اویس قرنی

گزشتہ چار دہائیوں کے سیاسی اندھیر میں طلبہ کی دو نسلیں جوان ہوئی ہیں۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں ترقی پسند طلبہ کے زبردست احتجاجوں کی بدولت طلبہ یونین ایک دفعہ پھر موضوعِ بحث ضرور بنی ہے۔ لیکن یہ ابھی تک کام کا ایک حصہ ہی ر ہا ہے۔ طلبہ یونین پر اخباروں، ٹیلی وژن و سوشل میڈیا پر بحثوں کا آغاز ہوا اور طلبہ سمیت معاشرے کی ہر پرت میں یہ سوال از سر نو ابھرا۔ لیکن آج بھی طلبہ کا یہ سوال کہ ”طلبہ سیاست کیوں؟“ بالکل جائز ہے۔ یہ اپنے اندر ایک بلند تر شعور کا اظہار بھی ہے۔ آج کے طلبہ صرف نعروں اور احتجاجوں سے متاثر ہو کر محض جذباتی طور پر سرگرمیوں کا حصہ بننے سے زیادہ سوچ، سمجھ اور سوال کر کے میدان عمل میں اترنے کے خواہاں ہیں۔ یہ سوال جتنی اہمیت کا حامل ہے اس سے کہیں زیادہ اہم اس کا جواب ہے۔ جو بنیادی طور پر آج کے انقلابی طلبہ کی اولین ذمہ داری بن جاتی ہے۔

سیاست کو تو ویسے ہی ایک گالی اور دھوکہ دہی کا نام بنا دیا گیا ہے اور طلبہ سیاست تو صرف انتظامیہ کی کاسہ لیسی، خوشامد، غنڈہ گردی، دھونس اور بدمعاشی کی ہی آئینہ دار تصور ہوتی ہے۔ آج کے طلبہ ایسی سیاست میں حصہ ہی کیوں ڈالیں جو ان کی آنکھوں کے سامنے سوائے دھونس اور بدمعاشی کے کچھ بھی نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ طلبہ سیاست کی یہ حالیہ شکل حکمران طبقے کی شعوری واردات ہے۔ ورنہ طلبہ سیاست ایسی کبھی نہ تھی۔ بلکہ طلبہ سیاست کا ماضی ہی حکمرانوں کے لئے ایک ایسا ڈراؤنا خواب ہے جس کی تعبیر سے پہلے انہوں نے اس عظیم روایت کو کچل ڈالا۔ جس کی قیمت آج پورا معاشرہ چکا رہا ہے۔ لیکن یہ حکمرانوں کے لئے منافع بخش سودا تھا۔

تعلیم جیسے عظیم شعبے کو آج دیگر چیزوں کی طرح مارکیٹ میں بکنے والی ایک چیز بنا دیا گیا ہے۔ تعلیم کی نجکاری کے ذریعے تعلیمی اداروں کی فروخت میں ہر دور حکومت کی سیاسی پارٹیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ فعال طلبہ یونین جیسی دیوہیکل طاقت کی موجودگی میں تعلیم کا یہ گھناؤنا کاروبار ناقابل عمل تھا۔ عالمی اداروں کی مرتب کردہ نیو لبرل پالیسیوں کے نفاذ کے لئے لازم تھا کہ طلبہ یونین اور طلبہ سیاست کے امکانات کو ہی مٹا دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ضیا آمریت کی لگائی گئی پابندی کو کوئی بھی جمہوری حکومت ہٹانے سے گریزاں رہی۔ بلکہ طلبہ یونین پر پابندی کا سب سے بڑا فائدہ یہاں کی نام نہاد جمہوریت کی علمبردار قیادتوں کو ہوا۔ ایک طرف مزاحمت کے استوار ہونے کا راستہ ہی ختم کر دیا گیا تو دوسری جانب سرمائے کی بھیانک پالیسیوں کو نافذ کیا گیا اور آج تعلیم کا کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ آج تمام بڑے شہروں کے پلازوں میں ”اعلیٰ تعلیمی ادارے“ نوٹ چھاپنے کی مشینیں بن گئے ہیں۔ وہ مقدس ادارے جہاں سے مستقبل کی استواری ہونی تھی آج دھندوں کے اڈے ہیں۔ آج کے تعلیمی اداروں کا آرکیٹکچر دیکھ کر ہی انسان ہیجان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ زندگی ایک افراتفری سی معلوم ہوتی ہے۔ عمودی زاویوں پر استوار کمروں کے ڈربوں میں نئی سوچیں کیسے پروان چڑھ سکتی ہیں۔ گو کہ پرانے تعلیمی اداروں کا حال بھی زیادہ مختلف نہیں لیکن چند بچ جانے والے اداروں پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو کالجوں، یونیورسٹیوں‘ حتیٰ کہ سکولوں کے وسیع و عریض گراؤنڈوں اور کھلے اور پر فضا کمروں میں ایک سکون اور طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ ایسے میں منافع کی ہوس پر علم اور تعلیم کی فوقیت کو منوانے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔ ہر فرد کی مفت اور معیاری تعلیم تک رسائی اور تعلیم کے اس دھندے کو روکنے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔ طلبہ سیاست اس لئے بھی ضروری ہے کہ آئے روز کالجوں اور یونیورسٹیوں کی فیسوں میں اضافے کو بند کر ڈالا جائے۔

