاصلات کے دفاع کے ساتھ ساتھ جمہوری حقوق، تنظیم سازی، احتجاج کی آزادی اور کیوبا کی موجودہ حکومت سے سیاسی آزادی کی وکالت کرتی ہیں۔ لیکن ایسی تنظیمیں تاحال بہت چھوٹی ہیں۔

عین اسی وقت ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سامراج اور اس کے حلیف کیوبا کے اندر سرگرمِ عمل ہیں اور سماجی احتجاج کو سرمایہ داری کی بحالی کی جانب موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس کا حل محض سامراجی ناکہ بندی اور سرمایہ دارانہ بحالی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انقلاب کے نجات بخش جوہر کو دوبارہ حاصل کرنا، افسر شاہانہ مراعات کا خاتمہ کرنا اور کیوبا کے محنت کشوں اور عوام کو ایک بار پھر فیصلہ سازی کے مرکز میں لانا ضروری ہے۔

اس نقطہ نظر سے ایک سیاسی، جمہوری اور انٹرنیشنلسٹ انقلاب ہی سماجی حاصلات کے دفاع اور کیوبا کو بحران سے نکالنے کے لیے ایک انقلابی راستہ تشکیل دینے کا واحد ذریعہ ہے۔

اس سلسلے میں انٹرنیشنلسٹ نقطہ نظر کو دوبارہ زندہ کرنا انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ کوئی بھی انقلاب ایک ہی مقام تک محدود رہتے ہوئے لامحدود مدت تک خود کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ لاطینی امریکہ اور دنیا بھر کے محنت کشوں اور عوام کے درمیان یکجہتی اور قومی سرحدوں سے آگے سوشلسٹ تبدیلی کی جدوجہد کو وسعت دینا… سامراج کا مقابلہ کرنے اور حقیقی آزادی پر مبنی حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے یہ بنیادی شرائط ہیں۔

کیوبا کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی!
سامراجی ناکہ بندی مردہ باد!
ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت کو شکست دی جائے!
ٹریڈ یونینوں، سماجی اور سیاسی سطح پر تنظیم سازی کی مکمل آزادی!
حکمران طبقے کی مراعات مردہ باد!
محنت کش عوام کی کونسلوں کے قیام کے لیے جدوجہد کرو!
مکمل مزدور جمہوریت کے ساتھ ایک سوشلسٹ کیوبا کے لیے جدوجہد کرو!
پورے خطے میں سوشلزم ہی سامراجی بربریت کا متبادل ہے!

بین الاقوامی ایگزیکٹو کمیٹی
انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ
27 ستمبر 2026ء