ظفر اللہ

ہر ریاست خوف اور دہشت کی بنیاد پر سماج پر اپنا تسلط قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہے لیکن بحرانی ادوار میں ان کیفیات میں شدت آ جاتی ہے۔ پاکستانی سماج آج ایسی ہی کیفیت کا شکار ہے۔ پاکستانی ریاست مختلف مفادات کے حامل افراد اور گروہوں کا مجموعہ ہے۔ اپنے مخصوص تاریخی اور سماجی ارتقا کی بدولت یہ ایک منظم، یکجا اور جدید ریاست بننے سے قاصر رہی ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے پنپنے والے یہ تضادات خونریز شکل اختیار کر چکے ہیں جو سماج اور عوام کو تاراج کر رہے ہیں۔ یہ مختلف دھڑے اپنی طاقت کا اظہار عوام کو لہو لہان کر کے کرتے ہیں۔

4 مارچ کو پشاور میں اہل تشیع فرقے کی امام بارگاہ پر حملے میں 65 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ داعش (خراسان) نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ جولائی 2018ء میں داعش کے کوئٹہ حملے، جس میں 149 افراد جاں بحق ہوئے تھے، کے بعد دوسرا بڑا دھماکہ ہے۔ یہ مذہبی فرقہ واریت پر مبنی حملے دہائیوں سے جاری ایک تسلسل ہیں جس میں ہزارہ اور شیعہ آبادی کو طالبان اور داعش کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ فرقہ وارانہ تصادم کے یہ واقعات منظم اور ”مخصوص طاقتوں“ کی پشت پناہی کے بغیر ناممکن ہیں۔ ضیاالحق کے آمرانہ دور میں اس وحشی اور خونی طریقہ کار کو حکمران طبقات نے اپنی حاکمیت جاری رکھنے کے لئے متعارف کروایا تھا جس میں آج اس کی حدت میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے اور لاکھوں بے گناہ لوگوں کو یہ عفریت نگل چکا ہے۔ یہ کوئی غیر منظم اور جذباتی افراد کی کاروائی ہرگز نہیں ہے بلکہ مخصوص علاقائی اور عالمی صورتحال کے پیش نظر مختلف طاقتوں کی باہم چپقلشوں کا شاخسانہ ہے۔ امریکی سامراج سمیت مختلف ریاستیں مذہبی جنونیوں پر مشتمل وحشی جتھوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ سابقہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا امریکی کانگریس میں اس پالیسی کا اعتراف اس کا واضح ثبوت ہے۔ نام نہاد افغان ڈالر جہاد کے دوران طالبان اور بعد میں داعش جیسے سفاک مذہبی درندوں کی تشکیل اور سپورٹ نے اس خطے میں آگ اور خون کا بازار گرم کیا جس نے لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا۔ یہ مکروہ اور خونریز عمل آج تک جاری ہے۔

پاکستانی ریاست نے بھی افغانستان میں اپنی سامراجی پالیسی کو قائم رکھنے کے لئے ایسے ہی نان سٹیٹ ایکٹرز کو پروان چڑھایا۔ وہی سنپولے اب اژدھا بن کر ریاست کے مدمقابل ہیں۔ ریاست کے اندر انتشار اوردھڑے بندی اپنے عروج پر ہے۔ مختلف تجزیہ نگار اس کو اعلیٰ ریاستی سطح پر ہونے والی حالیہ پوشیدہ چپقلش کے پس منظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ آخری تجزیے میں گہرے ہوتے بحران اور پر انتشار کیفیت میں یہ مختلف دھڑوں اور داخلی و بیرونی طاقتوں کا سفاکانہ عمل ہے جس کا شکار عام لوگ اور محنت کش ہو رہے ہیں۔

ریاست اور سیاست شدید بحران اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ یہ عدم استحکام مسلسل ہے اور تیز رفتار ہو چکا ہے۔ ماضی میں ایک بالکل مختلف کیفیت تھی۔ ریاستی اختلافات اتنی تیزی سے آشکار نہیں ہوتے تھے۔ آج کمیونی کیشن کے مختلف ذرائع کی بدولت ان میں کافی تیزی آ گئی ہے جو حکمران طبقات کے لئے تشویشناک ہے۔ جمہوری مطالبات کی جدوجہد کرنے والے مختلف مکتبہ فکر کے افراد اور گروہوں کو ریاستی جبر کی موجودہ نئی شکلوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے بھی نئے پلیٹ فارم میسر آئے ہیں جس نے اس تشویش اور جبر کو بڑھاوا دیا ہے۔