پرائیویٹ تعلیم ادارے مسلسل فیسوں میں اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی سالانہ بنیادوں پر فیسوں میں مسلسل اضافہ کیا جاتا ہے۔ تعلیم کے بجٹ میں مسلسل کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ ملکی معیشت جو اپنے جنم سے ہی بیساکھیوں کے سہارے کھڑی کی گئی تھی آج بستر مرگ پر ہے۔ مہنگائی اور افراط زر میں مسلسل اضافے کے پیش نظر عام عوام سے تعلیم کا حق چھینا جا رہا ہے۔ آج والدین کو ایک بچہ پڑھانے کے لئے باقیوں کا مستقبل قربان کرنا پڑتا ہے۔ تعلیم کی مفت فراہمی کے بنیادی حق کو یہاں کے محنت کشوں نے ایک لڑائی لڑ کر تسلیم کرایا تھا اور آئین کا حصہ بنوایا تھا۔ آج اس حق کے حصول کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔جو ڈھائی کروڑ ننھے چراغ تعلیم کی لو سے بے بہر سڑکوں کے کوڑا دانوں کی خاک چھاننے یا کسی فیکٹری و کارخانے کا ایندھن بننے یا کسی گھر میں ملازم بن کر ذلت اور تشدد سہنے اور مالکوں کی جوٹھن کھانے پر مجبور ہیں‘ ان تک تعلیم کے بنیادی حق کی رسائی کے لئے طلبہ سیاست لازم ہے۔

آج طلبہ سیاست اس لئے بھی ضروری ہے کہ خود نوجوان اپنی زندگی جی سکیں۔ زندگی کو صرف گزاریں نہیں۔ آج کا تعلیمی نظام نوجوانوں سے زندگی کی ہر رعنائی چھین رہا ہے۔ سمسٹر سسٹم نے فرصت کا ہر لمحہ چھین لیا ہے۔ چھ مہینوں کے سمسٹر میں ہر وقت طالبعلم یا کسی امتحان میں ہوتا ہے یا متوقع امتحان کی تیاری کر رہا ہوتا ہے اور اس دوران اسائنمنٹس، پراجیکٹس اور کوئزز وغیرہ کا مسلسل تناؤبرقرار رہتا ہے۔ نوجوانوں کو مشین بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اجاگر کرنے سے عاری یہ نظام تعلیم مکمل طور پر انسانوں کی شکل میں مشینی پْرزے تخلیق کر رہا ہے۔ اس کے خلاف سوچنا اور عمل کرنا ہی طلبہ سیاست ہے۔ فرصت کے لمحے آج عیاشی ہیں۔ اس وقت میں خود اپنے لئے وقت نکالنا محال ہے۔ اپنی زندگی کے حسین لمحات اس نظام سے چھیننے کے لئے آج طلبہ سیاست ضروری ہے۔

