گستاوو گارشیا
فرانس میں نوجوانوں کا غصہ پھٹ پڑا ہے۔ اپنی تعلیم اور روزمرہ زندگی کے بگڑتے ہوئے حالات کا سامنا کرنے والے ہائی سکول کے طلبہ نے ایک جارحانہ انداز اختیار کر لیا ہے اور ملک بھر کے ہائی سکولوں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے۔ طلبہ اسمبلیوں کے انعقاد، سکولوں پر منظم قبضوں اور سڑکوں کی ناکہ بندی کے ذریعے ہائی سکول کے طلبہ نچلی سطح سے منظم ہو رہے ہیں اور ان مسائل کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں جنہوں نے سرکاری تعلیم کے نظام کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
ان مسائل میں اساتذہ کی برطرفیوں اور کلاسیں ختم کیے جانے کے نتیجے میں کلاس رومز میں حد سے زیادہ طلبہ کا ہونا، فرنیچر کی کمی، سکولوں کے بوسیدہ ہوتے ہوئے بنیادی ڈھانچے اور شدید درجہ حرارت سے نمٹنے کے لیے ناموزوں عمارتیں شامل ہیں۔ ”سردیوں میں ہم ٹھٹھرتے ہیں اور گرمیوں میں جھلسنے لگتے ہیں۔“ اس کے ساتھ ساتھ سکولوں کی کینٹینوں کی سہولیات اور وہاں فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار میں بھی مسلسل گراوٹ آ رہی ہے۔
سرکاری تعلیم کے اس ساختی زوال پر میکرون حکومت کی جانب سے نافذ کی جانے والی مسلسل سماجی درجہ بندی مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ اس کا ایک اہم ذریعہ ”Parcoursup“ ہے۔ یہ ایک آن لائن پلیٹ فارم ہے جو طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ کی بنیاد پر انہیں یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے مختص کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت انتہائی دائیں بازو کے ساتھ مل کر ہائی سکولوں میں عبایہ اور حجاب کے خلاف رجعت پسندانہ مہمات بھی چلا رہی ہے۔
یہی وہ پس منظر ہے جس کے باعث گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہائی سکولوں کے اطراف طلبہ کی قیادت میں اچانک پھوٹ پڑنے والے احتجاج اور ناکہ بندیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ طلبہ خود کچرا، کچرے کے ڈبے اور جو کچھ بھی ان کے ہاتھ لگتا ہے‘ اسے جلا رہے ہیں تاکہ ان ناکہ بندیوں کو مؤثر بنایا جا سکے اور سب سے بڑھ کر اس غصے کا اظہار کیا جا سکے جو برسوں سے جاری ادارہ جاتی تشدد، آسٹیریٹی اور زندگی کے بگڑتے ہوئے حالات کے نتیجے میں ان کے اندر جمع ہوتا رہا ہے۔
معیاری اور باعزت تعلیمی حالات کی فراہمی، لوگوں کو سماجی دھارے سے باہر نکالنے اور طبقاتی تقسیم کو گہرا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے فلٹرز کے خاتمے اور تعلیمی ضروریات کے مطابق مناسب بجٹ کے مطالبات کے جواب میں حکومت کا ردِعمل انتہائی سخت رہا ہے۔ اس نے ایک بے رحمانہ اور غیر معمولی کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ پولیس فورسز نے تعلیمی اداروں کے کیمپسز کا گھیراؤ کیا، آنسو گیس کے شیل فائر کیے، من مانے انداز میں گرفتاریاں کیں اور بغاوت کرنے والے نوجوانوں کو خوفزدہ کرنے کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کی۔
احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک 5,000 سے زائد گرفتاریاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ جبکہ کریک ڈاؤن کے دوران چار طلبہ کو ایسے گہرے زخم آئے ہیں جن کے اثرات مستقل رہیں گے۔
طلبہ کے مطالبات بالکل جائز ہیں اور وہ اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ ناکہ بندیوں کی حمایت کے لیے مزدوروں اور طلبہ کے درمیان اتحاد قائم کیا جائے، زیر حراست افراد کی رہائی اور ان کے خلاف عائد فوجداری مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائے اور ہڑتالی مزدوروں کے ساتھ مل کر یکجا وار کیا جائے۔
اسی لیے 6 اور 17 اکتوبر کو منعقد ہونے والے مشترکہ مظاہرے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ تمام کارخانوں، کام کی جگہوں اور تعلیمی اداروں میں ان مظاہروں کی تشہیر اور انہیں منظم کرنے کے لیے بھرپور کام کریں۔
معاشی بحران، کم اجرتیں اور زندگی کے بگڑتے حالات
تعلیم اور نوجوانوں پر ہونے والے حملوں کے ساتھ ساتھ معاشی بحران بھی محنت کش طبقے کے گھرانوں کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں محنت کش خاندانوں کی قوتِ خرید میں کمی آئی ہے اور اندازہ ہے کہ 2024ء سے اب تک انہیں سالانہ تقریباً 1,200 یورو کا نقصان ہو چکا ہے۔
یہ رجحان بنیادی طور پر مہنگائی کے مجموعی اثرات کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ 2022ء اور 2023ء میں ریکارڈ کی گئی سطح کے مقابلے میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہوئی ہے۔ تاہم ضروری اشیا اور خدمات (سروسز) جیسے خوراک، توانائی اور رہائش کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔
اجرتوں اور سماجی مراعات میں لازمی اخراجات کی رفتار کے مطابق اضافہ نہیں ہوا۔ ان لازمی اخراجات میں کرایہ یا رہن کی اقساط، بجلی، گیس، ایندھن اور انشورنس وغیرہ شامل ہیں۔ اس صورتِ حال کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے خاندانوں پر پڑتا ہے۔ کیونکہ زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے پاس مالی گنجائش پہلے ہی بہت محدود ہوتی ہے۔
اس پس منظر میں کام کے حالات تیزی سے ابتر ہو رہے ہیں۔ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں استحصال میں شدت آ رہی ہے۔ محنت کشوں کی تعداد میں کمی کی جا رہی ہے اور نام نہاد ”کثیر الجہتی ذمہ داری“ کے بہانے زیادہ گھنٹے کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اصل میں یہ ملازمتوں کے عدم تحفظ کو مزید گہرا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ ریٹائرمنٹ کی عمر یا مدتِ ملازمت طویل کی جا رہی ہے جبکہ آمدنی منجمد کی جا رہی ہے۔
اس کی تازہ مثال 2027ء کے مجوزہ بجٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جس میں حکومت نے مسلسل چوتھے سال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے انڈیکس کو منجمد رکھنے کی تصدیق کی ہے۔ یوں حکومت دراصل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ بجٹ خسارے کی قیمت بدستور محنت کشوں کو ہی ادا کرنی چاہیے۔
اس صورتِ حال نے سوشل میڈیا پر 2025ء کی طرز پر خودرو عوامی موبلائزیشن کو جنم دیا ہے۔ تاہم اس بار ان سرگرمیوں میں میکرون اور اس کے حلیفوں کی پالیسیوں کے خلاف پیلی جیکٹوں (Yellow Vests) والوں کی جدوجہد کی دوبارہ ابھرتی ہوئی بازگشت براہِ راست سنائی دے رہی ہے اور 17 اکتوبر کو پورے فرانس میں مظاہروں کی کال دی جا رہی ہے۔
مشترکہ جدوجہد اور نچلی سطح سے باہم رابطہ کاری و تنظیم سازی
طلبہ کے مطالبات منوانے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ مزدوروں اور طلبہ کے درمیان ایسا اتحاد قائم کیا جائے جو ناکہ بندیوں کی حمایت کرے، زیر حراست افراد کی فوری رہائی اور ان کے خلاف عائد فوجداری مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ کرے اور ہڑتالی مزدوروں کے ساتھ مل کر متحرک ہو۔
محنت کش طبقہ بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھا۔ اس کا ثبوت گزشتہ ہفتے نقل و حمل کے شعبے کے کارکنوں کی قیادت میں ہونے والی ہڑتالوں سے ملتا ہے۔ جن میں ’SNCF‘ اور ’RATP‘ دونوں کے کارکن شامل تھے۔ اسی طرح 29 ستمبر کو سرکاری ملازمین کی ہڑتال ہوئی۔ جس میں ملک بھر میں 3 لاکھ سے زائد افراد نے زیادہ وسائل اور تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے کے ساتھ شرکت کی۔ حتیٰ کہ گزشتہ ہفتے 3 اکتوبر کو پرائیڈ مارچ میں شریک ہونے والے پانچ لاکھ افراد نے بھی انتہائی دائیں بازو کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔
ہمیں مئی 1968ء کا بھوت دوبارہ منڈلاتا نظر آ رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے احتجاجوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدوجہد کا جذبہ اب بھی پوری طرح موجود ہے۔ تاہم الگ تھلگ کارروائیاں اور یونین بیوروکریسیوں کی جانب سے وقفے وقفے سے دی جانے والی علامتی 24 گھنٹے کی ہڑتالیں مالکان کی حکومت کو پسپائی پر مجبور کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ کمزوری اس وقت اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے جب انتخابات میں صرف چند ماہ باقی رہ گئے ہیں اور انتہائی دایاں بازو ایک بڑے سیاسی حریف کے طور پر ابھر رہا ہے۔
اس نازک مرحلے پر سب سے فوری کام داخلی تقسیم اور انتشار پر قابو پانا ہے۔ ہمیں نچلی سطح سے جدوجہدوں کو متحد اور مربوط کرنا ہو گا۔ اس کے لیے ہر سکول، ہر کالج اور ہر کام کی جگہ پر عام اجلاس منعقد کیے جائیں، ہڑتالی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور مشترکہ رابطے و رابطہ کاری کے ادارے قائم کیے جائیں۔ صرف اسی طریقے سے ہم بکھرے ہوئے غصے کو ایسی منظم قوت میں تبدیل کر سکتے ہیں جو میکرون کے آسٹیریٹی اقدامات کو روکنے، بجٹ میں کٹوتیوں کو ناکام بنانے اور ایک باعزت زندگی گزارنے کے اپنے حق کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
فرانس جل رہا ہے… اور یہ آگ نیچے سے بھڑک رہی ہے۔ اگر نوجوان‘ مزدوروں اور ریٹائرڈ افراد کے ساتھ مل کر اس نظام کے بحران کا سب سے بھاری بوجھ اٹھا رہے ہیں تو اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی جدوجہدوں کو باہم مربوط کریں۔ تاکہ مالکان، ان کی حکومت اور ان کے سیاسی و یونین حلیف بھی اس آگ کی لپیٹ میں آئیں۔