دوسری طرف جہاں سیاست معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے وہاں معیشت کا بھی سیاست سے براہ راست تعلق ہے۔ بلکہ کسی ملک کی سیاست معیشت کا نچوڑ ہوتی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو یہاں کی معیشت اس قدر زبوں حال اور پسماندہ ہے کہ اس کے اوپر کوئی صحت مند بورژوازی جمہوری سیاست استوار نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت کو ٹھیک کر کے معیشت کو ترقی دینے کا مفروضہ سراسر بے بنیاد اور ڈھکوسلا ہے۔ دنیا میں جدید بورژوا جمہوری معاشرے وہاں ہی پروان چڑھ سکتے ہیں جہاں مخصوص تاریخی حالات میں معیشتوں کو بڑے پیمانے پر ترقی کرنے کا موقع ملا۔

پاکستان میں جب تک معیشت کئی دہائیوں تک 7 سے 8 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی نہیں کرتی یہاں نسبتاً جدید معاشرہ بھی پروان نہیں چڑھ سکتا۔ لیکن ایسا کوئی امکان سرمایہ داری کی موجودہ کیفیت میں موجود نہیں ہے۔ وسیع تر عوام کے مسائل سیاسی کے بجائے معاشی ہیں اور ماضی میں کمزور اور لولی لنگڑی سہی‘ عوام نے جمہوری حکومتوں کے کئی تجربات کیے ہیں۔ جہاں ان کا کہیں زیادہ معاشی استحصال کیا گیا اور ہر دور چاہے جمہوری ہو یا آمرانہ، میں آئی ایم ایف کی مسلط کردہ پالیسیوں کے نتائج عام لوگوں کو بھگتنے پڑے۔ پیپلز پارٹی سے لے کر ن لیگ اور تحریک انصاف تک، تمام حکومتوں نے آئی ایم ایف کے معاشی نسخوں کے ذریعے محنت کش عوام کو تاراج کیا اور مہنگائی، بے روزگاری کی ذلت عوام کو سہنی پڑی۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کے جمہوری نعرے ”ووٹ کو عزت دو“ کو وسیع تر عوام سے کوئی خاطر خواہ اور مستحکم پذیرائی نہیں ملی اور آخر کار پھر انہیں محلاتی سازشوں اور مبینہ ڈیل کے ذریعے اقتدار میں آنے کے راستے تلاش کرنے پڑے۔ پاکستانی سیاست کا یہ بنیادی المیہ ہے کہ عوام کو جمہوریت اور آمریت کے فریب میں مبتلا کرکے جارحانہ حاکمیت مسلط کی گئی اور جمہوریت کو ہی عوام کے بنیادی اور سلگتے ہوئے مسائل کا حل بنا کر پیش کیا گیا۔ یہ درست ہے کہ وسیع تر عوام کی معاشی اور سیاسی فیصلہ سازی میں مداخلت بنیادی نوعیت کی حامل ہے مگر سرمایہ دارانہ جمہوریت میں یہ ناممکن ہے۔ بالخصوص جہاں عوام کو صرف ووٹ دینے کا جمہوری حق حاصل ہو اور دھن والے ہی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہوں۔ اسی لئے لینن نے کہا تھا کہ ”سرمایہ دارانہ جمہوریت ایک فریب ہے۔“ جہاں پر کچھ سالوں بعد عوام کو اپنے نئے لٹیروں کو منتخب کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں تمام سیاسی پارٹیاں عوام کی نظروں میں بے توقیر ہو گئی ہیں اور عوام کا ان سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔

عمران خان کے خلاف پیش ہونے والی متوقع تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ کچھ بھی ہو‘ حقیقت یہ ہے حکمرانوں کی یہ لڑائیاں کسی طور عوام کی نجات کا موجب نہیں بن سکتی ہیں۔ حکمران محنت کشوں کو مستقل اور ہر وقت بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ لوگ مسلسل اپنی زندگی کے تجربات سے سیکھ رہے ہوتے ہیں اور ضروری نتائج اخذ کر کے انہیں اپنے لاشعور کا حصہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ جو پھر عوامی ابھار کے ادوار میں ان کے شعوری عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اور پوری سماجی تاریخ گواہ ہے کہ محنت کش عوام تحریکوں کے ذریعے اس کا اظہار کرتے ہیں۔ جہاں وہ اپنی پرانی سیاسی تنظیموں کو جھٹک کر نئے رہنماؤں اور پارٹیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔جو پھر سارے نظام کا بوریا بستر بھی گول کر سکتی ہیں۔

یہی کیفیت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے جو اپنے زوال کی گہرائیوں میں ہے۔ پارٹی کے سوشلسٹ منشور سے مکمل انحراف اور لا تعلقی نے جہاں عوام کو اس سے کوسوں دور کر دیا ہے وہاں پارٹی کے پاس اقتدار میں آنے کے لئے سوائے ریاستی اداروں کے تلوے چاٹنے کے‘ کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ اگرچہ یہ عمل کئی دہائیوں سے جاری تھا مگر بے نظیر کے بعد زرداری نے اسے ببانگ دہل باقاعدہ پالیسی کے طور پر اپنایا۔ دولت اکھٹی کرنا اور پھر اسی دولت کے بل بوتے پر سیاست کرنے کو اوڑھنا بچھونا بنا دیا گیا ہے۔

دراصل پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے آغاز سے ہی اس مخصوص عہد میں سوشل ڈیموکریسی کے نظریات پر یقین رکھتی تھی جو آخر کار نیو لبرل سرمایہ دارانہ پالیسیوں پر منتج ہوئی۔ بلاول کی قیادت میں موجودہ عوامی مارچ میں ہونے والی تقاریر میں اس کی واضح شکل نظر آتی ہے۔ جس میں اس مارچ کا واحد مقصد عمران خان کی حکومت کا خاتمہ قرار دیا گیا ہے اور وسیع تر عوام اس مارچ سے لاتعلق نظر آئی۔ صرف گاڑیاں ہی گاڑیاں ہیں اور عوام ندارد۔ پارٹی کی طرف سے ماضی میں کیے جانے والے لانگ مارچوں کے مقابلے میں یہ ایک مکمل فلاپ شو ہے۔ محنت کش عوام کی نجات کے کسی متبادل پروگرام اور پالیسیوں کی عدم موجودگی والے ہر مارچ سے وہ اپنی لاتعلقی کے ذریعے انتقام لیتے ہیں جو کہ ان کے شعور کی بلندی کی غمازی کرتا ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے تاریخی عوام دشمن اقدامات کے خلاف جامع عوامی پروگرام دے کر وسیع تر عوام کو متحرک کیا جا سکتا تھا مگر عام سیاسی پارٹیاں شعوری طور پر عوامی مسائل کو نظام کے ساتھ جوڑنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ بالآخر یہ سب اسی نظام کے پروردہ، محافظ اور نمائندے ہیں۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہو کر عوام سے بھر جاتی تھی اور اقتدار میں خالی ہو جاتی تھی۔ مگر اس وقت موجودہ کیفیت میں وسیع تر عوام نے اس پر عدم اعتماد اور غیر مقبولیت کی مہر ثبت کر دی ہے۔

یہ کیفیت پارٹی اور حکمران طبقے کے لئے ایک چتاؤنی ہے۔ عوام کی نظر میں اپنی حالت زار میں تبدیلی کے لئے کوئی متبادل نظر نہیں آ رہا۔ ظاہری طور پر سیاسی افق پر کوئی عوامی تحریک موجود نہیں ہے۔ مگر سطح کے نیچے بہت انتشار اور طوفان ہے۔ تمام پارٹیوں کی سیاست اور پالیسیاں اسی ظاہریت پر مبنی ہیں۔ عوام کو پھر سے جمہوری دھوکے اور فریب کے جال میں پھنسانے کی پالیسیاں اور سیاست ہو رہی ہے۔ انقلاب کی قلیل، عاجز اور عظیم قوتوں کا کام محنت کش عوام کو اس فریب سے نکال کر انقلاب کے راستے پر گامزن کرنے کے وژن، جرات اور اعتماد سے مسلح کرنا ہے۔ یہی آج کے عہد کا عظیم تاریخی فریضہ ہے۔