یہ نظام ِتعلیم چند پروفیسروں اور انتظامیہ کے کارندوں کو یہ طاقت فراہم کرتا ہے کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ اپنی مرضی کے مطابق کریں۔ حاضری سے لے کر مِڈ ٹرم اور انٹرنل اور فائنل تک کے نمبر مجبور کر دیتے ہیں کہ طلبا و طالبات مطیع ہو جائیں۔ کوئی ایسی بات نہ کریں جو ’سر‘ یا ’میڈم‘ کو ناگوار گزرے۔ اور وہ جو بھی آپ پر ناگوار گزرنے والی حرکات کریں اس کو چپ چاپ سہا جائے۔ اس اذیت اور بے بسی کا ذکر کرنا تو شاید آسان ہے لیکن اس اذیت سے گزرنے والوں کے زخم کبھی بھی نہیں بھرتے۔ طلبہ ذہنی مریض بن جاتے ہیں اور پھر باقی ماندہ زندگیوں میں دوسروں کو ایسے رویوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ آج کے تعلیمی نظام میں اگر اس ہراسانی کے خلاف کوئی بولنے کا سوچے بھی تو اس سے بھی پہلے اپنے مستقبل کا سوچے۔ اپنے گھر اور اپنے وجود کا سوچے۔ بڑا مشکل ہو تا ہے برداشت کرنا لیکن یہاں کی خصوصاً طالبات یہ سب برداشت کرنے اور گھٹن میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں عزتیں پامال ہوتی ہیں۔ اس درندگی اور سفاکیت کو روکنے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔ حالیہ واقعات کی روشنی میں تو بات صرف ہراسانی تک بھی محدود نہیں بلکہ اب اداروں میں موجود درندے آپ کی عصمتیں لوٹ کر آپ کی لاشوں کو کمروں میں لٹکا دیتے ہیں اور پھر ساری ریاستی مشینری اس قتل عام کو خودکشیوں کا نام دیتی ہے۔ اس درندگی سے آزادی کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔

رجعت اور بنیاد پرستی کا جو زہر جنرل ضیا کے دور میں گھولا گیا تھا آج اس کے اثرات سماج کا تانا بانا توڑ رہے ہیں۔ وہ دہشت جس کی آبیاری یہاں کے حکمران طبقات نے دہائیوں سے کی آج افغانستان میں وحشت کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ طلبہ سیاست کو مجروح کرنے کے لئے انتظامیہ اور حکمرانوں نے جس جمعیت کے منہ کو خون لگایا آج وہ فسطائیت بن کر اپنا اظہار کر رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں دھونس اور بدمعاشی کو مذہب کا چولا پہنایا گیا۔ ریاستی سرپرستی میں غنڈہ گردی اور اسلحے کو فروغ دیا گیا۔ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی طرف سے ایسی کالی طاقتوں کا خصوصی خیال رکھا گیا۔ لیکن آج یہ سب دم توڑ رہا ہے۔ یہاں کے طلبہ نے رجعت کو ایک نظریے کے طور کبھی قبول نہیں کیا۔ اس رجعت کے ریاست اور انتظامیہ کے زیر سایہ پھلنے پھولنے کی ایک عمر تھی‘جو تمام ہو رہی ہے۔ جب جب طلبہ نے یک جان ہو کر ان عناصر کا مقابلہ کیا تب تب رجعتی عناصر کی جعلی ہیبت کا پردہ چاک ہوا ہے۔ آج تعلیمی اداروں میں رجعتی عناصر کی غنڈہ گردی دراصل بوکھلاہٹ ہے جس کے ذریعے یہ اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ کھوکھلی رجعت زیادہ وحشت پر آمادہ ہے۔ لیکن اس رجعت کو شکست کسی گروہی انداز میں نہیں دی جا سکتی۔ لسانی و قومی تقسیم ہمیشہ حکمرانوں کے لئے ہی سود مند رہی ہے۔ جمعیت کی فسطائیت کو شکست صرف طلبہ کی طبقاتی جڑت سے ہی دی جا سکتی ہے اور اسی جڑت اور جرات کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔

طلبہ کی منظم طاقت سے خوفزہ حکمران طبقات نے ایک منظم سازش کے ذریعے انہیں تقسیم در تقسیم کیا۔ قوم، زبان، صنف، مذہب اور ثقافت کو تعصبات میں بدل کے مختلف رنگوں کے پھولوں کے گلستان کو ویرانے میں بدل دیا گیا۔ یکجہتی کو توڑا گیا اور نفرتوں کی آبیاری کی گئی۔ لڑائی جھگڑوں کو انتظامیہ اور حکمرانوں کی آشیرباد حاصل ہوتی ہے لیکن باہمی کھیل اور ثقافتی میل جول پر پابندیاں ہیں۔ طلبہ کی جڑت کو یقینی بنانا ہی طلبہ سیاست کا نصب العین ہے۔ ایک ایسا ماحول کہ جہاں ہر ثقافت اپنی منفرد خاصیت کے ساتھ دیگر ثقافتوں سے ہم آہنگ ہو۔ جہاں سْر سنگیت کا تبادلہ ہو۔ بیت بازی جیسے لطیف مقابلے ہوں۔ کھیلوں کو میدان جنگ کی بجائے ایک مثبت سرگرمی میں ڈھالا جائے۔ یہ احساس ہی تو طلبہ سیاست کی بنیاد ہے۔

ہاسٹلوں کی رونقیں بحال کرنے کے لئے بھی طلبہ سیاست ضروری ہے۔ کیمپس کی زندگی کے سب سے حسین لمحات ہاسٹلوں کے کمروں اور بالکنیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن آج تو ہاسٹل ملنا ہی غنیمت ہے۔ اول تو تعلیمی اداروں کے ہاسٹل ہیں ہی نہیں۔ جس پر پھر ایک پورا پرائیویٹ ہاسٹلوں کا مافیا پلتا ہے اور جہاں ابھی تک ہاسٹلوں کی سہولت میسر ہے وہاں کے کمرے کسی ویران حویلی کے گوداموں کا تاثر دیتے ہیں۔ کمرے کی صلاحیت سے دو گنا طلبہ کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسا جاتا ہے۔ نہ سردی میں گرمی کی سہولت ہے اورنہ جھلسا دینے والی گرمیوں میں ٹھندک کا کوئی بندوبست۔ اوپر سے لوڈشیڈنگ ایک مسلسل عذاب ہے جس میں مستقبل کی معماروں کو پڑھنے کی سزا دی جا رہی ہوتی ہے۔ میس کی کیفیت زیادہ دگر گوں ہے۔ جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں ایک پورا ڈھابہ کلچر استوار ہوا تھا۔ آج اس پر بھی قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔ ہاسٹل کسی جیل کا منظر نامہ پیش کرتے ہیں اور ہاسٹل انچارج خود کو جیل وارڈن سمجھتے ہیں۔ شام ہوتے ہی گیٹ پر تالے ایسے نصب کر دیئے جاتے ہیں جیسے کوئی آجڑی شام کے وقت اپنے مویشیوں کو ٹھکانے لگاتا ہے۔ وقت کی اس بندش کا کوئی مناسب جواز ہی نہیں بنتا۔ طالبات کے لئے تو یہ بندش ایک سزا کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ سب قدغنیں صرف شعور کو مسخ کرنے اور سماجی و ثقافتی گھٹن کو بڑھانے کے لئے لگائی جاتی ہیں۔ اچھی، معیاری، صحت بخش اور جدید سہولیات سے آراستہ رہائش اور کھانا ہر طالبعلم کا بنیادی حق ہے جس کی آواز طلبہ سیاست ہے۔

ایک وقت تھا جب یونیورسٹیوں کے پوائنٹس سے یہاں کے عام ضرورت مند شہری بھی مستفید ہوتے تھے۔ یونیورسٹیوں کی بسیں بڑی بڑی پرائیوٹ کمپنیوں کی بسوں سے کہیں زیادہ بہتر اور آرام دہ ہوا کرتی تھیں۔ لیکن آج کی بسوں کی حالت زار دیگر تمام شعبہ جات کی طرح دگر گوں ہے۔ نہ طلبہ کی تعداد کے اعتبار سے بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور نہ ان کی مناسب مرمتیں ہوئیں۔ انتظامیہ کی ملی بھگت میں اس شعبے کی کرپشن کی ایک الگ ہی داستان ہے۔ لیکن آج کی بسیں چلتے پھرتے موت بانٹ رہی ہیں۔ آئے روز کسی طالبعلم کی بس کی خستہ حالی کے سبب موت کی خبر سننے کو ملتی ہے۔ اس جرم کے خلاف بولنے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہو چکی ہے۔

کیمپس کو دوبارہ زندگی بخشنے کے لئے طلبہ سیاست لازم ہے۔ آج کے کیمپس کسی چھاؤنی کا منظر دیتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو سماج سے کاٹ کر گھٹی ہوئی دنیا بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ کیمپس ایسے بھی نہ ہوتے تھے۔ بلکہ کیمپس تو زندگی کی وہ حسیں تجربہ گاہ تھے جہاں سوچوں کو نئے افق ملتے تھے۔ زندگانی کو نئے زاویے ملتے تھے۔ محبتوں اور یارانوں کی داستانیں رقم ہو تی تھیں۔ لٹریچر اور ادب کے شاہکار جنم لیتے تھے۔ لیکن آج سب بنجر ہے۔ ایک اندھی دوڑ ہے جس میں سب ہانکے جا رہے ہیں۔ مقابلہ بازی کی نفسیات کو پروان چڑھانے جیسے قابل نفرت اقدام آج کے کیمپس کی خاصیتیں ہیں۔ کہیں مل بیٹھ نہیں سکتے۔ کہیں گنگنا نہیں سکتے۔ سوچوں پر پہرے ہیں اور محبتوں پر قدغنیں۔ جتنا جبر کیمپس سے باہر ہے اس کے کہیں زیادہ اندر ہے۔ نہ یہاں کی تعلیم عہد نو کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ ایک وقتی جگاڑ ہے جس کے بعد ایک لمبی اور نہ ختم ہونے والی اذیت ناک داستان کا آغاز ہے۔ ان اذیتوں سے چھٹکارے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔ سوچوں پر لگے پہرے ہٹانے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔

یہاں کے حکمران طبقے نے ہم سے ہماری تاریخ چھین لی ہے۔ ہر وہ رجعت جو اس جابر نظام کی غلامی سکھائے کو تعلیم میں ٹھونسا گیا۔ قومی، صنفی و لسانی تعصبات اور شدت پسندانہ رحجانات سے کتابوں کو داغدار کر دیا گیا ہے اور محکوموں کی ہر مزاحمت کو تاریخ سے ہی خارج کر دیا گیا۔ اس سر زمین پر مظلوموں و محکوموں کی ایسی بغاوتیں رہی ہیں جنہوں نے جابر حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔ یہاں کے محنت کشوں نے آمریتوں تک کے تختے الٹے۔ لیکن ہمارے درخشاں ماضی کو حکمرانوں نے یاداشتوں سے مٹا کر رکھ دیا ہے۔ ہر موقع پرست اور غدار کو ہیرو بنا دیا گیا ہے ا ور اصل سورماؤں کے نام تک حذف کر لیے گئے۔ اپنے اصل ماضی کو تاریخ کے پنوں پر لانے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔ آج کی نئی نسل کو اپنے محنت کش اجداد کی جرات و طاقت کا ادارک کرانے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔ 68-69ء کے عظیم دنوں کو دوبارہ عمومی شعور میں اجاگر کرنے کے لئے یہ سیاست ضروری ہے۔ وہ ان گنت سرکش دماغ جنہوں نے جبر اور ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جوانیاں لٹائیں اور اپنی جانیں تک قربان کیں ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔

طلبہ سیاست اس لئے بھی ضروری ہے کہ آئندہ کوئی مشال خان کہیں درندگی کا نشانہ نہ بنے۔ کوئی حیات بلوچ بے موت نہ مارا جائے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ کوئی جنید حفیظ جیسا استاد پس زندان نہ ہو۔ یہ اس لئے بھی لازم ہے کہ کسی نمرتا کے قتل پر خود کشی کا ٹھپہ نہ لگ سکے۔ یہ اس لئے بھی اہم ہے کہ کوئی ہیجان زدہ ذہن بے بسی میں اپنی زندگی کا ہی انت نہ کر دے۔ سب سے بڑھ کر جینے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔ آج کے نوجوان کی زندگی کا المیہ بے مقصدیت کا ہے۔ کوئی بڑے خواب نہیں۔ کوئی بڑی سوچ نہیں۔ چہرے اترے ہوئے ہیں اور ایک اذیت ناک خاموشی ہے۔ مستقبل کی سوچ ڈراؤنے منظر پیش کرتی ہے۔ روزگار، خاندان، ازدواجیت سے بڑھ کر کچھ سوچنے کی ہمت کسی میں نہیں۔ ایک عجیب افراتفری ہے جس میں صرف جگاڑ اور انفرادیت پنپ رہی ہے۔ صرف اپنی سوچ میں سبھی غرق ہیں اور ہر طرف تاریکی ہے۔ رشتے، ناتے، محبتیں، یاریاں اور واسطے سبھی جعلی ہیں۔ یہ زندگی نہیں ہے۔ یہ اس متروک نظام کا پیدا کردہ ایک ہیجان ہے۔ اس ہیجان سے چھٹکارے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔ معاشرے میں زندہ رہنے کا حق ادا کرنے کے لئے طلبہ سیاست ضروری ہے۔

طلبہ سیاست کی اہم کڑی طلبہ یونین ہے۔ آج کی نسل یونین کی افادیت تو درکنار یونین کے نام اور کردار سے ہی بے بہرہ ہے۔ آج کے نوجوانوں کی وسیع اکثریت کی سیاست میں عدم دلچسپی محض کوئی اتفاق نہیں بلکہ اس کی سائنسی وجوہات موجود ہیں۔ ان وجوہات کے ادراک کے بغیر نوجوانوں کو کوسا تو جا سکتا ہے، ان کی ملامت تو کی جاسکتی ہے مگر حقوق کی لڑائی کو اپنی تئیں منظم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی کے محرکات کو سمجھے بغیر طلبہ یونین بحالی کی جدوجہد کو نہ تو منظم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی حقیقی معنوں میں طلبہ کی شمولیت پر مبنی یونین کا وجود بحال ہو سکتا ہے۔ سندھ حکومت کی طرف سے طلبہ یونین بحالی کی قرارداد کی منظوری حالیہ طلبہ یونین بحالی تحریک کی ایک ناقابل فراموش لیکن جزوی کامیابی ہے۔لیکن حکمران جماعتوں کے یہ اقدامات بھی تضادات سے لبریز ہیں۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں کی فیسوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ہاسٹل، میس، انٹر نیٹ اور پانی کی سہولیات سمیت ہر بنیادی ضرورت ناپید ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے ہاسٹلوں کو دیگر اداروں کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے۔ طلبہ کی گرفتاریاں اور اغوا معمول بن گیا ہے۔ طلبہ کے خلاف سکیورٹی فورسز اور پولیس کا تشدد ایک معمول بن گیا ہے۔ آئے دن گرفتاریاں ہیں اور مقدمے دائر کیے جا رہے ہیں۔

طلبہ یونین پر پابندی محض طلبہ کے خلاف کوئی تادیبی یا بدلے کی بنیاد پر کاروائی نہیں تھی۔ ہاں! ضیا آمریت کو ایک بڑی طلبہ تحریک کا خوف ضرور لاحق تھا جس کی بنیاد پر اس نے یہ انتہائی آمرانہ اقدام کیا۔ لیکن جس طرح عالمی منظر نامہ بدلا اور سوویت یونین ٹوٹا، چین سرمایہ دارانہ بحالی کی جانب بڑھا اور بھارت میں منڈی کو کھولا گیا اس کے ساتھ ہی عالمی پیمانے پر مالیاتی سرمائے کا تسلط بھی بڑھتا گیا۔ جس طرح آئی ایم ایف کی ایما پر محنت کشوں کی حاصلات کو چھینا گیا، بینک، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کے حامل عوامی اداروں کو بیچنے اور نجکاری کے عمل کا آغاز ہوا اسی طرز پر ہی صحت اور تعلیم کو بنیادی ضروریات سے دھندے کی جانب دھکیلنا مقصود تھا۔ ایک منظم طلبہ یونین کی موجودگی میں تعلیم کی لبرلائزیشن ایک ناقابل عمل منصوبہ بن جاتا۔ آئی ایم ایف کی ایما پر ریاست کو تعلیم کی ذمہ داری سے ماورا ہونا تھا۔ یہی تسلسل تھا کہ آج تعلیم ایک عیاشی تصور ہوتی ہے۔ ایک منظم طلبہ یونین کی موجودگی میں حکمرانوں کا یہ مکروہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا تھا اور حکمران طبقات کے لئے بھی یہ سب اچانک کرنا ناممکن تھا۔ آمر کی لگائی پابندی سے ملنے والی حاصلات کا جو خون یہاں کی جمہوری حکومتوں کے منہ کو لگا اس کے پیش نظر سیاسی پارٹیوں نے بھی اس پابندی کو نہ صرف بدستور جاری رکھا بلکہ ڈھکے چھپے انداز میں طلبہ کے اجتماعی شعور پر وہ کاری ضربیں لگائیں جو شاید آمریت کے بس کی بات بھی نہیں تھی۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو بنیادی طور پر طلبہ یونین بحالی اور آئی ایم ایف جیسے سامراجی اداروں کے خلاف جدوجہد باہم جڑی ہوئی ہے۔ آج جہاں سیاسی پارٹیاں طلبہ حقوق کی علم برادر بنی ہوئی ہے عین اسی وقت ایوانوں میں قومی اداروں کو آئی ایم ایف کے قدموں میں گروی رکھنے کے حق میں بھی قراردیں منظور کروانے میں اپنا کرادر ادا کر رہی ہیں۔ یہ ایک ہی وقت میں انتہائی متضاد سمیت کی کشتیوں میں سوار ہیں۔ یہاں محنت کشوں اور طلبہ کی حقیقی نمائندگی کے لئے لازم ہے کہ سامراج اور عالمی مالیاتی اداروں کے طوق کو گلے سے اتار پھینکا جائے۔ لیکن اسی طوق کو تو یہاں کے حکمرانوں کا ہر دھڑا گلے کا ہار سمجھتا ہے۔ یہاں سول سپرمیسی اور جمہوریت کا راگ الاپنے والے سارے کے ساروں کے پاس آئی ایم ایف کے پیکیج کے علاوہ کوئی معاشی پروگرام ہے ہی نہیں۔ نواز لیگ سے لے کر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف تک سبھی کا یہی نسخہ اور نظریہ ہے۔ معیشت قرضوں میں غرق ہے۔ موجودہ حاکمیت میں صحت کو تقریباً نجی اداروں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یہی حشر تعلیم کا بھی ہے۔ یہاں پابندیاں محض اعلانات و قراردادوں سے ختم نہیں ہوتیں بلکہ اعلانات و قراردادوں کے پیچھے کوئی گھناؤنی واردات کارفرما ہوتی ہے۔ یہاں کے حکمران طبقات بھی بخوبی جانتے ہیں کہ وہ طلبہ کے سیاسی شعور کو جس قدر مسخ کر چکے ہیں ان کے اعلانات اور قراردادوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ ہاں البتہ ایسے اقدامات کے پس پردہ ان کے کچھ عزائم کی تکمیل یقینی ہو سکتی ہے۔ لیکن شعور چاہے جتنا بھی پست کیوں نہ ہو مخصوص وقتوں میں چھلانگیں لگا کر کہیں زیادہ ایڈوانس بھی ہو جاتا ہے۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اس لئے نیم جمود کے ادوار میں حکمران طبقہ کبھی بھی مخصوص مطالبات کے گرد بننے والی تحریک کے عروج کے وقتوں میں فوری طور پر مکمل ہار تسلیم نہیں کرتا بلکہ مختلف حیلوں بہانوں سے تحریک کو کند کرتا ہے۔ کبھی جزوی مطالبات بھی تسلیم ہوتے ہیں۔ جس سے تحریک کا زور وقتی طور پر ٹوٹتا ہے اور یہ زور توڑنے کے لئے ہی حکمران طبقہ جزوی ہار تسلیم کر لیتا ہے۔ کیونکہ اگر مخصوص مطالبات کے گرد بننے والی تحریک کو فوری اور مکمل کامیابی حاصل ہو جائے تو تحریک کے مطالبات بھی وسیع ہونا شروع جاتے ہیں اور ایک کے بعد ایک مطالبے کے گرد تحریک وسیع تر عوامی بنیادیں اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ محنت کش طبقات کی ہراول پرتوں کو اپنے اندر سمونا شروع کر دیتی ہے۔ یہی ادوار فیصلہ کن ہوتے ہیں جن میں پسے ہوئے محکوم طبقات اپنا مقدر پھر اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے طاقتور ترین دشمن کو بھی زیر کر دیتے ہیں۔

یہ قدر تمام انقلابی تحریکوں میں مشترک نظر آتی ہے۔ معمولی مطالبات سے شروع ہونے والی تحریکیں وسیع تر ہوتی ہوئیں دہائیوں پر محیط آمریت کو بھی اکھاڑ کر پھینک سکتی ہیں۔ پاکستان کے 68-69ء کے ادھورے انقلاب کی یہی داستان ہے۔ ایک طالبعلم کے قتل کے خلاف ہونے والے مظاہرے اور چینی کی قیمت میں معمولی اضافے کے خلاف نفرت بڑھتے بڑھتے ایک مکمل انقلابی تحریک کا موجب بن گئی تھی۔ان اسباق سے حکمران طبقات بھی آشنا ہیں۔ طلبہ یونین بحالی کی حالیہ لہر 2019ء میں جس شدت سے شروع ہوئی اس کو ایوانوں کے انتظامی گھن چکر میں الجھا کر اور وقتی طور پر قراردادوں کو کابینہ میں پیش کرتے ہوئے تحریک کے زور کو توڑا گیا اور وہ اس واردات میں کامیاب بھی ہوئے۔ ورنہ تو یہاں مخصوص بل یا قراردادیں راتوں رات بھی پاس ہوتی رہتی ہیں۔

ایسا بھی نہیں کہ یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ طلبہ یونین پر پابندی کے ساتھ ہی اس کی بحالی کی جفاکش جدوجہد شروع ہو چکی تھی۔ کئی کٹھن مراحل سے گزرتے اور صعوبتیں براشت کرتے ہوئے یہ طویل سفر رہا ہے جو ابھی تک جاری و ساری ہے۔ بغاوت کے علم نے ہاتھ اور نسلیں بدلیں لیکن عزم ہر دور میں بلند ہی رہا۔ اس طرح ہی مشرف آمریت میں طلبہ یونین بحالی کے لئے اس وقت کی سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے جدوجہد کی تھی۔ یہ مضحکہ خیز ضرور ہے کہ آج کے وزیر اعظم اس وقت کی سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے ہمراہ طلبہ یونین بحالی کے مظاہروں میں شریک ہوا کرتے تھے اور کوئی بعید نہیں ایوانوں کے باہر ہونے پر پھر سے طلبہ حقوق کے علمبردار بن جائیں۔ اسی سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا دباؤ ہی تھا کہ بعد ازاں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی پہلی تقریر میں طلبہ یونین بحالی کا وعدہ کیا تھا اور اسی سانس میں ہی ذوالفقار علی بھٹو کی تعلیم کی نیشنلائزیشن کی پالیسی پر تنقید بھی کر گئے تھے۔

یہاں طلبہ یونین کی بحالی اپنے پورے رنگ و جلال کے ساتھ ایک منظم اور جرات مند طلبہ تحریک ہی کروا سکتی۔اس لئے نہ صرف سندھ میں بلکہ پورے ملک اور اس کے زیرانتظام علاقوں میں نہ صرف طلبہ یونین بحالی کی جدوجہد کرنا لازم ہے بلکہ فوری الیکشن شیڈول اور اس کے ضابطے بھی اتنی ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ آج بھی کشمیر بھر میں طلبہ یونین پر کوئی آئینی پابندی نہیں ہے۔ گزشتہ حکومت نے اعلانیہ یہ پابندی ختم کی ہوئی ہے لیکن آج تک کشمیر کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں ریاستی سطح پر الیکشن نہیں کروائے گئے۔ طلبہ کو نہ صرف یونین سازی کا حق واپس چھیننا ہو گا بلکہ اتنی شدت کے ساتھ اپنی طاقت کا بھی اظہار کرنا ہو گا کہ وہ حکمران طبقات کو مجبور کر دیں اور حقیقی معنوں میں طلبہ یونین بحال ہو۔ اس میں کالے دھن کی سرایت اور ریاستی مداخلت کے خلاف بھی لڑنا ہو گا۔ ان حکمرانوں کے اپنے بقول یہ آج تک اپنے الیکشنوں کو کالے دھن اور ریاستی مداخلت سے پاک نہیں کر سکے تو اس ملک کی سب سے ہیبت ناک طاقت کے حامل نوجوانوں کے حق رائے دہی کی حفاظت کیا کریں گے! صرف ایک منظم اور جرات مند طلبہ تحریک ہی رجعتی طاقتوں کا قلعہ قمہ کرتی جائے گی اور یہی حقیقی معنوں میں طلبہ یونین کی بنیادیں از سر نو استوار کرے گی۔ لیکن ہمیں تاریخ سے مسلسل استفادہ بھی حاصل کرنا چاہیے۔ دہائیوں کے اندھیر کا مقابلہ کرنے کے لئے طلبہ کے ترقی پسند حلقوں کو یک جان ہو کر جدوجہد کی شمع روشن کرنا ہو گی۔ طلبہ کا اکٹھ ہی رجعتی اور فسطائی رحجانات کو شکست فاش دیتے ہوئے اداروں کی رونقیں بحال کر سکتا ہے۔ ہمیں 1984ء کی پابندی خلاف 1983ء کے انداز میں لڑائی کی منصوبہ بندی درکار ہے۔ ہمیں حکمرانوں کی پیدا کردہ ہر قسم کی لسانی، قومی، صنفی تقسیم کو جھٹکتے ہوئے طلبہ حقوق کی جدوجہد کو نہ صرف منظم کرنا ہے بلکہ ان کی محنت کشوں سے جڑت بناتے ہوئے اس استحصالی نظام کو اکھاڑ پھینکنا ہے۔